خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء

’’توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کیے ہوئے ہیں ان کو حتّی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ خدا تُو ہی اس کا انجام بخیر کر۔ صدہاآفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کو بھی برباد و تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ ان کی دست بُرد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

بہت ساری مصیبتیں ایسی ہیں، ایسے موقع پیدا ہو سکتے ہیں جہاں جو اسباب جن پر انحصار ہوتا ہے وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے بد اثرات سے بچائے۔ یہ وہ حالت ہے جس پر چل کر ایک مومن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بن سکتا ہے

ایک مومن اگر اللہ تعالیٰ پر توکّل کرے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے تو وہ خود بھی معجزات دکھانے کے قابل ہو سکتا ہے

’’یہ بھی یاد رکھو کہ مصیبت کے زخم کے لیے کوئی مرہم ایسا تسکین دہ اور آرام بخش نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ سخت سے سخت مشکلات اور مصائب میں بھی اندر ہی اندر تسلّی اور اطمینان پاتا ہے۔ وہ اپنے قلب میں تلخی اور عذاب کو محسوس نہیں کرتا‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

’’یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے۔ وہ بڑی طاقت والا ہے جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کرو گے تو ضرور وہ تمہاری مدد کرے گا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ۔(الطلاق:4) اور جو کوئی اللہ پر توکّل کرتا ہے وہ اللہ اس کے لیے کافی ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’توکّل کرنے والے اور خدا کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔ جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے اس کو سوائے ذلّت کے اَور کیا حاصل ہو سکتا ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

جب خدا تعالیٰ پر توکّل ہی نہیں اور دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کا تصوّر ہی نہیں جو ہم ہر عہد میں دہراتے ہیں، اب خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہے اس میں بھی دہرائیں گے ،تو پھر یہ عقائد اور ایمان کی کمزوری ایسے شخص کو اگلے جہان کی نعمتوں سے بھی محروم رکھے گی

’’یہ بات بہت سی حدیثوں اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جو شخص کامل انقطاع اور کامل توکّل کا مرتبہ پیدا کر لیتا ہے تو فرشتے اس کے خادم کئے جاتے ہیں اور ہر یک فرشتہ اپنے منصب کے موافق اس کی خدمت کرتا ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعودؑ کا دل اس یقین سے معمور تھا کہ اِدھر میری جیب خالی ہوئی اور اُدھر آسمان کا غیبی ہاتھ اسے پھر بھر دے گا اور جو کام مجھے خدا نے سپرد کیا ہے اس میں روک پیدا نہیں ہوگی۔ یہ وہی مقامِ نصرت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بالکل اوائل میں الہام فرمایا تھا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔ یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدائی الہام شروع سے لے کر آخر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر رحمت کا بادل بن کر چھایا رہا (حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ)

’’انسان کو مشکلات کے وقت اگرچہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہیے کہ توکّل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے …۔ ایسے اضطرابوں کا آنا تو انسانی اخلاق اور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیے کہ یاس کو پاس نہ آنے دےکیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے۔ انسان کو طرح طرح کے خیالات اضطراب کاوسوسہ ڈالتے ہیں مگر ایمان ان وساوس کو دُور کر دیتا ہے، بشریّت اضطراب خریدتی ہے اور ایمان اس کو دفع کرتا ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

باوجود اس کے کہ آپؑ تیاری مقدمہ میں پوری محنت اور کوشش فرماتے تھے مگر ان اسباب پر آپؑ کبھی بھروسہ نہیں کرتے تھے بلکہ دعاؤں سے کام لیتے اور ہر وقت خدا تعالیٰ ہی کی ذات آپؑ کے مدّنظر رہتی۔ وہی معبود اور مطلوب تھا اور اسی پر توکّل و اعتماد

’’میرا اپنا اصول یہ ہے کہ بدتر سے بدتر انسان بھی اگر مقدمہ کرے تو اس میں تصرّف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے اس سے فیصلہ لکھواتا ہے۔ انسان پر بھروسہ شرک ہے بلکہ اگر ایک بھیڑئیے کے پاس بھی مقدمہ جاوے تو اس کو خدا سمجھ عطا کر دے گا‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

آپؑ پر بے شمار مقدمات ہوئے لیکن آپؑ کو خدا تعالیٰ پر اس قدر یقین اور توکّل تھا کہ ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا اور آپؑ کو یقین بھی تھا کہ نہیں ہوگا کہ جہاں دشمن کبھی کامیاب ہو سکے

’’لوگ دنیا کی خوشیوں میں چاندی، سونے کے کنگن پہنا ہی کرتے ہیں، ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔مگر ایسا نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں وہ اپنے خلفائے مامورین کی ایسی رسوائی پسند نہیں کرتا‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’تمام دارومدار اسباب پر نہ رکھو بلکہ خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

توکّل علیٰ اللہ کی عجیب شان ہے جو ہمیں آپؑ میں اپنے آقا ؐکی اتّباع میں ہر جگہ نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توکّل کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے آنحضرتﷺ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی نصائح اور سیرتِ طیبہ کے ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء بمطابق 25؍تبوک1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

گزشتہ چند خطبات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بیان میں توکّل کے اعلیٰ ترین مقام کو مَیں بیان کرتا رہا ہوں۔

اِس زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق اسے جس طرح ہمارے لیے بیان کیا، کیا تعلیم دی، اس پر کیا عمل کیا، اس حوالے سے آج کچھ کہوں گا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کیے ہوئے ہیں ان کو حتّی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ خدا تُو ہی اس کا انجام بخیر کر۔ صدہاآفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کو بھی برباد و تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ ان کی دست بُرد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔‘‘

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 288، ایڈیشن 2022ء)

اسباب آدمی استعمال کرتا ہے لیکن

بہت ساری مصیبتیں ایسی ہیں، ایسے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں جہاں جو اسباب جن پر انحصار ہوتا ہے وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے بد اثرات سے بچائے۔ یہ وہ حالت ہے جس پر چل کر ایک مومن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بن سکتا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’اللہ تعالیٰ سے راضی ہو جانا ہر شخص کا کام نہیں بلکہ یہ توکّل، تبتّل‘‘ یعنی خدا کی طرف پوری توجہ ’’اور رضا و تسلیم کا اعلیٰ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کو کسی قسم کا شکوہ اور شکایت اپنے مولیٰ سے نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے راضی ہونا یہ موقوف ہے بندے کے کمال صدق و وفاداری اور اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اور طہارت اور کمال اطاعت پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ؓنے معرفت اور سلوک کے تمام مدارج طے کر لیے تھے۔‘‘ اور صحابہؓ نے اللہ تعالیٰ سے تعلق اور توکّل کا وہ مقام پایا جس کو ہمارے لیے اُسوہ بنایا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے والے کہتے ہیں کہ وہ مریضوں کو صحت مند کر دیتے تھے۔لیکن آپؑ نے فرمایا کہ کیا اس سے حواریوں میں خدا تعالیٰ پر توکّل بڑھ گیا؟ توکّل بڑھنا تو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہوتا ہے اگر اس کی طرف پوری توجہ ہو۔ آپؑ فرماتے ہیں :’’اس کا نمونہ حواریوں میں اگر تلاش کریں تو ہرگز نہیں مل سکتا‘‘ توکّل کا۔’’پس نرے سلبِ امراض‘‘ یعنی بیماریوں کو دور کر دینا اس سے تو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ صوفیاء کے متعلق بھی لکھا ہے کہ وہ بھی یہ معجزہ دکھا دیتے ہیں کہ شفا دینا۔ آپؑ فرماتے ہیں :’’پر خوش ہو جانا‘‘ کوئی عقلمندی نہیں ہے ’’یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے اور روحانی کمالات کا شیدائی ان باتوں پر خوش نہیں ہو سکتا۔ اس لیے مَیں تمہارے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ تم اپنے دل کو پاک کرو اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسے تعلقات پیدا کرو کہ وہ مولیٰ کریم تم سے راضی ہو جاوے اور تم اس سے راضی ہو جاؤ۔ پھر وہ تمہارے جسم میں، تمہاری باتوں میں ایسی برکت رکھ دے گا جو سلبِ امراض کرنے والے بھی انہیں دیکھ کر حیران اور شرمندہ ہوں گے۔‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 344، ایڈیشن 2022ء)

یعنی کہ جو مریضوں کوشفا دیتے ہیں، مرض کو دور کرتے ہیں، اگر تمہارا اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے ایسا ہے تو پھر وہ تمہاری ایسی حالت دیکھ کے خود شرمندہ ہوں گے۔ پس

ایک مومن اگر اللہ تعالیٰ پر توکّل کرے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے تو وہ خود بھی معجزات دکھانے کے قابل ہو سکتا ہے۔

پھر ایک موقع پر توکّل اور تبتل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں :

’’یہ بھی یاد رکھو کہ مصیبت کے زخم کے لیے کوئی مرہم ایسا تسکین دہ اور آرام بخش نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ سخت سے سخت مشکلات اور مصائب میں بھی اندر ہی اندر تسلّی اور اطمینان پاتا ہے۔ وہ اپنے قلب میں تلخی اور عذاب کو محسوس نہیں کرتا۔

نہایت کار اس مصیبت کا انجام یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تقدیر مبرم ہے‘‘ یا نہ ٹلنے والی تقدیر ہے ’’تو موت آجاوے۔‘‘ مشکلات مومن کو بھی آتی ہیں لیکن مومن ان کو اپنے سر پر سوار نہیں کر لیتا اگر اس کا خدا تعالیٰ پر ایمان پکا ہے۔ فرماتے ہیں زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، موت آ جائے گی؟ تو آپؑ نے فرمایا ’’لیکن اس سے کیا ہوا؟ دنیا کوئی ایسی جگہ تو ہے نہیں جہاں کوئی ہمیشہ رہ سکے۔ آخر ایک دن اور وقت سب پر آتا ہے کہ اس دنیا کو چھوڑنا پڑے گا۔ پھر اگر اسے موت آ گئی تو ہرج کیا ہوا؟ مومن کے لیے تو یہ موت اَور بھی راحت رساں اور وصالِ یار کا ذریعہ ہو جاتی ہے۔‘‘ اگر مومن صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان پکا ہے تو وہ تو کہتا ہے اچھا خدا تعالیٰ سے ملاقات ہو جائے گی ’’اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور اس کی قدرتوں پر بھروسہ کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اگلا جہان اس کے لیے ابدی راحت کا ہے۔پس نری مصیبت خواہ بیماری کی ہو یا کسی اَور قسم کی تکلیف یا عذاب کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ وہ مصیبت دکھ دینے والا عذاب ٹھیرتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسہ نہ ہو۔‘‘ اگر مومن کو مشکلات آتی ہیں تو اس کے لیے عذاب نہیں ہوتا۔ عذاب تو اس وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں اور بھروسہ نہیں۔ ’’ایسے شخص کو البتہ سخت عذاب ہوتا ہے‘‘ جس کا ایمان نہیں ہے ’’اور اگر کوئی یہ خیال کرے کہ موت ہی نہ آوے تو یہ خیال خام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ناپائیدار قرار دیا ہے۔ ایسے شخص کے لیے دوسرے جہان میں سخت دردناک جہنم ہوگا جس کے لیے اسے طیار رہنا چاہیے۔‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 258، ایڈیشن 2022ء)

پس یہ ان لوگوں کا بھی عمومی جواب ہے جو یہ پوچھتے ہیں کہ ہمیں کس طرح پتہ لگے کہ یہ مشکل یا تکلیف عذاب ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے۔

اپنے متبعین کو آپؑ توکّل کی نصیحت حسب موقع فرماتے رہتے تھے۔

چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا:

’’یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے۔ وہ بڑی طاقت والا ہے۔ جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کرو گے تو ضرور وہ تمہاری مدد کرے گا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ۔ (الطلاق:4)‘‘ اور جو کوئی اللہ پر توکّل کرتا ہے وہ اللہ اس کے لیے کافی ہے۔

(روایات اصحاب احمد جلد 3 صفحہ 184)

سعید لوگوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ایک مقام توکّل ہے جس پر نہایت مضبوطی سے ان کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے غیر کو وہ چشمہ صافی ہرگز میسّر نہیں آ سکتا بلکہ انہیں کے لئے وہ خوشگوار اور موافق کیا جاتا ہے اور نورِ معرفت ایسا ان کو تھامے رہتا ہے کہ وہ بسا اوقات طرح طرح کی بےسامانی میں ہو کر اور اسبابِ عادیہ سے بکلّی اپنے تئیں دور پا کر پھر بھی ایسی بشاشت اور انشراح خاطر سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ایسی خوشحالی سے دنوں کو کاٹتے ہیں کہ گویا ان کے پاس ہزارہا خزائن ہیں۔‘‘ سہولتیں میسّر نہ بھی ہوں جن کی عادت پڑی ہوتی ہے تب بھی جن کو اللہ تعالیٰ پر توکّل ہے وہ بڑی خوشی سے زندگی گزارتے ہیں جیسے کہ ہزارہا خزائن ان کے پاس ہوں۔ ’’ان کے چہروں پر تونگری‘‘ یعنی دولت مندی ’’کی تازگی نظر آتی ہے اور صاحب دولت ہونے کی مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے اور تنگیوں کی حالت میں بکمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ رکھتے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 538 حاشیہ نمبر 3)

اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو تنگیوں اور تکلیفوں میں بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اس سے دور نہیں جاتے۔ انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ پتہ نہیں کیا ہے کیا نہیں۔ ابتلا ہے یا امتحان ہے یا سزا ہے۔اگر کامل توکّل اللہ تعالیٰ پر ہے، اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کر رہے ہیں تو پھر یقیناً اللہ تعالیٰ فضلوں سے نوازتا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:

’’توکّل کرنے والے اور خدا کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے اس کو سوائے ذلّت کے اور کیا حاصل ہو سکتا ہے۔

جب سے دنیا پیدا ہوئی ہمیشہ سے سنت اللہ یہی چلی آتی ہے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ اس کو پاتے ہیں اور جو اس کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے وہ اگر چند روز مکر و فریب سے کچھ حاصل بھی کر لیں تو وہ لاحاصل ہے‘‘ دنیا کو حاصل کرنے میں عام طور پرمکرو فریب ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ دھوکہ ہی دے رہے ہوتے ہیں ’’کیونکہ آخر ان کو سخت ناکامی دیکھنی پڑتی ہے۔ اسلام میں عمدہ لوگ وہی گذرے ہیں جنہوں نے دین کے مقابلہ میں دنیا کی کچھ پروا نہ کی۔‘‘ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ہندوستان میں قطب الدین ؒ اور معین الدینؒ خدا کے اولیاء گذرے ہیں۔ ان لوگوں نے پوشیدہ خدا کی عبادت کی مگر خدا نے ان کی عزت کو ظاہر کر دیا۔‘‘

پھر آپؑ ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ہم نے بٹالہ میں ایک پیرزادہ کو دیکھا کہ وہ اپنی زمین کے مقدمات کے واسطے غبارآلودہ ہوا کسی ڈپٹی کے پیچھے پھرتا تھا۔‘‘ سرکاری افسر جو ڈپٹی تھا، اس کے پیچھے اپنے مقدمات کے لیے یا جائیداد حاصل کرنے کے لیے پھر رہا ہوتا تھا۔ آپؑ نے فرمایا کہ ’’مَیں حیران ہوا کہ اگر اس شخص میں سچی نیکی ہوتی۔‘‘اب یہ پیرزادہ کہلاتے ہیں اپنے آپ کو، ہم پیروں کی اولاد ہیں۔ حضورؑ نے فرمایا اگر اس میں سچی نیکی ہوتی ’’اور یہ خدا پر توکّل کرنے والا ہوتا تو ایسے مکدّرات‘‘ یعنی گندگی اور غلاظت کی باتوں ’’میں کیوں گرتا۔‘‘

(ملفوظات جلد 9 صفحہ 212-213، ایڈیشن 2022ء)

آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’جس قدر دنیا میں گناہ پیدا ہوئے ہیں ان کی یہی وجہ ہے کہ جس قدر انسان کو دنیا کی لذّات اور دنیا کی عزت اور دنیا کے مال و متاع پر یقین ہے یہ یقین آخرت پر نہیں ہے۔‘‘ اسی وجہ سے انسان گناہ کرتا ہے ’’اور جیسا کہ وہ ایک ایسے صندوق پر توکّل کر سکتا ہے جو قیمتی جواہرات اور خالص سونے سے بھرا ہوا ہے اور اس کے قبضے میں ہے ایسا وہ خدا پر توکّل نہیں کر سکتا اور جیسا کہ دنیا کی گورنمنٹ اور دنیا کے حکام سے لوگ ڈرتے ہیں اور مُدَاہَنَہ‘‘ یعنی خوشامد اور چاپلوسی کرتے ہیں ’’سے زندگی بسر کرتے ہیں ایسا خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟ یہی سبب ہے کہ دنیا کے پیش افتادہ اسباب اور وسائل‘‘ یعنی ظاہری اور مادی اسباب جو ہیں انسان کے سامنے موجود ہیں ’’ان کی نظر میں ایسے یقینی ہیں کہ دینی عقائد ان کے آگے کچھ بھی چیز نہیں۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 468)

دنیاوی اسباب نظر آ رہے ہیں اور عقائد اور خدا تعالیٰ پر ایمان بالکل کچھ نہیں۔پس

جب خدا تعالیٰ پر توکّل ہی نہیں اور دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کا تصوّر ہی نہیں جو ہم ہر عہد میں دہراتے ہیں، اب خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہے اس میں بھی دہرائیں گے ،تو پھر یہ عقائد اور ایمان کی کمزوری ایسے شخص کو اگلے جہان کی نعمتوں سے بھی محروم رکھے گی۔

اس دنیا کو انہوں نے سب کچھ سمجھا ہے اور اسے پانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کچھ کو مل گیا کچھ اسے پانے کی کوشش میں اس جہان سے رخصت ہو گئے ،ناکام ہوگئے۔ یا ملا اور اس کے بعد ضائع ہو گیا اور پھر انہوں نے عذاب میں، دنیاوی طور پر بڑے عذاب میں زندگی گزاری۔ نہ دین کے رہے نہ دنیا کے رہے۔ اس بارے میں ایک شاعر نے یہ کہا ہے کہ

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف لانے اور آخرت کی فکر کرنے کی آپؑ کو کتنی فکر رہتی تھی اور کتنا درد تھا اور اس کے لیے کس طرح آپؑ دعا کیا کرتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے آپؑ خدا تعالیٰ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ ’’دیکھ! میری روح نہایت توکّل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسا کہ پرندہ اپنے آشیانہ کی طرف آتا ہے۔ سو مَیں تیری قدرت کے نشان کا خواہشمند ہوں لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی عزت کے لئے بلکہ اس لئےکہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں کو اختیار کریں اور جس کو تُو نے بھیجا ہے اُس کی تکذیب کر کے ہدایت سے دُور نہ پڑ جائیں۔ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے اور میری تائید میں بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ511)

اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا نام خود مُتَوَکِّلْ رکھا ہے۔

چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں: ’’مسیح کے نزول کی علامت یہ لکھی ہے کہ دو فرشتوں کے پروں پر اس نے اپنی ہتھیلیاں رکھی ہوئی ہوں گی۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا دایاں اور بایاں ہاتھ جو تحصیل علوم عقلی اور انوار باطنی کا ذریعہ ہے آسمانی مُؤَکَّلَوں‘‘ جن کے سپرد کام کیا جائے یعنی فرشتے مراد ہیں، اُن ’’کے سہارے پر ہوگا۔‘‘ عقل کے علوم جو ہیں، جو اندرونی انوار ہیں، جو دین کی معرفت کی باتیں ہیں وہ اس ذریعہ سے ہوگا یعنی وہ فرشتوں کی مدد سے ہوگا۔ دونوں فرشتوں پر ہاتھ رکھنے کا یہ مطلب ہے۔ ان کے سہارے پر ہوگا ’’اور وہ مکتب اور کتابوں اور مشائخ سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ سے علم لَدُنِّی پائے گا‘‘ یعنی وہ علم پائے گا جو خالصتاً خدا تعالیٰ سکھائے ’’اور اس کی ضروریاتِ زندگی کا بھی خدا ہی متولّی اور متکفّل ہوگا جیسا کہ عرصہ دس سال سےبراہین احمدیہ‘‘ آپؑ نے براہین احمدیہ کی مثال دے کے فرمایا’’میں اس عاجز کی نسبت یہ الہام چھپ چکا ہے کہ اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا سَمَّیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ وَعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔ یعنی تُو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم نے تیرا نام متوکّل رکھا اور اپنی طرف سے علم سکھلایا…۔

یہ بات بہت سی حدیثوں اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جو شخص کامل انقطاع اور کامل توکّل کا مرتبہ پیدا کر لیتا ہے تو فرشتے اس کے خادم کئے جاتے ہیں اور ہریک فرشتہ اپنے منصب کے موافق اس کی خدمت کرتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 476)

ایک دن مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں توکّل کی بات چل پڑی جس پر آپؑ نے فرمایا: ’’مَیں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں جیسے سخت حَبْس ہوتا اور گرمی کمال شدّت کو پہنچ جاتی ہے۔ لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہوگی۔ ایسا ہی جب اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں‘‘ یعنی دیکھتا ہوں کہ میرے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے، کچھ نہیں ہے ’’تو مجھے خدا کے فضل پر یقینِ واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔

اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا کہ

جب میرا کِیْسَہ‘‘ یعنی جیب یا تھیلا ’’خالی ہوتا ہے جو ذوق و سرور خدا تعالیٰ پر توکّل کا اس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے مَیں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا۔‘‘ جب میرے پاس کچھ نہیں ہوتا تو پھر میرا توکّل اللہ تعالیٰ پر اَور بڑھ جاتا ہے ’’اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کِیْسَہ بھرا ہوا ہو۔‘‘ میری جیبیں بھری ہوں۔

(ملفوظات جلد1 صفحہ297، ایڈیشن 2022ء)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اس ارشاد پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’کیسہ تو اہلِ فقر کا اکثر خالی ہی رہتا ہے‘‘ یعنی جو اہلِ فقر ہوتے ہیں وہ مال تو اکٹھا نہیں کرتے۔ ان کے خزانے، جیبیں تو عام طور پر خالی رہتی ہیں لوگوں میں بانٹ دیتے ہیں ’’مگر حضرت مسیح مو عود کے توکّل کی شان ملاحظہ ہو کہ جس طرح ایک زیرک زمیندار اپنے بار بار کے تجربہ شدہ کنوئیں کے متعلق یقین رکھتا ہے کہ جب اس کا موجودہ پانی ختم ہونے پر آئے گا تو اس کے زیر زمیں سَوتے‘‘ یعنی چشمے ’’خود بخود کھل جائیں گے اور کنواں پھر پانی سے بھر جائے گا۔‘‘ کنواں کھودو تو بعض دفعہ پانی نکال نکال کے خشک ہو جاتا ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ دوبارہ اس میں پانی اکٹھا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ’’اسی طرح

حضرت مسیح موعودؑ کا دل اس یقین سے معمور تھا کہ اِدھر میری جیب خالی ہوئی اور اُدھر آسمان کا غیبی ہاتھ اسے پھر بھر دے گا اور جو کام مجھے خدا نے سپرد کیا ہے اس میں روک پیدا نہیں ہوگی۔ یہ وہی مقام نصرت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بالکل اوائل میں الہام فرمایا تھا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔ یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدائی الہام شروع سے لے کر آخر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر رحمت کا بادل بن کر چھایا رہا۔‘‘

(سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ 146)

آپؑ کی سیرت میں توکّل کے حوالے سے ایک واقعہ ملتا ہے۔ براہین احمدیہ کی طباعت کے التوا کے حوالے سے حاجی محمد ولی اللہ صاحب جو ریاست کپورتھلہ کے ایک معزز عہدےدار تھے ان کے نام ایک اپنے خط میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ

’’آں مخدوم کے خط سابق میں اس قدر حرارت اور تلخی بھری ہوئی تھی‘‘ یعنی کہ جب براہین احمدیہ کی اشاعت کا التواء ہوگیا تو انہوں نے خط لکھا۔انہوں نے پیسے دیے ہوئے تھے اس کو شائع کرنے کے۔ جب وہ ان تک نہیں پہنچی۔ آپؑ نے حوالہ دیا کہ تمہارا جو خط آیا تھا پچھلا اس میں اس قدر حرارت اور تلخی بھری ہوئی تھی ’’اور ایسے الفاظ درشت اور ناملائم تھے جن سے ببداہت یہ بُو آرہی تھی کہ آںمکرم کی بدظنی غایت درجہ کے فساد اور خرابی تک پہنچ گئی ہے۔‘‘ بہت زیادہ غصے میں خط لکھا تھا آپ نے اور آپ کے خط سے یہ غصہ انتہا پر پہنچا ہوا لگ رہا تھا۔ آپؑ نے فرمایا کہ ’’اگر کتاب کی خرید و فروخت کا تعلق نہ ہوتا تو ہرگز امید نہ تھی کہ آپ کے قلم سے ایسے الفاظ نکلتے۔‘‘ آپ نے پیسے دیے ہوئے تھے اس لیے آپ نے ایسے الفاظ لکھے۔ آپ کو برداشت نہیں ہو سکا کہ کیوں لیٹ ہو گیا۔ ’’پس اس سے ثابت ہوا کہ ایسے منحوس تعلق نے آپ جیسے بزرگ کی طبیعت کوآشُفْتَہ کیا‘‘ ہے یعنی پریشان کردیا ہے ’’اور ابھی معلوم نہیں کہ آشفتگی اور پریشان باطنی کہاں تک مُنْجَر ہو۔‘‘ کب تک لمبی ہو جائے گی ’’اور اس عاجز کا حال یہ ہے کہ یہ تمام کاروبار بجز ذات باری عزّ اسمُہٗ کسی کے بھروسہ پر نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے تویہ کام ہو رہا ہے، انشاءاللہ ہو جائے گا۔ لیکن بعض روکیں رستے میں آتی ہیں۔ ان میں کوئی زور نہیں ہے، میں کر نہیں سکتا۔ تو آپ جو اتنی زیادہ بے صبری دکھا رہے ہیں، دنیا کو دکھانی چاہیے۔ بہرحال آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’پس اس صورت میں قرین ِمصلحت ہے کہ فَسْخِ بیع اور استِردادِ قیمت مُرْسَلَہ سے‘‘ یعنی خرید و فروخت کے معاہدے کو ختم کر دیں اور بھیجی رقم واپس لے لیں۔ آپ کو اتنا ہی فکر ہے اور یہ خیال ہے کہ مَیں شاید آپ کی رقم ہضم کر گیا ہوں۔ ’’آپ کی طبیعت کو ٹھنڈ اور آرام پہنچایا جاوے۔‘‘ آپ یہ لے لیں گے تو شاید آپ کی طبیعت ٹھنڈی ہو جائے، غصہ چلا جائے۔ ’’کیونکہ اس تمام اشتعال کا بجز اس کے اَور کوئی موجب نظر نہیں آتا کہ چند درہم کی جدائی نے جو بہر صورت جدا ہونے والے ہیں آپ کی طبیعت کو تردّد و تاسّف و پریشانی و حیرت میں ڈال دیا ہے۔ تو اسی نظر سے یہ خط بھیجا جاتا ہے کہ اگر ان سخت اور نالائق الفاظ کا موجب یہی ہے جو مَیں نے سمجھا ہے تو آپ مجھ کو قیمت کے لیے اطلاع دیں تاکہ آپ کی قیمت مرسلہ واپس کر کے وہ علاج کر دیا جائے جس سے کَفِّ لِسَانِی‘‘ یعنی زبان کو روکنا جو ہے، جس طرح آپ بول رہے ہیں اس کو ختم کیا جائے۔ ’’کی سعادت جو شِعَارِ مومنین ہے، آپ کو حاصل ہو‘‘ یعنی جس طرح آپ باتیں کر رہے ہیں اس کو روکا جائے اور مومنوں کی سعادت یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں نہ کیا کریں۔ تو اگر اسی سے یعنی پیسے واپس کرنے سے آپ کا حل ہوتا ہے کہ آپ مومنوں والا شعار اختیار کریں تو میں آپ کو پیسے واپس کرتا ہوں۔ اور آپؑ فرماتے ہیں:’’اگر آپ رسالہ سرمہ چشم آریہ دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ اس عاجز نے پہلے ہی اشتہار دے دیا ہے کہ اگر کوئی تَوَقُّفِ طَبعِ براہین پر ناراض ہو اور اپنی قیمت واپس لینا چاہے تو وہ اطلاع دے تو ویسے سب خریداروں کی قیمت واپس ہوگی۔‘‘ پہلے ہی مَیں اعلان کر چکا ہوں کہ سرمہ چشم آریہ کتاب مَیں لکھ رہا ہوں اس کی وجہ سے براہین احمدیہ کی اشاعت لیٹ ہو سکتی ہےتو اگر کسی کو جلدی ہے اور پیسے واپس لینا چاہتا ہے تو لے لے۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’آپ پر واضح رہے کہ جو لوگ بدظنی کرتے ہیں اور منہ سے گندی باتیں نکالتے ہیں وہ ہمارا کچھ نقصان نہیں کر سکتے۔وہ آپ ہی بد ظن ہو کر خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ‘‘یعنی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی ’’کے مصداق ٹھہر جاتے ہیں۔ یہ کاروبار سب جناب الٰہی کی طرف سے ہے اور وہی اس کو بخیر و خوبی پورا کرے گا۔‘‘ آپ لوگوں کے پیسوں کی مجھے ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ کام ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مجھے یقین ہے وہ اسے پورا کر دے گا۔ ’’اگر تمام بنی آدم ایسا ہی خیال دل میں پیدا کریں جیسا کہ آج کل آپ کا ہے تو تب بھی ایک ذرّہ ہم کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ ہمارا وہ مربی کریم ہے جس نے تاریکی کے زمانہ میں مامور کیا، وہ ہمارے ساتھ ہے اور وہی کافی ہے۔‘‘

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اس خط کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ’’اس مکتوب سے آپؑ کے توکّل علی اللہ کا بھی پتہ ملتا ہے اور اسی لئے خدا تعالیٰ کی وحی نے آپؑ کا نام ’’مُتَوکِّل‘‘ بھی رکھا۔ غرض حضرت اقدس کی سیرت مطہرہ کا یہ مکتوب آئینہ ہے۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 399-400 مکتوب نمبر 5 بنام حاجی محمد ولی اللہ صاحب)

دعا اور توکّل

کے متعلق آپؑ نے فرمایا کہ ساری عقدہ کشائیاں دعا سے ہو جاتی ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ساری عقدہ کشائیاں دعا سے ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں بھی اگر کسی کی خیر خواہی ہے تو کیا ہے ۔صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔ کیا دوست کے لیے اور کیا دشمن کے لیے ہم سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے بس میں ایک ذرّہ بھر بھی نہیں ہے مگر جو خدا ہمیں اپنے فضل سے عطا کردے۔‘‘ فرمایا کہ

’’انسان کو مشکلات کے وقت اگرچہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہیے کہ توکّل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے …۔ ایسے اضطرابوں کا آنا تو انسانی اخلاق اور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیے کہ یاس کو پاس نہ آنے دے‘‘

اضطراب تو ہوتا ہے ،گھبراہٹ ہوتی ہے کہ جلدی کام ہو جائے لیکن یہ کہ انسان مایوس ہو جائے۔ اللہ پہ توکّل چھوڑ دے یہ نہیں ہونا چاہیے

’’کیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے انسان کو طرح طرح کے خیالات اضطراب کاوسوسہ ڈالتے ہیں مگر ایمان ان وساوس کو دُور کر دیتا ہے۔ بشریّت اضطراب خریدتی ہے اور ایمان اس کو دفع کرتا ہے‘‘

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 271-272 ، ایڈیشن 2022ء)

یعنی انسان کی فطرت کی وجہ سے بے چینی تو ہوتی ہے لیکن ایمان اگر کامل ہو تو اضطراب دُور ہو جاتا ہے۔ کامیابی پر یقین ہوتا ہے۔ بشری تقاضے جو ہیں ان سے اضطراب پیدا ہوتا ہے لیکن ایمان اگر مکمل ہو تو اس کو دفع کر دیتا ہے۔

دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ پر توکّل پیدا کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں: ’’اصلاح نفس کے لیے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لیے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دعا کا ہے۔ اس میں جس قدر توکّل اور یقین اللہ تعالیٰ پر کرے گا اور اس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گا اسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے۔ تمام مشکلات دور ہو جائیں گی اور دعا کرنے والا تقویٰ کے اعلیٰ محل پر پہنچ جاوے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 51، ایڈیشن 2022ء)

آپؑ کے توکّل کے پہلو کو بیان کرتے ہوئے آپؑ کے سیرت نگار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ لکھتے ہیں کہ

’’باوجود اس کے کہ آپؑ تیاری مقدمہ میں پوری محنت اور کوشش فرماتے تھے مگر ان اسباب پر آپؑ کبھی بھروسہ نہیں کرتے تھے بلکہ دعاؤں سے کام لیتے اور ہر وقت خدا تعالیٰ ہی کی ذات آپؑ کے مد نظر رہتی۔ وہی معبود اور مطلوب تھا اور اسی پر توکّل و اعتماد۔‘‘

(حیات احمد جلد 1 حصہ 3 صفحہ 317)

ایک واقعہ تاریخ میں آیا ہے کہ ایک مُعَمَّر ہندو جو حضرت اقدسؑ کے والد صاحب کے دوست تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ماموریت کے زمانے میں قادیان آئے اور آپؑ کے حالات اور توکّل کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ’’مَیں ان کی پیدائش کے زمانہ سے پہلے کا ہوں اور مَیں نے ان کو گود میں کھلایا ہے۔‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ’’جب سے اس نے ہوش سنبھالا ہے بڑا ہی نیک رہا‘‘ ہے۔ آپؑ کی تعریف کرتے ہوئے فرما رہے ہیں ، یہ ہندو کہہ رہے ہیں۔ ’’دنیا کے کسی کام میں نہیں لگا۔ بچوں کی طرح کھیل کود میں مشغول نہیں ہوا۔ شرارت ،فساد ،جھوٹ، گالی کبھی اس میں نہیں۔ ہم اور ہمارے ہم عمر اس کو سست اور سادہ لوح اور بے عقل سمجھا کرتے تھے کہ یہ کس طرح گھر بسائے گا۔‘‘ میرے ہاتھوں میں تو یہ پلے بڑھے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں یہ ہندو فرما رہے ہیں۔ لیکن کس طرح زندگی گزاریں گے۔ ’’سوائے الگ مکان میں رہنے کے اَور کچھ کام ہی نہیں تھا۔ نہ کسی کو مارا نہ آپ مار کھائی۔‘‘ یہ بھی تو نوجوانوں کی ایک عادت ہوتی ہے۔ لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔ باہر جاتے ہیں مارتے بھی ہیں مار کھاتے بھی ہیں۔ پکے ہو جاتے ہیں۔ یہ اس نے کچھ بھی نہیں سیکھا تو انہوں نے کرنا کیا ہے۔ یہ دنیاوی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ پھر کہتے ہیں :’’نہ کسی کو بُرا کہا نہ آپ کہلوایا۔ ایک عجیب پاک زندگی تھی مگر ہماری نظروں میں اچھی نہیں تھی‘‘ گو دینی نظر سے دیکھی جائے تو بڑی پاک زندگی تھی لیکن ہم دنیا داروں کی نظر میں وہ اچھی زندگی نہیں تھی، یہ ہندو کہہ رہے ہیں۔ ’’نہ کہیں آنا نہ جانا نہ کسی سے سوائےمعمولی بات کے بات کرنا۔ اگر ہم نے کبھی کوئی بات کہی کہ میاں دنیا میں کیا ہو رہا ہے تم بھی ایسے رہو اور کچھ نہیں تو کھیل تماشہ کے طور پر ہی باہر آیا کرو تو کچھ نہ کہتے ہنس کے چپ ہو رہتے۔ تم عقل پکڑو۔ کھاؤ کماؤ کچھ تو کیا کرو‘‘ ہم یہ کہتے تھے۔ ’’یہ سن کر خاموش ہورہتے۔ آپ کے والد مجھے کہتے نمبردار! جاغلام احمد کو بلا لاؤ۔اسے کچھ سمجھا دیں گے۔ مَیں جاتا بلا لاتا۔ والد کا حکم سن کر اسی وقت آ جاتے اور چپ چاپ بیٹھ جاتے اور نیچی نگاہ رکھتے۔ آپ کے والد فرماتے: بیٹا غلام احمد ! ہمیں تمہارا بڑا فکر اور اندیشہ رہتا ہے۔ تم کیا کر کے کھاؤ‘‘ گے؟ ’’اس طرح سے زندگی کب تک گزارو گے۔ تم روزگار کرو۔ کب تک دلہن بنے رہو گے۔ خورونوش کی فکر چاہیے۔ دیکھو! دنیا کماتی کھاتی پیتی ہے۔ کام کاج کرتی ہے۔ تمہارا بیاہ ہوگا۔ بیوی آوے بالک بچے ہوں گے۔ وہ کھانے پینے پہننے کے لئے طلب کریں گے۔ ان کا تَعَہُّدتمہارے ذمہ ہوگا۔‘‘ ان کی دیکھ بھال تمہارے ذمہ ہوگی۔ ’’اس حالت میں توتمہارا بیاہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ کچھ ہوش کرو۔ اس غفلت اور اس سادگی کو چھوڑ دو۔ مَیں کب تک بیٹھا رہوں گا۔ بڑے بڑے انگریزوں، افسروں، حاکموں سے میری ملاقات ہے وہ ہمارا لحاظ کرتے ہیں۔ مَیں تم کو چٹھی لکھ دیتا ہوں تم تیار ہو جاؤ یا کہو تو مَیں خود جاکر سفارش کروں۔ تو مرزا غلام احمد کچھ جواب نہ دیتے وہ‘‘ یعنی آپؑ کے والد ماجد ’’بار بار اسی طرح کہتے۔آخر جواب دیتے تو یہ دیتے کہ ابا !بھلا بتلاؤ تو سہی کہ جو افسروں کے افسر اور مَالِکُ الْمُلْک اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن‘‘ یعنی سلطنتوں کا مالک اور فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے، اس ’’کا ملازم ہو اور اپنے ربّ العالمین کا فرمانبردار ہو اس کو کسی کی ملازمت کی کیا پرواہ ہے۔ ویسے مَیں آپ کے حکم سے بھی باہر نہیں۔‘‘ آپ کہتے ہیں نوکری کر لو تو مَیںکر لیتا ہوں۔ ’’مرزا غلام مرتضیٰ صاحب یہ جواب سن کر خاموش ہو جاتے اور فرماتے اچھا بیٹا جاؤ اپنا خلوت خانہ سنبھالو۔ جب یہ چلے جاتے‘‘ یہ ہندو کہتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہاں سے چلے جاتے، جوانی کی عمر میں تھے ’’تو ہم سے کہتے ہیں کہ یہ میرا بیٹا مُلّا ہی رہے گا۔ مَیں اس کے واسطے کوئی مسجد ہی تلاش کر دوں جو دس بیس من دانے ہی کما لیتا مگر مَیں کیا کروں یہ تومُلّا گری کے بھی کام کا نہیں۔ ہمارے بعد یہ کس طرح زندگی بسر کرے گا۔ ہے تو یہ نیک صالح مگر اب زمانہ ایسوں کا نہیں۔ چالاک آدمیوں کا ہے۔ پھر آبدیدہ ہو کر کہتے‘‘والد صاحب ’’کہ جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں ہے۔ یہ شخص زمینی نہیں آسمانی ، یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔یہ بات کہہ کے وہ بڈھا ہندو بھی چشم پُرآب ہوکر‘‘ جو واقعہ سنا رہا تھا وہ رونے لگا ’’کہنے لگا کہ اب مرزا غلام مرتضیٰ زندہ ہوتا‘‘ ان کا دوست ہے نا یہ ہندو۔ پرانے بڈھے، بہت بزرگ تھے۔ کہتے ہیں مرزا غلام مرتضیٰ یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے والد زندہ ہوتے ’’اور اِس کا یہ عروج اور ترقی دیکھتا‘‘ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا یہ جو عروج اب ہے، وہ دیکھتے ’’کہ دنیا کے عقلمند اور مولوی مُلّا اس کے دَر کے محتاج ہیں اور خدا نے وہ مرتبہ اس کو دیا اور اپنا وہ جلوہ قدرت دکھایا کہ سب کی عقل اور علم اس کے آگے ہیچ ہیں۔‘‘

(تذکرۃ المہدی صفحہ 300 تا 302)

اب یہ ہندو اعتراف کر رہے ہیں کہ

اگر آج وہ دیکھتے تو ان کو پتہ لگتا کہ یہی شخص جس نے اللہ پہ توکّل کیا تھا اور اللہ کی خاطر سب کچھ قربان کیا تھا آج سب دنیا ان سے علم سیکھ رہی ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہلِ فقر اور توکّل پر کبھی کبھی ایسی حالت گزرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا۔ سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں۔پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کر اس نہر کے کنارہ پر دعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے۔ جب ہم دعا کر چکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے ’’دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔‘‘ تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تاکہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں۔‘‘ یہ دعوے سے پہلے کی باتیں ہیں ’’کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں۔ چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کیے ہیں اور غالباً وہ روپیہ اسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 612)

’’ایک رئیس کا یہ خیال سن کر کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ دعا سے مشکل حل ہوتی ہے ان کو بہت ہی کمزور کرنے والا ہے‘‘ یعنی یہ عقیدہ کہ دعا مشکلات کا حل ہے انہیں عمل کرنے سے روک دیتا ہے اور وہ ایسے لوگ بھی ہیں جو صرف دعاؤں کی طرف توجہ دیتے ہیں اور اسباب کا استعمال نہیں کرتے اور اس وجہ سے ان کی حالت کمزور ہو جاتی ہے۔ یہ سن کر ’’آپؑ نے فرمایا کہ جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے۔ صرف ایک دعا ہی ذریعہ خدا شناسی کا ہے ۔اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرہاً مانا جاوے۔ اصل میں سب جگہ دہریت ہے۔ آج کل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا، توکّل اور انشاء اللہ کہنے پرتمسخر کرتے ہیں۔ ان باتوں کو بےوقوفی کہا جاتا ہے‘‘ آج کل یہ حالات اَور بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں ’’ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے؟ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کا نام لے ہی لیتا ہے۔ اگر ان کے نزدیک خدا کوئی شَے نہیں ہے تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے اسے ذرا بند کرکے تو دکھلاویں۔ تعجب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اسی قدر وہ دوسرا گروہ اس سے ناامید ہے۔‘‘ یعنی جو خدا کے خلاف ہیں، دہریہ لوگ ہیں ’’اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اَور کون کھول سکتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک کتّے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 169-170، ایڈیشن 2022ء)

حضرت میاں اللہ یار صاحبؓ ٹھیکیدار بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بلایا۔ فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ لکڑی ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ حضور! کچھ بیری اور کیکر اور پیپل کی ہے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ مہمان خانے میں کچھ چارپائیاں بنیں گی۔ ضرورت ہے۔ ان کے پائے بنانے ہیں اور ان کی ضرورت ہے۔ مَیں نے عرض کیا کہ پیپل کی لکڑی کے بنا دیتے ہیں۔ ایک شخص کہنے لگا کہ حضور! پیپل کی لکڑی تو ناقص ہو جاتی ہے۔اس کے پائے دیرپا نہیں رہتے۔ فرمایا: جس کے لیے بننے ہیں وہ غریب نہیں ہے وہ غنی ذات ہے۔ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر بنا رہے ہیں تو ٹھیک ہے۔ کچھ وقت تو چلے گی ناں۔ اس وقت حالات کے مطابق یہی ٹھیک ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ پہلی پوشاک خراب ہونے پر وہ نئی بنا دیتا ہے۔ وہاں کچھ پرواہ نہیں ہے۔ مجھے بیس چارپائیوں کے بنانے کا کہتے ہیں۔ مجھے حکم دیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہ بیس چارپائیاں بنا کے لے آؤ۔ ہر چیز کسی نہ کسی دن تو خراب ہونی ہے۔ لیکن آپؑ نے بڑے توکّل سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات دینے والی ہے اور خراب ہو گئی تو دوبارہ انتظام کردے گا۔ بہرحال اس وقت تو اس ضرورت کو پورا کرو۔ کہتے ہیں کہ مَیں بیس چارپائیوں کے پاؤں کا حکم لے کر چلنے کو تھا کہ ایک لوہار بھی وہاں آ گیا، اپنی تکلیف کا ذکر کیا جو کہ اسے غیر احمدیوں کی طرف سے ملتی تھی۔ مجھے اکیلے پا کر گاؤں میں ستاتے ہیں، وہ کہنے لگا۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سختی سے بچائے۔ میرے اَہْرَنْ (یہ لوہار تھا ان کے بھاری لوہے کے ٹھوس بلاک کو جس میں وہ لوہا گرم کرکے کوٹتے ہیں اس کو کہتے ہیں) اٹھا کے لے گئے، چرا کے لے گئے ہیں۔ اب مَیں کام نہیں کر سکتا۔ آپؑ نے اس سے فرمایا: خدا پر توکّل رکھو۔ اللہ تعالیٰ تمہارا حامی و ناصر ہوگا۔ یقیناً یاد رکھو جو خدا کا ہو جاتا ہے خدا اس کا ہو جاتا ہے۔ اگر تمہیں احمدی ہونے کی وجہ سے تکلیفیں مل رہی ہیں تو انشاء اللہ تکلیفیں دور ہو جائیں گی۔ انشاء اللہ ضروریات پوری ہو جائیں گی۔ خدا کو اگر تم نے نہ چھوڑا تو تمہارا سامان مہیا کر دے گا۔ ہم بھی دعا کریں گے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 465)

اس مجلس میں آپؑ نے توکّل کا اظہار جہاں اپنے لیے فرمایا وہاں ایک دوسرے شخص کو بھی توکّل اور دعا کی تلقین فرمائی۔

ایک نصیحت جو اپنے ایک مخلص کو آپؑ نے فرمائی اس کا ذکر حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایک روایت میں کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حافظ نور محمد صاحب متوطّن فیض اللہ چک نے تحریراً مجھے بتایا کہ مَیں نے حافظ حامد علی صاحبؓ سے یہ حوالہ سنا تھا کہ ’’حضرت اقدسؑ نے فرمایا ہے

اگر کبھی کسی مقدمہ میں یا اَور کسی طرح کسی حاکم کے سامنے جانا ہو تو جانے سے پہلے سات مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ لینی چاہیے اور سات مرتبہ اپنی انگلی سے اپنی پیشانی پر ’’یا عزیز‘‘ لکھ لینا چاہیے اس طرح اللہ تعالیٰ کامیابی دیتا ہے…۔‘‘

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’غالباً حالت استغنا عن غیراللہ‘‘ یعنی غیر اللہ سے بے نیازی ’’اور حالت توکّل علی اللہ کے پیدا کرنے کے لیے ہے۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1 حصہ دوم ، روایت نمبر 468 صفحہ 441 تا 442)

آپؑ نے یہ فرمایا تھا ۔یعنی اس طرح دعا کرو گے تو جو کرو گے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ ہوگی اور غیراللہ کا خوف جاتا رہے گا اور انشاء اللہ، اللہ فضل بھی فرمائے گا۔

مقدمات کے فیصلوں کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’میرا اپنا اصول یہ ہے کہ بدتر سے بدتر انسان بھی اگر مقدمہ کرے تو اس میں تصرّف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے اس سے فیصلہ لکھواتا ہے۔ انسان پر بھروسا شرک ہے بلکہ اگر ایک بھیڑئیے کے پاس بھی مقدمہ جاوے تو اس کو خدا سمجھ عطا کر دے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد4صفحہ 177،ایڈیشن 2022ء)

آپؑ پر بے شمار مقدمات ہوئے لیکن آپؑ کو خدا تعالیٰ پر اس قدر یقین اور توکّل تھا کہ ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا اور آپؑ کو یقین بھی تھا کہ نہیں ہوگا کہ جہاں دشمن کبھی کامیاب ہو سکے۔

اس قسم کے ایک واقعہ کے بارے میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’مجھے خوب یاد ہے کہ جس روز ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ صاحب قادیان میں حضرت کے مکان کی تلاشی کے لیے آئے تھے اور قبل از وقت اس کا کوئی پتہ اور خبر نہ تھی اور نہ ہو سکتی تھی۔ اس کی صبح کو کہیں سے ہمارے میر صاحب‘‘ یعنی میر ناصر نواب صاحبؓ ’’نے سن لیا کہ آج وارنٹ ہتھکڑی سمیت آوے گا‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لیے۔ کہتے ہیں ’’میر صاحب حَوَاسْ بَاخْتِہ سَرْ اَزْ پَا نَشَنَاخْتِہْ۔‘‘ یعنی بڑے سخت گھبرائے ہوئے۔ ’’حضرت کو اس کی خبر کرنے اندر دوڑے گئے اور غلبہ رقّت کی وجہ سے بصد مشکل اس ناگوار خبر کے منہ سے برقعہ اتارا‘‘ یعنی ان کو بڑی مشکلوں سے بیان کیا، بڑے جذباتی ہو رہے تھے کہ اس طرح وارنٹ لے کر آ رہا ہے اور آپؑ کو ہتھکڑی لگا لے گا۔ ’’حضرت اس وقت نورالقران لکھ رہے تھے‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ ’’اور بڑا ہی لطیف اور نازک مضمون درپیش تھا۔ سر اٹھا کر اور مسکرا کر فرمایا کہ

میر صاحب ! لوگ دنیا کی خوشیوں میں چاندی، سونے کے کنگن پہنا ہی کرتے ہیں ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔

پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا‘‘ اللہ تعالیٰ پر بڑا توکّل تھا۔

’’مگر ایسا نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں وہ اپنے خلفائے مامورین کی ایسی رسوائی پسند نہیں کرتا۔‘‘

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 279، ایڈیشن 2022ء)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ  تحریر فرماتے ہیں کہ مولوی سرور شاہ صاحبؓ نے مجھے بیان کیا کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا اور مجسٹریٹ نے تاریخ ڈالی ہوئی تھی۔ حضرت صاحب قادیان آئے ہوئے تھے۔ حضورؑ نے تاریخ سے دو روز پہلے مجھے گورداسپور بھیجا کہ مَیں جا کر وہاں سے بعض حوالے نکال کر تیار رکھوں کیونکہ اگلی پیشی میں حوالے پیش ہونے تھے۔ کہتے ہیں جب ہم گورداسپور مکان پر آئے تو نیچے سے ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب مرحوم کو آواز دی۔ ان کے گھر گئے کہ دروازہ کھولیں۔ کہتے ہیں ہمارے آواز دینے پر ڈاکٹر صاحب نے بے تاب ہو کے بےانتہا رونا شروع کر دیا۔ آخر تھوڑی دیر کے بعد آنسو پوچھتے ہوئے نیچے آئے اور کہنے لگے کہ میرے پاس محمد حسین منشی آیا تھا۔ کچہری کا منشی تھا ،کلرک ہوتا ہے یہ اور سلسلے کا مخالف بھی ہے لیکن اس نے یہ بات آکے مجھے بتائی ہے کہ آج آریوں کا جلسہ ہوا تھا۔ مجھے بھی ایک آریہ دوست ساتھ لے گیا تھا تو جلسہ کی کارروائی کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ باقی سب چلے جائیں ہماری پرائیویٹ مجلس ہو گی۔ تو کہتے ہیں کہ اس دوست نے کہا کہ تم ایک کونے میں بیٹھ جاؤ ہم اکٹھے چلیں گے۔ بہرحال کہتے ہیں وہاں جو اُن کی پرائیویٹ مجلس ہوئی اس میں ایک شخص اٹھا۔ یہ محمد حسین نے بتایا۔ اور مجسٹریٹ کو مرزا صاحب کا نام لے کر کہنے لگا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے۔ اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظر آپ کی طرف ہے۔ اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے اور اسی قسم کی جوش دلانے کی باتیں کیں۔ اس پر مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ میرا تو پہلے سے خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف مرزا کو بلکہ اس مقدمے میں جتنے بھی اس کے ساتھی اور گواہ ہیں سب کو جہنم میں پہنچا دوں مگر کیا کیا جاوے کہ مقدمہ ایسا ہوشیاری سے چلایا جا رہا ہے کہ کوئی ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں ملتی لیکن اب مَیں عہد کرتا ہوں کہ خواہ کچھ ہو اس پہلی پیشی میں ہی عدالتی کارروائی عمل میں لے آؤں گا۔ محمد حسین نے مجھے کہا کہ تم نہیں سمجھتے کہ عدالتی کارروائی کیا ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر مجسٹریٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ شروع یا دورانِ مقدمہ جب چاہے ملزم کو بغیر ضمانت قبول کیے گرفتار کر کے حوالات میں دے دے۔ تو خبر پہنچانے کے بعد وہ کہنے لگا۔ پس ڈاکٹر صاحب مَیں نے آپ کو یہ خبر پہنچا دی ہے۔ آپ اس کا کوئی انتظام کر لیں اور میرا خیال ہے اس کی دو تجویزیں ہوسکتی ہیں۔ وہ عدالت میں کام کرتا تھا۔ اس نے مشورہ دیا اپنے عدالتی نقطہ نظر سے کہ ایک تو یہ ہے کہ چیف کورٹ میں یہاں سے مقدمہ تبدیل کرانے کی کوشش کی جائے ۔اور دوسرے یہ کہ خواہ کسی طرح ہو مرزا صاحب اس آئندہ پیشی میں حاضر عدالت نہ ہوں اور ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ پیش کردیں۔ کہتے ہیں ہم بھی سخت خوفزدہ ہو گئے۔ فیصلہ کیا کہ اسی وقت قادیان کوئی آدمی روانہ کیا جائے اور حضرت صاحب کو اطلاع کی جائے۔ رات ہو چکی تھی کوئی سواری ملنے کا انتظام نہیں ہو رہا تھا۔ پیدل قادیان ہم دو تین آدمی روانہ ہو گئے۔ صبح نماز کے وقت قادیان پہنچے۔ مختصراً حضور کی خدمت میں عرض کیا، لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے پرواہی سے فرمایا خیر ہم بٹالہ چلتے ہیں۔ خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب لاہور سے واپس آتے ہوئے وہاں ہم سے ملیں گے ان سے بھی ذکر ہو جائے گا، وہاں پتہ لگ جائے گا کہ تبدیلی مقدمہ کی کوشش کا کیا نتیجہ ہوا۔ وہ اس کے لیے پہلے گئے ہوئے تھے۔ چنانچہ اسی دن حضور بٹالہ آگئے۔ گاڑی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب بھی مل گئے۔ انہوں نے خبر دی کہ مقدمہ تبدیل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی تو یہ سن کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس نہیں گئے بلکہ آپؑ گورداسپور ہی چلے گئے اور راستہ میں خواجہ صاحب اور مولوی صاحب کو واقعہ کی اطلاع نہیں دی۔ کوئی ذکر نہیں کیا آپؑ نے کہ مجسٹریٹ کی طرف سے یہ خبر پہنچی ہے۔ جب آپؑ گورداسپور مکان پر پہنچے تو حسبِ عادت الگ کمرے میں چارپائی پر جا لیٹے مگر اس وقت ہمارے بدن کے رونگٹے کھڑے تھے کہ اب کیا ہوگا۔ حضورؑ نے تھوڑی دیر کے بعد مجھے بلایا۔ مَیں گیا تو حضرت صاحبؑ نے اپنے دونوں ہاتھ کے پنجے ملا کر اپنے سر کے نیچے دیے ہوئے تھے اور سیدھے لیٹے ہوئے تھے۔ میرے جانے پر ایک پہلو پر اپنی کہنی کے بل اپنی ہتھیلی پر سر کا سہارا دے کر لیٹ گئے اور مجھ سے فرمایا۔ مَیں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ وہ سارا واقعہ سنوں کہ مجسٹریٹ نے کیا کہا تھا۔ مَیں نے سارا قصہ سنایا کہ اس طرح، اس طرح کہا تھا۔ حضورؑ خاموشی سے سنتے رہے۔ کہتے ہیں جب مَیں شکار کے لفظ پر پہنچا کہ اس نے کہا کہ اب میرے ہاتھ میں شکار ہے۔ جو مجسٹریٹ نے کہا تھا ناں۔ تو یک لخت حضرت صاحبؑ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپؑ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا اور آپؑ نے فرمایا:

مَیں اس کا شکار ہوں؟ مَیں شکار نہیں ہوں۔ مَیں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیر۔ وہ بھلا خدا کے شیر پہ ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ ایسا کر کے تو دیکھے!

یہ الفاظ کہتے ہوئے آپؑ کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اٹھے اور حیرت کے ساتھ اِدھر اُدھر متوجہ ہو گئے مگر کمرے کے اندر کوئی نہیں آیا۔ حضورؑ نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دہرائے اور اس وقت آپؑ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئیں اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپؑ نے فرمایا:

مَیں کیا کروں، مَیں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ مَیں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں ۔یعنی ہتھکڑیاں لگوانے کو تیار ہوں ۔مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں مَیں تجھے ذلّت سے بچاؤں گا اور عزّت کے ساتھ بری کروں گا۔

پھر آپ علیہ السلام محبتِ الٰہی پر تقریر فرمانے لگ گئے اور قریباً نصف گھنٹے تک جوش کے ساتھ بولتے رہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے یہ الفاظ تھے تو آپؑ کو کامل یقین اور توکّل تھا کہ جو کچھ مرضی ہو جائے مجسٹریٹ جو مرضی کہتا رہے وہ کبھی مجھ پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔

(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 84-88 ، روایت نمبر 107)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایمان کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ ہے۔آپؓ نے یہی واقعہ سنایا جیل کا۔ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں اس مجلس میں تو نہیں تھا۔ مَیں گورداسپور تو تھا لیکن مجلس میں نہیں تھا جس میں یہ واقعہ ہوا ہے اور یہ مجھے ایک دوست نے بتایا ہے۔ آپؓ نے ذکر کیا خواجہ کمال الدین کا کہ خواجہ کمال الدین کو بعد میں بلا لیا ہوگا۔ خواجہ کمال الدین صاحب اور دوسرے احمدی گھبرائے ہوئے تھے کہ فلاں مجسٹریٹ کے پاس مقدمہ ہے اور آریوں نے اس پہ بہت زور دیا ہے کہ مرزا صاحبؑ ہمارے مذہب کے مخالف ہیں ان کو سزا دو اور یہی تمہاری قومی خدمت ہو گی۔ تو بہرحال اس مجسٹریٹ نے کہا کہ اچھا مَیں ضرور سزا دوں گا۔ اب میرے ہاتھ میں آ گئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو آپؑ سُن کر اپنی کہنی کے بل پہلو پر ہو گئے اور فرمایا: خواجہ صاحب! کیا خدا کے شیر پر بھی کوئی ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مجسٹریٹ کو یہ سزا دی۔ یہ واقعہ زائد لکھا ہے حضرت مصلح موعودؓ نے کہ مجسٹریٹ کو یہ سزا دی کہ پہلے تو اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا ۔پھر اس کا تنزّل ہو گیا۔ یعنی نہ صرف اس کی ترقی روکی گئی بلکہ اس کو نچلی پوسٹ مل گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر سے اسے منصف، simple مجسٹریٹ بنا دیا گیا اور پھر دوسرے مجسٹریٹ نے آکر فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں تھا۔

(ماخوذ از بعض اہم اور ضروری امور۔ انوار العلوم جلد 16 صفحہ 293)

اسی مقدمے کی بابت چودھری غلام سرور باجوہ صاحب بیان کرتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب کرم الدین والا فوجداری مقدمہ تھا تو ایک روز بہت علماء و وکلاء نے مشورہ کے بعد حضورؑ کو کہا کہ مقدمہ کے انتقال کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ حضورؑ نے جواب دیا کہ

تمام دارومدار اسباب پر نہ رکھو بلکہ خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 1 صفحہ 85)

اس مقدمہ کرم دین کے فیصلہ والے دن حضور علیہ السلام کی شانِ توکّل کا اظہار کچھ اس طرح ہوتا ہے۔

بابو غلام محمد صاحب ثانی بیان کرتے ہیں کہ ’’آتما رام سے پہلے چندو لال کے وقت میں حضورؑ فرمانے لگے کہ یہ شخص بڑا بدباطن ہے۔ اس کے اندرونے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ سامنے آتا ہے تو ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوجاتا ہے اور بڑی لجاجت سے پیش ہو کر کہتا ہے کہ حضورؑ میرا عہدہ ہی کچھ اس قسم کا ہے کہ مَیں قدموں پر نہیں گر سکتا‘‘ اور بڑی عاجزی دکھاتا ہے لیکن ’’سارا دن بٹھا کر کہہ دیتا ہے کہ کل تشریف لاویں۔ روز ایسا ہی کرتا ہے۔‘‘ یہ تنگ کرنے کے ایسے طریقے ہیں کہ ظاہراً ہاتھ جوڑ کر کچھ باتیں کریں گے اور عملاً کچھ اَور کر رہا ہوتا ہے۔ بہرحال ’’آتمارام کی عدالت میں جب حکم سنانے کا وقت آ گیا تو اس وقت بہت سی پولیس بلوائی گئی تھی اور چھڑکاؤ کرایا گیا تھا اور ساری کچہری کو پولیس نے محصور کیا ہوا تھا۔‘‘ گھیرا ڈالا ہوا تھا ’’ایسے وقت میں خواجہ صاحب‘‘ یعنی خواجہ کمال الدین صاحب ’’نے یہی معنی کیے کہ یہ سزا دے دے گا اور خاکسار کو مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ حضرت صاحب علیہ السلام سے مخاطب ہو کر یہ میرا پیغام دو کہ یہ شخص بدی پر تُلا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر حضورؑ حکم دیں تو تین وکلا بلوا لیے جائیں۔ محمد شاہ وکیل لاہور سے اور فضل دین صاحب بھی اور تیسرا مَیں ہوں۔ ایک کو ڈویژنل کورٹ میں بھیج دیا جائے۔ دوسرے کو گورنر کے پاس جو دورے میں ہے اور تیسرا مَیں یہاں رہتاہوں۔ جب مَیں نے حضورؑ سے جا کر یہ بیان کیا تو حضرت بہت ہنسے۔‘‘ یہ ساری تجویز دینے پر کہ نہ جائیں یہ پکڑ لے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ’’فرمانے لگے کہ کشمیری ہے ناں، دل چھوڑ بیٹھا ہے۔ فرمایا: جا کر ان کو کہو آج تک ہم آپ کی باتوں کی قانونی اقتدا کرتے رہے‘‘ جو قانونی طور پر آپ مشورے دیتے رہے وہ مانتا رہا ہوں۔ ’’اب خدا پر چھوڑ دو۔‘‘ اب میرا توکّل خدا پر ہے تمہارے پر نہیں ہے۔ ’’مَیں نے جاکر ایسا کہہ دیا۔ خواجہ صاحب بہت بُرا منہ بنا کر سر نیچا کر کے کھڑے ہو گئے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 235)

توکّل علیٰ اللہ کی عجیب شان ہے جو ہمیں آپؑ میں اپنے آقا ؐکی اتّباع میں ہر جگہ نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توکّل کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button