خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء

’’ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکّل رکھنا اور جزع فزع سے کنارہ کرنا اور اپنے کام میں سُست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا، ایسے طور پر دکھلا دئے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

’’رسول کریمؐ ان دنیاوی لوگوں میں سے نہ تھے۔ آپؐ کی نظریں دنیا کی طرف نہیں لگی ہوئی تھیں بلکہ آپؐ کی آنکھ خدا کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔ دنیا کے اسباب آپؐ کے مدّ نظر نہ تھے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)

’’وہ خدا پر توکّل کرنے والا انسان …سراقہ کی اتنی پرواہ بھی نہیں کرتا جتنی ایک بیل کی کی جاتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ باوجود اس جرأت اور بہادری کے ،باوجود اس ایمان اور یقین کے، باوجود اس توکّل اور بھروسہ کے جو آپ میں پایا جاتا تھا مڑ مڑ کر دیکھتے جاتے ہیں کہ سراقہ اب ہمارے کس قدر نزدیک آ گیا ہے۔ لیکن رسول کریمؐ اس کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور گھبرانا اور دوڑنا تو الگ ،خوف و ہراس کا اظہار تو جدا آپؐ نے ایک دفعہ منہ پھیر کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا ‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

’’اللہ اللہ! خدا تعالیٰ پر کیسا بھروسہ ہے۔ دشمن گھوڑا دوڑاتا ہؤا اس قدر نزدیک آ گیا ہے کہ آپؐ کی آواز اس تک پہنچ سکتی ہے اور آپؐ تیر کی زد میں آگئے ہیں مگر آپؐ ہیں کہ گھبراہٹ کا محسوس کرنا توا لگ رہا قرآن شریف پڑھتے جاتے ہیں۔ … کیا اس بھروسہ اور توکّل کی کوئی اور نظیر بھی مل سکتی ہے؟ کیا کوئی انسان ہے جس نے اس خطرناک وقت میں ایسی بے توجہی اور لاپرواہی کا اظہار کیا ہو؟‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)

’’وہ کون سی چیز تھی جس نے اس وقت آپؐ کے دل کو ایسا مضبوط کر دیا۔ کون سی طاقت تھی جس نے آپؐ کے حوصلہ کو ایسا بلند کر دیا۔ کون سی روح تھی جس نے آپؐ کے اندر اس قسم کی غیر معمولی زندگی پیدا کر دی؟ یہ خدا پر توکّل کے کرشمہ تھے۔ اس پر بھروسہ کے نتائج تھے۔ آپؐ جانتے تھے کہ ظاہری اسباب میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ دنیا کی طاقتیں مجھے ہلاک نہیں کر سکتیں کیونکہ آسمان پر ایک خدا ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے جو ان سب اسباب کاپیدا کرنے والا ہے۔ پس خالق اسباب کے خلاف اسباب کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ توکّل آپؐ کا ضائع نہیں گیا بلکہ خدا نے اسے پورا کیا اور سراقہ جو دو سو اونٹ کے لالچ میں آیا تھا آپؐ سے معافی مانگ کر واپس چلا گیا اور خدا نے اس کے دل پر ایسا رعب ڈالا کہ اس نے اپنی سلامتی اس میں سمجھی کہ خاموشی سے واپس چلا جائے بلکہ اس نے اور تعاقب کرنے والوں کو بھی واپس لوٹا دیا۔…یہ وہ توکّل ہے جو ایک جھوٹے انسان میں نہیں ہو سکتا جو ایک پُرفریب دل میں نہیں ٹھہر سکتا… یہ وہ توکّل ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی ‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

’’جہاں تک انسانی تدابیر آپؐ کر سکتے تھے وہاں تک آپؐ تمام تدابیر سے کام لیتے اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا کرتے تھے۔ پس آپؐ کا ایمان جہالت اور سستی والا ایمان نہ تھا بلکہ آپؐ کا ایمان مشاہدہ والا ایمان تھا۔اور مشاہدہ والا ایمان اسی شخص کا ہوتا ہے جو ایک ہی وقت میں توکّل بھی کرتا ہے اور عمل بھی کرتا ہے،گویا عمل اور توکّل دونوں کو اکٹھا رکھتا ہے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)

جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کو تبلیغی خطوط ارسال فرمائے تو شہنشاہ فارس کسریٰ نے بڑے تکبر سے آپؐ کاخط ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ جب آپؐ کو اس کا علم ہوا تو کامل توکّل کے نتیجہ میں فرمایا: خدا خود ان لوگوں کو پارہ پارہ کرے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل توکّل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اذن سے غزوات میں جاتے تھے تو نکلتے وقت دعا بھی کیا کرتے تھے

’’انسان کو مشکلات کے وقت اگرچہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہئے کہ توکّل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

جنگ احزاب میں کفار کی کثرت کو دیکھ کر مسلمان پریشان نہیں ہوئے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل نے تو مسلمانوں کو اس وقت توکّل میں اَور بھی بڑھا دیا تھا اور مخالفین ومنافقین کی باتیں سننے کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے تھے

جنگِ احزاب میں ہی تھوڑا سا کھانا ایک لشکر کو پورا ہونے کا واقعہ بھی ملتا ہے۔ وہ جہاں معجزہ ہے وہاں اللہ تعالیٰ پر توکّل کی ایک عظیم مثال بھی ہے

آپؐ نے ان نامساعد حالات کے باوجود اور انتہائی ضرورت کے باوجود کسی شخص کی کفر کی حالت میں مدد نہیں لی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں، ان وعدوں پر یقین اور توکّل کے خلاف بات ہے کہ مَیں کسی غیر سے مدد لوں

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دیکھا جاوے تو کوئی بھی فرقہ اور مذہب روئے زمین پر ایسا نظر نہ آوے گا جس کو آپؐ نے دعوت نہ کی ہو اور جس کی غلطی نہ نکالی ہو (اور پھر ہر ایک کے مقابلہ پر اپنے مظفر و منصور ہونے کا دعویٰ بھی کیا )بھلا بتلاؤ کہ جب تک خدا پر پورا بھروسہ اور یقین نہ ہو کب کوئی اس طرح سے کر سکتا ہے؟‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے سیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء بمطابق 18؍تبوک1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ پر توکّل کا ذکر کرتے ہوئے گذشتہ خطبہ میں مَیں نے آپؐ کے مکہ سے ہجرت کے حوالے سے واقعات بیان کیے تھے۔

اس سفر میں کچھ مزید واقعات کی تفصیل بھی ہے۔ اس کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے جس سے آپؐ کے توکّل کی ایک اَور عظیم شان نمایاں ہوتی ہے۔

روایت میں آتا ہے کہ اس ہجرت کے موقع پر سراقہ بن مالک نے انعام کے لالچ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کرنے کا ارادہ کیا۔ اس واقعہ کو سراقہ بن مالک اس طرح بیان کرتے ہیں، یہ بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور اسلام لانے کے بعد انہوں نے خود ہی یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ہمارے پاس کفارِ قریش کے ایلچی آئے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ ہر دو کی دیّت مقرر کی ہوئی تھی ان لوگوں کے لیے جو ان دونوں کو قتل کرے گا یا ان کو قید کرے گا۔ سراقہ کہتے ہیں کہ مَیں اپنی قوم بنُو مُدْلِجْ کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کے سامنے سے آیا اور ہمارے پاس کھڑا ہوا جبکہ ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ تو اس نے کہا: اے سراقہ! مَیں نے ساحل کی طرف کچھ سائے سے دیکھے ہیں۔یا کہا کہ تین افراد کا ایک قافلہ جاتے ہوئے دیکھا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہو نہ ہو یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھی تھے۔ سراقہ بن مالک کہتے ہیں کہ مَیں جان گیا کہ واقعی یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ ہی ہو گا لیکن مَیں نہیں چاہتا تھا کہ میرے ساتھ کوئی اَور اس انعام میں شریک ہو۔ اس لیے مَیں نے فوراً موقع کی نزاکت کو سنبھالا دیا اور اس بتانے والے کو آنکھ سے اشارہ کیا کہ وہ خاموش رہے اور خود مَیں نے کہا کہ نہیں نہیں! وہ محمدؐ  کا قافلہ نہیں ہو سکتا بلکہ جن لوگوں کا تم ذکر کررہے ہو وہ تو ابھی ہمارے سامنے سے گزرے ہیں۔وہ بنو فلاں کے لوگ ہیں جو اپنی گمشدہ اونٹنی کی تلاش میں جارہے تھے۔ سراقہ کہتے ہیں کہ مَیں کچھ دیر اسی مجلس میں رہا تاکہ کسی کو شک نہ گزرے اور پھر اپنی ایک خادمہ کو کہا کہ وہ میری فلاں تیز رفتار گھوڑی کو لے کر گھر کے پیچھے فلاں جگہ پر کھڑی ہو اور میرا انتظار کرے۔اور کچھ دیر کے بعد وہ خود وہاں پہنچ گیا۔اور وہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے فال نکالی لیکن اس سفر کے خلاف نکلی لیکن مَیں نے پرواہ نہیں کی اور گھوڑی کو ایڑھ لگا دی اور ہوا ہو گیا اور تیزی سے اس قافلے کا پیچھے کرنے لگا جو مَیں سمجھتا تھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ ہی تھا۔ سراقہ کہتے ہیں کہ منزل پر منزل مارتے ہوئے مَیں جلد ہی اس قافلے کے قریب پہنچ گیا اور ابھی کچھ ہی فاصلے پر تھا کہ میری گھوڑی نے خلاف معمول ٹھوکر کھائی کہ مَیں اس سے گر پڑا۔ پھر مَیں اٹھ کھڑا ہوا اور مَیں نے فال نکالی اور فال پھر میرے ارادے کے خلاف نکلی مگر مَیں چاہتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لے کر جاؤں اور سو (100)اونٹنیوں کا انعام حاصل کروں۔ پھر مَیں اٹھا اور گھوڑی پر سوار ہوا اور اب میں اتنا قریب ہو چکا تھا کہ نہ صرف مَیں یہ پہچان چکا تھا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرؓ  ہیں بلکہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن کریم پڑھنے کی آواز بھی آ رہی تھی۔ آپؐ اِدھر اُدھر نہیں دیکھ رہے تھے اور حضرت ابوبکرؓ  کثرت سے مڑ کر دیکھتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی خاطر بھی چاروں طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں اتنے میں میری گھوڑی نے پھر ٹھوکر کھائی اور اس کی ٹانگیں ریت میں دھنس گئیں اور مَیں اس سے گر پڑا۔ پھر مَیں نے گھوڑی کو ڈانٹا اور کھڑا ہوا اور وہ اپنی ٹانگیں زمین سے نکال نہ سکتی تھی۔ آخر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کی دونوں ٹانگوں سے گرد اٹھ کر فضا میں دھویں کی طرح پھیل گئی اور مَیں نے دوبارہ تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے مَیں ناپسند کرتا تھا۔ مَیں نے وہیں سے امان کی آواز لگائی اور کہا کہ میری طرف سے آپ لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ  سے فرمایا کہ اس سے پوچھو وہ کیا چاہتا ہے؟ اس نے کہا مَیں سراقہ ہوں اور آپ لوگوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس پر وہ رک گئے۔ سراقہ بتانے لگا کہ مکہ والوں نے ان کے زندہ یا مردہ پکڑے جانے پر سو (100)اونٹ مقرر کیا ہے اور مَیں اسی لالچ میں آپ کا تعاقب کرتے ہوئے آیا ہوں لیکن جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے اس سے مَیں اس یقین پر پہنچا ہوں کہ میرا تعاقب درست نہیں ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زادِ راہ وغیرہ کی پیشکش بھی کی کہ کچھ سامان سفر کے لیے چاہیے تو ضروریات کھانے پینے کی لے جائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا۔ بس یہ کہا کہ ہمارے بارے میں کسی کو بتانا نہیں۔اس نے یہ وعدہ کیا اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ مجھے یقین ہے کہ آپؐ ایک دن بادشاہت حاصل کر لیں گے۔ مجھے کوئی عہد و پیمان لکھ دیں کہ اس وقت جب مَیں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوں تو مجھ سے عزّت اور احترام سے پیش آیا جائے گا۔ بعض روایات کے مطابق اس نے امان کی تحریر کے لیے درخواست کی تھی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر اس کو وہ تحریر حضرت ابوبکرؓ  نے اور ایک دوسری روایت کے مطابق عامر بن فُہَیْرَہ نے لکھ کر دی اور وہ یہ تحریر لے کر واپس چلا گیا۔

(مأخوذ از صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرۃ النبیﷺ و اصحابہ الی المدینۃ حدیث 3906 و سبل الھدیٰ والرشاد جلد3 صفحہ248 ،قصۃ سراقۃ ؓ…. دارالکتب العلمیۃ بیروت 1993ء۔محمد رسول اللّٰہ والذین معہ جلد 3 صفحہ 64-65،مکتبہ مصر)

یہ تھی آپؐ کے توکّل کی شان۔کوئی خوف نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھتے ہوئے آپؐ جارہے تھے۔آپؐ کو اس قدر یقین تھا اس بات پر کہ آپؐ کو کچھ نہیں ہو سکتا کہ جب اس نے یہ کہا کہ مجھے امان لکھ کے دے دیں تو آپؐ نے اس کو امان بھی لکھ کر دی اور اس کو تو یہ خیال گزرا تھا کہ آخر میں آپؐ کی فتح ہونی ہے اور آپؐ کو بھی اس سے بڑھ کر یقین تھا کہ یقیناً میری فتح ہے اس لیے امان بھی لکھ کر دے دی۔

ایک اَور روایت کے مطابق اس کے واپس لوٹتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

سراقہ !تیرا کیا حال ہو گا کہ جب کسریٰ کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوں گے۔

سراقہ حیرت زدہ ہو کر پلٹا اور کہا کہ کسریٰ بن ہُرْمُزْ!؟ فرمایا:ہاں! وہی کسریٰ بن ہُرْمُزْ۔ چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں کسریٰ کے کنگن اور اس کا تاج اور اس کا کمر بندلایا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سراقہ کو بلایا اور فرمایا اپنے ہاتھ بلند کرو اور انہیں وہ کنگن پہنائے اور فرمایا کہ کہو تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے کسریٰ بن ہُرْمُزْ سے یہ دونوں چھین کر عطا کیے ہیں۔

(محمد رسول اللّٰہ والذین معہ لعبدالحمید جودۃ السحار جلد3 صفحہ65،الھجرۃ، مکتبۃ مصر)

اس سفر کے واقعہ کو حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے کہ’’واقعہ ہجرت بھی ایک عجیب ہولناک واقعہ ہے۔ سارا عرب مخالف اور خون کا پیاسا تھا مگر رسول کریمؐ صرف ایک ساتھی لے کر مدینہ کی طرف چل پڑے۔ راستہ میں تمام وہ قومیں آباد تھیں جو مذہب کی مخالفت کی وجہ سے آپ کو مارنے کی فکر میں رہتی تھیں اور صرف قریش کے ڈر کے مارے خاموش تھیں۔لیکن اب وہ وقت آگیا تھا کہ جب قریش خود آپ کے قتل کے درپے تھے اور کُل قبائل عرب کو تسلی تھی کہ اگر ہم نے اس شخص کو قتل کر دیا تو قریش کو ناراضگی کی کوئی وجہ نہ ہو گی اور صرف یہی نہیں کہ قریش کی مخالفت کا خوف نہ رہا تھا بلکہ قریش نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے غیر حاضر دیکھ کر آپ کے قتل پر انعام مقرر کر دیا تھا اور مدینہ کے راستہ میں جس قدر قبائل آباد تھے انہیں یہ اطلاع دے دی تھی کہ جو شخص رسول کریمؐ اور حضرت ابوبکرؓ کو زندہ یا مردہ لے آئے گا اسے سو سو اونٹ فی کس انعام ملے گا۔ عرب کے قبائل جن کی زندگی ہی لوٹ مار پر بسر ہوتی تھی اور جو آتشِ حسد سے پہلے ہی جل بھن کر کوئلہ ہو رہے تھے اس موقع کو کب ہاتھ سے جانے دے سکتے تھے۔ ہر طرف آپؐ کی تلاش شروع ہوئی اور گویا ہر قدم پر جو آپ اٹھاتے خوف تھا کہ کسی خون کے پیاسے دشمن سے پالا پڑے گا۔ ایسے موقع پر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہادر سے بہادر انسان بھی دل ہار بیٹھتا ہے اور آخری جدوجہد سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔اور اگر نہایت دلیر اور خلاف ِمعمول کوئی نہایت قوی دل انسان بھی ہو تو اس پر بھی خوف ایسا مُسْتَوْلِی ہو جاتا ہے‘‘ یعنی غالب آ جاتا ہے ’’کہ اس کی ہر ایک حرکت سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔‘‘ آپؓ نے لکھا ہے کہ ’’مَیں نے بڑے بڑے بہادروں کے واقعات پڑھے ہیں‘‘ تاریخ میں ’’لیکن ایسے موقع پر ان کی جو حالت ہوتی ہے اس کا رسول کریمؐ کے واقعہ سے مقابلہ بھی کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔ تاریخ دان جانتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے نپولین کا کیا حال تھا اور اس کے چہرہ پر حسرت کے کیسے بیّن آثار پائے جاتے تھے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمایوں‘‘ بادشاہ جو ہندوستان میں، پاک و ہند میں ہوا ہے ’’کس طرح بار بار اپنے آپ کو دشمن کے ہاتھوں میں سپرد کر دینے کے لیے تیار ہو جاتا تھا اور اگر اس کے ساتھ چند نہایت وفادار جرنیل نہ ہوتے تو وہ شاید ایسا کر بھی دیتا۔ اسی طرح اَور بہت سے بڑے بہادر جرنیل گزرے ہیں جن پر مشکلات کے ایام آئے ہیں اور وہ ایسے اوقات میں جب دشمن ان کے چاروں طرف ان کی جستجو میں پھیل گیا، گھبرا گئے ہیں لیکن

رسول کریمؐ ان دنیاوی لوگوں میں سے نہ تھے۔ آپؐ کی نظریں دنیا کی طرف نہیں لگی ہوئی تھیں بلکہ آپ کی آنکھ خدا کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔ دنیا کے اسباب آپؐ کے مدّ نظر نہ تھے

اور آپؐ یہ خیال نہ کرتے تھے کہ ایسے وقت میں مَیں تن تنہا صرف ایک ساتھی کے ساتھ کیا کر سکتا ہوں اور ایسے خطرناک راستہ میں اگر دشمن آ جائے تو اس کے مقابلہ کے لیے میرے پاس کیا سامان ہیں بلکہ

آپؐ یہ دیکھ رہے تھے کہ میرے ساتھ وہ خدا ہے جو ہمیشہ سے اپنے نیک بندوں کا محافظ چلا آیا ہے اور جس کے وار کا کوئی دشمن مقابلہ نہیں کر سکتا۔

وہ خدا نوحؑ کا خدا، ابراہیمؑ کا خدا، موسیٰ ؑکا خدا، یونسؑ  کا خدا، ایوبؑ کا خدا، داؤدؑ کا خدا، سلیمانؑ کا خدا، مسیح ؑ کا خدا تھا وہی میرا خدا ہے اس کی طاقتیں کبھی زائل نہیں ہوتیں اور وہ ایک دم کے لیے غافل نہیں ہے۔ سُراقہ بن جُعْشَم لالچ اور دشمنی سے دیوانہ ہو کر آتا ہے اور دُور سے دیکھ کر آپؐ کی طرف گھوڑا دوڑا دیتا ہے۔ اس کے دل میں امید دریا کی طرح لہریں مارتی ہے وہ نہ صرف اپنے مذہب کی توہین کرنے والے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ کر اپنے سوختہ دل کو تسکین دینا چاہتا ہے بلکہ دو سو اونٹ کا انعام‘‘ یعنی سو (100)اونٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقرر تھے اور سو(100) اونٹ حضرت ابوبکرؓ  کے لیے کہ دو سو(200) اونٹ کا انعام بھی مجھے ملے گا۔ اور اسی طرف آپؓ نے اشارہ فرمایا کہ دوسو(200) اونٹ۔ پہلے روایت میںسو(100) اونٹ ہیں لیکن دوسو (200) اونٹ سو(100)سو(100)کر کے ہیں۔ بہرحال ’’جو اسے اپنی قوم میں ایک بہت بڑا رتبہ دینے کے لیے کافی تھا۔ اس کی ہمت کو اَور بھی بلند کر دیتا ہے جس طرح شکاری اپنے شکار کو دیکھ کر لپکتا ہے اسی طرح وہ رسول کریمؐ  کو دیکھ کر آپؐ کی طرف لپکتا ہے اور تیر کمان ہاتھ میں لے کر چاہتا ہے کہ آپؐ پر وار کرے۔ وہ اکیلا نہیں بلکہ ایک نعرہ مارکر وہ اپنے اردگرد ہزاروں آدمیوں کو جمع کر سکتا ہے۔‘‘ اگر وہ آواز دیتا تو ارد گرد کے قبائل کے لوگ ہوسکتا ہے قریب ہوتے کچھ تو لوگ آ جاتے۔ ’’کیونکہ رسول کریمؐ اس وقت اسی کے علاقہ سے گزر رہے ہیں لیکن آپؐ اس وقت کیا کرتے ہیں ؟کیا بھاگ جاتے ہیں ؟کیا ڈر کر اپنے آپؐ کو اس کے سپرد کر دیتے ہیں؟کیا آپ کے قدم لڑ کھڑانے لگ جاتے ہیں ؟کیا ان کے حواس بیکار ہو جاتے ہیں؟کیا اسے قتل کر کے راہ فرار اختیار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں؟‘‘ اب وہ اتنا قریب ہے، اکیلا ہے تو آپؐ بھی تو تیر مار کے اسے مار سکتے تھے۔

’’نہیں !وہ خدا پر توکّل کرنے والا انسان ان میں سے ایک بات بھی نہیں کرتا اور سراقہ کی اتنی پرواہ بھی نہیں کرتا جتنی ایک بیل کی کی جاتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ باوجود اس جرأت اور بہادری کے ،باوجود اس ایمان اور یقین کے ،باوجود اس توکّل اور بھروسہ کے جو آپ میں پایا جاتا تھا مڑ مڑ کر دیکھتے جاتے ہیں کہ سراقہ اب ہمارے کس قدر نزدیک آ گیا ہے۔لیکن رسول کریمؐ اس کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور گھبرانا اور دوڑنا تو الگ ،خوف و ہراس کا اظہار تو جدا آپؐ نے ایک دفعہ منہ پھیر کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا

جس نے سراقہ کو ورطہ ٔحیرت میں ڈال دیا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں کہ مَیں کس انسان کاپیچھا کر رہا ہوں اور وہ مدّت العمر اس نظارہ کو اپنے حافظہ سے نہیں مٹا سکا بلکہ اس خلاف ِمعمول واقعہ نے اس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ ہمیشہ اسے بیان کرتا تھا اور کہتا تھا کہ… مَیں گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے رسول کریمؐ کے اس قدر نزدیک ہو گیا کہ مَیں رسول کریمؐ کے قرآن پڑھنے کی آواز سن رہا تھا اور مَیں نے دیکھا کہ رسول کریمؐ دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھتے۔ ہاں حضرت ابوبکرؓ بار بار دیکھتے جاتے تھے۔

اللہ اللہ! خدا تعالیٰ پر کیسا بھروسہ ہے۔ دشمن گھوڑا دوڑاتا ہؤا اس قدر نزدیک آ گیا ہے کہ آپؐ کی آواز اس تک پہنچ سکتی ہے اورآپؐ تیر کی زد میں آگئے ہیں مگر آپؐ ہیں کہ گھبراہٹ کا محسوس کرنا توا لگ رہا قرآن شریف پڑھتے جاتے ہیں۔

اِدھر حضرت ابوبکرؓ بار بار دیکھتے جاتے ہیں کہ اب دشمن کس قدر نزدیک پہنچ گیا ہے۔

کیا اس بھروسہ اور توکّل کی کوئی اَور نظیر بھی مل سکتی ہے؟ کیا کوئی انسان ہے جس نے اس خطرناک وقت میں ایسی بے توجہی اور لاپرواہی کا اظہار کیا ہو؟

اگر آپؐ کو دنیاوی اسباب کے استعمال کا خیال بھی ہوتا تو کم سے کم اتنا ضرور ہونا چاہئے تھا کہ آپ اس وقت یا تو سراقہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے یا وہاں سے تیز نکل جانے کی کوشش کرتے لیکن آپؐ نے ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں اختیار کی۔ نہ تو آپؐ تیز قدم ہوئے اور نہ ہی آپؐ نے یہ ارادہ کیا کہ کسی طرح سراقہ کو مار دیں بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ بغیر اظہار خوف و ہراس اپنی پہلی رفتار پر قرآن شریف پڑھتے ہوئے چلے گئے۔

وہ کون سی چیز تھی جس نے اس وقت آپ کے دل کو ایسا مضبوط کر دیا۔ کون سی طاقت تھی جس نے آپ کے حوصلہ کو ایسا بلند کر دیا۔ کون سی روح تھی جس نے آپ کے اندر اس قسم کی غیر معمولی زندگی پیدا کر دی؟ یہ خدا پر توکّل کے کرشمہ تھے۔ اس پر بھروسہ کے نتائج تھے۔ آپؐ جانتے تھے کہ ظاہری اسباب میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ دنیا کی طاقتیں مجھے ہلاک نہیں کر سکتیں کیونکہ آسمان پر ایک خدا ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے جو ان سب اسباب کاپیدا کرنے والا ہے۔ پس خالقِ اسباب کے خلاف اسباب کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ توکّل آپؐ کا ضائع نہیں گیا بلکہ خدا نے اسے پورا کیا اور سراقہ جو دو سو اونٹ کے لالچ میں آیا تھا آپؐ سے معافی مانگ کر واپس چلا گیا اور خدا نے اس کے دل پر ایسا رعب ڈالا کہ اس نے اپنی سلامتی اس میں سمجھی کہ خاموشی سے واپس چلا جائے بلکہ اس نے اَور تعاقب کرنے والوں کو بھی واپس لوٹا دیا۔…یہ وہ توکّل ہے جو ایک جھوٹے انسان میں نہیں ہو سکتا جو ایک پُرفریب دل میں نہیں ٹھہر سکتا… یہ وہ توکّل ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔

حضرت موسیٰ ؑسے بھی ایک موقع پر اس قسم کے توکّل کی نظیر ملتی ہے لیکن وہ مثال اس سے بہت ہی ادنیٰ ہے کیونکہ حضرت موسیٰ ؑکے ساتھیوں نے فرعونیوں کو دیکھ کر کہا کہ اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ۔ ہم ضرور گرفتار ہوجائیں گے۔ اس پر حضرت موسیٰؑ نے جواب میں کہا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ( الشعراء:63) لیکن

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاتوکّل ایسا کامل تھا کہ اس نے آپؐ کے ساتھی پر بھی اثر ڈالا

اور حضرت ابوبکرؓ نے مُوسَائیوں کی طرح گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ ہم ضرور پکڑے جائیں گے بلکہ ‘‘ غار میں بیٹھ کے بھی، دیکھ کے بھی ’’یہ کہا کہ اگر وہ نیچی نظر کریں تو دیکھ لیں اور یہ ایمان اس پَرتَو کا نتیجہ تھا جو نورِ نبوت اس وقت آپ کے دل پر ڈال رہا تھا۔ دوسرے 4۔‘‘( سیرۃ النبی ﷺ، انوار العلوم جلد1 صفحہ491 تا 496) پس یہ تھی آپؐ کے توکّل کی بلند شان۔

اسباب کا انتظام اور استعمال اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکّل یہ ضروری چیز ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل کا ذکر کرتے ہوئے اس نکتے کو حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ’’وہ شخص جسے خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین ہو اور پھر ساتھ ہی اسے یہ بھی یقین ہو کہ مجھے اس نے ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے وہ ترک عمل کب کر سکتا ہے۔ وہ تو سب سے زیادہ عمل کرنے والا ہوتا ہے۔… محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال آپ کے ایمان کی وجہ سے تھے کیونکہ جو شخص سمجھتا ہے کہ ایک خدا ہے اور اس نے مجھے کسی خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کوشش بھی کرتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں ایمان کا اظہار کرتے ہیں، جہاں غار ثور میں بیٹھے ہوئے حضرت ابوبکرؓ سے کہتے ہیں ابوبکر! مت گھبراؤ !خدا ہمارے ساتھ ہے اور وہی ہمارا محافظ ہے وہاں آپؐ دین کے دوسرے کاموں میں رات اور دن اس طرح مشغول رہتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ساری خدائی کے کام آپؐ کے ہی سپرد کیے جا چکے ہیں۔ پس ایک طرف اگر آپؐ کو یہ یقین تھا کہ خدا ہے اور وہ اپنے بندوں کی مدد کیا کرتا ہے تو دوسری طرف آپؐ خدا کا امتحان لیتے نظر نہیں آتے۔یہ نہیں کرتے کہ جب خدا نے کہہ دیا کہ مَیں تجھے فتح دوں گا تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور کہیں کہ اب فتح کے لئے کسی کوشش کی کیا ضرورت ہے۔اللہ اپنے وعدہ کے مطابق آپ فتح دے گا۔ آپ ایسا نہیں کرتے بلکہ فتح کے لئے کوشش بھی کرتے ہیں۔چنانچہ آپؐ لوگوں کو فوجی کرتب سکھاتے ہیں‘‘ ٹریننگ دیتے ہیں فوج کی۔ ’’دشمن کے مقابلہ کے لئے لشکر جمع کرتے ہیں۔سواریوں کا انتظام کرتے ہیں ہتھیار اکٹھے کرتے ہیں۔فوجیوں کے کھانے اور رہائش وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں۔پھر ان تمام انتظامات کو مکمل کرنے کے بعد دشمن سے لڑنے کے لئے جاتے ہیں۔اور جب کوئی ایسا وقت آتا ہے جب دشمن زیادہ ہوتا ہے اور صحابہ کم ہوتے ہیں تو آپؐ بڑے یقین اور وثوق اور ایمان کے ساتھ فرماتے ہیں کہ گو ہم تھوڑے ہیں مگر جیتیں گے ہم ہی۔پس

جہاں تک انسانی تدابیر آپؐ کر سکتے تھے وہاں تک آپؐ تمام تدابیر سے کام لیتے اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا کرتے تھے۔ پس آپؐ کا ایمان جہالت اور سستی والا ایمان نہ تھا بلکہ آپؐ کا ایمان مشاہدہ والا ایمان تھا۔اور مشاہدہ والا ایمان اسی شخص کا ہوتا ہے جو ایک ہی وقت میں توکّل بھی کرتا ہے اور عمل بھی کرتا ہے،گویا عمل اور توکّل دونوں کو اکٹھا رکھتا ہے۔‘‘

(اسوہ حسنہ۔انوار العلوم جلد17 صفحہ97-98)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام بیان فرماتے ہیں:

’’ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکّل رکھنا اور جزع فزع سے کنارہ کرنا اور اپنے کام میں سُست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور پر دکھلا دئے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 447)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا پر توکّل کرتے ہوئے رعایت اسباب سے بھی کام لیا۔

اس بارے میں جیسا کہ مَیں نے کہا واقعات بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث بھی ہے۔ حضرت اُبی بن کعبؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ مدینہ تشریف لائے اور انصار نے انہیں اپنے ہاں پناہ دی تو تمام عرب ان کے مقابلے کے لیے ایک ہوگئے۔ مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ وہ ہتھیاروں کے بغیر رات نہیں گزارتے تھے اور نہ ہی صبح کرتے تھے مگر اس حال میں کہ ہتھیار ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ (المستدرک علی الصحیحین جلد 2 صفحہ 435، کتاب التفسیر باب تفسیر سورۃ النور حدیث 3512، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء) ہر وقت سوتے جاگتے انہوں نے ہتھیار اپنے پاس رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ پر توکّل بھی تھا اور یہ بھی تھا کہ ہر وقت حملہ بھی ہو سکتا ہے اس لیے چاک و چوبند بھی رہنا ہے۔ اپنی حفاظت کا انتظام بھی کرنا ہے۔

اس کی تفصیل حضرت عائشہؓ سے بھی ایک روایت میں ملتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ایک رات آپؐ جاگتے رہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میری حفاظت کرتا۔ حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ ہم اسی حالت میں تھے کہ اچانک ہتھیاروں کی کھڑکھڑاہٹ کی آواز سنائی دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے؟ جواب آیا کہ مَیں سعد بن ابی وقاص ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تمہیں کس چیز نے یہاں آنے پر آمادہ کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے دل میں آپؐ کی حفاظت کے بارے میں خیال آیا تھا تو فکر پیدا ہوئی اس لیے میں آپؐ کی پہرہ داری کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر آپؐ آرام سے سو گئے۔

ایک اَور روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ ہی اسی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ مَیں نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: سعد اور حذیفہ ہیں۔ دو شخص تھے۔اس میں بیان ہوئے ہیں۔ آپؐ کے پہرے کے لیے آئے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ مَیں نے آپؐ کے تیز سانس کی آواز سنی۔ اسی دوران یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ یعنی تیز سانس تھا۔ آپؐ کی ایسی حالت اس وقت ہوتی تھی جب وحی نازل ہو رہی ہو۔ تو کہتی ہیں اسی دوران یہ آیت نازل ہوئی وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ اور اللہ تجھے ان لوگوں سے بچائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ سے اپنا سر باہر نکالا اور فرمایا :اے لوگو! اب واپس چلے جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔

(الجامع لاحکام القرآن (تفسیر قرطبی) سورۃ المائدہ زیر آیت 68، صفحہ 1104، دار ابن حزم)

جب تک یقین نہیں تھا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیشگوئی نہیں تھی، آپؐ نے پہرہ دلوایا۔اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی پھر آپؐ نے کہا تم جاؤ۔اب اللہ تعالیٰ میری حفاظت کرے گا۔

جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کو تبلیغی خطوط ارسال فرمائے تو شہنشاہِ فارس کسریٰ نے بڑے تکبر سے آپؐ کاخط ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ جب آپؐ کو اس کا علم ہوا تو کامل توکّل کے نتیجہ میں فرمایا: خدا خود ان لوگوں کو پارہ پارہ کرے۔

کسریٰ نے یمن کے گورنر کے ذریعہ آپؐ کو گرفتار کرنے کے لیے دو سپاہیوں کو خط دے کر پہلے سے ہی بھجوا رکھا تھا۔ آپؐ نے خط کا مضمون سنا جس میں لکھا تھا کہ فی الفور اپنے آپ کو ان لوگوں کے سپرد کر دیں۔ اس خطرناک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی گھبراہٹ کا اظہار کیے بغیر ایلچیوں سے فرمایا کہ آج رات یہاں ٹھہرو۔کل تمہیں جواب دوں گا۔ پھر اگلی صبح آپؐ نے ان نمائندوں کو فرمایا تم واپس چلے جاؤ اور اپنے آقا یعنی والیٔ یمن سے جا کر کہہ دو۔ یمن کے والی کے ذریعے سے بادشاہ نے پیغام بھیجا تھا۔ ان سے جا کے کہہ دو کہ میرے ربّ نے آج رات تیرے ربّ یعنی کسریٰ کو قتل کردیا ہے۔ وہ لوگ یہ بات سن کر ہکا بکا رہ گئے اور واپس چلے گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اسی رات خسرو پرویز کو اس کے بیٹے شِیرَ وَیْہ سائرس (Siroes) نے قتل کر دیا تھا۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین ﷺ صفحہ 815-816)

یہ عظیم الشان واقعہ اللہ تعالیٰ کی معجزانہ حفاظت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بےمثال توکّل کا مظہر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل توکّل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اذن سے غزوات میں جاتے تھے تو نکلتے وقت دعا بھی کیا کرتے تھے۔

اس بارے میں حضرت انسؓ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ کے لیے نکلتے تو فرماتے:

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ عَضُدِیْ وَاَنْتَ نَصِیْرِیْ وَبِکَ اُقَاتِلُ۔

کہ اے اللہ! تُو میرا بازو ہے اور تُو میرا مددگار ہے اور مَیں تیرے ذریعہ لڑائی کرتا ہوں۔

(سنن الترمذی، ابواب الدعوات ، باب فی الدعاء اذا غزا، حدیث : 3584)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :

’’انسان کو مشکلات کے وقت اگرچہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہئے کہ توکّل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بدر کے موقع پر سخت اضطراب ہوا تھا۔چنانچہ عرض کرتے تھے کہ یَا رَبِّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا۔‘‘ کہ اے میرے ربّ! اگر تُو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر زمین میں تیری عبادت کبھی نہیں کی جائے گی۔

’’مگر آپؐ کا اضطراب فقط بشری تقاضا سے تھا کیونکہ دوسری طرف توکّل کو آپ نے ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا۔ آسمان کی طرف نظر تھی اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ یاس‘‘ مایوسی یا ناامیدی ’’ کو قریب نہیں آنے دیا تھا۔ ایسے اضطرابوں کاآنا تو انسانی اخلاق اور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہئے کہ یاس کو پاس نہ آنے دے کیونکہ یاس ‘‘ یعنی مایوسی اور نا امیدی ’’تو کفار کی صفت ہے۔ انسان کو طرح طرح کے خیالات اضطراب کا وسوسہ ڈالتے ہیں مگر ایمان ان وساوس کو دور کر دیتا ہے۔ بشریت اضطراب خریدتی ہے اور ایمان اس کو دفع کرتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 271-272 ایڈیشن 2022ء)

پھر

اللہ تعالیٰ پر توکّل  کا یہ مشہور واقعہ ہے جو آپؐ کو اکیلے پا کر ایک دشمن نے آپؐ پر تلوار سونت لی۔لیکن آپؐ نے بغیر کسی گھبراہٹ کے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا۔

(صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات الرقاع حدیث 4135۔ مترجم جلد8 صفحہ 293-294)

اس واقعہ کو حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اپنے طرز میں بیان فرماتے ہوئے بیان کیا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ پر توکّل کا یہ حال تھا کہ جب ایک شخص نے اکیلا پا کر آپ پر تلوار اٹھائی اور آپ سے پوچھا اب کون تم کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اس وقت باوجود اس کے کہ آپ بے ہتھیار تھے اور بوجہ لیٹے ہوئے ہونے کے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے آپؐ نے نہایت اطمینان اور سکون سے جواب دیا ’’ اللہ‘‘۔ یہ لفظ اس یقین اور وثوق سے آپ کے منہ سے نکلا کہ اس کافر کا دل بھی آپ کے ایمان کی بلندی اور آپ کے یقین کے کامل ہونے کو تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور وہ جو آپ کو قتل کرنے کے لئے آیا تھا آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا ہو گیا۔‘‘

(دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 386)

جنگِ احزاب میں مسلمانوں پر انتہائی تنگی کے دن تھے۔ مدینے میں رہ کر ہی دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اور یہ کسی خوف یا اللہ تعالیٰ پر توکّل کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ جنگی حکمت ِعملی کے تحت تھا اور مدینے کے ارد گرد ایک خندق کھودی گئی تھی کہ دشمن کے فوری طور پر یکدم حملہ کرنے سے اس خندق کی وجہ سے محفوظ رہا جا سکے۔ مسلمانوں کی ایسی حالت تھی کہ اکثر ان میں سے غریب تھے۔ اکثر روز کی روٹی کمایا کرتے تھے تو باوجود اس تنگی کے سب نے اکٹھے ہو کر اس خندق کی کھدائی میں حصہ لیا تاکہ ان حملوں سے محفوظ رہا جا سکے اور جو روز کام نہیں کر سکتے تھے وہ پھر بھوکے رہتے تھے اور تمام عرب کے بہت سارے قبائل اس وقت اکٹھے ہو کر حملہ آور ہوئے تھے۔مختلف روایتوں میں ان کی تعداد مختلف بتائی جاتی ہے۔ بہرحال کم سے کم تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے،کہیں پندرہ ہزار ہے،کہیں چوبیس ہزار ہے۔ ویسے تو دس ہزار کی تعداد بھی مدینہ کی آبادی کے لحاظ سے حملہ آوروں کی بہت بڑی تعداد تھی۔ اس چھوٹے سے شہر کے لحاظ سے تو یہ بہت بڑی فوج تھی۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین ﷺ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ574 )

بہرحال مسلمان اپنی تنگی کے حالات اور غربت کے حالات کے باوجود اس مقابلہ کے لیے اور تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے اور یہ حکمتِ عملی تھی کہ تھوڑی تعداد ہے اس لیے شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے آگاہ بھی کیا ہوا تھا۔ مسلمانوں کے ایمان میں مضبوطی بھی آ چکی تھی اور

کثرت کو دیکھ کر مسلمان پریشان نہیں ہوئے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل نے تو مسلمانوں کو اس وقت توکّل میں اَور بھی بڑھا دیا تھا اور مخالفین و منافقین کی باتیں سننے کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے تھے۔

پھر دیکھیں ثابت قدمی اور توکّل کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بھی کیسا انتظام کیا کہ آندھی اور طوفان نے کفار کو خوفزدہ کر دیا اور وہ بھاگ گئے اور بھاگے بھی ایسی افرا تفری میں کہ بہت سارا اپنا سامان خوراک اور دوسرا سامان چھوڑ کرچلے گئے جو مسلمانوں کے کام آیا۔ تو یہ تھا اللہ تعالیٰ پر توکّل کا نتیجہ۔

جنگِ احزاب میں ہی تھوڑا سا کھانا ایک لشکر کو پورا ہونے کا واقعہ بھی ملتا ہے۔ وہ جہاں معجزہ ہے وہاں اللہ تعالیٰ پر توکّل کی ایک عظیم مثال بھی ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ نے بیان کیا کہ ہم خندق کے دن یعنی جنگ احزاب والے دن زمین کھود رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا۔ پس وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ خندق میں ایک پتھر آگیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا :مَیں اترتا ہوں۔یعنی مَیں آتا ہوں اس کو توڑنے کے لیے۔ آپؐ کھڑے ہو گئے اور آپؐ کے پیٹ پر پتھر بندھاہوا تھا۔ خالی پیٹ ہونے کی وجہ سے اس زمانے میں پتھر باندھا کرتے تھے سہارا دینے کے لیے اور تین دن سے ہم نے کچھ بھی نہیں چکھا تھا۔اتنا فاقہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال لی اور اس سے اس پتھر پر ضربیں لگائیں تو بھربھرا یا کہ پھسلتی ہوئی ریت کا ڈھیر ہو گیا۔ مَیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھ کےکہا: یا رسول اللہؐ! مجھے گھر تک جانے کی اجازت دیجیے۔ مَیں نے جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ مَیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک بات محسوس کی ہے جس پر صبر نہیں ہو سکتا۔ یعنی مَیں نے دیکھاہے فاقے کی وجہ سے آپؐ نے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کچھ خوراک ہے؟ کہنے لگی کچھ جَو اور بکری کا چھوٹا بچہ ہے۔چنانچہ مَیں نے اس بچے کو ذبح کیا اور اس نے جَو پِیسے اور ہم نے پتھر کی ہانڈی میں گوشت ڈال دیا اور پھر مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آٹا اس وقت تک گوندھا جا چکا تھا اور خمیر ہو چکا تھا اور ہانڈی چولہے پر پکنے کے قریب تھی۔ مَیں نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پاس کچھ کھانا ہے۔ یا رسول اللہ ؐ!آپ اٹھیں اور ایک یا دو آدمی ساتھ لے لیں تاکہ کھانا کھا لیں۔ آپؐ نے پوچھا کھانا کتنا ہے؟ مَیں نے آپؐ سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بہت ہے۔ ایک بکری کے بچہ کاگوشت ہے اور تھوڑے سے جَو ہیں کوئی فرق نہیں بہت کھانا ہے۔بہت ہے اور اچھا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا :اپنی بیوی سے کہو ہانڈی نہ اتارے اور نہ روٹی تنور سے نکالے جب تک کہ مَیں نہ آجاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے کہا :اٹھو! چنانچہ مہاجرین اور انصار کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت جابرؓ اپنی بیوی کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ تمہارا بھلا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار اور جو اُن کے ساتھ ہیں سب کو لے کر آگئے ہیں۔ ان کی بیوی نے کہا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کچھ پوچھا تھا؟ مَیں نے کہا :ہاں! پوچھا تھا۔ اور ساری تفصیل بتا دی کہ آپؐ نے کہا تھا کتنا کھانا ہے؟ اور مَیں نے بتایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر صحابہؓ  کو اپنے ساتھ لیا اور فرمایا:اندر چلو اور کشمکش نہ کرو۔یعنی تیزی دکھانے کی ضرورت نہیں۔ آرام سے گھر کے اندر جاکے بیٹھ جاؤ۔ آپؐ روٹیوں کے ٹکڑے کرکے ان پر گوشت ڈال کر صحابہ ؓکو دینے لگے۔ کپڑے سے ڈھانکی ہوئی روٹی تھی اس کا ٹکڑا کرتے تھے اور نکال کے تھوڑا سا سالن ڈالتے تھے اور صحابہؓ  کو دے دیتے تھے اور جب ہانڈی اور تنور سے کچھ لیتے تو اسے ڈھانپ دیتے۔اس طرح کرتے رہے یہاں تک کہ صحابہ ؓسیر ہو گئے۔ سب کے پیٹ بھر گئے اور کچھ کھانا بچ بھی رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر ؓکی بیوی سے فرمایا:لواب یہ کھا لو اور ہدیہ بھیجو کیونکہ لوگ بہت بھوکے ہیں۔ (صحیح البخاری كتاب المغازى باب غزوة الخندق وهي الأحزاب حدیث نمبر 4101 مترجم جلد 8 صفحہ 240-241) تو یہ توکّل بھی تھا اور ساتھ اس میں برکت کی دعا بھی تھی کہ برکت بھی پڑ گئی۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے ایک شخص نے حضرت بَرَاء بن عَازِب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: کیا تم حُنین کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں!مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان نہیں چھوڑا تھا۔ ہوازِن تیر انداز لوگ تھے اور جب ہماری ان سے مڈھ بھیڑ ہوئی تو ہم نے ان پر حملہ کیا اور وہ شکست کھا گئے اور مسلمان مالِ غنیمت سمیٹنے لگ گئے لیکن انہوں نے سامنے سے تیر برسانے شروع کر دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے۔ مَیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ اپنی سفید خچر پر سوار تھے اور ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ شعر پڑھ رہے تھے :

اَنَاالنَّبِیُّ لَاکَذِبْ اَنَاابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب

مَیں موعود نبی ہوں اور اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ مَیں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

(صحیح البخاری كتاب الجهاد والسير باب من قاد دابۃ غیرہ فی الحرب حدیث نمبر 2864 مترجم جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 226)

اس واقعے کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے بھی کیا ہے اور ذرا تفصیل بیان کی ہے کہ ’’آپ کا یہ فرمانا کہ مَیں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اس کا یہ مطلب تھا کہ اس وقت دشمن کا حملہ اس قدر شدید ہے کہ دشمن کے چار ہزار تیرانداز تیروں کی بارش برسا رہے ہیں۔اس حالت میں میرا آگے بڑھنا انسانیت کی شان سے بہت بلند اور بالا نظر آتا ہے‘‘ مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔ اس لیے آپؐ نے یہ شعر پڑھا تھا کہ ’’اس سے کوئی دھوکا نہ کھائے اور یہ نہ سمجھے کہ مجھ میں خدائی طاقتیں ہیں۔ مَیں تو عبدالمطلب کا بیٹا ہی ہوں اور ایک بشر ہوں۔ صرف اللہ تعالیٰ کی مدد میرے نبی ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ ہے۔‘‘

(خوف اور امید کا درمیانی رستہ۔ انوار العلوم جلد 19 صفحہ 47)

اللہ تعالیٰ پر توکّل کی یہ شان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کامیابیوں کاوعدہ کیا ہے تو ان تیروں کی بارش میں بھی وہ مجھے کامیاب فرمائے گا۔

اللہ تعالیٰ پر توکّل اور اس کے وعدوں پر یقین کی ایک اَور مثال یوں ملتی ہے۔ایک روایت میں ہے۔ اب یہ

شروع کے واقعات دیکھ لیں اور آخر سے دیکھ لیں تو ایک ہی جیسے توکّل کی مثالیں ہمیں نظر آتی ہیں۔

اب وہ واقعہ حنین کا ہے تو یہ پہلی جنگ کا جنگ بدر کا واقعہ ہے کہ مدینہ میں حبیب بن یَسَاف نامی ایک نہایت طاقتور اور بہادر شخص تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی بہت کمزور حالت تھی۔ یہ شخص قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا اور غزوۂ بدر کے موقع تک مسلمان نہیں ہوا تھا مگر یہ بھی اپنی قوم خزرج کے ساتھ جنگ کے لیے روانہ ہوا اور جنگ جیتنے کی صورت میں اس کو مال غنیمت ملنے کی بھی امید تھی۔ مسلمانوں کو اس سے بہت خوشی ہوئی کہ یہ بھی ان کے ساتھ جنگ میں شریک ہو رہا ہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا :ہمارے ساتھ صرف وہی جنگ میں جائے گا جو ہمارے دین پر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ تم واپس جاؤ ہم مشرک کی مدد نہیں لینا چاہتے۔ حبیب بن یساف دوسری مرتبہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ بھی اسے واپس بھیج دیا۔ آخر تیسری مرتبہ جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:کیا تم اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا :ہاں اور اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا اور نہایت بہادری کے ساتھ جنگ لڑی۔

(السیرۃ الحلبیۃ جلد2 صفحہ204 دارالکتب العلمیہ بیروت2002ء)

پس

آپؐ نے ان نامساعد حالات کے باوجود اور انتہائی ضرورت کے باوجود اس شخص کی کفر کی حالت میں مدد نہیں لی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور ان وعدوں پر یقین اور توکّل کے خلاف بات ہے کہ مَیں کسی غیر سے مدد لوں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام بیان فرماتے ہیں:’’آج کل کے عقلمندوں کے نزدیک تو کسی کو اپنا دشمن بنانا غلطی ہے۔لیکن سچ پوچھو تو یہ بھی حقانیت کی ایک دلیل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک سے بھی نہ رکھی‘‘ یعنی ہر ایک جو تھا وہ ان کا دشمن ہو گیا۔’’ سب سے بگاڑلی۔‘‘ حق بات کہہ کے کیونکہ حق سننا کوئی چاہتا نہیں تھا اس لیے لوگوں سے بگاڑ پیدا ہونا ہی تھا۔ ’’ان لوگوں کے نزدیک تو نعوذ باللہ آپؐ نے غلطی کی حالانکہ محض خدا کے لیے سب سے بگاڑ لینا آپ کی صداقت کا بیّن ثبوت ہے کہ جس سے آپ کی قوّتِ ایمانی کا حال معلوم ہوتا ہے۔ایک طرف…‘‘ آپؑ مسیحؑ کی مثال دے کر کہتے ہیں ’’ دیکھو کہ اس کی تعلیم سے جو کہ انجیلوں میں پائی جاتی ہے‘‘ اعتراض لوگ کرتے ہیں مسیحؑ پہ اعتراض کیا تو آپؑ فرماتے ہیں کہ انجیلوں میں تعلیم ہے اس کے مطابق بتا رہا ہوں میں۔ ’’معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مشرب کسی کو ناراض کرنے کا ہرگز نہ تھا۔ یہودیوں کو سنایا گیا کہ مَیں توریت کا ایک شوشہ تک زیرو زبر کرنے نہیں آیا۔… برخلاف اس کے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دیکھا جاوے تو کوئی بھی فرقہ اور مذہب روئے زمین پر ایسا نظر نہ آوے گا جس کو آپ نے دعوت نہ کی ہو اور جس کی غلطی نہ نکالی ہو (اور پھر ہر ایک کے مقابلہ پر اپنے مظفر و منصور ہونے کا دعویٰ بھی کیا )‘‘

غلطی نہیں نکالی، مقابلہ نہیں کیا بلکہ دعویٰ کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر یقین اور توکّل ہے اور انشاء اللہ میری کامیابیاں ہیں کیونکہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ فرماتے ہیں کہ

’’بھلا بتلاؤ کہ جب تک خدا پر پورا بھروسہ اور یقین نہ ہو کب کوئی اس طرح سے کر سکتا ہے؟‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 39 ، ایڈیشن 2022ء)

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button