خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 02؍اکتوبر 2026ء

’’آج کل لوگوں کے خیال میں تہذیب یہ ہے کہ انسان دنیا کا کیڑا بن جائے۔ خدا کو بھول جائے اور ظاہری اسباب کی پرستش میں لگ جائے۔ مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک تہذیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ حاصل ہو جائے اور اس کی عظمت اور ہیبت دل میں بیٹھ جائے اور دل کو سچی پاکیزگی حاصل ہو جائے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

مَیں مرزا صاحبؑ کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا قائل ہوں۔ بڑے بڑے نیک لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ قانونی مشورہ پر انہوں نے اپنا بیان تبدیل کر لیا۔ صرف مرزا صاحبؑ کو ہی میں نے ایسا پایا ہے کہ جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا(روایت غیراز جماعت وکیل)

’’مَیں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہوگا۔ میرا بھروسہ تو خدا پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایتِ اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ دست در کار دل بایاروالی بات ہونی چاہیے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’ تمہیں دوا اور تدبیر سے ممانعت نہیں ہے مگر ان پر بھروسہ کرنے سے ممانعت ہے اور آخر وہی ہوگا جو خدا کا ارادہ ہوگا۔ اگر کوئی طاقت رکھے تو توکّل کا مقام ہر ایک مقام سے بڑھ کر ہے ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’بھروسہ اسباب پر ہرگز نہ چاہیے بلکہ یوں چاہیے کہ اسباب کو مہیا کر کے پھر بھروسہ خدا پر کرنا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو ان اسباب کو مفید بناوے اور اسی سے پھر بھی دعا کرنی چاہیے کیونکہ اسباب پر نتائج مرتب کرنا تو اسی کا کام ہے اور یہی توکّل ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’خدا شناسی اور خدا پر توکّل اسی کا نام ہے کہ جو حدیں لوگوں نے مقرر کی ہوئی ہیں ان سے آگے بڑھ کر رجا پیدا ہو‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت اقدسؑ نے مولوی [عبد الکریم سیالکوٹی]صاحب ؓکی بیماری میں اپنی کمال محبت اور ایثار کا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور توکّل کا نمونہ دکھایا وہ ایک اہلِ بصیرت کے لئے کافی ثبوت ہےحضرت اقدسؑ کے مِن جانب اللہ ہونے کا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا سچا تعلق ہونے کا اور اس بات کا کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ آج اُمّت میں دیکھنا چاہے تو حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانیؑ سے بڑھ کر اَور کوئی نہیں چاہے کوئی تمام دنیا میں ڈھونڈھے (ایک روایت)

’’توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتّی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ خدا تُو ہی اس کا انجام بخیر کر۔ صدہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کو بھی برباد و تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ ان کی دست برد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’اسباب سے کام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کرنا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کے مترادف ہے اور ترکِ اسباب شریعتِ الٰہیہ کے خلاف ہے۔ توکّل کا مقام اس کے بعد ہے۔ یعنی یہ کہ اسباب کو اختیار کر کے انہی پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ سچی معرفت یہ ہے کہ اسباب کے پیچھے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھا جائے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

انبیاء کی عجیب شان ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف تو اسباب کی اتنی رعایت کرتے ہیں کہ دیکھنے والے کو یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ ان کی نظر میں انہی اسباب کے ہاتھ میں سارا قضاء و قدر کا معاملہ ہے اور اگر ان کی رعایت نہ رکھی گئی تو پھر کام نہیں بن سکتا۔ اور دوسری طرف ان کو خدا کی ذات پر اس درجہ توکّل ہوتا ہے کہ اسباب کو وہ ایک مردہ کیڑے کی طرح سمجھتے ہیں

خدا کے مقرّب بندوں کے توکّل کی بھی ایک عجیب شان ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ اسباب کو اس طرح بروئے کار لاتے ہیں کہ ایک دنیا دار یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ شاید ان کا سارا بھروسہ اسباب پر ہی ہوتا ہے لیکن کبھی وہ اسباب کو اس طرح ترک کرتے ہیں کہ جیسے ان کی ضرورت ہی نہیں۔ توکّل کی یہ شان بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت میں ہمیں نظر آتی ہے

توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے آنحضرتﷺ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی نصائح اور سیرتِ طیّبہ کے ایمان افروز واقعات

مکرم محمد عطاء الرحمٰن صاحب آف بھرت پور ،مغربی بنگال، انڈیا، مکرمہ خدیجہ صدیقہ پونتو صاحبہ آف انڈونیشیا اور مکرم عبدالجلیل صاحب آف انڈونیشیا کی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 02؍اکتوبر 2026ء بمطابق 02؍اخاء1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

اپنی ابتدائی زندگی سے ہی اللہ تعالیٰ کے فضل، اس کا آپؑ سے سلوک اور آپؑ کا اللہ تعالیٰ پر توکّل

جو تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’عرصہ تخمیناًتیس برس کا ہوا ہے کہ جب میرے والد صاحب خدا اُن کو غریق رحمت کرے اپنی آخری عمر میں بیمار ہوئے تو جس روز اُن کی وفات مقدر تھی دوپہر کے وقت مجھ کو الہام ہوا۔ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ۔‘‘ اس کاترجمہ یہ ہے کہ قسم ہے آسمان کی اور رات کو ظاہر ہونے والے کی۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں۔’’ اور ساتھ ہی دل میں ڈالا گیا کہ یہ ان کی وفات کی طرف اشارہ ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد پڑے گا۔ اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندہ کو عزاپُرسی‘‘ یعنی تعزیت کرنا ’’تھی۔ تب میں نے سمجھ لیا کہ میرے والد صاحب غروب آفتاب کے بعد فوت ہو جائیں گے اور کئی اَور لوگوں کو اس الہام کی خبردی گئی اور مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس پر جھوٹ بولنا ایک شیطان اور لعنتی کا کام ہے کہ ایسا ہی ظہور میں آیا اور اس دن میرے والد صاحب کی اصل مرض جو درد گردہ تھی دور ہو چکی تھی صرف تھوڑی سی زحیر باقی تھی ‘‘یعنی پیچش کا مرض تھا لیکن اس میں بھی ایسی نہیں تھی کہ کوئی بہت زیادہ کمزوری ہو۔ ’’اور اپنی طاقت سے بغیر کسی سہارے کے پاخانہ میں جاتے تھے۔ جب سورج غروب ہوا اور وہ پاخانہ سے آ کر چارپائی پر بیٹھے تو بیٹھتے ہی جان کندن‘‘ یعنی جان نکلنے ’’کا غرغرہ‘‘ جو آواز ہوتی ہے نزع کی حالت کی وہ ’’شروع ہوا۔‘‘ سانس رک رک کے آنے لگا۔ آپؑ فرماتے ہیں :’’اسی غرغرہ کی حالت میں انہوں نے مجھے کہا کہ دیکھا یہ کیا ہے اور پھر لیٹ گئے اور پہلے اس سے مجھے کبھی اس بات کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص غرغرہ کے وقت میں بول سکے اور غرغرہ کی حالت میں صفائی اور استقامت سے کلام کر سکے۔ بعد اس کے عین اس وقت جب کہ آفتاب غروب ہوا وہ اس جہان فانی سے انتقال فرما گئے… اور یہ ان سب الہاموں سے پہلا الہام اور پہلی پیشگوئی تھی جو خدا نے مجھ پر ظاہر کی۔ دوپہر کے وقت خدا نے مجھے اس کی اطلاع دی کہ ایسا ہونے والا ہے اور غروب کے بعد یہ خبر پوری ہو گئی اور مجھے فخر کی جگہ ہے اور میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزا پُرسی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہے وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہو سکتاہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اس کے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دے کر اس کی قسم کھاوے مگر میں پھر دوبارہ خدائے عز وجلّ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزا پُرسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ اور اسی کے موافق ظہور میں آیا…‘‘۔

آپؑ فرماتے ہیں :’’جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کے‘‘ یعنی بشریت کا تقاضا ہے انسان کو فکر ہوتی ہے تو ’’مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہیں کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طر ف سے پنشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے جو ان کی حیات سے مشروط تھی۔‘‘ زندگی تک ان کو بعض حقوق حاصل تھے گورنمنٹ کی طرف سے۔ ’’اس لئے یہ خیال گذرا کہ ان کی وفات کے بعد کیا ہو گا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شائد تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گذر گیا۔ تب اسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس الہام الٰہی کے ساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔ درحقیقت یہ امر بارہا آزمایا گیا ہے کہ وحی الٰہی میں دلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور جڑھ اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی الٰہی پر ہو جاتا ہے۔…‘‘ یعنی آپؑ کویہ یقین تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مَیں کافی ہوں تمہارے لیے۔ کیا خدا کافی نہیں؟ اب مجھے یقین ہے۔ مجھے اَور کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ کسی پہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب اللہ تعالیٰ پر ہی میرا توکّل ہے۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’غرض

جب مجھ کو الہام ہوا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ تو میں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا

تب میں نے ایک ہندو کھتری ملاوا مل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ اس کو سنایا اور اس کو امرتسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اس کو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے اور میں نے اس ہندو کو اس کام کے لئے محض اس غرض سے اختیار کیا کہ تا وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جائے اور تا مولوی محمد شریف بھی گواہ ہو جاوے۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری‘‘ یعنی انگوٹھی ’’بصرف مبلغ پانچ روپیہ طیار ہوکر میرے پاس پہنچ گئی جو اب تک میرے پاس موجود ہے…‘‘ اور اللہ کے فضل سے اب تک یہ چلتی آرہی ہے۔ ’’یہ اس زمانہ میں الہام ہوا تھا جبکہ ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا اور میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویۂ  گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیشگوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے اس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آ چکا ہے اور شائد اس سے زیادہ ہو اور اس آمدنی کو اس سے خیال کرلینا چاہیے کہ سالہا سال سے صرف لنگر خانہ کا ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہو جاتا ہے یعنی اوسط کے حساب سے اور دوسری شاخیں مصارف کی یعنی مدرسہ وغیرہ اور کتابوں کی چھپوائی اس سے الگ ہے۔ پس دیکھنا چاہیے کہ یہ پیشگوئی یعنی اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کس صفائی اور قوّت اور شان سے پوری ہوئی۔ ‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ218تا221)

آپؑ کے اللہ تعالیٰ پر توکّل اور سچائی پر قائم رہنے کے غیر بھی معترف تھے۔

چنانچہ ملک صلاح الدین صاحب بیان کرتے ہیں: ’’ایک شخص نے ایک مجلس میں حضرت صاحب ؑکی مخالفت شروع کی تو مولوی فضل دین صاحب‘‘ جو ایک غیر احمدی وکیل تھے اور مقدمہ اقدام ِقتل میں حضرت اقدسؑ کے وکیل تھے، انہوں ’’نے نہایت جوش میں کہا کہ

مَیں مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا قائل ہوں۔ بڑے بڑے نیک لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ قانونی مشورہ پر انہوں نے اپنا بیان تبدیل کر لیا۔ صرف مرزا صاحب کو ہی میں نے ایسا پایا ہے کہ جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا۔

مَیں نے مارٹن کلارک کے مقدمہ میں ایک قانونی بیان تجویز کیا اور کہا کہ ملزم کا بیان حلفی نہیں ہوتا۔ مرزا صاحب نے بیان پڑھ کر کہا کہ اس میں تو جھوٹ ہے۔ خدا تعالیٰ نے تو اجازت نہیں دی کہ ملزم جھوٹ بول لے۔ مَیں نے کہا کہ آپ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بلا میں ڈالتے ہیں۔ تو مرزا صاحب نے کہا کہ جان بوجھ کر بلا میں ڈالنا یہ ہے کہ مَیں قانونی بیان دے کر ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے خدا کو ناراض کر لوں۔ یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا خواہ کچھ بھی ہو۔‘‘ یہ غیر احمدی وکیل ہیں۔ کہتے ہیں کہ ’’اس وقت مرزا صاحب کے چہرے پر ایک خاص جلال اور جوش تھا۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ

مَیں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہوگا۔ میرا بھروسہ تو خدا پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے۔‘‘

توکّل مَیں اُس پر کرتا ہوں۔ وہ جانتا ہے ہر چیز۔ فرمایا کہ ’’میرا بیان آپ کے قانونی بیان سے زیادہ موثر ہوگا۔‘‘ یہ بھی یاد رکھیں۔ مَیں نے اللہ پر توکّل  کیا ہے تو اب یاد رکھ لیں کہ جو مَیں بیان دوں گا وہ آپ کے اس قانونی بیان سے زیادہ اثر کرنے والا ہے۔اور آگے یہ بھی فرما دیا کہ ’’اگر بالفرض دنیا کی نظر میں انجام اچھا نہ ہو یعنی مجھے سزا ہو جائے تو مَیں خوش ہوں گا کہ مَیں نے اپنے ربّ کی نافرمانی نہیں کی۔ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ مرزا صاحب اپنے بیان پر بری ہو گئے۔‘‘ یہ وکیل کہتے ہیں کہ

’’مَیں انہیں ایک کامل راستباز یقین کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی بہت بڑی عظمت ہے۔‘‘

(اصحاب احمد جلد 7 صفحہ 116-117)

پس آپؑ نے صاف فرما دیا کہ وکالت تو ایک دنیاوی سبب ہے جسے استعمال کرنا چاہیے لیکن مجھے توکّل اپنے خدا پر ہی ہے۔ اس لیے مَیں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا اور یہ یقین سے کہا کہ فیصلہ میرے حق میں ہوگا اور غیر از جماعت بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ  تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:

’’آج کل لوگوں کے خیال میں تہذیب یہ ہے کہ انسان دنیا کا کیڑا بن جائے۔ خدا کو بھول جائے اور ظاہری اسباب کی پرستش میں لگ جائے۔ مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک تہذیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ حاصل ہو جائے اور اس کی عظمت اور ہیبت دل میں بیٹھ جائے اور دل کو سچی پاکیزگی حاصل ہو جائے۔‘‘

(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 105)

اور اس توکّل اور سچی پاکیزگی کی آپؑ ایک مثال دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل کیا تھا جب عام لوگوں سے بیعت کرتے تھے۔ آپؑ بیعت کننداؤں کو یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپؑ نے فرمایا بلکہ اکثر احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے یہی فرماتے تھے کہ ’’اس جماعت میں داخل ہو کر اول زندگی میں تغیر کرنا چاہیے۔‘‘ تبدیلی پیدا کرو اپنے اندر ’’کہ خدا پر ایمان سچا ہو اور وہ ہر مصیبت میں کام آئے۔ پھر اس کے احکام کو نظر خفّت سے نہ دیکھا جائے۔‘‘ معمولی نہ سمجھو اللہ تعالیٰ کے احکام کو ’’بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جائے اور عملاً اس تعظیم کا ثبوت دیا جائے۔‘‘ عملاً ثبوت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کیا جائے۔

’’ہمہ وجوہ اسباب پر سرنگوں ہونا ‘‘ یعنی مکمل طور پر اسباب پر سرنگوں ہونا، ان پہ سر جھکا دینا ’’اور اسی پر بھروسہ کرنا اور خدا پر توکّل چھوڑ دینا یہ شرک ہے اور گویا خدا کی ہستی سے انکار‘‘ ہے۔ آپؑ ہر بیعت کرنے والے کو یہ نصیحت کرتے تھے۔ فرمایا کہ ’’رعایت اس حد تک کرنی چاہیے کہ شرک لازم نہ آئے۔

ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایت اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ دست در کار دل بایار‘‘ یعنی ہاتھ کام میں ہو اور دل یادِ الٰہی میں مصروف ہو۔’’والی بات ہونی چاہیے۔‘‘

(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 354)

پھر حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

’’ تمہیں دوا اور تدبیر سے ممانعت نہیں ہے مگر ان پر بھروسہ کرنے سے ممانعت ہے اور آخر وہی ہوگا جو خدا کا ارادہ ہوگا۔ اگر کوئی طاقت رکھے تو توکّل کا مقام ہر ایک مقام سے بڑھ کر ہے۔ ‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13)

پھر فرمایا:’’دواؤں میں خدا تعالیٰ نے خواص شفاءِ مرض بھی رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ دواؤں میں مرض کی شفا کے یہ خواص رکھے ہیں ’’اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ دواؤں میں تاثیرات ہوتی ہیں اور امراض کے معالجات ہوا کرتے ہیں۔ مگر ان اسباب پر بھروسہ کر لینا اور یہ گمان کرنا کہ انہی کے ذریعہ سے نجات اور کامیابی ہو جاوے گی یہ سخت شرک اور کفر ہے۔

بھروسہ اسباب پر ہرگز نہ چاہیے بلکہ یوں چاہیے کہ اسباب کو مہیا کر کے پھر بھروسہ خدا پر کرنا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو ان اسباب کو مفید بناوے اور اسی سے پھر بھی دعا کرنی چاہیے کیونکہ اسباب پر نتائج مرتب کرنا تو اسی کا کام ہے اور یہی توکّل ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 340،ایڈیشن 2022ء)

مجلس میں کچھ بیماریوں کا ذکر تھا۔ آپؑ نے فرمایا :’’میرا مذہب بیماریوں کے دعا کے ذریعہ سے شفا کے متعلق ایسا ہے کہ جتنا میرے دل میں ہے اتنا میں ظاہر نہیں کر سکتا‘‘ میرے کیا خیالات ہیں، جو میرے دل میں ہیں ان کو میں بتا نہیں سکتا۔ آپؑ نے فرمایا کہ ’’طبیب ایک حد تک چل کر ٹھہر جاتا ہے۔‘‘ علاج کرنے والا ہے ڈاکٹر ہے ایک حد تک جاتا ہے پھر ٹھہر جاتا ہے ’’اور مایوس ہو جاتا ہے۔‘‘ اکثر لوگ اب بھی خط لکھتے ہیں کہ مایوس ہو گئے۔ ڈاکٹر نے جواب دے دیا ’’مگر اس کے آگے خدا دعا کے ذریعہ سے راہ کھول دیتا ہے۔

خدا شناسی اور خدا پر توکّل اسی کا نام ہے کہ جو حدیں لوگوں نے مقرر کی ہوئی ہیں ان سے آگے بڑھ کر رجا پیدا ہو‘‘

یعنی اس سے بڑھ کے امید پیدا ہو ’’ ورنہ اس میں تو آدمی زندہ ہی مر جاتا ہے۔ اسی جگہ سے اللہ تعالیٰ کی شناخت شروع ہو جاتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد7صفحہ 160-161، ایڈیشن 2022ء)

جو آپؑ نے مجلس میں جہاں ذکر کیا تھا وہ الحکم میں تھا۔ بدر میں فقرہ زائد ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ

’’ہمارا تو اصل مذہب یہی ہے کہ اگر تمام دنیا کے طبیب نا امید ہو جائیں اور موت کا فتویٰ لگائیں پھر بھی روحانی اسباب کے میسّر آنے پر اور کافی توجہ کے پیدا ہونے پر دعا قبول ہو کر شفا ہو جاتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 160حاشیہ، ایڈیشن 2022ء)

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓکی علالت کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متوکّلانہ شان

کا اظہار کرتے ہوئے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’اصل میں یہ وقت ہوتا ہے کسی کی سچی محبت اور اخلاص کو پرکھنے کا اور نیز اس بات کا کہ اسے خدا تعالیٰ کی قوّت پر کیسا ایمان ہے اور اس کا تعلق خدا کے ساتھ کیسا ہے؟ کیونکہ ایسی نازک حالت میں خصوصاً جبکہ معالج ڈاکٹر اور طبیب بھی یاس کے عالَم میں ہوں سوائے ایسے لوگوں کے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہو کوئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا اور

حضرت اقدسؑ نے مولوی صاحب ؓکی بیماری میں اپنی کمال محبت اور ایثار کا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور توکّل کا نمونہ دکھایا وہ ایک اہل بصیرت کے لئے کافی ثبوت ہےحضرت اقدس کے مِن جانب اللہ ہونے کا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا سچا تعلق ہونے کا اور اس بات کا کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ آج اُمّت میں دیکھنا چاہے تو حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سے بڑھ کر اور کوئی نہیں چاہے کوئی تمام دنیا میں ڈھونڈھے۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ حصہ دوم صفحہ 185-186)

گو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ وفات پا گئے تھے لیکن آخر وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے لیے دعا کرتے رہے۔ اور پھر جب وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ کی رضا پہ راضی بھی ہو گئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتّی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ خدا تُو ہی اس کا انجام بخیر کر۔ صدہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کو بھی برباد و تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ان کی دست برد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔‘‘

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 288 ، ایڈیشن 2022ء)

آپؑ فرماتے ہیں :’’دراصل لوگوں کو شبہات پڑ گئے ہیں اس لئے وہ گناہ سے پرہیز نہیں کرتے۔ ہر ایک میں کچھ نہ کچھ غفلت کا حصہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح خدا اب چاہتا ہے کہ یہ لوگ سمجھ لیویں جس طرح نوحؑ کے زمانہ میں اس کے بیٹے نے کہا تھا کہ مَیں پہاڑ کی پناہ میں آگیا ہوں اسی طرح یہ لوگ کہتے ہیں‘‘ طاعون کے زمانے کی آپؑ بات کر رہے ہیں ’’کہ ہم ٹیکہ کی پناہ میں طاعون سے آ جاویں گے۔ سب سے زیادہ ضروری شَے خدا کی ہستی پر یقین ہے۔ بغیر اس یقین کے اعمال میں برکات ہرگز پیدا نہیں ہوتیں…۔ ‘‘ آپؑ نے فرمایا:’’ اگر لوگ آج ہی توحید پر قائم ہو جاویں تو آج ہی یہ بلا جاتی رہتی ہے۔

خدا انسان کے اعمال کو دیکھتا ہے کہ توحید پر وہ قائم ہیں کہ نہیں۔ بہت سے عمل توکّل کے برخلاف، توحید کے برخلاف ہوتے ہیں خواہ وہ کسی طرح سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہے مگر وہ اس میں جھوٹا ہوتا ہے اور یہی فسق ہے۔آج کل جس قدر اسباب پر بھروسہ ہے اس کی نظیر زمانہ سابق میں نہیں ملتی۔ اگرچہ ان وقتوں میں فسق و فجور ہوتا تھا مگر خدا کا خوف بھی دلوں میں ہوتا تھا۔‘‘

(ملفوظات جلد 3 صفحہ 387، ایڈیشن 2022ء)

حضرت سید زین العابدین شاہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جونہی علاقہ میں یا شہر میں طاعون نمودار ہوتی تو حضورؑ نہ صرف اپنے گھر کی صفائی کا حکم دیتے۔‘‘ اسباب کااستعمال ہو رہا ہے۔ ’’بلکہ بورڈنگ ہاؤس کی صفائی کے متعلق بھی اہتمام فرماتے اور ایسا ہی تمام احباب کو حکم دیتے کہ اپنے گھروں میں گندھک اور آگ اور فینائل اور گوگل۔‘‘ ایک درخت کا نام ہے جس سے گوند نکلتی ہے اور پھر دھونی دیتے ہیں، جراثیم کُش ہوتی ہے۔ ان کا استعمال’’ وغیرہ اشیاء سے جراثیم کو ہلاک کرنے کا انتظام کیا جائے۔‘‘ یعنی چیزوں کو استعمال کرو اور ان چیزوں سے جراثیم کو ہلاک کرنے کا انتظام کرو۔ دھونی وغیرہ دو۔ فینائل کرو۔سپرے کرو۔ ’’حضورؑ فرمایا کرتے تھے کہ

اسباب سے کام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کرنا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کے مترادف ہے اور ترک اسباب شریعت الٰہیہ کے خلاف ہے۔ توکّل کا مقام اس کے بعد ہے۔ یعنی یہ کہ اسباب کو اختیار کر کے انہی پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ سچی معرفت یہ ہے کہ اسباب کے پیچھے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھا جائے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 5 صفحہ 35)

طریقے سارے استعمال کیے جائیں پھر دیکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس کے پیچھے ہے۔ یہ سوچ ہو۔ یہ ایمان ہو۔

حضرت مرزا بشیر صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صفائی کا بہت خیال ہوتا تھا۔ خصوصاً طاعون کے ایام میں اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جا کر ڈالتے تھے۔‘‘ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ  کہتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ’’بعض اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے تاکہ ضرر رساں جراثیم مر جاویں اور آپ نے ایک بہت بڑی آہنی انگیٹھی بھی منگوائی ہوئی تھی جسے کوئلے ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے بند کر دئیے جاتے تھے اس کی اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جب انگیٹھی کے ٹھنڈا ہو جانے کے ایک عرصہ بعد بھی کمرہ کھولا جاتا تھا توپھر بھی وہ اندر سے بھٹی کی طرح تپتا تھا۔‘‘ پھر آپؓ فرماتے ہیں کہ ’’نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ

انبیاء کی عجیب شان ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف تو اسباب کی اتنی رعایت کرتے ہیں کہ دیکھنے والے کو یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ ان کی نظر میں انہی اسباب کے ہاتھ میں سارا قضاء و قدر کا معاملہ ہے اور اگر ان کی رعایت نہ رکھی گئی تو پھر کام نہیں بن سکتا۔ اور دوسری طرف ان کو خدا کی ذات پر اس درجہ توکّل ہوتا ہے کہ اسباب کو وہ ایک مردہ کیڑے کی طرح سمجھتے ہیں

اور ایک سطحی نظر رکھنے والا انسان اس حالت کو دیکھ کر حیرانی میں پڑ جاتا ہے لیکن دراصل بات یہ ہوتی ہے کہ جس قدر بھی رعایت وہ اسباب کی رکھتے ہیں وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ اسباب کے ہاتھ میں کوئی قضاء و قدر کی چابیاں ہیں بلکہ اس لئے ہوتی ہیں کہ اسباب خدا کے پیدا کردہ ہیں اور خدا کا احترام یہ چاہتا ہے بلکہ یہ خدا کا حکم ہے کہ اس کے پیدا کر دہ اسباب کی رعایت ملحوظ رکھی جاوے۔پس

چونکہ وہ‘‘ انبیاء ’’خدا تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں سب سے اعلیٰ مقام پر کھڑے ہوتے ہیں اس لئے اسباب کی رعایت رکھنے میں بھی وہ دوسروں سے فائق نظر آتے ہیں لیکن اصل بھروسہ ان کا خدا کی ذات کے سوا اَور کسی چیز پر نہیں ہوتا۔ اور دراصل یہی وہ توحید کا نکتہ ہے جس پر قائم کرنے کے لئے انبیاء مبعوث ہوتے ہیں اور غور کیا جاوے تو یہ مقام کوئی آسان مقام نہیں بلکہ ہر وقت کا مجاہدہ اور نہایت پختہ ایمان چاہتا ہے۔

عموماً لوگ اسباب کو کام میں لاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسباب کو جو بھی طاقت اور اثر حاصل ہے وہ سب خدا کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے اور اپنی ذات میں وہ ایک مردہ کیڑے سے بھی بڑھ کر حیثیت نہیں رکھتے اور یہ کمزوری ایک حد تک ان لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم صرف رسمی طور پر خدا کو نہیں مانتے بلکہ واقعی اور حقیقتاً دل کی بصیرت کے ساتھ اس پر ایمان لائے ہیں۔‘‘ منہ سے تو یہی کہتے ہیں لیکن ان کے اس ایمان کی حالت میں کمزوری ہوتی ہے۔ ’’ہر شخص اپنے دل کے اندر غور کر کے دیکھے…‘‘ پھر پتہ لگے گا کہ واقعی حقیقی ایمان ہے یا یہ کمزوری ہے۔

کیا مشکلات میں ہمارا انحصار اسباب پر ہے یا اللہ تعالیٰ پر کامل توکّل ہے اور اسباب کا استعمال اللہ کے حکم کے مطابق ظاہری کوشش ہے۔ پس یہ چیز ہے دیکھنے والی ہر مومن کے لیے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ’’ایمان کہنے کو تو ہر مومن کے دل میں ہوتا ہے لیکن کم ہیں، بہت ہی کم ہیں جن کے دل عملاً اس ایمان کی زندہ حقیقت سے منور ہوتے ہیں اور اکثر یہی ہوتا ہے کہ بعض لوگ تو اسباب کو ترک کر دیتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہو رہے گا اور اس طرح خدا کے پیدا کردہ سامانوں کی بے حرمتی کر کے خدا کی ناراضگی کا نشانہ بنتے اور نقصان اٹھاتے ہیں اور بعض اس طرح اسباب پر گرتے ہیں کہ گویا خدا کچھ بھی نہیں اور جو کچھ ہونا ہے ان اسباب سے ہونا ہے۔ یہ دونوں گروہ راہِ صَواب سے دُور اور پردۂ ظلمت میں مستور ہیں۔‘‘ چھپے ہوئے ہیں ’’اور

حق پر صرف وہی ہے جو انبیاء کی سنت پر چل کر اسباب کی پوری پوری رعایت رکھتا ہے مگر اس کا دل اس زندہ ایمان سے معمور رہتا ہے کہ ان اسباب کے پیچھے ایک اَور طاقت ہے جس کے اشارہ پر یہ سب کارخانہ چل رہا ہے اور جس کے بغیر یہ سب اسباب بالکل مردہ اور بے تاثیر ہیں مگر یہ مقام ایمان کا ایک بڑے مجاہدہ کے بعد حاصل ہوتا ہے اور اس پر قائم رہنا بھی ہر وقت کا مجاہدہ چاہتا ہے۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 345تا 347 ، روایت نمبر 382)

خدا کے مقرّب بندوں کے توکّل کی بھی ایک عجیب شان ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ اسباب کو اس طرح بروئے کار لاتے ہیں کہ ایک دنیا دار یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ شاید ان کا سارا بھروسہ اسباب پر ہی ہوتا ہے لیکن کبھی وہ اسباب کو اس طرح ترک کرتے ہیں کہ جیسے ان کی ضرورت ہی نہیں۔ توکّل کی یہ شان بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت میں ہمیں نظر آتی ہے۔

چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی وفات سے دو تین سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شدید کھانسی ہوئی۔‘‘ حضرت مصلح موعود ؓکہتے ہیں کہ ’’میری عمر اس وقت 17 سال کے قریب تھی اور میرے سپرد آپ کی دوائی وغیرہ پلانے کی خدمت تھی اور قدرتی طور پر جس کے سپرد کوئی کام کیا جائے وہ اس میں دخل دینا بھی اپنا حق سمجھنے لگتا ہے‘‘ کہ ہر کام جو ہے میرے سپرد ہے، دوائی کھلانی ہے تو مَیں باقی کے معاملات میں دخل دوں۔ کہتے ہیں :’’مَیں بھی اپنی کمپاؤنڈری کا یہ حق سمجھتا تھا کہ کچھ نہ کچھ دخل آپ کے کھانے پینے میں دوں۔ چنانچہ مشورہ کے طور پر عرض کر بھی دیا کرتا تھا کہ یہ نہ کھائیں، وہ نہ کھائیں۔‘‘ دوائی پلانے کی ڈیوٹی تھی لیکن بعض دفعہ دوسرے معاملات میں بھی دخل دیتا تھا کہ اس سے بیماری بڑھتی ہے ،کم ہوتی ہے۔ ’’حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ کے نسخے بھی تیار ہو کر استعمال ہوتے تھے اور انگریزی دوائیاں بھی مگر کھانسی بڑھتی ہی جاتی تھی۔ یہ 1907ء کا واقعہ ہے اور عبدالحکیم مرتد نے آپ کی کھانسی کی تکلیف کا پڑھ کر لکھا تھا کہ مرزا صاحب‘‘ نعوذ باللہ ’’سِل کی بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہوں گے‘‘ یعنی پھیپھڑوں میں زخم ہو جائیں گے، ٹی بی کی بیماری ہوجائے گی اور اسی میں آپؑ فوت ہو جائیں گے۔ ’’اس لیے‘‘حضرت مصلح موعود ؓکہتے ہیں کہ ’’ہمیں کچھ یہ بھی خیال تھا کہ غلط طور پر بھی اسے خوشی کا کوئی بہانہ نہ مل سکے‘‘ اس لیے بھی مَیں بہت زیادہ احتیاط کرتا تھا اور احتیاط کی باتیں آپؑ کو بتایا کرتا تھا ’’مگر آپ کو کھانسی کی تکلیف بہت زیادہ تھی اور بعض اوقات ایسا لمبا اُوچھو آتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سانس رک جائے گا۔ ایسی حالت میں باہر سے کوئی دوست آئے‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکلیف کی اور بیماری کی یہ حالت تھی اور جب ایسی حالت تھی تو حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ وہاں میرے سامنے ہی ایک دوست باہر سے آئے ’’اور تحفہ کے طور پر پھل لائے۔‘‘ آپؑ کے لیے پھل لے کے آئے تحفہ۔ تو کہتے ہیں ’’مَیں نے وہ حضورؑ کے سامنے پیش کر دئیے‘‘ کہ یہ لائے ہیں۔ ’’آپؑ نے انہیں دیکھا اور فرمایا‘‘ کہ ان کو ’’کہہ دو جَزَاکَ اللّٰہُ اور پھر ان میں سے کوئی چیز جو غالباً کیلا تھا اٹھایا اور مَیں چونکہ دوائی وغیرہ پلایا کرتا تھا اس لئے شاید مجھے سبق دینے کے لئے فرمایا کہ یہ کھانسی میں کیسا ہوتا ہے؟ ‘‘ آپؑ نے کیلا اٹھایا کھانے کے لیے تو ساتھ ہی مجھ سے پوچھا کہ کھانسی کی تکلیف ہے تو کھانسی میں کیلا کھانا کیسا ہوتا ہے؟ ’’مَیں نے کہا اچھا تو نہیں ہوتا مگر آپؑ مسکرا پڑے‘‘ کوئی جواب نہیں دیا صرف مسکرائے ’’اور چھیل کر کھانے لگے۔ مَیں نے پھر عرض کیا کہ کھانسی بہت سخت ہے اور یہ چیز کھانسی میں اچھی نہیں۔ آپؑ پھر مسکرائے اور کھاتے رہے۔ مَیں نے اپنی نادانی سے پھر اصرار کیا کہ نہیں کھانا چاہیے۔ اس پر آپؑ پھر مسکرائے اور فرمایا مجھے ابھی الہام ہؤا ہے کہ کھانسی دور ہو گئی۔ چنانچہ کھانسی اسی وقت سے جاتی رہی حالانکہ اس وقت نہ کوئی دوا استعمال کی اور نہ پرہیز کیا بلکہ بدپرہیزی کی اور کھانسی بھی دور ہو گئی۔ اگرچہ اس سے پہلے ایک مہینہ علاج ہوتا رہا تھا اور کھانسی دور نہ ہوتی تھی تو یہ الٰہی تصرّف ہے۔ یوں تو بدپرہیزی سے بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور علاج سے صحت بھی ہوتی ہے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے دخل بھی دے دیتا ہے اور

دعا کا ہتھیار اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور جاکر کہے کہ مَیں آزادی نہیں چاہتا۔مَیں اپنے حالات سے تنگ آگیا ہوں۔آپ مہربانی کر کے میرے معاملات میں دخل دیں۔اور اللہ تعالیٰ بھی دیکھتا ہے کہ بندہ متوکّل ہو گیا ہے اور چاہتا ہے کہ مَیں اس کے معاملات میں دخل دوں تو وہ دیتا ہے۔ ‘‘

(خطبات محمود جلد 23 صفحہ 273تا 275)

جب اللہ تعالیٰ پر پورا توکّل کیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے مزید انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔

اس وقت میں بعض مرحومین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا جنازہ مَیں نماز کے بعد پڑھاؤں گا۔

اس میں پہلا ذکر ہے

مکرم محمد عطاء الرحمٰن صاحب بھرت پور، مغربی بنگال۔ انڈیا

کا جو گذشتہ دنوں چھہتر (76)سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔ان کے ایک بیٹے مفیض الرحمٰن صاحب مربی سلسلہ بوسنیا ہیں اور اسی طرح ایک بیٹے شاہ نور رحمٰن صاحب انڈیا میںمعلّم ہیں۔ اسی طرح ان کے ایک داماد صابر علی صاحب بھی مربی سلسلہ ہیں۔ واقفینِ زندگی کا یہ خاندان سمجھ لیں۔ آپ کے بیٹے مفیض الرحمٰن صاحب مربی سلسلہ میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے اپنے والد کے جنازے اور تدفین میں شامل نہیں ہو سکے۔

یہ لکھتے ہیں کہ خاندان میں احمدیت حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کے عہد ِخلافت میں آئی جب آپ کے دادا محمد قاصد صاحب نے بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔ اپنے علاقے کی ایک بااثر اور صاحبِ حیثیت شخصیت تھے مگر قبولِ احمدیت کے بعد انہوں نے دین کی خاطر اپنی سماجی حیثیت اور پرانے تعلقات کی قربانی کی اور ان کے زیر انتظام ان کی ایک جامع مسجد ہوتی تھی اس کو غیر احمدیوں کے سپرد کر دیا اور الگ مسجد تعمیر کروائی جو مغربی بنگال کی پہلی احمدیہ مسجد ’’بیت الاوّل‘‘ کے نام سے ہے۔ اور احمدیت قبول کرنے کے بعد ان کے خاندان کو مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مرحوم خود بیان کرتے ہیں کہ آس پاس کے لوگوں کو ہمارے خاندان کے ہاتھ روزمرّہ ضرورت کی اشیاء فروخت کرنے سے بھی روک دیاگیا۔ مفیض الرحمٰن صاحب کے والد جو وفات پاگئے ہیں، انہوں نے لکھا کہ اتنی مخالفت ہوگئی کہ لوگوں کو ہمارے ساتھ خرید و فروخت سے بھی روک دیا۔ مختلف ذرائع سے احمدیوں کو تکلیف دی جاتی تھی۔ مجبوراً ضروری سامان کے حصول کے لیے کشتی کے ذریعہ سے دریا کا تقریباً چالیس پچاس کلومیٹر کا فاصلہ کرنا پڑتا اور وہاں سے جا کے سودا لاتے۔ ان شدید آزمائشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمارے خاندان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا۔

آپ ایک سیاسی پارٹی میں بھی شامل تھے۔ آخر ان کو آیا خیال تو یہ دنیاوی سرگرمیاں ترک کر کے خدمتِ دین کے لیے قادیان چلے آئے جہاں چند سال تعلیم اور تربیت حاصل کی اور مسجد مبارک میں کئی ماہ خدمت کی توفیق بھی ملی۔ دارالمسیح اور مسجد مبارک کی خدمت کے دوران انہوں نے بعض بابرکت خوابیں بھی دیکھیں۔ قادیان کے ایام سے قرآن کریم سے گہرا عشق، عبادت میں خشوع و خضوع، تہجد کی پابندی اور دعاؤں کی عادت آپ کی زندگی کا مستقل حصہ بن گیا جس پر یہ آخر دم تک عمل پیرا رہے۔

آپ ہر جماعتی کام کو توکّل، دعا اور پوری مستعدی سے انجام دیتے تھے اور سفر،موسم یا دیگر مشکلات کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تبلیغ میں غیر معمولی برکت عطا کی۔ ان کی کوششوں سے متعدد جماعتیں قائم ہوئیں۔ کئی نوجوانوں نے زندگی وقف کی۔ بعض اوقات ذاتی خرچ سے ٹکٹ اور ان کے اہل خانہ کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے۔ آپ کے تربیت یافتہ بہت سے لوگ آج بھی سلسلہ کی خدمت میں مصروف ہیں۔ تبلیغی دوروں میں جماعت کی طرف سے جو بھی گزارے یا سفر کے لیے رقم ملتی تھی اسے اپنے ذاتی اخراجات کم کر کے بچاتے اور اس سے غریب زیر ِتبلیغ افراد یا نَواحمدی خاندانوں پر خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ کو دُوردراز کے سفروں میں کئی راتیں باہر گزارنی پڑتیں۔تو اس کے لیے بعض اوقات سرائے یا ہوٹل میں ٹھہرنے کی بجائے پیسے بچانے کے لیے اسٹیشن یا بس کے اڈے پر ہی بینچوں پر رات گزار لیتے اور اس طرح بچنے والی رقم ضرورت مندوں میں خرچ کرتے۔

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خط میں ان کی تبلیغی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:آپ تو ماشاء اللہ بڑی لگن، توجہ، حکمت اور خوش اسلوبی سے اس نیک کام میں مصروف ہیں اور جماعت احمدیہ کی دعوت الیٰ اللہ کی تاریخ میں سنہری ابواب کا اضافہ کر رہے ہیں۔

آپ کو جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احترام کابہت پاس تھا۔ ایک مرتبہ کسی تبلیغی دورے میں ایک شخص سے گفتگو ہوئی تو تعارف کے دوران معلوم ہوا کہ اس کے خاندان پر آپ کے دادا مرحوم کا کوئی خاص احسان تھا۔ اس شخص نے آپ کو اپنے گھر مدعو کیا اور پُرتکلّف دعوت کا اہتمام کیا۔ گفتگو میں پرانے خاندانی تعلقات اور احسانات کا بھی ذکر ہوتا رہا۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ ابھی آپ نے پہلا لقمہ ہی لیا تھا کہ میزبان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر طنزیہ انداز میں کیا۔ اس پر آپ نے لقمہ واپس رکھ دیا اور کسی کی پرواہ کیے بغیر فوری طور پر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔

1991ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی قادیان آمد کے موقع پر آپ اپنے خاندان کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوئے اور اس وقت وہاں آپ نےحضرت خلیفة المسیح الرابع ؒکی خدمت میں اپنی آبائی زمین کا ایک حصہ جماعتی مقاصد کے لیے بھی پیش کیا جہاں آج مربی ہاؤس قائم ہے۔

یہ مربی صاحب کہتے ہیں کہ جب ہم ان کو ملنے کے بعد اپنے کام کے لیے واپس روانہ ہوتے۔ یہاں باہر آ گئے تو ہمیشہ مجھے کہا کرتے تھے کہ مَیں نے تم لوگوں کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ہے۔ تم ہماری فکر نہ کرنا۔ بس اپنے کام اور خدمت پر توجہ رکھنا۔اور بوسنیا آنے کے بعد کہتے ہیں کہ اکثر مجھے فون کرکے کہا کرتے تھے کہ مَیں تمہارے لیے دعا کر رہا ہوں۔ محنت سے اپنا کام کرو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خدمت تمہیں سپرد ہے اس کو بجا لانے کی کوشش کرو۔ کہتے ہیں مَیں نے والد صاحب کو متوکّل علیٰ اللہ، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے عاشق صادق سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کے لیے ہر قسم کی قربانی کرنے والا، خلافت کے ہر حکم کو حقیقی معنوں میں فرمانِ خدا سمجھ کر تعمیل کرنے کی کوشش کرنے والا، صحیح معنوں میں دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر زندگی گزارنے والا، صاف دل، رحمی رشتوں کا حتّی المقدور پاس رکھنے والا ،مہمان نواز اور اپنوں غیروں ہر ایک کی مدد کرنے والا، جماعتِ احمدیہ کے ہر فرد سے پُرخلوص محبت کرنے والا، زیرک اور دعاگو انسان پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحمت کا سلوک فرمائے۔

اگلا ذکر ہے

مکرمہ خدیجہ صدیقہ پونتو صاحبہ۔ انڈونیشیا

کی ہیں۔ یہ بھی گذشتہ دنوں اِکاسی (81)سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بچوں، تین بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ تین مرتبہ نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ انڈونیشیا کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ آپ نے کم عمری سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک پورے دل و جان سے جماعت کی خدمت کی۔ خلافت سے گہری محبت تھی۔ اپنے اخلاص، دیانتداری، عاجزی اور وفاداری کی وجہ سے جانی جاتی تھیں۔ خدمتِ جماعت میں آپ کا جوش وجذبہ کبھی ماندنہیں پڑا۔ اور آپ کی پرورش بھی ایک ایسے خاندان میں ہوئی جو خدمت کے جذبے سے سرشار تھا اور آپ کا پورا خاندان خدمت گزار تھا۔ ان کے والد محترم صدر الدین یحییٰ پونتو صاحب نیک اور خدمت کرنے والے تھے۔ باوجود اس کے کہ انڈونیشیا کے سفارت کار تھے۔ دنیاوی کام تھا آپ کا لیکن دین کو انہوں نے مقدم رکھا۔ جماعت کے مہمانوں کی خدمت میں یہ ہمیشہ پیش پیش رہتی تھیں۔ حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ  کا جب انڈونیشیا کا دورہ ہوا ہے تو ان کو پورے قافلے کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔

وہاں کی ایک سابق صدر لجنہ شریفۃ النساء حاجیہ ہیں وہ بھی یہی بات بتا رہی ہیں کہ خلافت سے بڑی گہری محبت تھی۔ ہمیشہ خلافت کی کامل اطاعت کرتیں اور اس کا انہیں انتہائی احترام تھا۔ منکسر المزاج، خوش اخلاق، ملنسار، سب سے یکساں سلوک کرتیں۔ جب آپ دیکھتیں کہ افراد جماعت خصوصاً ممبرات لجنہ باتوں میں بہت زیادہ مشغول ہو گئی ہیں تو نرمی سے استغفار پڑھنے کی یاد دہانی کرواتیں۔ جلسوں اجلاسوں میں بیٹھے ہوئے بعض دفعہ کوئی باتیں شروع کر دیتی ہیں توبڑے پیار سے جا کے ان کو کہتیںکہ باتیں کرنے کی بجائے استغفار کرو، ذکر الٰہی کرو۔ جب بھی کوئی ان سے اپنی کسی مشکل کا ذکر کرتا تو فوراً ان سے خلیفہ وقت کی خدمت میں دعا کے لیے خط لکھنے کی تلقین کرتیں اور جب آپ صدر رہیں یا کوئی بھی لجنہ کا جماعتی عہدہ رہا تو مشورے کو بہت اہمیت دیتی تھیں اور اکیلے فیصلہ نہیں کرتی تھیں۔ دوسروں کو موقع دیتی تھیں کہ اپنے تجربات بیان کرو اور دوسروں کو کہتیںکہ تم بھی ان سے نمونہ سیکھو۔

ظفر اللہ پونتو صاحب مربی سلسلہ کہتے ہیں کہ مرحومہ میری کزن تھیں لیکن انہیں اپنی سگی بہن کی طرح سمجھتا ہوں۔ وہ رشتہ داروں کے ساتھ بہت مہربان تھیں۔ نظم و ضبط کی پابند تھیں۔ بہت شفیق تھیں۔ وہ پوری کوشش کرتی تھیں کہ نہ صرف جماعتی پروگراموں میں بلکہ عوامی تقریبات اور رشتہ داروں کے پروگراموں میں بھی شریک ہوں۔ جایا کرتی تھیں۔ بڑی سوشل لائف تھی ان کی۔ ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ اپنے رشتہ دار مربی منصور من اللہ۔ منصور احمد بامن ہیں ان کو مولانا کیوں کہتی ہیں جبکہ آپ کے وہ رشتہ دار ہیں آپ ان کو چچا وغیرہ بھی کہہ سکتی ہیں۔ اگر یہ سوچ ہو تو پھر تو ہمارے ہاں بعض لوگ مربیوں کی عزت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ مربی ہے۔ لیکن ان کی سوچ کیا تھی؟ کہتی ہیں مَیں اس لیے ان کو مولانا کہتی ہوں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ نظام کا احترام کریں۔ نظام کے احترام کی وجہ سے ان کو کہتی ہوں۔ ان کی خاصیت کی وجہ سے نہیں کہتی۔ دوسری بات یہ کہ انہیں ان کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں یاد رہیں۔ یہ احساس ان کو دلاتی رہوں کہ آپ کو مولانا کہتی ہوں تو آپ لوگ صرف یہ نہ سمجھیں کہ آپ کی یہ قدر کر رہے ہیں بلکہ آپ کی عزت ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ آپ کو ایک مقام اللہ تعالیٰ نے دیا ہے،آپ کی ذمہ داریاں ہیں، خدمتِ دین کی جو ذمہ داری آپ پر جماعت کی طرف سے ڈالی گئی ہے اس کو آپ نے ادا کرنا ہے اور اس ذمہ داری کا احساس کریں۔ تو کہہ رہی ہیں احساس دلانے کے لیے میں ان کو کہتی ہوں۔ یہ تھی ان کی سوچ۔

مَیں نے بھی دیکھا ہے بڑی مخلص اور خلافت اور جماعت سے خاص تعلق رکھنے والی خاتون تھیں۔ کئی دفعہ یہاں جلسے پر بھی آئی ہیں اور بڑے اخلاص کا اظہار کرتی تھیں۔

اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے۔

اگلا ذکر

مکرم عبدالجلیل صاحب انڈونیشیا

کا ہے۔ یہ بھی گذشتہ دنوں چھہتر (76)سال کی عمر میں وفات پا گئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

ان کے بڑے بیٹے دانان اندیانا صاحب ویسٹ جاوا کے ریجنل امیر ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ جنوبی سماٹرا میں برنائی مولیہ جماعت کی بنیاد آپ ہی نے رکھی۔ Pioneerتھے اس جماعت کے۔ مقامی جماعت قائم ہونے سے پہلے پندرہ سال تک آپ اپنی اہلیہ اور اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ گھر پر ہی نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔ برنائی مولیہ جماعت کے قیام کے لیے آپ کی جدوجہد آسان نہیں تھی۔ ایک مرتبہ ایک عیسائی ہیڈ ماسٹر اور ایک پادری نے حکام سے آپ کی شکایت کر دی۔ اس علاقے میں عیسائیت زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ کو گرفتار کیا گیا۔ سرعام گھمایا گیا اور کروجون پولیس اسٹیشن ہے یا وہاں جگہ کا نام ہے کروجون۔ وہاں پولیس اسٹیشن میں قید کر دیا گیا جہاں آپ کو دو مجرموں کے ساتھ ایک کوٹھڑی میں رکھا گیا۔ قید کے دوران آپ کو نماز ادا کرنے میں مشکلات پیش آئیں کیونکہ ڈسٹرکٹ ملٹری کمانڈر عیسائی تھا، وہ مخالفت کرتا تھا اور یہ مخالفت اس مذہبی گفتگو کے بعد شروع ہوئی جو اس سے پہلے ان دونوں کے درمیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے موضوع پر ہوئی تھی۔ تاہم ایک فوجی افسر ہمدرد بھی نکلا۔ اس فوجی افسر نے چپکے سے آپ کوکچھ اخبارات دے دیے تاکہ آپ کوٹھڑی میں انہیں بچھا کے نماز پڑھ سکیں۔ بیماری کے باوجود مرحوم تبلیغ کا جوش و جذبہ قائم رکھتے رہے۔ ہمیشہ مہمانوں کی خدمت میں لگے رہتے۔ مربیان کا بہت احترام کرتے تھے۔اپنے خاندان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کو خاص اہمیت دیتے تھے۔یہ نہیں کہ دوسروں کی تربیت ہے بلکہ اپنے بچوں کو بھی بہت زیادہ سمجھاتے رہتے تھے۔ ساری زندگی اپنے معاشرے میں ایک مثالی شخصیت سمجھے جاتے رہے اور لوگ مختلف معاملات سلجھانے کے لیے اکثر آپ سے مشورہ لیتے تھے۔ آپ روزانہ کچھ وقت قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے پڑھنے اور مطالعہ کے لیے بھی نکالتے تھے۔

احمد نور الدین عیسیٰ صاحب یہ بھی سابق مبلغ ہیں، لکھتے ہیں کہ مرحوم برنائی مولیا جماعت کے بانی تھے۔جب میں برنائی مولیا پہنچا تو آپ نے اور آپ کی اہلیہ نے اپنے رشتہ داروں کو جماعت کی تعلیمات سننے کے لیے بلایا اور اس وقت ہماری تبلیغی نشست ہوئی اور آدھی رات تک وہ تبلیغی نشست چلتی رہی۔ آخر کار بیس لوگوں نے ان کی اس کوشش کی وجہ سے احمدیت قبول کرلی۔ پہلے بھی انہوں نے ان پہ کچھ ابتدائی کام کیا ہوا تھا۔ مرحوم نے مسجد کے لیے بھی جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے زمین کا ایک ٹکڑا جماعت کو عطا کر دیا۔ بعد میں اس زمین پر ایک دس میٹر X دس میٹر کی مسجد بھی تعمیر ہوئی۔

انڈونیشیا کے جامعہ کے استاد عبدالوہاب صاحب لکھتے ہیں کہ برنائی مولیا جو جماعت ہے وہاں اس جماعت کو آرگنائز کرنے میں انہوں نے بہت کام کیا۔ اسی طرح آپ کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ پانچوں نمازیں تو پڑھتے ہی تھے، نماز تہجد بھی بڑی باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔چندہ بھی باقاعدگی سے ادا کرنے والے تھے اور اپنے پڑوسیوں کی مدد کرنے والے بھی تھے، خدمت خلق کرنے والے تھے۔

شمس البحرین صاحب کارکن ایم ٹی اے انڈونیشیا ان کے بیٹے ہیں۔ کہتے ہیں مرحوم مالی قربانی اور ذاتی خدمت دونوں میں جماعت کے لیے قربانی کا ایک غیر معمولی نمونہ تھے۔ آپ نے ایک بار بتایا کہ جب وہ پہلی بار سماٹرا گئے تو اس علاقہ میں جماعت کا کوئی اَور فرد نہیں تھا اور آمدورفت اور رابطہ کے ذرائع محدود تھے۔ اس لیے آپ اپنا چندہ ایک خاص ڈبے میں الگ جمع کرتے رہتے اور سال میں ایک بار جلسہ سالانہ پر جب مرکز آتے تو جا کر ادا کرتے۔

اسی طرح نصرون احمد صاحب ریجنل مبلغ کہتے ہیں کہ زندگی کے آخری دو سالوں میں جب آپ بہت بیمار اور صاحبِ فراش تھے تو آپ جماعت کی ترقی اور حالات کے بارے میں مجھے بلا کے پوچھتے رہتے تھے اور ہر وقت موت کو بھی یاد رکھتے تھے۔ دعا کے لیے بھی کہتے تھے۔

اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button