الیسع نبی کی جنگ بدر کے متعلق پیشگوئی
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ’’ پھر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں پر اس کے بعد بھی مظالم ہوتے رہے اور انہیں کفار سے کئی لڑائیاں لڑنی پڑیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جنگِ بدر نے کفار کی طاقت کو بالکل توڑ دیا تھا اور مسلمانوں کی شوکت ان پر ظاہر ہو گئی تھی۔
جنگِ بدر جسے قرآن کریم نے فرقان قرار دیا ہے
اس کے متعلق بائبل میں بھی پیشگوئی پائی جاتی ہے
چنانچہ یسعیاہ باب 21آیت 13 تا 17 میں لکھا ہے ’’عرب کی بابت الہامی کلام۔ عرب کے صحرامیں تم رات کو کاٹو گے۔ اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔ اے تیما کی سرزمین کے باشندو! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں کیونکہ خدا وند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ ہنوز ایک برس، ہاں مزدور کے سے ایک ٹھیک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیر اندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔‘‘
آپؓ فرماتے ہیں کہ ’’یسعیاہ نبی کے اس کلام میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ ہجرت کے زمانہ پر ٹھیک ایک سال گزرنے کے بعد عرب میں ایک ایسی جنگ ہو گی جس میں قیدار کی ساری حشمت خاک میں مل جائے گی اور وہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھاگ جانے کا الزام لگاتے تھے اپنے لاؤ لشکر کی موجودگی میں پیٹھ دکھائیں گے اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ کمانڈر اور ان کے جرنیلوں کی لاشیں میدانِ جنگ میں پڑی رہ جائیں گی اور آخر وادی مکہ اپنے جرنیلوں کو کھو کر اپنی اس شوکت کو بالکل کھو بیٹھے گی جو اس سے پہلے اسے حاصل تھی۔ اِسی طرح قرآن کریم نے ایک گیارھویں رات کی خبر دے کر یہ پیشگوئی کی تھی کہ ہجرت کے پورے ایک سال کے بعد کفار کی ساری طاقت ٹوٹ جائے گی اور مسلمانوں کے لیے فتح اور کامرانی کی صبح ظاہر ہو جائے گی۔ چنانچہ عین ایک سال کے بعد جنگِ بدر ہوئی جس میں کفار کے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے اور مسلمانوں کو ان پر نمایاں غلبہ حاصل ہوا۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’… دیکھ لو مدینہ میں آنے کے بعد پہلے رمضان تک اس پیشگوئی پر دس سال پورے ہوئے تھے اور رمضان سے گیارہویں سال کا آغاز ہوا تھا۔ اس ایک سال کے گزرنے پر دوسرے سال 17 رمضان کو بدر کی جنگ ہوئی جس میں بڑے بڑے کفار مارے گئے اور ان کے ظالمانہ حملوں کا خاتمہ ہو گیا۔گویا وہ گیارہویں لیل جو مسلمانوں پر آئی ہوئی تھی ٹھیک ایک سال گزرنے کے بعد دور ہو گئی۔ اور مسلمانوں نے فتح و کامرانی کی صبح کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید اور نصرت کے ساتھ دیکھ لیا۔‘‘(تفسیر کبیر جلد8صفحہ515)
(بحوالہ خطبہ جمعہ 21؍ جولائی 2023ء)
