کلام حضرت مصلح موعود ؓ
قطعات کلامِ محمود

ہائے کثرت مرے گناہوں کی
وائے کوتاہی میری آہوں کی
اس پہ یہ فضل یہ کرم یہ رحم
کیا طبیعت ہے بادشاہوں کی
(بدر۳۰؍جون۱۹۱۰ء)
ہائے اس غفلت میں ہم یاروں سے پیچھے رہ گئے
یہ بھی کیسا پیار ہے پیاروں سے پیچھے رہ گئے
بڑھ گئے ہم سے صحابہؓ توڑ کر ہر روک کو
ہم سبک ہو کر گراں باروں سے پیچھے رہ گئے
(بدر۲۰؍جولائی ۱۹۱۰ء)
عابد کو عبادت میں مزا آتا ہے
قاری کو تلاوت میں مزا آتا ہے
میں تو بندۂ عشق ہوں مجھے تو صاحب
دلبر کی محبت میں مزا آتا ہے
(الفضل ۹؍اگست ۱۹۱۰ء)
(کلام محمود صفحہ ۲۸۶،۲۸۱)
مزید پڑھیں: پہنچائیں در پہ یار کے وہ بال و پَر کہاں




