بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایت

سچائی کی اہمیت

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ’’یقیناً یا درکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں ۔ عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں مگر میں کیونکر اس کو باور کروں مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔ کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔ اللہ تعالیٰ تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راستباز کو سزا دے؟ اگر ایسا ہو تو دنیا میں پھر کوئی شخص سچ بولنے کی جرات نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اٹھ جاوے۔ راستباز تو زندہ ہی مر جاویں۔

اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی وہ سزا ان کی بعض اور مخفی در مخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے اور کسی اور جھوٹ کی سزا ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پا لیتے ہیں ۔

میرے ایک استاد گل علی شاہ بٹالے کے رہنے والے تھے ۔ وہ شیر سنگھ کے بیٹے پرتاپ سنگھ کو بھی پڑھایا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ شیر سنگھ نے اپنے باورچی کو محض نمک مرچ کی زیادتی پر بہت مارا تو چونکہ وہ بڑے سادہ مزاج تھے انہوں نے کہا کہ آپ نے بڑا ظلم کیا ۔ اس اس پر شیر سنگھ نے کہا مولوی جی کو خبر نہیں ۔ اس نے میرا سو بکرا کھایا ہے اسی طرح پر انسان کی بدکاریوں کا ایک ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ کسی ایک موقع پر پکڑا جا کر سزا پاتا ہے۔ جو شخص سچائی اختیار کرے گا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ذلیل ہو اس لیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حفاظت جیسا اور کوئی محفوظ قلعہ اور حصار نہیں۔ ‘‘

(ملفوظات جلد 8 صفحہ 183-184)

٭…٭…٭

سوال جواب از ملاقات

اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھنا

٭… ایک بچی نے سوال کیا کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں؟

اس پرحضور انور نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کیا ہے؟ ایک جسم تو نہیں ہے۔ وہ تو ایک نور ہے۔

حضرت موسیٰؑ نے کہا تھا کہ خدا مجھے اپنا آپ دکھا دے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا تم نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن آپؑ نے کہا کہ دکھاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس پہاڑ کو دیکھو۔ میں اس پر اپنا تھوڑا سا جلوہ ڈالوں گا۔ اگر تم نے اسے دیکھ لیا پھر تم مجھے دیکھ سکتے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کیا کیا؟ اس پہاڑ پر ایسی بجلی پڑی کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ حضرت موسیٰ ؑ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر انہوں نے کہا اللہ میری توبہ مَیں نہیں دیکھتا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ظاہری شکل نہیں ہے۔ وہ نور ہے اور ہر جگہ موجود ہے۔ اوپر بھی ہے نیچے بھی ہے، دائیں بھی ہے بائیں بھی ہے۔

ابھی کینیڈا میں رات ہو رہی ہے اور ایشیا میں دن ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو دونوں نظر آ رہے ہیں۔ نارتھ پول اور ساؤتھ پول بھی نظر آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی روشنی ہر طرف یکساں پڑ رہی ہے۔ اس طرح کی روشنی نہیں ہے جس کی کچھ روشنی کم ہے۔ کشفی حالت میں اللہ تعالیٰ کی آواز سن سکتے ہو۔ بڑی طاقتور اور پرجوش ایک کیفیت ہے جسے تم سنتے ہی کہتی ہو کہ یہ اللہ ہے۔ جسے تم خواب میں دیکھو کہ ساتھ ہی کہو کہ اللہ نے یہ میرے دل میں بات ڈالی ہے۔ دل میں گڑھ جاتی ہے۔ بعض دفعہ تمثیلی رنگ میں بعض شخصیات میں نظر آتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اللہ ویسا ہے۔ صرف تمہاری تسلی کے لئے ہوتا ہے۔ بعض دفعہ لوگ دیکھ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کی شکل میں بول رہا ہے۔ وہ اللہ کی صفات کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے اقبال کے جواب میں ایک نظم لکھی تھی جو انڈیا پاکستان کا بڑا فلاسفر اور شاعر تھا۔ اس نے کہا کہ اللہ تُو کہاں ہے تُو نظر نہیں آتا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے بڑی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے ایک جواب لکھا کہ مجھے دیکھ شکلِ مجاز میں۔ یعنی میں ظاہری طور پر نظر آ سکتا ہوں لیکن کس طرح؟ درختوں، آسمانوں، قدرت کی خوبصورتی، پہاڑ کی وادیوں، نیاگرا فال میں دیکھو ہر جگہ نظر آ رہا ہے۔

(الفضل انٹرنیشنل 09؍دسمبر2016ء)

٭…٭…٭

پانچ بنیادی اخلاق

1:سچائی

2:نرم اور پاک زبان کا استعمال ۔

3: وسعت حوصلہ

4:دوسروں کی تکلیف کا احساس اور اسے دور کرنا ۔

5: مضبوط عزم و ہمت ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں کہ ’’یہ وہ پانچ بنیادی اخلاق ہیں جو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری تنظیموں کو خصوصیت کے ساتھ اپنےتربیتی پروگرام میں پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ ان پر اگر وہ اپنے سارے منصوبوں کی بناء ڈال دیں اور
سب سے زیادہ توجہ ان اخلاق کی طرف کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کا فائدہ آئندہ سوسال ہی نہیں
بلکہ سینکڑوں سال تک بنی نوع انسان کو پہنچتا رہے گا کیونکہ آج کی جماعت احمد یہ اگر ان پانچ اخلاق پر قائم ہو جائے اور مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے اور ان کی اولادوں کے متعلق بھی یہ یقین ہو جائے کہ یہ بھی آئندہ انہیں اخلاق کی نگران اور محافظ بنی رہیں گی اور ان اخلاق کی روشنی دوسروں تک پھیلاتی رہیں گی اور پہنچاتی رہیں گی تو پھر … یقین رکھ سکتے ہیں کہ جو عظیم الشان کام ہمارے سپرد کئے گئےتھے، ہم نے جہاں تک ہمیں توفیق ملی اِن کو سر انجام دیا۔‘‘

(خطبه جمعه24؍نومبر1989ء)

بیت بازی

درج ذیل اشعار یاد کریں:

ہر وقت جھوٹ، سچ کی تو عادت نہیں رہی

نورِ خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی


سچ سچ کہو کہ تم میں امانت ہے اب کہاں

وہ صدق اور وہ دین و دیانت ہے اب کہاں


راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا

قدر کیا پتھر کی لعل ِبے بہا کے سامنے


مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال

کہ کیوں غم میں رہتا ہے اےمیرے لال


سچ کو سچ جانا اور جھوٹ کو جھوٹ

ہم نے کی بھی تو یہ سیاست کی


غرض سچ مچ محمدؐ ہے محمدؐ

جبھی تو چار سُو صَلِّ عَلیٰ ہے


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button