نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۷؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ شاہین لطیف صاحبہ اہلیہ مکرم عبداللطیف شاہین صاحب (ٹوٹنگ یوکے) اور مکرمہ رضوانہ باسط بٹ صاحبہ اہلیہ مکرم رافت کریم صاحب(لندن) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
۱۔مکرمہ شاہین لطیف صاحبہ اہلیہ مکرم عبداللطیف شاہین صاحب (ٹوٹنگ یوکے)
۱۱؍اکتوبر کو ۶۹؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کو پاکستان میں قیام کے دوران مغلپورہ لاہور میں صدر لجنہ کے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔ یوکے آنے کے بعد بھی لجنہ کی بہت فعال رکن رہیں۔مرحومہ نماز اورروزے کی پابند، تہجدگزار، قرآن کریم کی تلاوت میں باقاعدہ، غریبوں کا خیال رکھنے والی، ہمدرد، خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار، مہمان نواز اور عہدیداروں کا احترام کرنے والی ایک نیک اورمخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ پانچ بیٹیاں اور بہت سے نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم ارسلان احمد سندھو صاحب (مربی سلسلہ جرمنی) کی ساس تھیں۔
۲۔مکرمہ رضوانہ باسط بٹ صاحبہ اہلیہ مکرم رافت کریم صاحب(لندن)
۱۵؍اکتوبر کو ۶۱؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم عبد الباسط بٹ صاحب مرحوم کی بڑی بیٹی اور مکرم ڈاکٹر فضل کریم صاحب مرحوم (آف فیصل آباد) کی بہو تھیں۔ مرحومہ نے پاکستان میں لجنہ اماءاللہ میں مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔آپ کو دعوت الیٰ اللہ کا بہت شوق تھا۔ دس بیعتیں کروانے کی بھی توفیق ملی۔ یو کے آنے کے بعد بھی آپ لجنہ کی فعال رکن رہیں اور سمعی و بصری کی ٹیم میں شامل تھیں۔ مرحومہ نماز اورروزے کی پابند، تہجد گزار، قرآن کریم کی تلاوت میں باقاعدہ، غریبوں کا خیال رکھنے والی، بڑی ہمدرد، مہمان نواز، خدمت خلق کے جذبہ سے سرشا ر ایک نیک فطرت خاتون تھیں۔ خلافت سے گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔ خلیفہ وقت کے ارشادات پر خود بھی عمل کرتیں اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹے اور بہت سے پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم صباحت کریم صاحب (مربی سلسلہ یوکے) کی والدہ اور مکرم حامد کریم صاحب (مربی سلسلہ ہالینڈ) کی بھابھی تھیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم میجر (ر) منیر احمد فرخ صاحب ابن مکرم مولانا غلام احمد فرخ صاحب (گلشن اقبال کراچی)
۱۹؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۸۳؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت میاں غلام قادر صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔ مرحوم نے قائد مجلس خدام الاحمدیہ حیدرآباد اور نائب ناظر ضیافت (جلسہ سالانہ) کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ تعلیم الاسلام کالج کی کشتی رانی ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ فوج کی ملازمت کے دوران جہاں بھی پوسٹنگ ہوتی مقامی جماعت کے ساتھ تعلق رکھا اور جماعت کے ساتھ وابستگی کو کبھی نہیں چھپایا۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے آپ کو جماعت کے لیے وقف کر دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے آپ کو نائب ناظر ضیافت (جلسہ سالانہ) مقرر فرمایا۔ مرحوم کو لکھنے کا بہت شوق تھا اور اخبار الفضل میں کئی مضامین اور یادداشتیں تحریر کیں۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار اور قرآن کریم کی باقاعدگی سے تلاوت کرنے والے، بہت ہمدرد اور نرم دل انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ والہانہ عشق کا تعلق تھا۔ قرآن کریم کا کافی حصہ حفظ بھی کیا ہوا تھا۔ مرکز سلسلہ سے جو بھی مہمان آتے ان کی بہت عزت کرتے اور ان سے ہر طرح کا تعاون کرتے تھے۔ جماعتی تحریکات اور چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ۲؍بیٹے اور۴؍بیٹیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرمہ قیصرہ بلقیس صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر مجید اللہ خان صاحب (مانٹریال۔کینیڈا)
۹؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۸۶ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ مکرم خواجہ محمد امین بٹ صاحب (سابق امیر ضلع سیالکوٹ) کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند اور باقاعدگی سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے والی، صابرہ وشاکرہ، امانتدار، مہمان نواز، قناعت پسند، خاموش طبع، نرم مزاج اور دوسروں کاخیال رکھنے والی ایک مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہرے ا خلاص و وفا کا تعلق تھا۔ مرحومہ نے شاہ تاج شوگر مل منڈی بہاؤالدین میں صدر لجنہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ کو قرآن کریم سے خصوصی محبت تھی۔ آپ نے تیس سال سے زائد عرصہ تک شاہ تاج شوگرمل کالونی میں احمدی اور غیر احمدی بچوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ کینیڈاآنےکے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھا اور بہت سے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی توفیق پائی۔ اس کے ساتھ نگر ان حلقہ کے طور پر بھی شوق اور اخلاص کے ساتھ خدمت کرتی رہیں اور اپنے بچوں کو بھی دینی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کرتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔
۳۔مکرمہ منزہ حفیظ صاحبہ بنت مکرم حفيظ الرحمٰن صاحب (علی پور۔ ضلع مظفر گڑھ)
۲۲؍اگست ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے بی ایس سائیکالوجی کی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ پڑھائی میں بہت لائق تھیں۔ جماعتی اجلاسات میں بھرپور حصہ لیتیں اور مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پاتی ر ہیں۔ والدین کی بڑی فرمانبردار تھیں۔ پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ تہجد کا اہتمام بھی باقاعدگی سے کرتی تھیں۔ مہمان نوازی کاخلق بھی بہت نمایاں تھا۔ خصوصاً مرکزی نمائندگان کی مہمان نوازی کا خاص انتظام کرکے بہت خوش ہوتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں والدین، دو بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں۔
۴۔مکرم سیّد محمد دانش صاحب (Dietzenbach۔ جرمنی)
۲۹؍جون ۲۰۲۶ء کو۴۲؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا نظام جماعت کے ساتھ اچھا تعلق تھا۔ صوم وصلوٰۃ کے پابند، بڑے خوش اخلاق، ملنسار، ہمدردی کا جذبہ رکھنے والےایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ بچوں کی اچھی پرورش اور تربیت کی۔ ان کو جماعت سے منسلک رکھا اور ہر پروگرام میں ان کو شامل کروایا کرتے تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
۵۔مکرم عبد الستار صاحب ابن مکرم محمد جيون صاحب (ہالینڈ)
۱۳؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۵۹؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم بڑے خوش اخلاق، ملنسار، صابر وشاکر، ہمدرد،مہمان نواز اور مخلص انسان تھے۔ احمدی ہوں یا غیر احمدی سب سے محبت اور خندہ پیشانی سے ملتے اور ہر ایک کا خیال رکھتے تھے۔ خلافت سے گہرا وفا کا تعلق تھا۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور صدقہ و خیرات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
۶۔ عزیزہ ماہ نور تبسم بنت مکرم زبیر احمد عمر صاحب (ربوہ)
۱۰؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۱۳؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نمازوں اور تلاوت قرآن پاک کی پابند، بڑی ذہین اور ہونہار بچی تھی۔ سکول میں فرسٹ پوزیشن لیتی تھی۔چندے بھی ہمیشہ بروقت ادا کرنے والی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بڑی محبت اور لگن سے دعائیہ خط بھی لکھا کرتی تھی۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بھائی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔
اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




