متفرق مضامین

میکرو اور مائیکرو ایوولیوشن

(پروفیسرڈاکٹر امۃ الرزاق کارمائیکل)

ارتقا کا عمل کچھ ثبوت نہیں دیتا کہ سب سے زیادہ بنیادی عمل یعنی بچے کا پیدا ہونا کس طرح آہستہ آہستہ ارتقائی عمل سے ہو سکتا ہے۔ بچے کے پیدا ہونے سے ماں کے پستان میں دودھ کیسے آتا ہے؟

ڈارون کے پیش کردہ ارتقا کے نظریہ کے مطابق زندگی ایک خلیہ یعنی سیل کے جاندار سے شروع ہوئی۔ اور ارتقا کی وجہ سے ایک اور قسم کے جاندار پیدا ہوئے۔ جن میں خلیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ پھر ارتقائی عمل کے ہوتے ہوئے یہ جانور، مچھلی، پرندے، چوپائے، دو پیروں پر چلنے والے جانور اور بالآخر انسان وجود میں آگئے۔ یہ کہا گیا ہے کہ Survival of the Fittest کے قانون کے مطابق ایسے جانور جو کہ حالات کا مقابلہ نہ کرسکے خود ہی ختم ہو گئے اور ارتقائی عمل کے ذریعے مزید پیچیدہ اور خاص جاندار ظہور میں آگئے۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے کون کون سے شواہد موجود ہیں جو کہ اس بات کو ثابت کرتے ہیں ؟

سائنس اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ایک ہی طرح کے جانور اپنی بقا کے لیے اپنی ہیئت اور جسامت میں تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں۔ جیسے کہ پرندوں کی چونچ کی شکل بدل جاتی ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ان کو غذا کس قسم کی جگہ سے ملے گی۔ غذا کی تلاش کرنے سے پرندوں کی چونچ لمبی موٹی یا چھوٹی ہو سکتی ہے۔ یہ مائیکرو ارتقا ہے۔ اور سائنسی طور پر ثابت ہے۔ ہم نے Corona وائرس کی وبا کو دیکھا ہے کہ وائرس کے بارے میں دیکھا گیا کہ وہ Mutation پیدا کر کے اپنی بقا کا سامان کر لیتا ہے۔ یہ تو بالکل درست ہے اور سمجھا جا سکتا ہے مگر اس کے بعد کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ میکرو ارتقا بھی ہوتا ہے۔

ایک جانور سے دوسرے جانور میں تبدیل ہونے کے لیے DNA یعنی خلیے کے بنیادی حصے میں تبدیلی ہونا ضروری ہے۔ اگر DNA کی تبدیلی یا Mutation بہت چھوٹی ہوگی تو جانور تبدیل ہی نہیں ہوسکے گا۔ اور اگر تبدیلی بہت زیادہ ہوگی تو نیا جانور بن ہی نہیں پائے گا۔ سائنس کوئی ثبوت دینے سے قاصر ہے کہ ایک جانور دوسرے جانور میں بدل جائے۔ اگر فوسل کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو جانور لاکھوں سال پہلے بھی ایسے ہی تھے جیسے اب ہیں۔ وُڈپیکر زور سے درخت پر چونچ مارتا ہے۔ اس کے دماغ کے گرد ایک نرم حصہ ہوتا ہےتاکہ چونچ مارنے سے اس کے دماغ کو چوٹ نہ لگے۔ بھلا ارتقا کا عمل اس جانور کے عمل کے بننے کو کیسے ثابت کر سکتا ہے؟ اگر وُڈ پیکر کی چونچ تیز نہ ہو اور اس کے دماغ کے گرد نرم حصہ نہ ہو تو وُڈ پیکر بن ہی نہیں سکتا اور ارتقا ایسے Fossil دینے سے قاصر ہیں جو کہ وڈ پیکر کی ابتدائی شکل ہو۔

ارتقا کا عمل یہ ثابت کرنے سے بھی قاصر ہے کہ انسان میں عقل، شعور، ذہانت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ ارتقا کا عمل کچھ ثبوت نہیں دیتا کہ سب سے زیادہ بنیادی عمل یعنی بچے کا پیدا ہونا کس طرح آہستہ آہستہ ارتقائی عمل سے ہو سکتا ہے۔ بچے کے پیدا ہونے سے ماں کے پستان میں دودھ کیسے آتا ہے؟ ارتقا اس معاملے میں کوئی ثبوت نہیں دے سکتی۔ ارتقا کا عمل اس بات کو سمجھانے سے بھی قاصر ہے کہ جنین کی ہیموگلوبن F کس طرح ہیموگلوبن A میں تبدیل ہو جاتی ہے تاکہ بچہ نارمل طریقے سے سانس لے سکے۔ ارتقا کا عمل یہ بتا ہی نہیں سکتا کہ فوٹو سنتھسس کا عمل کیسے ہوتا ہے اور کلوروفل کیسے وجود میں آیا۔

یہ انتہائی نادانی ہے کہ ایک تھیوری کے پیچھے پڑ کر بغیرکسی ثبوت کے انسان آنکھیں بند کر کے ارتقا کو مان لے اور اپنے خالق کو بھول جائے۔

والدین اس بارے میں اپنی معلومات بڑھائیں اور بچوں کو ارتقا کے بارے میں ٹھوس جوابات دیں۔ انہیں سمجھائیں کہ ارتقا پر یقین صرف اس حد تک کرنا چاہیے جس کا ثبوت موجود ہے یعنی Microevolution۔ اس کے بعد کوئی بھی شواہد نہیں ہیں کہ جو سائنسی طور پر ثابت ہوں کہ انسان، بندر، ہاتھی اور اونٹ ایک ہی خلیے سے نکلے ہیں۔ یہ بیہودہ اور بغیر ثبوت کے عقیدہ ہے۔ اس کے مقابل میں ایک خالق کا عقیدہ سارے سوالات اور عقدے حل کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سب سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید پڑھیں: جنیوا سوئٹزرلینڈ میں ہیومینٹی فرسٹ کی طرف سے جنگ زدہ علاقوں میں تعلیمی صورت حال پر سیمینار

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button