متفرق مضامین

سیم ہیرس صاحب کا اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ

(ابو نائل)

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی محض نظریہ یا عقیدہ کی بنیاد پر کسی کے خلاف اس طرح اعلان جنگ کیا گیا تو خون ریزی کے علاوہ اُس کا کوئی اور نتیجہ برآمد نہیں ہوا

اس دور میں دہریت ایک نئے رنگ میں سامنے آرہی ہے۔دنیا کے بعض ممالک میں ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم خدا پر یقین نہیں رکھتے یا ہمیں یہ علم نہیں ہوسکتا کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے کہ نہیں۔اور ہمیں یہ جاننے کی کوئی ضرورت بھی نہیں کہ کوئی خدا موجود ہے کہ نہیں۔ ان لہروں میں سے ایک بڑی لہر ان چار دہریہ مفکرین کی طرف سے پیدا کی گئی تھی جنہیں دہریت کے چار شہسوار Four Horsemen of Atheism کہا جاتا ہے۔ یعنی رچرڈ ڈاکنس (Richard Dawkins) صاحب، کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens) صاحب، ڈینیل ڈینٹ (Daniel Dennet) صاحب، اور سیم ہیرس (Sam Harris) صاحب۔ ان چار حضرات میں سے ڈینیل ڈینٹ صاحب اور کرسٹوفر ہچنز صاحب تو اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور باقی دو ابھی حیات ہیں۔

اس مضمون میں سیم ہیرس صاحب کی ایک کتاب کے چند پہلوئوں کے بارے میں چند نکات پیش کیے جائیں گے۔موصوف ایک امریکی فلاسفر ہیں اور دماغ کی سائنس میں پی ایچ ڈی بھی کی ہوئی ہے۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔اس مضمون میں کتاب کا مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا۔

کتاب ’ایمان کا خاتمہ

یہ کتاب The End of Faith ہے۔ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب اس خیال کی عکاسی کرتی ہے کہ تھوڑا عرصہ ٹھہر جائو، اب دنیا سے مذہب کا نام و نشان مٹنے والا ہے۔ یوں تو مصنف بنیادی طور پر مذہب کے خلاف ہیں لیکن اِن کی کتب اور تقاریر میں اسلام اور مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔اس کتاب میں بھی یہ روش نظر آتی ہے۔سیم ہیرس صاحب کی اس کتاب میں ایک باب خاص طور پر مسلمانوں کے بارے میں ہے اور اس کا عنوان اس کے مندرجات کی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔مذکورہ باب کا عنوان The problem with Islamیعنی ’ اسلام کے ساتھ مسئلہ ‘ ہے۔ عمومی طور پر مصنفین کو اپنی تحریر میں یہ توازن دکھانا پڑتا ہے کہ وہ پہلے دلائل اور شواہد بیان کرتے ہیں اور پھر نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔لیکن سیم ہیرس صاحب کی تحریر اس تکلف سے بےنیاز ہے۔ اس باب کا آغاز ہی وہ ان الفاظ سے کرتے ہیں:

‘‘There is a reason, after all, why we must now confront Muslim rather than Jain terrorists. Jains do not believe anything that is remotely likely to inspire them to acts of suicidal violence against unbelievers…there are good beliefs and there are bad ones-and it should be obvious to everyone that Muslims have more than fair share of the latter.’’ (Harris S. The End of Faith. Simon & Schuster (2006). P 108)

ترجمہ: اس بات کی وجہ موجود ہے کہ کیوں ہمیں اب جین مت کے دہشتگردوں کی بجائے مسلمان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ جین مت کے پیروکار کسی ایسے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے جو کہ کسی طرز میں بھی اس عقیدہ سے ملتا ہو کہ خود کشی کر کے کافروں کو قتل کیا جائے… اچھے عقائد بھی ہوتے ہیں اور برے عقائد بھی ہوتے ہیں اور یہ سب پر واضح ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کے عقائد میں دوسری قسم کے عقائد کا حصہ ضرورت سے زیادہ ہے۔

نفرت انگیزی کا طریقہ

اس اقتباس کا آخری حصہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیم ہیرس صاحب تمام مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل یا حقائق پیش کرنے کی بجائے یہ تحریر کرتے ہیں کہ حقیقت سب پہ واضح ہونی چاہیے۔ گویا یہ ایک تحکم کا انداز ہے کہ جو میرا یا میرے ہم خیال گروہ کا نظریہ ہے وہی سب کا ہونا چاہیے۔دنیا کی تاریخ میں نفرت انگیزی کا یہ طریقہ بار بار آزمایا گیا ہے کہ جس گروہ کی مخالفت کرنی مقصود ہو اس کو ایک نفرت انگیز نام دے کر نفرت کا پرچار کرو۔زیادہ دلائل دینے کی ضرورت نہیں اس نام کی وجہ سے عوام کے دلوں میں اس گروہ یا شخص کی نفرت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔ عمومی طور پر یہ نسخہ اس وقت زیادہ کامیاب ہوتا ہے جب کوئی قوم اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھ رہی ہو اور مسائل کا شکار ہو۔ مثال کے طور پر قدیم ایتھنز میں جب ایتھنز کو شکست اور تنزل کا سامنا تھا تو سقراط کو زہر کا پیالہ پلایا گیا کہ یہ شخص ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔جب امریکہ کی امیر سفید فام آبادی کو اپنا تسلط خطرے میں نظر آیا تو ساری سیاہ فام آبادی کے لیے حقارت کا ایک مخصوص لفظ استعمال کیا گیا اور اس نفرت کو اتنی ترقی دی گئی کہ سیاہ فام آبادی پر ہر ظلم روا سمجھا گیا۔ جب ہٹلر نے جرمنی کے یہودیوں کے خلاف نفرت انگیزی شروع کی تو اپنی کتاب Mein Kampf میں اور تقاریر میں تمام یہودیوں کے لیے بار بار Parasite (طفیلی) کا لفظ استعمال کرکے جرمنی کی اقتصادی بد حالی کا سارا الزام ان پر دھر دیا گیا۔ جب پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک میں طالبان اور داعش جیسے گروہوں کو کوئی عذر ڈھونڈنے کی ضرورت پڑی کہ کس طرح مسلمانوں کے قتل عام کو جائز ثابت کیا جائے تو مسلمان ممالک کی تمام حکومتوں، افواج اور عوام حتیٰ کہ علماء کو بھی مرتد اور زندیق کا لقب دے کر ان کا خون بہایا۔اور جب بعض مغربی ممالک میں ایک گروہ نے مسلمانوں کی مخالفت شروع کی تو مسلمانوں کے لیے دہشت گردوں کا عمومی لفظ استعمال کر کے اپنے نظریات کا پرچار کیا۔ ایک لمحہ ٹھہر کر اوپر کی مثالوں پر نظر ڈالیں۔ ان میں کس طبع آزمائی کا کوئی مثبت نتیجہ بر آمد ہوا ہے؟

یہ موازنہ پڑھنے والے کو اس لیے بھی حیران کرتا ہے کہ مسلمانوں کا موازنہ جین مت کے پیروکاروں سے کیوں کیا جارہا ہے ؟ ہم یہ جانتے ہیں کہ جین مت کی تعلیمات میں عدم تشدد کی تعلیم نمایاں طور پر پائی جاتی ہے لیکن دنیا میں ان کی تعداد صرف ساٹھ لاکھ کے قریب ہے اور دنیا کے ایک سے زیادہ شہر موجود ہیں جن میں اس سے کئی گنا تعداد میں مسلمان موجود ہیں۔کسی وجہ سے سیم ہیرس صاحب اس بات سے احتراز کررہے ہیں کہ اسلامی تعلیمات یا مسلمانوں کا موازنہ دنیا کے ان مذاہب اور ان کے پیروکاروں سے کیا جائے جن کی بڑی تعداد دنیا میں موجود ہے۔

مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ

بہر حال یہ تو صرف آغاز تھا کہ مسلمانوں پر عمومی طور پر ایک الزام لگا دیا۔ اگلے صفحہ پر ہی اس تمہید کی وجہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ سیم ہیرس لکھتے ہیں :

‘‘We are at war with Islam. It may not serve our immediate foreign policy objectives for our political leaders to openly acknowledge this fact, but it is unambiguously so. It is not merely so that we are at war with an otherwise peaceful religion that has been ‘‘hijacked’’ by extremists. We are at war with precisely the vision of life that is prescribed to all Muslims in the Koran, and further elaborated in the literature of the hadith, which recounts the sayings and actions of the prophet.’’ (Harris S. The End of Faith. Simon & Schuster (2006). P 109-110)

ترجمہ: ہم اسلام سے حالت جنگ میں ہیں۔ یہ بات شاید ہماری خارجہ پالیسی کے مفادات میں نہ ہو کہ ہمارے سیاسی لیڈر کھلم کھلا اس حقیقت کا اعتراف کریں لیکن بلاشبہ حقیقت یہی ہے۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم ایک ایسے امن پسند مذہب سے حالت جنگ میں ہیں جسے دہشت گردوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ہم معین طور پر زندگی کے اس نظریہ کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں جس کی تلقین سارے مسلمانوں کے لیے قرآن میں کی گئی ہے۔اور اس کی تفصیلات احادیث میں بیان کی گئی ہیں جن میں پیغمبر کےاقوال اور افعال بیان کئے گئے ہیں۔

ابھی اس بات کے دلائل بیان نہیں کیے گئے تھے کہ یہ کس طرح معلوم ہوا کہ اسلام نے دہشت گردی کی تعلیم دی ہے؟ اس الزام کے ثبوت اور حوالے کیا ہیں ؟اس قسم کے تکلفات میں پڑے بغیر مصنف نے اسلام کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس اقتباس میں لفظ ’ہم‘ سے کیا مراد ہے ؟ کیا وہ صرف اپنے ملک کی طرف سے یہ اعلان جنگ کر رہے ہیں یا پوری مغربی دنیا کی طرف سے یہ طبل بجایا جا رہا ہے۔ اور کس نے سیم ہیرس صاحب کو یہ اختیار عطا کیا ہے کہ وہ جس کے خلاف پسند فرمائیں اعلان جنگ کریں؟ مناسب ہوتا اگر وہ اس وکالتنامہ کو بھی اس کتاب میں شائع کر دیتے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ پڑھنے والے کو یہ یقین دلا رہے ہیں کہ اصل میں تو ہم اسلام سے حالت جنگ میں ہیں، اگر ہمارے سیاسی لیڈر اس بات کا اعتراف نہیں کرتے تو شاید یہ ہماری خارجہ پالیسی کی مجبوری ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی محض نظریہ یا عقیدہ کی بنیاد پر کسی کے خلاف اس طرح اعلان جنگ کیا گیا تو خون ریزی کے علاوہ اس کا کوئی اور نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ قریب کے زمانہ کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔ جب طالبان اور دوسرے تنگ نظر اور دہشت گرد طبقات نے پاکستان کی حکومت، تمام اداروں اور اکثر عوام پر کفر کا فتویٰ لگا کر اپنی طرف سے خروج یعنی بغاوت کا اعلان کیا گیا تو اس کے بعد پاکستان بھر میں ہزاروں شہریوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔(تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیں A debate on Takfeer and Khurooj, edited by Safdar Sial)

جس طرح دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے بلکہ اقتدار میں آنے سے بھی بہت پہلے ہٹلر نے خود نوشت سوانح حیاتMein Kampf میں کمیونسٹ خیالات کے گروہوں کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ کتاب کے معین الفاظ درج کیے جاتے ہیں۔ ہٹلر نے ٹریڈ یونین کے بارے میں لکھا: ’’ اسے مارکسسٹ یونین کے خلاف نہ صرف ایک تنظیم کے طور پر بلکہ ایک نظریہ کے طورپر اعلان جنگ کرنا چاہیے۔‘‘

(Adolf Hitler. Mein Kampf. Translated by Ralph Manheim. Digitized by Internet archives. P 605)

جب ۱۹۲۵ء میں ہٹلر کی یہ کتاب پہلی مرتبہ شائع ہوئی تو اس وقت یہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ محض ایک دیوانے کی بڑ ہے اور دلوں کو گرمانے کے لیے اعلان جنگ کیا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران حقیقت میں ہٹلر نے ما رکسسٹ ریاست سوویت یونین کے خلاف اعلان جنگ کیا اور اس کے نتیجہ میں ایک کروڑ انسانوں کا خون بہایا گیا۔ ان مثالوں کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے اعلانوں کو غیر سنجیدہ انداز میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان کے بہت بھیانک نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔

اعلان جنگ کی وجوہات

مصنف کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے اس اعلان جنگ کاکوئی جواز بیان کرتے۔ اس کا جواز انہوں نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

“On almost every page, the Koran instructs observant Muslims to despise non-Muslims. On almost every page, it prepares the ground for religious conflict.” (Harris S. The End of Faith. Simon & Schuster (2006). P 123)

ترجمہ: تقریباََ ہر صفحہ پر قرآن دین کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کو غیر مسلموں سے نفرت کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ تقریباََ ہر صفحہ پر یہ مذہبی تنازعہ کی بنیاد رکھتا ہے۔

اصولی طور پر یہ ضروری تھا کہ وہ اس نتیجہ پر پہنچنے سے قبل قرآن کریم کی آیات سے اپنے موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔لیکن سیم ہیرس کم از کم وقتی طور پر اس سے گریز کرکے کچھ احادیث درج کر کے اپنا موقف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر پڑھنے والا یہی سوچے گا کہ انہوں نے احادیث پر گہری تحقیق کر کے یہ خلاصہ پیش کیا ہے۔ ان احادیث کے آخر میں ان سب کا ایک ہی حوالہ درج کیا گیا ہے۔ان احادیث کا ذکر کرنے سے قبل یہ جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے یہ احادیث کس ماخذ سے نقل کی ہیں۔ان کا حوالہ اس کتاب کے صفحہ ۲۵۱پر درج ہے۔ اور یہ حوالہ بس اس قدر ہے کہ کچھ احادیث لیوس (Lewis)کی کتاب The Crisis of Islam سے لی گئی ہیں اور کچھ احادیث یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کی مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی ایک سائٹ سے لی گئی ہیں۔ تحقیق کا کچھ تجربہ رکھنے والے یا علم حدیث کا کچھ بھی علم رکھنے والے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ نہ تو یہ تحقیق کرنے کاکوئی قابل قبول انداز ہے اور نہ حوالہ دینے کا کوئی طریق۔

بہر حال اب سیم ہیرس صاحب نے جو چند احادیث کا نامکمل ترجمہ درج کیا ہے، اس کا جائزہ لیتے ہیں۔سب سے پہلے وہ سنن ابی دائود کی اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرے، اور نماز (جنازہ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے”۔(سنن ابي داؤد/كتاب الجهاد /حدیث: ۲۵۳۳)

اس حدیث نبوی ﷺ میں یہ بالکل ذکر نہیں ہے کہ ہر غیر مسلم پر بغیر وجہ جنگ مسلط کر دو۔اگر جہاد سے مراد صرف خدا کی راہ میں قتال یا جنگ بھی لی جائے تو بھی سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات میں کب اور کس کے خلاف جہاد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔ (البقرۃ: ۱۹۱)ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔یقیناََ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اور سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۳یہ ہے: فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ترجمہ: پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بہت مغفرت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔

ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن مجید میں مسلمانوں کو صرف ان سے جنگ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو پہل کرکے حملہ کریں اور اگر وہ اپنی اس حرکت سے باز آجائیں تو ان کی سابقہ غلطی کے باوجود ان کے لیے بخشش کا اعلان ہے۔دنیا کا کوئی انصاف پسند شخص اور کوئی قانون اور کوئی اخلاقی ضابطہ اس تعلیم پر اعتراض نہیں کر سکتا۔

اب اس مضمون کی مزیدآیات کریمہ درج کی جاتی ہیں: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ۣالَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًاؕ وَلَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ۔ (الحج: ۴۰ و ۴۱) ترجمہ:ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے (قتال کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے۔ اور یقیناََ اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔(یعنی) وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا ربّ ہے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے ان کا دفاع اُ ن میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔اور یقیناََ اللہ اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔اور یقیناََ اللہ بہت طاقتور (اور ) کامل غلبہ والا ہے۔

یہ ہیں وہ شرائط جن کے پورا ہونے پر قرآن مجید قتال کی اجازت دیتا ہے۔یعنی ان لوگوں کو قتال کی اجازت دی گئی ہے جن پر حملے شروع کر دیے گئے تھے اور اس سے قبل بھی ان کے بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کو سلب کر لیا گیا تھا۔ اور اس اجازت کا مقصد صرف یہ نہیں کہ مسلمانوں کی مساجد کو بچایا جائے بلکہ اس اجازت کا مقصد یہ ہے کہ تمام مذاہب کے راہب خانوں اورعبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ اس پر اعتراض کرنا دنیا میں ضمیر کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔

دوسری حدیث کا جو حوالہ دیتے ہیں وہ یہ ہے : ’’حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَغَدْوَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا‘‘(صحیح مسلم۔کتاب الامارۃ۔باب فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ) ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صبح کو یا شام کو اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور ما فیھا سے بہتر ہے۔

اس ساری حدیث میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ یہ نکلنا کسی پر نا جائز حملہ کرنے کے لیے ہے۔ کیا سیم ہیرس صاحب جب کبھی گھر سے کہیں جانے کے لیے نکلتے ہیں وہ کسی پر حملہ کرنے کے لیے نکلتے ہیں ؟ کیا انسان کسی کی مدد کرنے کے لیے، کوئی پیغام پہنچانے کے لیے، تبلیغ کرنے کے لیے یا علم حاصل کرنے کے لیے نہیں نکل سکتا؟

سیم ہیرس صاحب ان الفاظ میں یہ حدیث درج کرتے ہیں: Paradise is in the shadow of swords۔

یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا پس منظر کیا تھا؟ سیم ہیرس صاحب نے بغیر حوالے کے ایک جملہ درج کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام کتنا جارحانہ مذہب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تو یہ تعلیم دی تھی کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پس منظر کی وضاحت کے لیے صحیح مسلم کی یہ حدیث درج کی جاتی ہے۔ عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللّٰهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ۔ (صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر۔ باب كَرَاهَةِ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ وَالأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ اللِّقَاءِ) ترجمہ: بنی اسلم کے ایک شخص جو نبی ﷺ کے صحابہؓ میں سے تھے جنہیں عبد اللہ بن ابی اوفیٰ کہا جاتا ہے کے خط کے بارہ میں بیان کیا کہ انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو خط لکھا جب وہ حروریہ کے مقابلہ میں روانہ ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ جس دن دشمن سے بر سرپیکار ہوتے تو آپ انتظار فرماتے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا توآپؐ ان میں کھڑے ہوتے اور فرماتے اے لوگو تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اگر تمہاری مڈبھیڑ ہو تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔

سیم ہیرس صاحب کے تجویز کردہ علاج

کیا یہ جارحیت کی تعلیم ہے؟ اس حدیث میں تو یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ دشمن سے لڑائی کی تمنا بھی نہ کرو۔ اور صبر کا مضمون تو اسی وقت بیان کیا جا سکتا ہے جب کسی گروہ پر جنگ مسلط کی گئی ہو۔ بہر حال اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ مسلمانوں کو یا باقی مذاہب کو بھی بے بنیاد اور نفرت انگیز قرار دینے کے بعد سیم ہیرس اس عالمی مسئلہ کا کیا حل تجویز کرتے ہیں ؟ اس کا جواب انہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

If we cannot inspire the developing world, and the Muslim world in particular, to pursue ends that are compatible with a global civilization, then a dark future awaits us. (Harris S. The End of Faith. Simon & Schuster (2006). P 224-225)

ترجمہ: اگر ہم ترقی پذیر دنیا کو اور بالخصوص مسلمان دنیا کو اس بات پر قائل نہیں کر سکتے کہ وہ ان مقاصد کی پیروی کریں جو کہ عالمی تہذیب کے مطابق ہوں، اس وقت تک ایک تاریک مستقبل ہمارا منتظر ہے۔

اس اعلان کے ساتھ بلی تھیلی سے باہر آنی شروع ہوتی ہے۔ وہ مسلمانوں کو اور ترقی پذیر ممالک کو یہ بھاشن دے رہے ہیں کہ اب انہیں ایک عالمی تہذیب کو گلے لگانا چاہیے اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے پہلے انہیں اپنی تہذیب کو خیر باد کہنا پڑے گا۔ لیکن ذرا ٹھہریں یہ عالمی تہذیب کون سی تہذیب ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ کسی ترقی پذیر ملک کی تہذیب تو ہو نہیں سکتی کیونکہ انہیں تو یہ نصیحت کی جا رہی ہے کہ وہ اس عالمی تہذیب کے لیے اپنی تہذیب کو ترک کر دیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد مغربی تہذیب ہی ہو سکتی ہے۔ یعنی وہ یہ نتیجہ پیش کر رہے ہیں کہ دنیا کی اکثریت اپنی تہذیبوں کو اور مذاہب کو ترک کرکے مغربی تہذیب کے آگے سجدہ ریز ہو جائے۔ لیکن کیوں ؟ وہ اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کرتے۔آخر یورپ کے ممالک اپنی اپنی تہذیبوں کو ترک کر کے چین کی تہذیب کو کیوں نہیں اپنا لیتے۔ آخر کار اب ترقی کی رفتار میں چین یورپی ممالک سے کافی آگے ہے۔یا امریکہ یا انگلستان کے لوگ جاپان کی تہذیب کی تقلید کیوں نہیں کر لیتے ؟ بہت سی سہولیات اور تعلیم کے اعتبار سے جاپان یورپ کے اکثر ممالک سے کافی آگے ہے۔لیکن سیم ہیرس صاحب ایسے سوالات میں الجھنا پسند نہیں فرماتے۔ بس ان کی خواہش ہے کہ ایسا ہوجائے تو ان کے نزدیک یہی دلیل کافی ہے۔جس طرح چند صدیاں قبل سپین، پرتگال، فرانس اور انگلستان نے آدھی سے زیادہ دنیا کو غلام بنا کر اپنی مرضی ان پر مسلط کی تھی، اب عالمی تہذیب کے نام پر غلامی کا نیا دور شروع کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

یہ تو تہذیب کا قصہ تھا۔اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس کتاب میں سیم ہیرس صاحب مذہبی آزادی کے بارے میں کیا نظریہ پیش کرتے ہیں۔وہ اس کتاب کے آغاز ہی میں لکھتے ہیں :

I hope to show that the very ideal of religious tolerance-born of the notion that every human being should be free to believe whatever he wants about God-is one of the principal forces driving us towards the abyss.

ترجمہ: میں یہ دکھانے کی کوشش کروں گا کہ مذہبی برداشت کا تصور جس نے اس نظریہ سے جنم لیا تھا کہ ہر انسان کو اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ خدا کے بارے میں جس عقیدہ کو چاہے پسند کر کے اپنا لے ہمیں ایک گہری کھائی کی طرف دکھیل رہا ہے۔

اس حوالے کا مطلب واضح ہے کہ مذہب اور خاص طور پر اسلام پر یہ الزام لگانے کے بعد کہ ان کی تعلیمات سے عدم برداشت اور تشدد پیدا ہوتا ہے، سیم ہیرس صاحب یہ تحریر فرما رہے ہیں کہ اصل فساد کی جڑ ہی مذہبی آزادی کا تصوّر ہے۔ انسانوں کو اس بات کی اجازت بالکل نہیں ہونی چاہیے کہ وہ خدا کے بارے میں جس عقیدہ کو چاہیں اپنا لیں۔ پہلے انہوں نے انسانوں سے یہ آزادی چھیننے کا عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنی تہذیب برقرار رکھ سکیں اور ترقی پذیر ممالک کو یہ مفت کا مشورہ دیا تھا کہ وہ ان کی پسند کی تہذیب کو اپنائیں۔ اب انہوں نے عقیدہ کی آزادی کو سلب کرنے کا اعلان کر دیا۔اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ سیاسی آزادیوں کے لیے وہ کیا نسخہ تجویز کرتے ہیں۔

وہ بعض مسلمان ممالک کے آمر حکمرانوں کی مخالفت تو کرتے ہیں لیکن وہ اس بات کے حامی بھی نہیں ہیں کہ مسلمان ممالک کے عوام کو اپنی مرضی کی حکومت منتخب کرنے کی اجازت ہو۔ وہ لکھتے ہیں:

The situation must be remedied, but we cannot merely force Muslim dictators to open polls to the Christians of the fourteenth century.

ترجمہ: اس صورت حال کو درست تو ہونا چاہیے لیکن ہم مسلمان آمروں کو صرف اس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ انتخابات کرائیں کیونکہ یہ تو اسی طرح ہو گا جیسے چودھویں صدی کے عیسائیوں میں انتخابات کرائے جاتے تھے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی نے یہ نکتہ دریافت کیا ہو کہ سیاسی نظام کو عوام کی مرضی پر چھوڑ دینے سے کئی قباحتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیان جب ہٹلر نے ویانا میں سوچ بچار کر کے جرمنی کے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنا شروع کیا تو خود ہٹلر کے الفاظ میں یہ نتیجہ برآمد ہوا۔

It is quite evident that only to a tiny degree are public wishes or public necessities satisfied by the manner in which an election takes place; for everybody who properly estimates the political intelligence of the masses can easily see that this is not sufficiently developed to enable them to form general political judgments on their own account, or to select the men who might be competent to carry out their ideas in practice.

ترجمہ: یہ بالکل ظاہر ہے جس طرح انتخابات ہوتے ہیں، ان سے عوام کی خواہشات اور ضروریات کا ایک بالکل معمولی سا حصہ پورا ہو سکتا ہے۔کوئی شخص بھی جو صحیح طریق پر عوام کی ذہانت کا تجزیہ کرتا ہے یہ دیکھ سکتا ہے اس نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی کہ اس قابل ہو کہ خود سیاسی فیصلے کر سکے یا ان لوگوں کو منتخب کر سکے جو اس قابل ہوں کہ اپنے نظریات کو عملی صورت دے سکیں۔

(Adolf Hitler. Mein Kampf. Chapter 3. P50)

مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کے خلاف

وہ مسلمانوں کو ذہنی اور اقتصادی طور پر پسماندہ قرار دے کر، ان الفاظ میں اپنی ایک اور فکر کا اظہار کرتے ہیں :

I suspect that Muslim prosperity might even make matters worse, because the only thing that seems likely to persuade most Muslims that their world view is problematic is the demonstratable failure of their societies. (Harris S. The End of Faith. Simon & Schuster (2006). p133)

ترجمہ: مجھے یہ شبہ ہے کہ مسلمانوں کی خوش حالی صورت حال کو اور بگاڑ دے گی۔ واحد نکتہ جو کہ مسلمانوں کو اس بات کا قائل کر سکتاہے کہ دنیا کے بارے میں ان کے نظریات مسائل کو جنم دے رہے ہیں وہ ان کے معاشروں کا واضح طور پر ناکام ہونا ہے۔

گویا اُن کی دلی خواہش ہے کہ مسلمان اقتصادی طور پر ترقی نہ کریں۔شاید سیم ہیرس صاحب کو ابھی یہ خبر نہ پہنچی ہو کہ کئی مسلمان ممالک اقتصادی طور پر کافی ترقی کر چکے ہیں۔

ہم نے مضمون کے آغاز میں یہ ذکر کیا تھا کہ سیم ہیرس صاحب نے بزعم خود مسلمان دنیا کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ پھر ہم نے یہ جائزہ لیا کہ ان کے نزدیک خاص طور پر مسلمانوں کو اپنی مرضی کی تہذیب، عقیدہ یا حکومت کا اختیار بالکل نہیں ہونا چاہیے۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ جو جنگ سیم ہیرس صاحب کے ذہن میں پرورش پا رہی ہے، اس کے کیا خد و خال ہیں؟ اگر تو ان کے نظریات طالبان اور داعش جیسے انتہا پسند گروہوں کی مذمت اور ان کا مقابلہ کرنے تک محدود ہوتے تو یہ ایک بالکل جائز بلکہ ایک قابل ستائش بات تھی۔ کوئی بھی صاحب ضمیر ایسے گروہوں کے شدت پسند نظریات کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھ سکتا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان گروہوں نے اب تک صرف مسلمان اکثریت رکھنے والے علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں کے رہنے والوں کا خون بہایا ہے اور مسلمانوں کو بہیمانہ مظالم کا نشانہ بنایا ہے۔ بہر حال ایک اور نکتہ سیم ہیرس صاحب ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

We cannot let our qualms over collateral damage paralyze us because our enemy knows no such qualms. (Harris S. The End of Faith. Simon & Schuster (2006). P 203)

ترجمہ : ہم جنگ میں ضمنی جانی نقصان کے بارے میں اپنے تحفظات کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ یہ تحفظات ہمیں مفلوج کر دیں کیونکہ ہمارے دشمن کو اس قسم کے کوئی تحفظات لاحق نہیں ہیں۔

ضمنی نقصان یا collateral damage کی اصطلاح جنگ میں اس جانی نقصان کے بارے میں استعمال ہوتی ہے جو کہ معصوم جانوں کا ہو۔ مثال کے طور پر کسی دہشت گرد یا متحارب گروہ کے ٹھکانے پر حملہ کیا گیا اور اس میں دو تین دہشت گرد مارے گئے لیکن ساتھ پچاس ساٹھ بچے یا ایسے شہری جن کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سیم ہیرس صاحب یہ نظریہ پیش فرما رہے ہیں کہ اس میں کچھ مضائقہ نہیں ہے۔

اس نظریہ کے بارے میں پڑھنے والے اپنی آزادانہ رائے خود قائم کر سکتے ہیں۔ البتہ اسلامی تعلیمات سے موازنہ کے لیے ایک حدیث درج کرنی ضروری ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّ امْرَأَةً، وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ۔ (صحیح مسلم۔کتاب الجہاد والسیر۔باب تَحْرِيمِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ) ترجمہ: حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک غزوہ میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کا قتل سخت نا پسند فرمایا۔

یہی حدیث صحیح بخاری میں بھی بیان ہوئی ہے۔

مصنف اپنے نظریات کی مزید وضاحت ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:

We should be willing to torture certain class of criminal suspects and military prisoners; if we are unwilling to torture, we should be unwilling to wage modern war.

ہمیں اس بات کے لیے تیار ہونا چاہیے کہ مخصوص ملزموں اور جنگی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنائیں۔ اگر ہم تشدد کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں تو ہم جدید جنگ لڑنے کے لیے بھی تیار نہیں۔

سیم ہیرس صاحب کا تجویز کردہ حل

اب تک پڑھنے والے سوچ رہے ہوں گے کہ سیم ہیرس صاحب جو نظریات پیش کر رہے ہیں ان کا اختتام کس منزل پر ہوگا ؟ وہ کیا حل تجویز کر رہے ہیں؟ اس مضمون میں ایک مرحلہ پر یہ کہا گیا تھا کہ ابھی ان کے نظریات کی بلی تھیلے سے باہر آنی شروع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے باب The Problem with Islam کے آخری صفحہ پر یہ بلی مکمل طور پر تھیلے سے باہر آجاتی ہے۔ یہ ذکر کرنے کے بعد کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی اسلامی ملک کے پاس جوہری بموں کی صلاحیت آجائے تو پھر اس کا کیا علاج ہوگا ؟ اس صورت حال میں سیم ہیرس یہ علاج تجویز فرماتے ہیں:

If history is any guide, we will not be sure about where the offending warheads are or what their state of readiness is, so we will be unable to rely on targeted, conventional weapons to destroy them. In such a situation the only thing likely to ensure our survival may be the nuclear first strike of our own. Needless to say, this will be an unthinkable crime -as it would kill tens of millions of innocent civilians in a single day, but it may be the only course of action available to us.(Harris S. The End of Faith. Simon & Schuster (2006). P 129)

ترجمہ: اگر تاریخ سے سبق حاصل کیا جائے تو ہمیں یقینی طور پر یہ علم نہیں ہو سکتا کہ یہ جارحانہ بموں سے لیس میزائل کہاں پر ہیں اور ان کے تیار رہنے کی صلاحیت کیسی ہے؟ اس لیے ہم روایتی ہتھیاروں سے ان ہتھیاروں کو نشانہ بنا کر ختم نہیں کر سکتے۔ اس صورت حال میں واحد چیز جو ہماری بقا کو یقینی بنا سکتی ہے کہ ہم پہل کر کے ایٹمی ہتھیاروں سے اپنا حملہ کر دیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ایک ناقابل یقین جرم ہوگا کیونکہ اس کے نتیجہ میں دسیوں ملین معصوم لوگ ایک روز میں ہلاک ہو جائیں گے لیکن ہماری بقا کا ایک یہی راستہ ہمارے پاس موجود ہے۔

پڑھنے والے خود ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ پہلے سیم ہیرس صاحب نے مذہب اور خاص طور پر اسلام کوتمام نفرتوں، تنازعوں، اور خون خرابے کا ذمہ دار قرار دیا اور پھراس کا علاج یہ تجویز کیا کہ پہل کر کے ایٹمی حملے سے ایک روز میں ہی کروڑوں مسلمانوں کو ہلاک کر دیا جائے۔ اور ان کے باقی بیان کردہ نکات نظر انداز بھی کر دیے جائیں تو ان کا یہ حتمی تجویز کردہ نسخہ ہی اس گروہ کے نظریات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ یعنی ایک ہی روز میں کروڑوں معصوم مسلمانوں کو ہلاک کر دو۔ اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح دنیا میں باہمی نفرتوں اور کدورتوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کیا یہ کوئی متوازن سوچ ہے؟ کیا ایسے خیالات کا پرچار کرنے والوں نے کبھی سوچا ہے کہ اس کے نتیجہ میں جو زہریلے بادل اٹھیں گے اوراس کے نتیجہ میں جو جوہری سردی پیدا ہو گی اس سے کئی سال کے لیے دنیا میں خوفناک قحط پیدا ہو گا۔ اور دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اس تباہ کاری کا شکار ہو جائے گا۔ان حضرات کی سائنسی حقائق سے لا علمی کافی حیران کن ہے۔ وہ اپنی نفسیاتی تسکین کے لیے پوری دنیا کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جب گھانا لرز اٹھا!

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button