کیا گاڑی سود پر خریدی جا سکتی ہے؟
سوال: جرمنی سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ میں اپنی پہلی گاڑی خریدنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ اور پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا گاڑی سود پر خریدی جا سکتی ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے سود کے لینے اور دینے کی سخت ممانعت فرمائی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ۔ فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ (البقرہ:۲۸۰،۲۷۹)یعنی اے ایمان دارو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اگر تم مومن ہو تو سود (کے حساب) میں سے جو کچھ باقی ہو اسے چھوڑ دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے (برپا ہونے والی) جنگ کا یقین کر لو۔
…پس کوئی بھی خرید و فروخت یا مالی لین دین جس میں سود کی ملونی ہو تو وہ بہرحال حرام ہے۔ البتہ دنیا میں Hire Purchase اور Personal Contract Purchase وغیرہ کے نام سے اقساط میں اشیاء کی خرید و فروخت کے کئی طریق رائج ہیں، جن میں یکمشت قیمت کی ادائیگی کے مقابلہ پر اقساط میں کچھ زائد رقم ادا کر کے اشیاء خریدی جا سکتی ہیں۔ یہ طریق کار سود کے زمرہ میں نہیں آتا۔ چنانچہ اخبار بدرقادیان میں اسی قسم کے ایک مسئلہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہونے والا سوال اور اس کا جواب درج ذیل الفاظ میں شائع ہوا:اخبار کی قیمت اگر پیشگی وصول کی جاوے تواخبار کے چلانے میں سہولت ہوتی ہے۔جو لوگ پیشگی قیمت نہیں دیتے اور بعد کے وعدے کرتے ہیں ان میں سے بعض توصرف وعدوں پر ہی ٹال دیتے ہیں اوربعض کی قیمتوں کی وصولی کے لیے بار بار کی خط و کتابت میں اوران سے قیمتیں لینے کے واسطے یادداشتوں کے رکھنے میں اس قدر دقت ہوتی ہے کہ اس زائد محنت اور نقصان کو کسی حد تک کم کرنے کے واسطے اورنیزاس کا معاوضہ وصول کرنے کے واسطے اخبار بدر کی قیمت ما بعد کے نرخ میں ایک روپیہ زائد کیا گیا ہے۔ یعنی مابعد دینے والوں سے قیمت اخبار بجائے تین روپے کے چار روپے وصول کئے جائیں گے۔ اس پر ایک دوست لائل پور نے دریافت کیا ہے کہ کیا یہ صورت سود کی تو نہیں ہے؟ چونکہ یہ مسئلہ شرعی تھا۔ اس واسطے مندرجہ بالا وجوہات کے ساتھ حضرت اقدس ؑکی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اس کا جواب جو حضرت نے لکھا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
السلام علیکم۔میرے نزدیک اس سے سودکو کچھ تعلق نہیں۔ مالک کا اختیار ہے کہ جو چاہے قیمت طلب کرے خاص کر بعد کی وصولی میں ہرج بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اخبار لینا چاہتا ہے۔ تو وہ پہلے بھی دے سکتا ہے۔ یہ امر خود اس کے اختیار میں ہے۔ والسلام مرزا غلام احمدؐ (اخباربدرقادیان نمبر۷ جلد ۶، مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
پس اگر اس طریق پر اقساط میں آپ گاڑی خریدنا چاہتی ہیں، جس میں آپ کو یکمشت قیمت سے کچھ زائد رقم دینی پڑے تو یہ سود میں شامل نہیں اور یہ جائز ہے۔ سوائے اس کے کہ رقم لینے والے نے اس کا نام سود رکھا ہو۔
(بنیادی مسائل کے جوابات قسط ۸۵، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍نومبر ۲۰۲۴ء)
مزید پڑھیں: اگر اپنی حالتوں کو نہیں بدلیں گے تو کوئی بھی محفوظ نہیں



