توحیدِ الٰہی کے تناظر میں سیرت نبویﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۷؍فروری ۲۰۲۶ء
٭… تمام انبیاء دنیا میں تو حید کے قیام کے لیے آئے ہیں اور انہوں نے اپنی قوموں کو اس کی تعلیم دی ۔ آنحضرتﷺ بھی اسی پیغام کو لے کر آئے، اسی کام کو جاری رکھنے کے لیے آئے۔توحید کی روح کو ہی اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنے کے لیے آئے
٭… آنحضرتﷺ کی فطرت ایسی پاکیزہ تھی کہ توحید کی محبت آپؐ کے رگ و ریشہ میں ودیعت کی گئی تھی
٭… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کو ماننے والوں کا کام ہے کہ توحید کو سمجھیں اوراپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔
٭… یہ عبادت کا خاص مہینہ ہے۔ رمضان میں اس کے لیے خاص طور پر کوشش ہونی چاہیے اور اس کے لیے دعا کرنی چاہیے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام زندگی میں جس طرح توحید کے قیام کے لیے کوشش کی اگر ہمیں آپؐ سے محبت کا دعویٰ ہے تو ہمیں اس کے لیے خاص کوشش کرنی پڑے گی
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۷؍فروری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
تمام انبیاء دنیا میں تو حید کے قیام کے لیے آئے ہیں اور انہوں نے اپنی قوموں کو اس کی تعلیم دی ۔ آنحضرتﷺ بھی اسی پیغام کو لے کر آئے، اسی کام کو جاری رکھنے کے لیے آئے۔توحید کی روح کو ہی اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنے کے لیے آئے۔
آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر توحید کو قبول کرنے کے دلائل دیے ہیں ۔آپؐ نے شرک کے خلاف اگر جہاد کیا تو بغیر دلیل کے نہیں بلکہ شرک کی برائی سمجھائی اور اس کو سمجھا کر اس کے خلاف نفرت پیدا کی ۔آپؐ کی یہ تعلیم جس نے آپؐ کے ماننے والوں پر اثر کیا اس لیے پُراثر تھی کہ خود آپؐ کا ہر قول و فعل اس کی حقیقی تصویر تھا۔ آپؐ کو فکر تھی کہ جس طرح دوسری قوموں نے اپنے انبیاء کو سجدے کی جگہ بنا لیا ہے مسلم امّہ میں بھی یہ خوفناک گناہ پیدا نہ ہو جائے ۔ قرآن کریم میں بار بار مختلف پہلوؤں سے ہمیں توحید کی تعلیم دی گئی ہے۔
جیسے کہ اللہ تعالیٰ سورہ انبیاء میں فرماتا ہے :وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُـوْحِىْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰـهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۔ اور ہم نے تجھ سے پہلے کبھی کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم اس کی طرف وحی کرتے تھے کہ یقیناً میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی عبادت کرو۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ إِنِّيْٓ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ۔ تُو کہہ دے کہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے کروں۔
قرآن کریم کے آخر میں اللہ اپنی توحید کا اعلان فرماتا ہے کہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ۔اللّٰهُ الصَّمَدُ۔لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدْ۔وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا أَحَدٌ۔تُو کہہ دے کہ وہ اللہ ایک ہی ہے۔اللہ بےاحتیاج ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا ۔اوراس کا کبھی کوئی ہمسر نہیں ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے یہاں ہر قسم کے شرک کے ردّ کا اعلان فرمایا ۔
آنحضرتﷺ کی فطرت ایسی پاکیزہ تھی کہ توحید کی محبت آپؐ کے رگ و ریشہ میں ودیعت کی گئی تھی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے چند واقعات پیش کرتا ہوں ۔
حضرت ام ایمنؓ بیان کرتی ہیں کہ بوانہ نامی ایک بت تھا جس کی قریش بہت تعظیم کرتے تھے۔اس کے پاس حاضری دیتے۔ ابو طالب بھی وہاں اپنی قوم کے ساتھ جاتے اور رسول اللہﷺ کو بھی ساتھ لے کر جانا چاہتے مگرآپؐ انکار کر دیتے۔ایک دفعہ اپنی پھوپھیوں کے بہت اصرار پر وہاں چلے گئے مگر سخت خوفزدہ ہو کر واپس آگئے اور کہا کہ مَیں نے وہاں ایک عجیب منظر دیکھا ہے۔جونہی میں بت کے قریب جانے لگتا ہوں تو ایک سفید پوش شخص چلا کر کہتا تھا کہ اے محمدؐ! پیچھے رہو اور اس بت کو مت چھوؤ ۔
بچپن میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ سفر شام کے دوران آپؐ کی ملاقات عیسائی راہب بحیرہ سےہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایک سوال پر فرمایا تھا کہ
مجھ سے لات اور عزّیٰ بتوں کے بارے میں مت پوچھو۔ خدا کی قسم! ان سے بڑھ کر مجھے اور کسی چیز سے نفرت نہیں ۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہؓ کا مال تجارت لے کر ملک شام گئے تو اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک آدمی کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو گیا ۔اس آدمی نے کہا:لات اور عزّیٰ کی قسم کھاؤ تو مَیں تمہاری بات مانوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ساری عمر ان کی قسم نہیں کھائی۔
بعثت سے قبل خدائے واحد کی عبادت کے لیے آپؐ غار حرا میں جایا کرتے تھے جو مکہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے ۔آج کل اس کو جبل نور کہتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب چالیس برس کے ہوئے۔ ایک دن جبرائیل ؑنمودار ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی وحی نازل ہوئی جس کے ذریعے خدا تعالیٰ نے آپؐ کو مبعوث فرمایا ۔ پہلی وحی کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو توحید باری تعالیٰ کی طرف بلانا شروع کیا اور شرک کے خلاف تعلیم دینے لگے ۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیںکہ ہمارے نبی ﷺ اظہار سچائی کے لیے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے ۔
اس فخر میں ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپؐ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔
جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اُتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت ﷺ کے نصیب نہیں ہوئی ۔ یہی ایک بڑی دلیل ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر کہ آپ ایک ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا ۔ پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جب کہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کرچکے تھے۔
بلا شبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعے اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے ۔
افسوس !کہ آج اُمّت محمدیہ بھی توحید کے اعزاز کو بھولتی جا رہی ہے جس کی تلقین ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ توحیدِ خالص کو بھولنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات پر بھی وہ خالص ایمان نہیں رہا جو ایک مسلمان کا خاصہ ہونا چاہیے۔ایسے میں
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کو ماننے والوں کا کام ہے کہ توحید کو سمجھیں اوراپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔
یہ عبادت کا خاص مہینہ ہے۔ رمضان میں اس کے لیے خاص طور پر کوشش ہونی چاہیے اور اس کے لیے دعا کرنی چاہیے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام زندگی میں جس طرح توحید کے قیام کے لیے کوشش کی اگر ہمیں آپؐ سے محبت کا دعویٰ ہے تو ہمیں اس کے لیے خاص کوشش کرنی پڑے گی ۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ سے فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تُو دنیا کے کونے کونے کے لوگوں کو ڈرا لیکن پہلے اپنے عزیزوں کو ڈرا اس لیے کہ ان کا تجھ پر دہرا حق ہے۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم کی تعمیل میںمکہ کے دستور کے مطابق کوہ صفا پر کھڑے ہو گئے اور مختلف قبائل کا نام لے کر بلانا شروع کیا۔ پہلے آپؐ نے آل غالب کو بلایا ۔ پھر لوئی قبیلہ کو آواز دی ۔پھر آل مُرّہ کو آواز دی پھر آل کلاب ،اہل قصی کو بلایا ۔یہاں تک سب لوگ جمع ہو گئے ۔جب اہل مکہ جمع ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو !اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر جمع ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات مانو گے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم آپ کی بات مانیں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ آپ کو راست باز یعنی سچا پایا ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لوگو سنو !مَیں تمہیں ایک اہم خبر دیتا ہوں۔مجھے اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ تم اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو ۔
آپؐ کا یہ کہنا تھا کہ ابو لہب جوش سے کہنے لگا کہ نعوذ باللہ تجھ پر ہلاکت ہو۔اتنی سی بات کے لیے تُونے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ اور اسی طرح دوسرے لوگ استہزا کرتے ہوئے چلے گئے۔
حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں: ایک نبی یا رسول خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اس کا فرقہ لوگوں کو ہونہار اور راست باز ، با ہمت اور ترقی کرنے والا دکھائی دیتا ہے تو اس کی نسبت موجود قوموں اور فرقوں کے دلوں میں ضرور ایک قسم کا بغض اور حسد پیدا ہو جاتا ہے ۔بالخصوص ہر ایک مذہب کے علماء اور گدی نشین تو بہت ہی بغض ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اس مرد ِخدا کے ظہور سے ان کی آمدنی اور وجاہتوں میں فرق آ جاتا ہے۔ ان کے شاگرد اُن کے دام سے نکلنا شروع کرتے ہیں کیونکہ تمام ایمانی اور اخلاقی اور علمی خوبیاں اس شخص میں پاتے ہیں جو خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور جو معزز خطاب اُن کے علماءکو دیے گئے تھے جیسے نجم الامہ اور شمس الامہ اور شیخ المشائخ وغیرہ اب وہ اُن کے لیے موزوں نہیں رہے۔ سو اہل عقل اُن سے منہ پھیر لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ایمانوں کو ضائع کرنا نہیں چاہتے ۔ ناچار ان نقصانوں کی وجہ سے علماء اور مشائخ کا فرقہ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں سے حسد کرتا چلا جاتا ہے ۔ یہی اسباب تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالموں کو حق کے قبول کرنے سے محروم رکھا بلکہ سخت عداوت پر آمادہ کیا۔لہٰذا وہ اس فکر میں لگ گئے کہ کسی طرح اسلام کو صفحہ دنیا سے مٹا دیں اور چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھوڑے تھے اس لیے ان کے مخالفوں نے مسلمانوں یعنی صحابہ سے سخت دشمنی کا برتاؤ کیا۔
حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں: جب مخالفت تیز ہو گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ نے مکہ والوں کو خدا تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچانا شروع کیا کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے ۔اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ سب نبی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اوراپنے ہم قوموں کو بھی اسی تعلیم کی طرف بلایا کرتے تھے ۔تم بھی خدائے واحد پر ایمان لاؤ ۔ان پتھروں کے بتوں کو چھوڑ دو یہ بالکل بے کار ہیں۔ تم دیکھتے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر تمہارے خیالات بھی گندے اور دل بھی تاریک ہو گئے۔تم کو حلال و حرام کی تمیز نہیں رہی ۔اچھے اور برے میں امتیاز نہیں کر سکتے ۔اپنی ماؤں کی بے حرمتی کرتے ہو۔ اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم کرتے ہو اور ان کے حق انہیں نہیں دیتے ہو۔ اپنی بیویوں سے تمہارا سلوک اچھا نہیں۔یتامیٰ کے حق مارتے ہو اور بیواؤں سے برا سلوک کرتے ہو۔انہوں نے کہا کہ خدا کا قرب پانے کے لیے طریقہ یہ ہے کہ ہر حقدار کو اس کا حق دو ۔ عورتوں کی عزت کرو اور ان کے حق ادا کرو۔ یتیموں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو اور ان کی خبر گیری کواعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھو۔ بیواؤں کا سہارا بنو۔ انصاف اور عدل ہی نہیں بلکہ رحم اور احسان کو اپنا شعار بناؤ۔جب مکہ کے لوگوں کی رغبت اسلام کی طرف بڑھنے لگی تو ایک دن مکے کے سردار جمع ہو کر ابو طالب کے پاس آئے اور کہا کہ آپ ہمارے رئیس ہیں اور آپ کی خاطر ہم محمد ﷺکو کچھ نہیں کہتے ۔اب وقت آگیا ہے کہ آپ کے ساتھ ہم آخری فیصلہ کریں ۔یا تو آپ اسے سمجھائیں اور پوچھیں کہ آخر وہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور اگر اس کی خواہش عزت حاصل کرنے ،دولت حاصل کرنے کی ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں ۔اگر وہ شادی کی خواہش رکھتا ہے تو مکے کی ہر لڑکی جو اسے پسند ہو اسے اس سے بیاہنے کو تیار ہیں۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دے ۔ اگر وہ ہماری تجویز نہ مانے تو پھر دو باتوں میں سےایک ہو گی یا آپ کو اپنا بھتیجا چھوڑنا ہو گا یا قوم آپ کی ریاست سے انکار کر دے گی۔
ابوطالب نے رسول اللہ ﷺکو بلا کر کہا:اے میرے بھتیجے!میری قوم میرے پاس یہ پیغام لائی ہے ۔ آپؐ نے فرمایا :اے میرے چچا !مَیں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی قوم کو چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں۔ لیکن مجھے خدائے واحد لا شریک کی قسم ہے کہ اگر سورج کو میرے دائیں ہاتھ اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کی توحید کا وعظ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ میں اپنے کام میں لگا رہوں گا جب تک خدا مجھے موت دے دے۔ اخلاص سے بھرا ہوا یہ جواب ابو طالب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا ۔انہوں نے کہااے میرے بھتیجے! جا اور اپنا فرض ادا کرتا رہ۔ قوم اگر مجھے چھوڑنا چاہتی ہے تو بے شک چھوڑ دیں میں تجھے نہیں چھوڑوں گا ۔
توحید کے قیام کے لیے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے کفار مکہ کی طرف سے ہر قسم کے ظلم و ستم کو برداشت کیا ۔
کفار مکہ کی طرح آج بھی جن قوموں میں یہ برائیاں ہیں وہ توحید سے دوری کی وجہ سے ہی ہے۔
ہمارا کام ہے کہ توحید کا اعلان کرتے رہیں اور جہاں توحید کے پیغام کو پہنچائیں، وہاں اپنی روحانی اور اخلاقی حالتوں میں بھی ایک واضح تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرما ئے۔
٭…٭…٭
