خطاب حضور انور

اختتامی خطاب سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ جرمنی۲۰۰۷ء

مَیں پاکستان میں بسنے والے لوگوں سے بھی کہتا ہوں ،ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں، سری لنکا کے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں ،بنگلہ دیش، انڈونیشیا کے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں اور عرب دنیا کے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں کہ آؤ اور اس مسیح محمدی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لیے اس کی مدد کرو نہ کہ نفس پرست مولویوں کے پیچھے چلتے ہوئے اپنی دنیا وعاقبت خراب کرنے والے بنو

اسلام کی اس وقت جو حالت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جس قدر گستاخی کی جا رہی ہے یہ تمام باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ خدا کی طرف سے کوئی مامور ہو

آج کے ان نام نہاد علماء کو بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے الفاظ میں کہتا ہوں کہ اے نفسانی مولویو! اے خشک زاہدو !لگتا ہے کہ تمہاری بدبختی تمہیں اس مسیح و مہدی کو ماننے میں روک بنی رہے گی۔اس مسیح و مہدی کے ماننے میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا اور جری اللہ کہلایا۔ آج یہی اللہ کا پہلوان ہے جو اسلام کی خدمت پر مامور ہے

ہمیں ختم کرنے کی فکر کرنے والو! سنو اور غور کرو اور غور سے سنو کہ یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے اس نے پھلنا ہے، پھیلنا ہے اور پھولنا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے، جو زمین و آسمان کا مالک ہے اس کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ قانون اور دستور بھی لازماً اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کرنے پڑیں گے ورنہ ان کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ اور جو بادشاہ ہیں انہیں بھی یہ یاد رکھناچاہیے کہ انہیں اپنی گردنیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے سامنے جھکانی پڑیں گی ورنہ خدا کی تقدیر ایسے فیصلے کرنے والی ہے جس سے دنیا عبرت حاصل کرے گی

اب ان ملامتیں کرنے والوں کے لیے بچنے کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس جری اللہ کو جو حلل الانبیاء بھی ہے قبول کریں جسے اللہ تعالیٰ نے تمام دینوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کے لیے بھیجا ہے ورنہ پھر یاد رکھیں کہ یہ مخالفت، یہ لڑائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے ہے

اے وہ تمام لوگو!جو اس مسیح و مہدی کی مخالفت میں اپنی حدیں پھلانگ رہے ہو۔ وہ مسیح ومہدی جس کے لیے زمینی اور آسمانی نشانات ظاہر ہوئے اورہو رہے ہیں اس کی مخالفت کر کے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت نہ سہیڑو۔یہ پیغام ہے جو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہر احمدی کو اپنے ماحول میں دینا چاہیے۔ اس پیغام کو بہت زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔مغرب میں بھی پھیلانے کی ضرورت ہے اور مشرق میں بھی پھیلانے کی ضرورت ہے

اے مسیح محمدی کے غلامو !ان لوگوں پر واضح کر دو کہ … یقیناً اسلام نے تمام دنیا پر غالب آنا ہے اور حضرت محمد مصطفی ٰصلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہی تمام دنیا کے جھنڈوں سے بالا رہنا ہے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اس کی خوشخبری دی ہوئی ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ قدرت ثانیہ بھی تاقیامت قائم رہنی ہے اور اسلام کا جھنڈا لہرانے کے لیے بھی اب یہ کام جماعت احمدیہ نے ہی کرنا ہے

ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے اب تا قیامت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہرانے کا کام آپ کے سپرد کر دیا ہے جسے آپ نے پوری بشاشت سے اور پوری محنت سے اور پوری لگن سے کرنا ہے اور دنیا کے کونے کونے میں جھنڈا لہرانا ہے۔ جماعت احمدیہ کی ترقی اب مقدر ہے اور جماعت کی ترقی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے بغیر کچھ بھی نہیں

خلافت اور وصیت کے نظام کا گہرا تعلق ہے۔ اس لیے دنیا کی تمام جماعتیں کم از کم چندہ دہندگان کا جو نصف ہے وہ موصی بنائیں۔ تو آج میں یہ اعلان کر رہا ہوں اور بڑی خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ الحمدللہ جرمنی کی رپورٹ کے مطابق جماعت جرمنی نے کل جلسے کے دوسرے دن یہ ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے

اے جرمنی میں رہنے والے مسیح محمدی کے غلامو !جس طرح تم نے خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی مالی قربانیوں کے معیار قائم کیے ہیں آج اسلام کے پیغام کو اس قوم کے ہر فرد تک پہنچانے میں بھی جُت جاؤ تاکہ اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ برکات کے وارث بنو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے

آپ تو آزاد ہیں لیکن یہ لوگ جنہوں نے دنیا داری کے طوق اپنی گردنوں میں ڈالے ہوئے ہیں ،جنہوں نے خدا تعالیٰ کو بھلا دیا ہے اور عیاشیوں کی زنجیریں ان کے پاؤں کی بیڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ یہ اپنی نفسانیت کی زنجیروں میں قید ہیں۔ ان کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کا پیغام پہنچا کر آزادی دلوائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں لائیں تبھی آپ حقیقی آزادی پانے والے اور حقیقی آزادی دلوانے والے کہلا سکیں گے

اختتامی خطاب سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ جرمنی

فرمودہ 2؍ستمبر2007ء بمطابق 2؍تبوک 1386 ہجری شمسی بمقام مئی مارکیٹ، منہائم، جرمنی

(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ۔

(المومن : 52)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’جب خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیت اور گمراہی سے بھرا ہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لیے مامور فرمایا۔ اور یہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ … اس دنیا کے لوگ تیرھویں صدی ہجری کو ختم کر کے چودھویں صدی کے سر پر پہنچ گئے تھے۔تب میں نے اُس حکم کی پابندی سے عام لوگوں میں بذریعہ تحریری اشتہارات اور تقریروں کے یہ ندا کرنی شروع کی کہ اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لیے آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں تا وہ ایمان جو زمین پر سے اٹھ گیا ہے اُس کو دوبارہ قائم کروں اور خدا سے قوت پا کر اسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو صلاح اور تقویٰ اور راست بازی کی طرف کھینچوں اور ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دور کروں اور پھر جب اس پر چند سال گزرے تو بذریہ وحی الٰہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس امت کے لئے ابتدا سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ میں ہی ہوں۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین،روحانی خزائن جلد20صفحہ3-4)

جیسا کہ ہم جانتے ہیں احمدیت کی تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جب آپؑ نے یہ اعلان فرمایا کہ وہ آنے والا مسیح و مہدی مَیں ہی ہوں تو اپنوں اور غیروں نے آپؑ کے خلاف وہ طوفان بدتمیزی اٹھایا، آپؑ پر گندے اور غلیظ الزامات لگائے، لوگوں کو آپؑ کے خلاف بھڑکایا ،آپؑ کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور جیسا کہ میں نے کہا اپنوں نے بھی ،مسلمانوں نے بھی، عیسائیوں نے بھی، ہندوؤں نے بھی مل کر بلکہ مسلمانوں نے عیسائیوں اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر آپؑ پر مقدمات قائم کیے۔ آپؑ کو تکالیف دینے کے لیے طرح طرح کے بہانے تلاش کیے ،حکومت کو آپؑ کے خلاف بھڑکایا۔ قادیان جو آپؑ کا آبائی گاؤں تھا اور اس کے ارد گرد آپؑ کے خاندان کی اور آپؑ کی جائیداد تھی اس میں بھی آپؑ کو ہر طرح تکلیفیں پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ آپؑ کو خیال ہوا کہ اب شاید یہاں سے مجھے ہجرت کر کے کہیں جانا پڑے۔ تو انتہائی کٹھن حالات آپؑ کے لیے پیدا کیے گئے۔ آپؑ کے ماننے والوں کے لیے پیدا کیے گئے حالانکہ اسلام کی جو اس وقت حالت تھی اس کو دیکھ کر تو مسلمانوں کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے دفاع کے لیے ایک جری اللہ کو اتارا ہے لیکن اس کے برعکس اس زمانے کے علماء اور گدی نشینوں نے آپؑ پر تکفیر کے فتوے لگائے۔ کوئی حیلہ نہیں چھوڑا جس سے آپؑ کو تکلیف پہنچائی جائے۔ حالانکہ آپؑ نے بار بار ان مولویوں اور پیروں کو کہا کہ

اسلام کی اس وقت جو حالت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جس قدر گستاخی کی جا رہی ہے یہ تمام باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ خدا کی طرف سے کوئی مامور ہو۔

آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’اس زمانہ میں گندی تحریروں کے ذریعہ سے اس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی توہین کی گئی ہے کہ کبھی کسی زمانہ میں کسی نبی کی توہین نہیں ہوئی… اور درحقیقت یہ ایسا زمانہ آگیا ہے کہ شیطان اپنے تمام ذُرِّیَّاتْ کے ساتھ ناخنوں تک زور لگا رہا ہے کہ اسلام کو نابود کر دیا جاوے اور چونکہ بلاشبہ سچائی کا جھوٹ کے ساتھ یہ آخری جنگ ہے اس لئے یہ زمانہ بھی اس بات کا حق رکھتا تھا کہ اس کی اصلاح کے لئے کوئی خدا کا مامور آوے۔پس وہ مسیح موعود ہے جو موجود ہے۔‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد7صفحہ409)

اس وقت کی حالت تمام مسلمان دیکھ رہے تھے۔کسی کے آنے کا انتظار کر رہے تھے لیکن دعویٰ کرنے والے شخص نے ،اس شخص نے جسے خدا نے اس زمانے کے لیے جب مامور کیا جب اپنے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو مخالفت کا بازار گرم ہو گیا۔ جب کئی لاکھ مسلمان اسلام چھوڑ کر عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے تھے تو مسلمانوں میں ایک شور مچ گیا تھا۔ وہی بعض مولوی جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی مخالفت کی افسوس کرتے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے دعا کرتے تھے کہ اسلام پر اس طرح حملے ہو رہے ہیں کوئی ان حملوں کو روکنے والا پیدا ہو اور

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اس جری اللہ کو مبعوث فرمایا تو یہی مولوی حضرات اوّلین مخالفین کی صف میں کھڑے ہو گئے۔

پھر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کی فکر نہیں رہی بلکہ اپنی اناؤں اور مخالفت نے انہیں اس قدر اندھا کر دیا کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر سینہ سپرتھا اس کو تنگ کرنے، غیروں کے ساتھ مل کر جھوٹے مقدمات بنانے اور اس طرح کی دوسری تکلیفیں پہنچانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار زمینی اور آسمانی نشانات اس جری اللہ کی تائید میں نازل فرمائے، دکھائے لیکن ان اناؤں کے مارے ہوئے اور خود سر اور لالچی علماء کی ایک ہی رٹ تھی کہ یہ کافر ہے ،اس کو ختم کرو ،اس کی جماعت کو ختم کرو، اس کے ماننے والوں کو ختم کرو۔ یہاں تک کہ جو نیک فطرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا دعویٰ سن کر تحقیق کے لیے قادیان آیا کرتے تھے ان کو روکنے کی کوششیں کی جاتی تھیں۔

یہاں تک کہ روایت میں آتا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جو بٹالے کے اسٹیشن پر کھڑے رہتے تھے اور ہر اترنے والے مسافر سے جس کے بارے میں پتہ چلتا تھا کہ قادیان جا رہا ہے کہا کرتے تھے کہ کیوں فضول وقت ضائع کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ اسی طرح ایک دفعہ جب مولوی صاحب نے آپ کے ایک معتقد مرید کو روکا تو اس نے جواب دیا کہ مولوی صاحب آپ اپنے گھر سے چل کر روزانہ اسٹیشن تک آتے ہیں۔ اپنی جوتیاں توڑتے ہیں، لوگوں کو ورغلاتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا جبکہ مرزا صاحب اپنے گھر بیٹھے ہیں۔ رستہ بھی خراب ہے۔ اس کے باوجود لوگ شوق سے قادیان جاتے ہیں اور ان کی جماعت بڑھتی جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو جب جواب کچھ نہیں سوجھتا تو ڈھٹائی سے ہنس دیتے ہیں یہی جواب مولوی صاحب کا تھا۔

(ماخوذازخطباتِ محمودجلد39صفحہ356-357)

تنگ کرنے کی کارروائیاں اس حد تک ہو گئی تھیں اور شرارتوں میں اس حد تک بڑھے ہوئے تھے کہ آپؑ نے بڑے افسوس سے ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ’’اے نفسانی مولویو! اور اے خشک زاہدو! تم پر افسوس کہ تم آسمانی دروازوں کا کھلنا چاہتے ہی نہیں بلکہ چاہتے ہو کہ ہمیشہ بند ہی رہیں اور تم پیرِ مغاں بنے رہو۔ اپنے دلوں پر نظر ڈالو اور اپنے اندر کو ٹٹولو۔ کیا تمہاری زندگی دنیا پرستی سے منزہ ہے؟ کیا تمہارے دلوں پر وہ زنگار نہیں جس کی وجہ سے تم ایک تاریکی میں پڑے ہو ؟کیا تم ان فقیہوں اور فریسیوں سے کچھ کم ہو جو حضرت مسیح کے وقت میں دن رات نفس پرستی میں لگے ہوئے تھے؟ پھر کیا یہ سچ نہیں کہ تم مثیل مسیح کے لئےمسیحی مشابہت کا ایک گونہ سامان اپنے ہاتھ سے ہی پیش کر رہے ہو تا خدائے تعالیٰ کی حجت ہر یک طور سے تم پر وارد ہو۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک کافر کا مومن ہو جانا تمہارے ایمان لانے سے زیادہ تر آسان ہے۔ بہت سے لوگ مشرق اور مغرب سے آئیں گے اور اس خوانِ نعمت سے حصہ لیں گے لیکن تم اسی زنگ کی حالت میں ہی مروگے کاش تم نے کچھ سوچا ہوتا۔‘‘

(ازالہ اوہام،روحانی خزائن جلد3صفحہ105)

پس تاریخ شاہد ہے۔ ماضی کی تاریخ نہیں ،سو سال پہلے کی تاریخ نہیں، اس کے بعد کی تاریخ بھی، اس دَور کی تاریخ کہ ان بدقسمت لوگوں کو مسیح محمدی کو ماننے کی توفیق نہ ملی۔ لوگوں کو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سناتے رہے کہ جب میرا مسیح و مہدی آئے تو خواہ برف پر گھٹنوں کے بل چل کر بھی جانا پڑے تو جانا اور اسے میرا سلام کہنا۔ یہ بات تو سناتے رہے کہ مسلمان وہی ہے جو جماعت میں شامل رہے۔ مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو کر اس کی مدد کرے گا تو وہی جماعت میں شامل کہلایا جائے گا لیکن خود اس سے محروم رہے۔ دوسرے آتے رہے اور مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہوتے رہے۔ آج کا جو مولوی ذہن ہے یہ بھی اپنے انہی سرداروں کے پیچھے چلتے ہوئے مخالفت میں بڑھتا جارہا ہے۔ پاکستان میں جماعت کے خلاف قانون پاس کروا کر سمجھتا ہے کہ احمدیت کی جڑیں ہلادیں۔ پاکستان سے دوسرے ممالک میں جا کر سمجھتا ہے کہ ہم احمدیت کے خلاف فضا پیدا کر کے احمدیت کو دبا دیں گے، ختم کر دیں گے۔

آج کے ان نام نہاد علماء کو بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے الفاظ میں کہتا ہوں کہ اے نفسانی مولویو! اے خشک زاہدو !لگتا ہے کہ تمہاری بدبختی تمہیں اس مسیح و مہدی کو ماننے میں روک بنی رہے گی۔اس مسیح و مہدی کے ماننے میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا اور جری اللہ کہلایا۔ آج یہی اللہ کا پہلوان ہے جو اسلام کی خدمت پر مامور ہے۔

جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ بہت سے لوگ مشرق سے بھی آئیں گے اور مغرب سے بھی آئیں گے اور اس خوانِ نعمت سے حصہ لیں گے، اس روحانی مائدے سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن تم لوگ محروم رہو گے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی وہ لوگ کوشش کرنے والے ہوں گے لیکن تم اس زندگی کی حالت میں ہی اس دنیا سے کچھ حاصل کیے بغیرگزر جاؤ گے ۔ روحانی زندگی کا حصول تمہارے مقدر میں ہی نہیں ہے۔

ہمیں ختم کرنے کی فکر کرنے والو! سنو اور غور کرو اور غور سے سنو کہ یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے اس نے پھلنا ہے، پھیلنا ہے اور پھولنا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

ہم تو ہر روز نیک فطرت لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والا بنتا ہوا دیکھتے ہیں۔ ابھی کل ہی چار پانچ سعید روحیں، جو جرمنی اور بوسنیا کے تھے، عیسائیت میں سے آ کر جماعت میں شامل ہوئی ہیں۔ اور وہ اس لیے شامل ہوئے تاکہ قرآن کی تعلیم کا جؤا اپنی گردن پر رکھیں، تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں، تاکہ موحد بن کر ایک خدا کی پرستش کریں۔ جو مسلمانوں سے اس مسیح محمدی کو ماننے والے بنے وہ اس سوچ کے ساتھ آئے کہ میں کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام مسیح الزمان کو پہنچانے میں پیچھے رہوں۔

اے مولویو ! جب تم اور تمہارے ہم خیال سربراہ جو تھے انہوں نے جماعت کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں قانون پاس کیا تو اس وقت احمدیت شاید 75 ممالک میں تھی۔ آج جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے، مسیح محمدی کے ذریعہ سے دنیا کے 189 ممالک میں بسنے والے احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج رہے ہیں۔ کچھ تو سوچو!کچھ تو غور کرو! اے حکومت چلانے والو! اور اے سیاست دانو !کچھ تو خوفِ خدا کرو۔

اس شخص سے نہ لڑو۔ اس جری اللہ کے خلاف نفرت، بغض اور کینے کی دیواریں نہ اٹھاؤ۔ اللہ کے اس پیارے کے خلاف زبان درازی نہ کرو جس کی حفاظت کی ذمہ داری خدا تعالیٰ نے لی ہوئی ہے۔ جس کے خلاف لڑنے والے سے لڑنے کا وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا ہے۔ اپنے پہلوں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرو کہ ابھی بھی وقت ہے۔ اپنے ملکوں میں ان آفات کو دیکھو جنہوں نے تمہیں گھیرا ہوا ہے۔ سوچو !سوچو !اور پھر سوچو کہ یہ آفات کہیں تمہیں توجہ دلانے کے لیے تو نہیں آ رہیں۔ سوچو کہ یہ آفات اس منادی کی تائید میں تو نہیں جس نے اعلان کیا تھا کہ خدا تعالیٰ میری خاطر نشان دکھائے گا۔

مَیں پاکستان میں بسنے والے لوگوں سے بھی کہتا ہوں ،ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں، سری لنکا کے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں ،بنگلہ دیش، انڈونیشیا کے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں اور عرب دنیا کے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں کہ آؤ اور اس مسیح محمدی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لیے اس کی مدد کرو نہ کہ نفس پرست مولویوں کے پیچھے چلتے ہوئے اپنی دنیا وعاقبت خراب کرنے والے بنو۔

اے مسلمانو !نفس پرستی اور دنیا پرستی چھوڑ دو کہ تمہاری بقا اور تمہاری عزت ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو روشن کرنے اور آپؐ کی عزت دنیا میں قائم کرنے میں ہے اور یہ کام اگر آج حقیقی طور پر کوئی کرنے والا ہے، یہ کام کرنے کی اگر آج کسی کے پاس خدا تعالیٰ کی طرف سے ضمانت ہے تو وہ مسیح موعود ؑہے اور اس کی جماعت ہے۔ پس اپنے نفسوں کے پیچھے اور نفس پرست علماء کے پیچھے نہ چلو۔ اپنی ظاہری دنیا داری کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے نہ ڈرو بلکہ اس خدا سے ڈرو جو زمین و آسمان کا مالک ہے۔اس کی پکڑ سے ڈرو کہ جہاں وہ رحیم ہے وہاں اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہے۔ وہ قہار بھی ہے۔ وہ جبار بھی ہے۔ پس سوچو اور غور کرو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’اس جگہ یہ بھی بطور تبلیغ کے لکھتا ہوں کہ حق کے طالب جو مؤاخذہ الٰہی سے ڈرتے ہیں وہ بلا تحقیق اس زمانہ کے مولویوں کے پیچھے نہ چلیں اور آخری زمانہ کے مولویوں سے جیسا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایاہے ویسا ہی ڈرتے رہیں اور ان کے فتووں کو دیکھ کر حیران نہ ہو جاویں کیونکہ یہ فتوے کوئی نئی بات نہیں‘‘۔

(نشانِ آسمانی ،روحانی خزائن جلد4صفحہ400،ایڈیشن1984ء)

پس اگر ڈرنا ہے تو خدا تعالیٰ کی پکڑ سے ڈریں نہ کہ دنیا دار اور دنیا پرست مولویوں سے جن کا سوائے اپنی تجوریاں بھرنے اور اپنے پیٹ بھرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ علماء میں ایسے بھی ہیں جو سعید فطرت رکھتے ہیں۔ افریقن ممالک کو جاہل اور اَن پڑھ قوم تصور کیا جاتا ہے۔اُن کا نورِ فراست جو ہے وہ اِن پڑھے لکھوں سے زیادہ ہے۔ ان میں سے کئی امام اور عالمِ قرآن اور حدیث کے عالم بھی ہیں۔ انہوں نے قرآن اور حدیث کی رو سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی صداقت کو سمجھتے ہوئے آپؑ کی بیعت کی اور آپؑ کے سلسلے میں داخل ہوئے۔ پھر ابھی گذشتہ دنوں ایک عرب ملک کے امام مسجد، جنہوں نے مسجد بھی خود بنائی تھی، انہوں نے مجھے جلسے سے پہلے خط لکھا۔ بڑا بُرا بھلا کہنے والا خط تھا۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی نامناسب الفاظ استعمال کیے، مجھے بھی بُرا بھلا کہا اور کہا کہ تم لوگ تو عربی کے لیے، عربی زبان کے لیے دوسروں کے محتاج ہو۔جن کو عربی نہیں آتی ان کو ہم اپنا راہنما کس طرح مان لیں۔ اس کو ہم کس طرح خلیفہ تسلیم کر سکتے ہیں؟لیکن جلسہ یو کے کی کارروائی جو ایم ٹی اے تھری چینل پر بھی جا رہی تھی وہ بھی انہوں نے سنی اور کم از کم ان کی اتنی نیک فطرت تھی کہ جلسے کے بعد خط آیا کہ میں پہلے خط پر معافی مانگتا ہوں اور معذرت کرتا ہوں۔ جلسہ کی تقریریں سن کر میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگ ہی اسلام کی صحیح خدمت کرنے والے ہو۔پھر لکھتے ہیں کہ میں اب امام مہدی اور مسیح موعود ؑکا پیغام دوسروں کو پہنچاؤں گا۔ یہ پیغام پہنچانے کے لیےگلیوں میں اور بازاروں میں پھروں گا۔ چنانچہ انہوں نے تبلیغ شروع کر دی ہے اور اس وجہ سے اس مسجد سے بھی ان کو ہاتھ دھونے پڑے۔ جس مسجد کو انہوں نے خود تعمیر کروایا تھا اس کے نمازیوں نے ان کو نکال دیا۔ لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ حق کو جب دیکھا کہ حق ہے تو قبول کیا اور ان ڈھیٹ اور نفس پرست مولویوں کی طرح نہیں بنے۔ تو ایسے بھی سعیدفطرت لوگ ہیں۔

پس ان سعید فطرتوں کی پیروی کرو اور مسیح محمدی کے ہاتھ کو مضبوط کرو۔ اللہ مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ حق کو پہچاننے والے ہوں اور اپنی دین و دنیا سنوارنے والے ہوں۔

ان کو میں وارننگ دیتا ہوں۔ یاد رکھیں کہ یہ زمانہ آ رہا ہے کہ جب خدا کی قدرت اپنے مسیح کے لیے پہلے سے بڑھ کر نشان دکھانے والی ہے۔ پس اس رحم کے جذبے کے تحت مسلمانوں کے لیے خصوصاً اور تمام دنیا کے لیے عموماً ہر احمدی جو ہے بہت دعائیں کرے۔ بہت دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بھی اور باقی دنیا کو بھی تباہ ہونے سے بچائے۔ یاد رکھیں آج مسیح محمدی کے غلاموں کی دعائیں ہی ہیں جنہوں نے دنیا کی کایا پلٹنی ہے۔ پس اپنی دعاؤں پر بہت توجہ دیں۔

پھر ان

دعاؤں کو ثمرآوربنانے کے لیے خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے میں جُت جائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا یہ پیغام جس حد تک وسعت کے ساتھ پھیلا سکتے ہیں پھیلا دیں۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کو بے ثبوت نہیں چھوڑے گا۔ وہ خود فرماتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے‘‘ کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر ے گا۔’’ جن لوگوں نے انکار کیا اور جو انکار کیلئے مستعد ہیں ان کیلئے ذلت اور خواری مقدر ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر یہ انسان کا افترا ءہوتا تو کب کا ضائع ہو جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کا ایسا دشمن ہے کہ دنیا میں ایسا کسی کا دشمن نہیں۔ وہ بیوقوف یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا یہ استقامت اور جرأت کسی کذّاب میں ہو سکتی ہے۔ وہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شخص ایک غیبی پناہ سے بول رہا ہے وہی اس بات سے مخصوص ہے کہ اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت ہو اور یہ اسی کا جگر اور دل ہوتا ہے کہ ایک فرد تمام جہان کا مقابلہ کرنے کے لیے طیار ہو جائے۔ یقینا ًمنتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن روسیاہ ہوگا اور دوست نہایت ہی بشاش ہوں گے۔ کون ہے دوست ؟وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا‘‘۔

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ 349)

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے۔ آج دنیا داری کی وجہ سے جو لوگ مخالفت میں بڑھے ہوئے ہیں ایک وقت آئے گا کہ یہ دنیا نشان دیکھنے کے بعد مجبور ہوگی کہ زمانے کے امام کو مانے، اس کو قبول کرے کیونکہ یہ امام خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہے اور اس نے قبولیت کا درجہ پایا ہوا ہے۔ جس امام کو خدا نے قبول کر لیا ہو اس کو ردّ کرنے والی دنیا کون ہوتی ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کے نشانات اپنے مسیح و مہدی کی تائید میں ظاہر ہوں گے تو دنیا ماننے پر مجبور ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی زندگی میں بھی نشانات دکھائے۔ طاعون اور زلزلوں نے ایک دنیا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے دعوے کی طرف متوجہ کیا اور کچھ نشانات دنیا نے آپؑ کی زندگی کے بعد بھی دیکھے۔ آپؑ کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے بھی دیکھا۔ پس

آج بھی وہی زمانہ چل رہا ہے۔ احمدیت نے ابھی دنیا پر غلبہ پانا ہے۔ اس لیے نشانات کا تسلسل چلنا ہے جب تک کہ تمام دنیا پر اتمام حجت نہ ہو جائے۔

پس یہ جو آج میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی ضرور مدد کریں گے اور کرتے ہیں۔ پس ضرورت ہے کہ ہر احمدی بھی ایمان میں مضبوط ہو تبھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے دیکھ سکے گا۔ تبھی ان ایمان لانے والوں میں شمار ہوگا جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:

’’مجھے درحقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میرے کلام کو سنا اور اس میں غور کی۔ تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہو گئے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ349-350)

پس ایمان لانے والوں کے لیے جہاں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد کے وعدے ہیں وہ اس شرط کے ساتھ ہیں کہ ایمان کی حقیقت کو سمجھو۔ مدد کی یہ خوشخبری یقینا ًبہت بڑی خوشخبری ہے لیکن اس ایمان کے ساتھ مشروط ہے جس پر رسول دیکھنا چاہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ شامل حال رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنین کی ہر تکلیف اور پریشانی کو دور کرنے کے لیے دوڑا آئے گا۔ ان کے خلاف ہر سازش ناکام و نامراد ہوگی۔ تمام مذاہب کی تاریخ بھی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے پیاروں کی مدد کی ہے۔ تاریخ اسلام بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے مومنین کی جماعت کو اپنی تائید و نصرت سے نوازا ہے اور جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے اور اس بات پر گواہ ہے کہ ہر لمحہ اور ہر موڑ پر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی اور آپ کے بعد آپ کی جماعت کی حفاظت و نصرت فرمائی۔ یقیناً آپؑ کی جو ساری تائیدات ہیں آپؑ کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا ثبوت ہیں۔

یہ تائیدات جو آج تک جاری ہیں یقیناً اس بات کو تقویت دینے والی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت آج بھی مقبول ہے۔ پس ہر احمدی کو چاہیے کہ اس اعزاز کی حفاظت کرے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے کیے ہوئے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق فتح اور کامرانی جماعت کا مقدر ہے لیکن ہماری حالتیں ایسی رہیں کہ ہم اس جاری فیض سے ہمیشہ فیض پاتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی کامیابی کے بارے میں یہ ضمانت دیتا ہے کہ انہوں نے تو غالب آنا ہی آنا ہے کیونکہ وہ میری طرف سے بھیجے ہوئے ہیں اور مَیں جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور مالک ہوں مَیں اپنے پیاروں پر دوسروں کو کس طرح غلبہ دے سکتا ہوں ؟مَیں اپنے پیاروں پر دوسروں کا غلبہ ہرگز کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے میرے بھیجے ہوؤں کا غلبہ تقدیر الٰہی ہے جس کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے: كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ۔ (المجادلہ:22)یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ یہ مالک کل کا اپنے رسول کے غلبہ کو اپنے غلبہ کے ساتھ ملانا ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی تقدیر ہے جو کبھی بدلی نہیں جا سکتی۔ دشمن آج خوش ہے کہ میں نے ایک ملک میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا یا احمدیوں کے لیے مکہ اور مدینہ جانے کے راستے بند کر دیے، حج کے راستے بند کر دیے لیکن

یاد رکھے یہ نفس پرست ملاں بھی اور یہ دنیا پرست سربراہان اور بادشاہ بھی کہ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے اس کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ قانون اور دستور بھی لازماً اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کرنے پڑیں گے ورنہ ان کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ اور جو بادشاہ ہیں انہیں بھی یہ یاد رکھناچاہیے کہ انہیں اپنی گردنیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے سامنے جھکانی پڑیں گی ورنہ خدا کی تقدیر ایسے فیصلے کرنے والی ہے جس سے دنیا عبرت حاصل کرے گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے بھی خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ۔ یعنی خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ مَیں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔ پس یہ غلبہ جماعت احمدیہ کے لیے مقدر ہے۔ جتنا چاہیں یہ زور لگا لیں اب کوئی طاقت اس کو نہیں روک سکتی۔ان لوگوں کی جوجماعت کے مخالفین ہیں گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ جماعت کی ترقی کو دیکھ کر کس قدر ہو گئی ہے اس کا اندازہ ان کی خبروں سے ہوتا ہے۔ ایک طرف اخبار میں ان کی نام نہاد ختم نبوت کی جو تنظیم ہے اس کی خبر ہوتی ہے جبکہ اصل ختم نبوت پر یقین کرنے والے تو احمدی ہیں کہ ہم نے قادیانیت کا فلاں ملک میں بھی خاتمہ کر دیا اور فلاں ملک سے بھی خاتمہ کر دیا اور اب قادیانیت آخری سانس لے رہی ہے اور اگلے کالم میں یہ خبر ہوتی ہے یا وہی بولنے والے مولوی اگلے صفحہ پہ یہ خبر لگا دیتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ حکومتوں سے رابطے کر کے قادیانیت کو لگام دے۔ یہ پھیلتی جا رہی ہے۔

مسلمانوں کو اب ہوش کرنی چاہیے کہ ان کے مولویوں کے بیانات میں جو تضاد ہے اس کو دیکھیں۔ اب تو بیچاروں کی ایسی حالت ہوگئی ہے ان کو سمجھ نہیں آتی کہ کہہ کیا رہے ہیں۔ اور ان شاء اللہ تعالیٰ یہ جو ان کی بیچارگی ہے اب یہ بڑھتی جانی ہے۔ یہ ان کا مقدر بن چکی ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ جماعت کے حق میں پورا ہونا ہے اور ان شاء اللہ یقیناً پورا ہونا ہے کہ اب غلبہ میرے رسول کا ہی ہے جس کے ساتھ میں کھڑا ہوں۔ اپریل 1907ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو یہ الہام ہوا کہ’’إِنِّي مَعَ الرَّسُوْلِ أَقُوْمُ وَالُوْمُ مَنْ يَّلُوْمُ ، وَأُعْطِيْكَ مَا يَدُوْمُ۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور جو اسے ملامت کرتا ہے اسے ملامت کروں گا۔ اور تجھے وہ چیز دوں گا جو ہمیشہ رہے۔‘‘

(تذکرہ صفحہ682ایڈیشن2004ء)

پس یہ ملامتیں پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مخالفین پر ہی پڑتی رہی ہیں جو وہ آپ پرکیا کرتے تھے اور آئندہ بھی یہ ان مخالفین پر ہی پڑنے والی ہیں۔

اب ان ملامتیں کرنے والوں کے لیے بچنے کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس جری اللہ کو جو حلل الانبیاء بھی ہے قبول کریں جسے اللہ تعالیٰ نے تمام دینوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کے لیے بھیجا ہے ورنہ پھر یاد رکھیں کہ یہ مخالفت یہ لڑائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے ہے۔

آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

’’پھر یہ بھی سوچو کہ جس حالت میں مَیں وہ شخص ہوں جو اس مسیح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتا ہوں جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ ’’وہ تمہارا امام اور خلیفہ ہے اور اس پر خدا اور اس کے نبی کا سلام ہے اور اس کا دشمن لعنتی اور اس کا دوست خدا کا دوست ہے اور وہ تمام دنیا کے لئے حَکم ہو کر آئے گا اور اپنے تمام قول اور فعل میں عادل ہوگا۔‘‘‘‘

(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد13 صفحہ 328)

پس جب اللہ تعالیٰ کی تائیدات بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی اس مسیح و مہدی سے لڑنے والے پر لعنت بھیج رہا ہے تو فکر اور غور کا مقام ہے۔ پس

اے وہ تمام لوگو!جو اس مسیح و مہدی کی مخالفت میں اپنی حدیں پھلانگ رہے ہو۔ وہ مسیح ومہدی جس کے لیے زمینی اور آسمانی نشانات ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں اس کی مخالفت کر کے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت نہ سہیڑو۔یہ پیغام ہے جو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہر احمدی کو اپنے ماحول میں دینا چاہیے۔ اس پیغام کو بہت زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ مغرب میں بھی پھیلانے کی ضرورت ہے اور مشرق میں بھی پھیلانے کی ضرورت ہے۔

مغرب کو بھی بتانا ہوگا کہ جس آقا کے غلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تائیدات کے وعدے کیے ہیں تو اس آقا کے ساتھ کس قدر وعدے ہوں گے۔ قرآن کریم میں حد سے بڑھنے والوں کے لیے بہت انذار ہے۔ یہاں مغرب میں آئے دن آزادی کے نام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جو گندے حملے کیے جاتے ہیں یا گندے حملے کرنے کا ابال اٹھتا رہتا ہے ان کو یہ بتائیں کہ یہ تمہیں بھی خدا تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے لانے والا بنے گا۔

گذشتہ دنوں پھر سویڈن کے ایک لوکل اخبار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر بنائے گئے کارٹونسٹ کے کارٹون شائع کیے اور ساتھ ہی آزادی کے نام پر اس کو جائز بھی قرار دیا۔ اس سے پہلے اس کارٹونسٹ نے مختلف اداروں سے جہاں نمائشیں لگتی ہیں کوشش کی تھی کہ نمائش میں یہ کارٹون یا تصویریں لگ جائیں لیکن سب نے انکار کر دیا مسلمانوں کے ڈر کی وجہ سے یا اخلاقی قدروں کی وجہ سے جو بھی ہے بہرحال انہوں نے نہیں لگایا لیکن اس لوکل اخبار نے کارٹون نہ صرف شائع کیے بلکہ ان کو جائز قرار دیا۔ان لوگوں نے جو حدیں پھلانگی ہیں ان کے لیے بھی اب یہی دعا ہے کہ اے اللہ! اپنے پیاروں سے استہزاء میں حد سے بڑھنے والوں کے ساتھ تُو جو سلوک کرتا ہے اس کے نشان دکھا کہ یہ لوگ اپنی شوخی میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اگر ان کا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے تو اے اللہ! تیرا قانون تو سب قانونوں پر بالا ہے۔ اپنی قدرت کے نظارے دکھا اور ان کو عبرت کا نشان بنا۔

آج مسیح محمدی کے ماننے والوں کا اور احمدی کا یہ بھی کام ہے کہ خاص طور پر ان مغربی ممالک میں جو لوگ رہ رہے ہیں ان لوگوں میں اس بات کو، اس پیغام کو کثرت سے پہنچائیں کہ خدا کے بندوں سے استہزاکر کے خدا کی غیرت کو نہ للکارو۔ خدا اگر غضب میں دھیما ہے تو اس کو خدا کی کمزوری یا خدا کا وجود نہ ہونے پرمحمول نہ کرو۔

بعض لوگ خدا کو ہی نہیں مانتے۔ ہمیں تم لوگوں سے ہمدردی ہے اس لیے ایسے بد کرداروں اور بدزبانوں کے خلاف تم زبان اٹھاؤ۔ ان لوگوں کو، اس ماحول میں رہنے والوں کو بتائیں، اخباروں کو لکھیں۔ اسلام سے بعض لوگوں کی یہ نفرت صاف بتا رہی ہے کہ ان کو نظر آ رہا ہے کہ اسلام ہی اب زندہ مذہب ہے اور اس کے پیچھے یقیناًکوئی انگیخت کرنے والا ہے جو بار بار ان چیزوں کو ابھارتے ہیں اوراٹھاتے ہیں۔ یہ صرف ذاتی کوششیں نہیں ہیں۔

ان لوگوں کو نظر آرہا ہے کہ اسلام اب پھیلتا جا رہا ہے۔

کئی جگہ انہوں نے اس بات کو مانا بھی ہے۔امریکہ میں بھی تسلیم کرتے ہیں چاہے وہاں اسلام کا غلط نظریہ پھیل رہا ہے لیکن لوگوں کا مسلمانوں کی طرف رجحان ہو رہا ہے۔ ان کو یہ خطرہ ہے کہ اسلام اب مشرق و مغرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور لے سکتا ہے۔

پس

اے مسیح محمدی کے غلامو !ان لوگوں پر واضح کر دو کہ لے سکنے کا سوال نہیں ہے۔ یقیناً اسلام نے تمام دنیا پر غالب آنا ہے اور حضرت محمد مصطفی ٰصلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہی تمام دنیا کے جھنڈوں سے بالا رہنا ہے۔

اور جیسا کہ میں نے کہا کہ

یہ جھنڈا اب تمام دنیا میں گاڑنے کا کام اگر کسی کے مقدر میں ہے تو مسیح محمدی کے غلاموں کے مقدر میں ہے اور یقینا ًہے کیونکہ یہ مسیح محمدی ہی ہے جس کے سپرد خدا تعالیٰ نے اسلام کی تعلیم دوبارہ دنیا میں جاری کرنے کا کام کیا ہے اور اسی لیے آپ کو مبعوث فرمایاہے۔

آپؑ سے وعدہ تھا کہ یہ کام آپ کے سپرد ہے اور اس میں ہر طرح آپ کی مدد کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اب مسیح محمدی کے ماننے والے ہی ہیں جنہوں نے اسلام کو دوبارہ دنیا میں پھیلانا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ میں تو یہ کام کر کے چلا جاؤں گا لیکن میرے بعد قدرت ثانیہ کے ذریعے سے جماعت نے اس کام کو جاری رکھنا ہے اور اس بات کی ضمانت دی کہ خدا تعالیٰ نے تا قیامت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا تمہارے سپرد کر دیا ہے۔

(ماخوذ از رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ305-306)

پس جب قدرت ثانیہ نے قیامت تک رہنا ہے اور آپؑ نے یہ فرمایا کہ میں نے یہ کام شروع کیا ہے۔ مَیں اس کو شروع کر کے چلا جاؤں گا اور قدرت ثانیہ کے ذریعے سے یہ جاری رہے گا تب تو

بڑا واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اس کی خوشخبری دی ہوئی ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ قدرت ثانیہ بھی تا قیامت قائم رہنی ہے اور اسلام کا جھنڈا لہرانے کے لیے بھی اب یہ کام جو ہے جماعت احمدیہ نے ہی کرنا ہے۔

پس

ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے اب تا قیامت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہرانے کا کام آپ کے سپرد کر دیا ہے جسے آپ نے پوری بشاشت سے اور پوری محنت سے اور پوری لگن سے کرنا ہے اور دنیا کے کونے کونے میں جھنڈا لہرانا ہے۔ جماعت احمدیہ کی ترقی اب مقدر ہے اور جماعت کی ترقی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے بغیر کچھ بھی نہیں۔

بعض مخالفین اعتراض کرتے ہیں۔ مَیں ان کے لیے واضح کر رہا ہوں کہ جہاں بھی جماعت احمدیہ کی ترقی کا نام لیا جاتا ہے اور احمدیت کی جہاں بات ہوتی ہے تو ہر احمدی سمجھتا ہے کہ احمدیت کا مطلب ہی یہی ہے کہ حقیقی اسلام اور حقیقی اسلام کی ترقی کی بات ہو رہی ہے۔ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق نے خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر ہمیں تسلی کروا دی کہ

یہ مت خیال کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔

یہ بات آپؑ نے رسالہ الوصیت میں بیان فرمائی تھی جس میں دوسری بات آپ نے دین کی خاطر مالی قربانی کرنے کے لیے، اپنے روحانی معیاروں کو بڑھانے کے لیے، اپنی جائیدادوں اور اپنی آمد کے 10/1حصے کی وصیت کی بات بھی فرمائی تھی

(ماخوذ از رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 319)

اور اس بات کی طرف کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے رسالہ الوصیت میں نظام خلافت اور نظام وصیت کے متعلق بیان فرمایا ہے،میں نے تین سال پہلے یہ تعلق جوڑ کر جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ

خلافت اور وصیت کے نظام کا گہرا تعلق ہے۔ اس لیے دنیا کی تمام جماعتیں کم از کم چندہ دہندگان کا جو نصف ہے وہ موصی بنائیں۔ تو آج میں یہ اعلان کر رہا ہوں اور بڑی خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ الحمدللہ !جرمنی کی رپورٹ کے مطابق جماعت جرمنی نے کل جلسے کے دوسرے دن یہ ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے۔

پس

اے جرمنی میں رہنے والے مسیح محمدی کے غلامو !جس طرح تم نے خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی مالی قربانیوں کے معیار قائم کیے ہیں آج اسلام کے پیغام کو اس قوم کے ہر فرد تک پہنچانے میں بھی جُت جاؤ تاکہ اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ برکات کے وارث بنو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے۔ جماعت احمدیہ امریکہ کا بھی جلسہ سالانہ ہو رہا ہے

آج ان کا بھی اختتام ہے۔ امیر صاحب نے پیغام کی درخواست کی تھی۔ پیغام تو جو میں نے اس تقریر میں دیے وہ ان کے لیے بھی ہیں اور ساری دنیا کے لیے ہیں۔لیکن کیونکہ ان کا جلسہ ہو رہا ہے اس لیے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کو میں یہ پیغام بھی دیتا ہوں کہ امریکہ میں رہنے والے احمدیوں اور خاص طور پر ہمارے جو ایفرو امریکن احمدی بھائی ہیں جو اپنے ایمان اور اخلاص میں بڑھ رہے ہیں آپ میں سے چند ایک اس دفعہ جلسہ سالانہ یوکے میں بھی حاضر ہوئے اور اکثریت پہلی دفعہ حاضر ہوئی تھی اور جلسے میں شمولیت کے بعد سب کے دل پُرسکون تھے اور بہت کچھ پانے کا تاثر آپ لوگوں کی آنکھوں اور چہروں سے نظر آ رہا تھا۔ خلافت کے لیے محبت کے جو جذبات میں نے آپ کے چہروں پر دیکھے اس سے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر آتاتھا۔ آپ سے میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے آباءو اجداد یہاں امریکہ میں غلام بنا کے لائے گئے تھے۔ اب آپ کو اس ملک میں آزادی مل گئی ہے یا کہا جاتا ہے کہ آزادی مل گئی ہےلیکن اس آزادی میں بھی کئی بندشیں ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو آپ کہیں گے کہ ہمیں حقیقی آزادی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آ کر ملی ہے، آپ کے غلام صادق کی جماعت میں آ کر ملی ہے۔ پس اس آزادی کی حفاظت کریں اور اس آزادی کے پیغام کو اپنے ہم قوموں میں بھی دیں۔ سفید فام امریکنوں کو بھی دیں اور دوسری قوموں کے لوگوں کو بھی دیں۔

آپ تو آزاد ہیں لیکن یہ لوگ جنہوں نے دنیا داری کے طوق اپنی گردنوں میں ڈالے ہوئے ہیں ،جنہوں نے خدا تعالیٰ کو بھلا دیا ہے اور عیاشیوں کی زنجیریں ان کے پاؤں کی بیڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ یہ اپنی نفسانیت کی زنجیروں میں قید ہیں۔ ان کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کا پیغام پہنچا کر آزادی دلوائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں لائیں۔ تبھی آپ حقیقی آزادی پانے والے اور حقیقی آزادی دلوانے والے کہلا سکیں گے۔

اپنی زندگیوں میں بھی جیسا کہ میں نے کہا اسلام کی تعلیم لاگو کرتے ہوئے ویسے بنیں جیسا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔پس اپنے اس فرض کو سمجھیں اور اسی طرح دنیا میں رہنے والا ہر احمدی اس پیغام کو سمجھے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔

اب ہم دعا کریں گے۔دعاؤں میں ان لوگوں کو بھی یاد رکھیں جو پر شکستہ ہیں ،جو مجبور ہیں، جو پاکستان میں بیٹھے ہوئے ہیںجنہیں قانونی مجبوریاں جلسہ نہیں کرنے دیتیں۔ جن کے پاس سفر خرچ کے اخراجات نہیں کہ جرمنی یا یو کے کے جلسہ میں شامل ہو سکیں۔ جن کی مجبوریاں اور قانونی پابندیاں ایسی ہیں کہ جنہوں نے انہیں خلیفہ وقت سے ملنے سے محروم کیا ہوا ہے۔ جن کی خواہش ہوتی ہے کہ ہم بھی جلسہ میں شامل ہوں۔ ان سب لوگوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔

یو کے کے جلسے کے بعد ہر سال لا تعداد خطوط مجھے آتے ہیں۔ دلی جذبات سے بھرے ہوئے خطوط ہوتے ہیں اور ان کو پڑھ کر انسان جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی نیک تمنائیں اور دعائیں بھی پوری فرمائے اور وہاں بھی ایسے حالات پیدا فرمائے۔ وہاں کے بھی نفس پرست مولویوں اور خشک زاہدوں سے اس قوم کی جان چھڑائے تا کہ وہ لوگ حقیقت کو پہچاننے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور سب کو جن کی خواہش ہے، جو آ سکے، جو نہیں آ سکے، جو آنے کی خواہش رکھتے ہیں، جو مجبور ہیں دنیا کے مختلف ممالک میں بیٹھے ہوئے ہیں، غریب ہیں، بے کس ہیں، بےسہارا ہیں سب کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی دعاؤں کاوارث بنائے۔ دعا کر لیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2025ء کے اختتامی اجلاس سے بصیرت افروز خطاب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button