قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے
ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ اس زمانے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کی توفیق ملی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے حکم اور عدل بنا کر بھیجا اور آپؑ نے قرآن کریم کے چُھپے ہوئے خزانے ہمیں عطا فرمائے اور بےشمار معارف قرآن کریم کے نکال کر ہمارے سامنے رکھے۔ ہماری تعلیم و تربیت کےلیےہمیں واضح طور پر ان احکامات جن کو ہم بعض اوقات سمجھ نہیں سکتے ان کی بھی تشریح فرما کر ہمارےلیےآسان فرما دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اگر یہ کہا کہ مَیں نے آسان بنایا ہے تو آسان بنانے کےلیےاللہ تعالیٰ نے مختلف وقتوں میں استاد بھی پیدا کر دیے اور اس زمانے میں علم و عرفان کے دروازے کھولنے کےلیےحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا جنہوں نے ہمیں سب کچھ بتا دیا۔ پس یہ ہماری بدقسمتی ہو گی اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وضاحت کو، معانی کو، قرآن شریف کی تفسیر کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والے نہ بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس زمانے میں اپنے وعدے کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ایک نمائندہ بھیج دیا۔ پس اس کو ماننا، اس کی باتوں کو سننا اور تفاسیر جو انہوں نے قرآن کریم کی کی ہیں ان پر غور کرنا، ان پر عمل کرنا اب ہمارا کام ہے۔ اگر ہم یہ کریں گے تو اپنی زندگیوں کو کامیاب بنانے والے ہوں گے۔
اور اس کے علاوہ پھر خلفاء نے بھی تفاسیر کی ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفسیر کبیر لکھی ہے۔ تقریباً نصف قرآن تو اس میں coverہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اَور ترجمے اور تفسیریں ہیں۔ تفسیر صغیر ہے وہ بھی کافی وضاحت سے ہے اور یہ ایسی باتیں ہیں، کتابیں ہیں جن میں احکامات واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔ …اس کی طرف ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے کہ جہاں ہم رمضان کے مہینے میں قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ دیں اور کوشش کریں کہ ایک دَور ختم کرنا ہے وہاں اس کے معانی پر بھی غور کرنے کےلیے، اس کے مطالب پر غور کرنے کے لیے بھی توجہ دیں اور احکامات تلاش کریں اوران کو تلاش کر کے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔ صرف قرآن کریم کو پیار کر لینا کافی نہیں ہے۔ صرف سنبھال کر رکھ لینا کافی نہیں ہے۔ صرف ماتھے پر لگا لینا کافی نہیں ہے۔
بچوں کی آمین کے لیے لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک فرض تو انہوں نے پورا کر دیا کہ بچوں کو قرآن کریم پڑھا دیا۔ اب اس قرآن کریم کو پڑھنے کا مستقل شوق پیدا کروانا بھی ان کا کام ہے اور وہ تبھی ہو سکتا ہے جب خود ماں باپ بھی اس طرف توجہ دیں۔ وہ خود بھی قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کرنے والے ہوں تا کہ بچے دیکھیں کہ ہمارے ماں باپ تلاوت کر رہے ہیں۔
خود بھی اس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے والے ہوں تا کہ انہیں سمجھ آئے کہ کیا احکامات ہیں اور جب بچے سوال کریں تو ان کے جواب بھی دے سکیں۔ بعض بچے چھوٹے چھوٹے سوال کرتے ہیں اور ماں باپ لکھ کر بھیج دیتے ہیں کہ اس کا کیا جواب ہے حالانکہ اگر ترجمہ اور تفسیر تھوڑی سی بھی پڑھی ہو تو خود ماں باپ ہی جواب دے سکتے ہیں اور ان کو کسی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی.۔ (خطبہ جمعہ ۱۴؍مارچ۲۰۲۵ء)
مزید پڑھیں: دوسرا عشرہ مغفرت کا عشرہ




