نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے(حدیث نبوی ﷺ)
دردِ دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکا ل لیتی ہے
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ۔(الحج:۴۲)جنہیں اگر ہم زمین میں تمکنت عطا کریں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے روکتے ہیں اور ہر بات کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰى اُولٰٓىٕكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ۔ (التوبۃ:۱۸) اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یومِ آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔ پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ستّر دفعہ سے بھی زائد مرتبہ مسلمانوں کو نماز یعنی اپنی عبادت کی تعلیم فرمائی ہے۔
جس قدر بھی انبیاء دنیا میں تشریف لائے سبھی نےکسی نہ کسی رنگ میں اپنے ماننے والوں کو خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کی تعلیم دی۔ لیکن سب سے افضل و اعلیٰ طریق عبادت کا اسلام میں نماز ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ و ثَمرَۃُ فؤَادِی فِی ذِکْرِہ۔ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور ذکر الٰہی میرے دل کا پھل ہے۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا : جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ (سنن نسائی حدیث نمبر۳۳۹۲)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان میں اللہ تعالیٰ سے بے پایاں محبت کا اظہار چھلکتا ہے جس سے آپ کو قرب خداوندی حاصل ہوتاتھا۔ آپ کی ہر قسم کی راحت، سروروخوشی خدا تعالیٰ کے سامنے نماز میں کھڑے ہو کر ہی حاصل ہوتی تھی۔ تبھی تو آپؐ نے مومنوں کو بھی یہ ارشاد فرمایا کہ الصَّلوٰۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِن کہ نماز تو مومن کا معراج ہے۔ جس میں مومن کو خدا تعالیٰ کا قرب اور دیدار نصیب ہوتا ہے۔
اس مضمون سے مطلب یہ ہے کہ جب نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو پھر ایک مومن کو بھی نماز کے ذریعہ ہی ٹھنڈک، راحت اور سرور حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ نماز مومن کی معراج بن جائے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نماز کو کس طرح اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا سکتے ہیں؟گویانماز کے ذریعہ ہم وہ مقاصد کیسے حاصل کر سکتے ہیں جو نماز کے ذریعہ ملنے چاہئیں۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب ہم میں سے ہر ایک کو نماز کی اہمیت اور برکات کا پتا چلے گا۔ یہ تبھی حاصل ہوگا جب ہم نماز کو اسی طرح سے ادا کریں گے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادا فرماتے تھے۔ یہ تبھی حاصل ہوگا جب ہم اپنی پیدائش سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک اُن حکموں اور سنتوں پر عمل کریں گے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اُسے نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب دس سال کا ہوجائے تو نماز ادا نہ کرنے پر تنبیہ کرو۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ حدیث نمبر۴۹۵)اور جب وہ ۱۲-۱۳ – ۱۴ سال کا ہوجائے تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ پھر دعا سے بچے کی تربیت کرو۔ (ہفت روزہ بدر قادیان ۲۰-۲۷ جون ۲۰۱۹ء صفحہ ۳۳)
اب میں چند ایسی باتیں بیان کرتا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائیں۔ اگر ان پر عمل شروع ہوجائے تو ہماری نمازیں بھی ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوجائیں گی۔
چند احادیث پیش خدمت ہیں:
۱۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا میری امت قیامت کے دن اس حال میں بلائی جائے گی کہ اُن کے ہاتھ پاؤں اور چہرے وضو میں دھلنے کی وجہ سے روشن اور چمکدار ہوں گے۔
آپؐ نے مزید فرمایا کہ جو شخص اپنی روشنی کو بڑھانا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بڑھائے۔(یعنی مکمل وضو کیا جائے۔) (بخاری)
۲۔ اسی طرح حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر یہ دعا پڑھے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ۔ (ترمذی باب مایقال بعد الوضو) اِلَّافُتِحَتْ لَہُ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃُ یَدْخُلُ مِنْ اَیِّھَا شَاءَ۔ (مسلم باب الذکر) ایسے شخص کے لیے پھرجنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے وہ جنت میں داخل ہوجائے۔ (منتخب احادیث صفحہ ۲۷۸)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ جو شخص وضو ہونے کے باوجود تازہ وضو کرتاہے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (ابوداؤد)(منتخب احادیث صفحہ۲۸۲)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ اگر مجھے خیال نہ ہوتا کہ میری امت مشقت میں پڑ جائے گی تو میں انہیں ہر نماز سے پہلے مسواک کا حکم دیتا۔(مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ البِلَادِ إِلَى اللّٰهِ، مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ البِلَادِ إِلَى اللّٰهِ، أَسْوَاقُهَا ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو سب جگہوں سے زیادہ محبوب مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندجگہیں بازار ہیں۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللّٰهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ (بخاری باب فضل من غدا الی المسجد) جو شخص صبح و شام مسجد جاتا ہے اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لیے مہمانی کا انتظام کرتے ہیں۔ جتنی مرتبہ بھی وہ صبح و شام کو جائے گا اتنی مرتبہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے مہمانی کا انتظام فرماتے ہیں۔
طبرانی میں یہ حدیث بھی آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مسجد سے محبت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتے ہیں۔ (منتخب احادیث تالیف محمد یوسف کاندھلوی صفحہ ۲۸۸، ۲۸۹)
اسی طرح طبرانی ہی میں حضرت ابو دردا ءؓسے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ مسجد متقی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ جس کا گھر مسجد ہو، اسے راحت دوں گا۔ اس پر رحمت کروں گا۔ پُل صراط کا راستہ آسان کروں گا، اپنی رضا نصیب کروں گا اور اسے جنت عطا کروں گا۔ (منتخب احادیث تالیف محمد یوسف کاندھلوی صفحہ ۲۸۹)
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے۔ ایک لمبی روایت ہے مگر اس میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ فَاِیَّاکُم…والمسجد۔ یعنی اے لوگو! مسجد کو لازم پکڑ لو۔ (رواہ احمد صفحہ ۲۳۲) (منتخب احادیث تالیف محمد یوسف کاندھلوی صفحہ ۲۸۹)
مسند احمد ہی کی ایک اَور روایت ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو لوگ کثرت سے مسجدوں میں جمع ہوتے ہیں وہ مسجدوں کے کھونٹے ہیں۔ فرشتے اُن کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ اگر وہ مسجدوں میں موجود نہ ہوں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں۔ اگر وہ بیمار ہوجائیں تو فرشتے اُن کی عیادت کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی ضرورت کے لیے جائیں تو فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والے کو تین فائدوں میں سے ایک فائدہ تو بہرحال ضرورہوگا۔
۱۔ کسی بھائی سے ملاقات ہوتی ہے جس سے کوئی دینی فائدہ حاصل ہوگا۔ یا حکمت کی بات سننے کو ملے گی۔ یا پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت مل جاتی ہے۔ جس کا ہر مسلمان کو انتظار رہتا ہے۔ (منتخب احادیث تالیف محمد یوسف کاندھلوی صفحہ ۲۹۱)
سنن ابن ماجہ میں حضرت علیؓ سے یہ روایت درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری پیغام اور نصیحت یہ تھی۔: الصَّلوٰۃُ وَ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ۔اے لوگو! نماز اور اپنے ماتحتوں کا خیال رکھنا۔ (بحوالہ الفضل ۳۱؍دسمبر ۲۰۰۹ء صفحہ ۷)
نمازیں جمع کرنے کی عادت نہیں ہونی چاہیے۔ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے بارہا اس بارے میں نصیحت فرمائی ہے۔ لیکن اگر کہیں نظام جماعت نےکسی وجہ سے نماز جمع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس پر بھی شور نہیں ڈالنا چاہیے کیونکہ نمازیں جمع کرنا بھی احادیث سے ثابت ہے۔چنانچہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء مدینہ میں بغیر کسی خوف یا بارش وغیرہ کے جمع کر کے ادا فرمائی۔ حضرت ابن عباسؓ سے جب پوچھا گیا کہ کس غرض کے تحت نماز جمع کرائی تھیں تو فرمایا لوگوں کی سہولت کےلیے۔ (ترمذی کتاب الصلوٰۃ باب ماجاء فی الجمع بین الصلاتین فی الحضر حدیث نمبر۱۷۲)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی خاطر چالیس دن باجماعت نمازوں میں تکبیر اولیٰ میں شرکت کی اس کے لیے ۲ چیزوں سے بریت لکھی جائے گی۔ آگ سے بریت اور نفاق سے بریت۔ (جامع ترمذی کتاب الصلوٰۃ)
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا آیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی مسجد تک لانے والا نہیں ہے۔ اس لیے مجھے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت فرمادیں۔آپؐ نے اجازت دے دی۔ جب وہ واپس جانے لگا تو آپؐ نے اُسے بلایا اور فرمایا کہ کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں۔ تو آپؐ نے فرمایا پھر مسجد میں نماز پڑھا کرو۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد حدیث نمبر ۱۰۴۴)(الفضل ۳۱؍دسمبر ۲۰۰۹ء صفحہ ۷)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کو جب مصر میں عربی اور زراعت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تو اپنے ہاتھ سے انہیں ۱۸؍نصائح لکھ کر دیں جو تاریخ احمدیت جلد ہفتم صفحہ ۴۸۵-۴۹۰ پر شائع ہیں۔ اس میں پہلی نصیحت یہ لکھی ہے: ’’ ۱۔ تم اب بالغ جوان مرد ہو۔ میرا یہ کہنا کہ نماز میں باقاعدگی چاہئے ایک فضول سی بات ہوگی۔ جو خداتعالیٰ کی نہیں مانتا وہ بندہ کی کب سنتا ہے۔ پس اگر تم میں پہلے سے باقاعدگی ہے تو میری نصیحت صرف ایک زائد ثواب کا رنگ رکھے گی اور اگر نہیں تو وہ ایک صدا بصحرا ہے۔ مگر پھر بھی میں کہنے سے نہیں رک سکتا کہ نماز دین کا ستون ہے۔جو ایک وقت بھی نماز کو قضا کرتا ہے دین کو کھو دیتا ہے اور نماز پڑھنے کے یہ معنے ہیں کہ باجماعت ادا کی جائے۔ اچھی طرح وضو کرکے ادا کی جائے ٹھہر کر سوچ کر اور معنوں پر غور کرتے ہوئے ادا کی جائے اور اس طرح ادا کی جائے کہ توجہ کلی طور پر نماز میں ہو اور یوں معلوم ہو کہ بندہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم سے کم یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ جہاں دو مسلمان بھی ہوں ان کا فرض ہے کہ باجماعت نماز ادا کریں بلکہ جمعہ بھی ادا کریں۔ اور نماز سے قبل اور بعد ذکر کرنا نماز کا حصہ ہے جو اس کا تارک ہو وہ نماز کو اچھی طرح پکڑ نہیں سکتا اور اس کا دل نماز میں نہیں لگ سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازوں کے بعد تینتیس۳۳ تینتیس۳۳ دفعہ سبحان اللہ اور الحمدللہ پڑھا جائے اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر۔ یہ سو دفعہ ہوا۔ اگر تم کو بعض دفعہ اپنے بڑے نماز کے بعد اٹھ کر جاتے نظر آئیں تو اس کے یہ معنی نہیں بلکہ وہ ضرورتاً اٹھتے ہیں اور ذکر دل میں کرتے جاتے ہیں الا ماشاء اللہ۔
تہجد غیر ضروری نماز نہیں۔ نہایت ضروری نماز ہے۔ جب میری صحت اچھی تھی اور جس عمر کے تم اب ہو اس سے کئی سال پہلے سے خداتعالیٰ کے فضل سے گھنٹوں تہجد ادا کرتا تھا۔ تین تین چار چار گھنٹہ تک اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کو اکثر مدنظر رکھتا تھا کہ آپؐ کے پاؤں کھڑے کھڑے سوج جاتے تھے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسجد میں نماز کا انتظار کرتا اور ذکر الٰہی میں وقت گزارتا ہے وہ ایسا ہے جیسے جہاد کی تیاری کرنے والا۔‘‘(تاریخ احمدیت جلد ہفتم صفحہ ۴۸۵-۴۹۰)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس نصیحت میں نماز آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کا مکمل طریق بیان فرما دیا ہے۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذالک۔ پس عمل کی ضرورت ہے۔
نماز کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات
۱۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتےہیں:’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی تکلیف یا ابتلا کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہوجاتے اور ہمارا اپنا اور اُن راستبازوں کا جو پہلے ہوگزرے ہیں اُن سب کا تجربہ ہے کہ نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے جانے والی کوئی چیز نہیں۔‘‘(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۲ صفحہ۵۴)
۲۔ ’’انسان کی زاہدانہ زندگی کا بڑا بھاری معیار نماز ہے۔ وہ شخص جو خدا کے حضور نماز میں گریاں رہتا ہے امن میں رہتا ہے۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۲ صفحہ۵۴)
۳۔ ’’میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہوجاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہوجائیں۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۲ صفحہ۵۸۔۵۹)
۴۔’’فَاِنَّ الصَّلوٰۃَ مَرْکَبٌ یُّوصِلُ الْعَبْدَ اِلیٰ رَبِّ العِبَادِ۔ فَیَصِلُ بِھَا اِلیٰ مُقَامٍ لَّا یَصِلُ إلیہِ عَلٰی صَھَواتِ الْجِیَادوَصَیْدُہَا لَا یُصَادُ بِالسِّھَامِ۔‘‘(اعجازالمسیح صفحہ۱۲۲) نماز ایک ایسی سواری ہے جو بندہ کو پروردگار عالم تک پہنچاتی ہے۔ اس کے ذریعہ انسان ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ جہاں گھوڑوں کی پیٹھوں پر بیٹھ کر نہیں پہنچ سکتا۔
۵۔ ’’نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ہمیں نماز معاف فرمادی جائے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں…… اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے۔ تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز ہی نہیں تو ہے ہی کیا؟وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔ ‘‘(ملفوظات جلد ۳صفحہ۱۸۸، ایڈیشن ۱۹۸۸ء)
۶۔ آپ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ’’اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اُسے دل کی تسکین آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہوکر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔ وہ زمانہ جس میں نماز سنوار کر پڑھی جاتی تھی غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیا تھا۔ ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پاکر دیا تھا۔ جب سے اُسے ترک کیا وہ خود متروک ہوگئے۔ دردِ دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکا ل لیتی ہے۔ ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کو حل اور آسان کردیا ہوا ہوتا ہے۔ ‘‘(ملفوظات جلد ۴صفحہ ۳۴۲،۳۴۱،ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
میں نے ایک جگہ یہ سبق آموز واقعہ پڑھا کہ ایک عورت نے ایک عالم سے پوچھا میں اپنے بچوں کے ساتھ ایساکیا کروں کہ فجر کے وقت ان کی گہری نیند کے باوجود بھی اُن کو نماز کے لیے اٹھا سکوں۔ عالم نے کہا تم اس وقت کیا کرو گی جب گھر میں آگ لگ جائے اور بچے گہری نیند سو رہے ہوں۔ عورت نے جواب دیا میں انہیں جگاؤں گی۔ عالم نے کہا کہ اگر اُن کی نیند گہری ہوئی تو پھر؟ عورت نے جواب دیا واللہ! میں یا تو انہیں جگاؤں گی یا اُن کی گردنوں سے پکڑ کر ان کو گھسیٹ کر باہر لے جاؤں گی۔ تب عالم نے کہا۔ اگر تم انہیں دنیا کی آگ سے بچانے کے لیے یہ کروگی تو انہیں جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے بھی ایسا ہی کرو۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:کوئی شخص نواب تھا، صبح کو نماز کے لیے نہیں اٹھتا تھا، ایک مولوی نے اسے وعظ سنایا۔ اس پر نواب نے اپنے خادم کو کہا کہ مجھ کو صبح کو اٹھا دینا۔ خادم نے دو تین مرتبہ اس کو جگایا۔ جب ایک مرتبہ جگایا تو اس نے دوسری طرف کروٹ بدل لی۔ جب دوبارہ اس طرف ہو کر جگایا پھر اور طرف ہوگیا جب تیسری مرتبہ جگایا تو اس نے اٹھ کر اس کو خوب مارا اور کہا کم بخت جب ایک مرتبہ نہیں اٹھا تو تجھے معلوم نہ ہوا کہ ابھی نہ اٹھوں گا پھر کیوں جگایا؟ اور اتنا مارا کہ وہ بےچارا بیہوش ہوگیا۔ آپ ہی تو مولوی سے وعظ سن کر اس کو کہا تھا کہ مجھ کو اٹھا دینا۔ پھر جب اس نے جگایا تو اس بے چارے کی شامت آئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کے پاس بہت سا حصہ جاگیر کا ہوتا ہے وہ ایسے غافل ہوجاتے ہیں کہ حق اللہ کا ان کو خیال نہیں آتا۔ امراء میں بہت سا حصہ تکبر کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے عبادت نہیں کرسکتے۔ (ملفوظات جلد۵ صفحہ ۲۰۳-۲۰۴۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)
اسی طرح آپؑ نے ایک حکایت بیان فرمائی کہ مثنوی رومی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک فاسق آقا کا ایک نیک غلام تھا صبح کو جو مالک نوکر کو لے کر بازار سودا خریدنے کو نکلا تو راستہ میں آذان کی آواز سن کر نوکر اجازت لے کر مسجد میں نماز کو گیا اور وہاں جو اسے ذوق اور لذت پیدا ہوا تو بعد نماز ذکر میں مشغول ہوگیا۔ آخر آقا نے انتظار کر کے اس کو آواز دی اور کہا کہ تجھے اندر کس نے پکڑ لیا۔ نوکر نے کہا کہ جس نے تجھے اندر آنے سے باہر پکڑ لیا۔ غرض ایک کشش لگی ہوئی ہے اسی کی طرف خدا نے اشارہ فرمایا ہے۔ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلیٰ شَاکِلَتِہٖ (بنی اسرائیل :۸۵)‘‘(ملفوظات جلد سوم صفحہ ۳۲۴۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)
یعنی نماز کا پڑھنا بھی توفیق الٰہی پر ہے۔ اور اس کے لیے کوشش، دعا اور پھر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔تبھی توفیق الٰہی بھی نصیب ہوگی۔
ایک صاحب نے حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحبؓ کی خدمت میں خط لکھا کہ مجھے نماز میں لذت نہیں آتی۔ حضرتؓ نے جواب میں فرمایا: ’’نماز ایک حکم ہے اس کی تعمیل ضروری ہے، لذت حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ فرمانبرداری کے واسطے۔ اگر لذت والی شے ہوتی تو ہر ایک اس کو کرتا اور لذت لینے کے لیےکرتا۔ پھر ثواب کہاں سے حاصل ہوتا۔ ارشاد الٰہی کی تعمیل انسان کے واسطے ضروری ہے۔ مالک راضی ہوگیا تو سارے جہان کے نفعے اس میں آجاتے ہیں۔ ‘‘(ارشادات نور جلد سوم صفحہ ۲۷۲)
شروع میں جو آیت کریمہ بیان ہوئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں زمین پر حکومت ملے گی تو وہ نمازوں کو قائم کریں گے۔ تو وہ لوگ جماعت احمدیہ کے افراد ہیں۔ یہ ذمہ داری ہماری ہے کہ خود بھی نماز پر کاربند ہوں، اپنے بچوں کو بھی نماز پر کاربند کریں اور اپنے ماحول میں ہر ایک کو نماز باجماعت کی ادائیگی کی نصیحت کرتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے رنگ میں نماز اداکرنے کی توفیق دے کہ نماز ہماری بھی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: آئیے!اس رمضان میں خدا سے دوستی کریں




