عورتوں سے حسن سلوک کرو
اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ عورتوں سے حسن سلوک کرو۔جن کو تم دوسرے گھروں سے بیاہ کر لائے ہوان کے عزیز رشتے داروں سے ماں باپ بہنوں بھائیوں سے جدا کیا ہے ان کو بلا وجہ تنگ نہ کرو، ان کے حقوق ادا کرو۔اور ان کے حقوق ادا نہ کرنے کے بہانے تلاش نہ کرو۔الزام تراشیاں نہ کرو۔اس کوشش میں نہ لگے رہو کہ کس طرح عورت کی دولت سے، اگر اس کے پاس دولت ہے،فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اب اس فائدہ اٹھانے کے بھی کئی طریقے ہیں۔ایک تو ظاہری دولت ہے جو نظر آ رہی ہے۔بعض مرد عورتوںکو اتنا تنگ کرتے ہیں۔کئی دفعہ ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ ان کو کوئی ایسی بیماری لگ جاتی ہے کہ جس سے انہیں کوئی ہوش ہی نہیں رہتا اور پھر ان عورتوں کی دولت سے مرد فائدہ اٹھاتےرہتے ہیں۔پھر بعض دفعہ میاں بیوی کی نہیں بنتی تو اس کوشش میں رہتے ہیں کہ عورت خلع لے لےتا کہ مرد کو طلاق نہ دینی پڑے اور حق مہر نہ دینا پڑے۔تو یہ بھی مالی فائدہ اٹھانے کی ایک قسم ہے۔پھربیچاری عورتوں کو ایک لمبا عرصہ تنگ کرتے رہتے ہیں۔حالانکہ حق مہر عورت کا حق ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ حرکت کسی طور پر جائز نہیں۔پھر بعض دفعہ زبردستی یا دھوکے سے عورت کی جائیداد لےلیتے ہیں مثلاً عورت کی رقم سے مکان خریدا اور کسی طرح بیوی کو قائل کر لیا کہ میرے نام کر دو یا کچھ حصہ میرے نام کر دو۔آدھے حصے کے مالک بن گئے۔اور اس کے بعد جب ملکیت مل جاتی ہے تو پھر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں۔اور پھر یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ علیحدہ ہو کے مکان کا حصہ لے لیتے ہیں یا بعض لوگ جو ہیں گھر بیٹھے رہتے ہیں اور عورت کی کمائی پر گزارا کر رہے ہوتے ہیں۔فرمایا کہ یہ تمام جو اس قسم کے مرد ہیں ناجائز کام کرنے والے لوگ ہیں۔اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خاوند فوت ہو جائےتو اس کے رشتے دار یا سرال والے جائیداد پر قبضہ کر لیتے ہیں اور بیچاری عورت کو کچھ بھی نہیں ملتا اوراس کو دھکے دے کر ماں باپ کے گھروں میں بھیج دیا جاتا ہے۔تو یہ سب ظالمانہ فعل ہیں ، نا جائز ہیں۔تو یہ اسلام ہے جو ہمیں بتا رہا ہے کہ عورت سے اس قسم کا سلوک نہ کرو۔اب یہ بتائیں کہ اور کس مذہب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اس گہرائی میں جا کر عورت کے حقوق کا اتنا خیال رکھا ہو۔یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو یہ حقوق دلوائے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: بیوی اسیر کی طرح ہے۔اگر یہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ پرعمل نہ کرے تو وہ ایسا قیدی ہے جس کی کوئی خبر لینے والا نہیں۔(الحکم قادیان جلد نمبر ۸۔مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۴ صفحہ ۶)
غرض ان سب کی غوروپرداخت میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھے اور ان کی پرورش محض رحم کےلحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے لئے بلکہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (سورة الفرقان: ۷۵) کالحاظ ہو۔
(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ ۳۱؍جولائی ۲۰۰۴ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل ۲۴؍اپریل ۲۰۱۵ء)
مزید پڑھیں: بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں




