خلاصہ خطبہ جمعہ

عاجزی و انکساری کی روشنی میں آنحضورﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۲؍مئی ۲۰۲۶ء

٭… کسی کام کے کرنے میں بھی آپؐ عار نہیں سمجھتے تھے اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی آپ خود کر کے دوسروں کو دکھاتے تھے بلکہ سکھاتے تھے

٭… جب کوئی شخص نبی کریم ﷺ کے سامنے آتا تو آپؐ اس سے مصافحہ فرماتے۔ آپؐ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہ کھینچتے یہاں تک کہ وہ شخص خود اپنا ہاتھ کھینچ لیتا اور آپؐ اپنا چہرہ مبارک اس کے چہرے سے نہ موڑتے یہاں تک کہ وہ شخص خود منہ موڑ لیتا اور آپؐ کو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اپنے ہم نشین کے سامنے گھٹنے بڑھائے ہوئے ہوں

٭… جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لاتے تو گھر کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے۔ ایک حصہ اللہ جلّ شانہٗ کے لیے وقف فرماتے، ایک حصہ اپنے اہل کے لیے اور ایک حصہ خود اپنے لیے۔ پھر اپنے حصے کو بھی اپنے اور لوگوں کے درمیان بانٹ لیتے اور اس میں خاص صحابہؓ کے ذریعے عام لوگوں تک دین کی باتیں پہنچاتے اور ان سے کوئی بات بچا نہ رکھتے

٭… رسول اللہ ﷺ کے دروازے سب کے لیے کھلے تھے۔ آپ ﷺکے لیے نہ کوئی دربان کھڑا ہوتا تھا نہ آپ ﷺکے لیے صبح شام بڑے بڑے برتنوں میں کھانے پیش کیے جاتے تھے، یعنی اعلیٰ قسم کے کھانے پیش نہ ہوتے تھے

٭… رسول اللہﷺ مسجد میں آنے والی گرد و غبار کو ایک چھڑی کے ساتھ صاف کر لیا کرتے

٭… مکرم ملک داؤد محمودصاحب ابن محمد اسحاق صاحب مرحوم آف وہاڑی ، حال کراچی کی وفات پر مرحوم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۲؍مئی ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۲؍ہجرت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۲؍مئی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مکرم صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

آ نحضرتؐ کی سیرت کے پہلو عجز و انکسار

کا ذکر ہو رہا تھا۔ آج بھی وہی ذکر ہے۔آپﷺکی عاجزی کا کیا معیار تھا۔چھوٹی چھوٹی باتوں کی مثالیں دے کر آپؐ اس کا اظہار فرمایا کرتے تھے ۔

رسول اللہؐ نے فرمایا:مَیں اسی طرح کھاتا ہوں جیسے غلام کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھتا ہوں جیسے غلام بیٹھتا ہے کیونکہ مَیں بھی تو ایک بندہ ہی ہوں۔ یعنی سرداروں اور رئیسوں والا تکبر اور خود بینی نمائش میرے اندر نہیں ہے۔

حضرت انسؓ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہؐ کی اونٹنی جس کا نام عضباء تھا ،وہ ایسی تیز تھی کہ اس سے آگے کوئی اونٹ نہیں نکل سکتا تھا۔ ایک بدوی اپنے ایک جوان اونٹ پر سوار آیا اور مقابلے میں وہ اونٹ عضباء سے آگے نکل گیا تو مسلمانوں کو سخت ناگوار گزرا کہ عضباء پیچھے رہ گئی اور تم آگے نکل گئے۔ رسول اللہؐ نے ان کے اس رویّہ پر فرمایا کہ اللہ کا حق ہے کہ جس چیز کو دنیا میں اٹھاتا ہے اس کو نیچا بھی دکھاتا ہے۔

پھر عاجزی کی ایک اَور مثال حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں نے نبی کریمﷺسے عمرے کی اجازت چاہی ۔آپؐ نے اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا:اے میرے بھائی اپنی دعا میں مجھے نہ بھولنا۔ حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی تھی کہ اس کے بدلے مجھے پوری دنیا بھی مل جاتی تو بھی مجھے خوشی نہ ہوتی۔آپؐ پر درود بھیجنے کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت دعا کے لیے ضرور ی قرار دیاہے۔ لیکن

عاجزی کی انتہا ہے کہ آپؐ اپنے ایک مرید کو فرما رہے ہیں کہ میرے لیے دعا کرنا۔

کسی کام کے کرنے میں بھی آپؐ عار نہیں سمجھتے تھے اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی آپؐ خود کر کے دوسروں کو دکھاتے تھے بلکہ سکھاتے تھے۔

چنانچہ ایک روایت ہے کہ نبی کریمﷺکا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا۔ تو آپؐ نے اسے پرے کیا اور فرمایا پیچھے ہٹو تاکہ میں تمہیں صحیح طریقہ دکھاؤں کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ تم کھال اتارنے میں مہارت رکھتے ہو۔ چنانچہ آپؐ نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا اور اسے اندر تک لے گئے یہاں تک کہ وہ بغل تک چھپ گیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا یوں کرو۔ اے لڑکے! اس طرح کھال اتارو۔ آپؐ نے اس کا سارا کام بھی کیا اور سکھایا بھی۔

حضرت خبابؓ کی بیٹی سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہؐ کے پاس بکری دودھ دوہنے کے لیے لے کر آئی۔ تو آپؐ نے اسے باندھا اور اس کا دودھ دوہا۔ آپؐ نے فرمایا :میرے پاس بڑا برتن لے کر آؤ۔سو میں ایک بڑا برتن لائی تو آپؐ نے اس میں دودھ دوہا یہاں تک کہ وہ بھر گیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا خود بھی پیو اور اپنے پڑوسیوں کو بھی پلاؤ۔

سلام کرنے اور مجلس میں بیٹھنے کے بارے میں بھی آپؐ کی عاجزانہ حالت اور اعلیٰ اخلاق کی مثال ملتی ہیں۔حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ

جب کوئی شخص نبی کریمﷺ کے سامنے آتا تو آپؐ اس سے مصافحہ فرماتے۔ آپؐ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہ کھینچتے یہاں تک کہ وہ شخص خود اپنا ہاتھ کھینچ لیتا اور آپؐ اپنا چہرہ مبارک اس کے چہرے سے نہ موڑتے یہاں تک کہ وہ شخص خود منہ موڑ لیتا اور آپؐ کو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اپنے ہم نشین کے سامنے گھٹنے بڑھائے ہوئے ہوں۔

بادیہ نشینوں میںایک زاہر نامی صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دیہات کی سوغاتیں لایا کرتے تھے اور جب وہ جانے لگتا تو آنحضرتؐ بھی اس کو کافی مال و متاع دے کر روانہ فرماتے۔ آنحضرتؐ فرمایا کرتے تھے کہ زاہر ہمارے بادیہ نشین یعنی گاؤں میں رہنے والے دوست ہیں اور ہم ان کے شہری دوست ہیں۔

ایک دن ایسا ہوا کہ زاہر بازار میں اپنا کچھ سامان فروخت کر رہےتھےکہ نبی کریمؐ اس کے پاس تشریف لائے اور پیچھے سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ حضرت زاہرؓ آنحضورﷺ کو دیکھ نہیں پارہے تھے۔ اس نے پوچھا کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو۔ لیکن جب انہوں نے مڑ کر دیکھا تو آنحضرتؐ کو پہچان لیا تو اپنی کمر نبی کریمؐ کے سینہ مبارک سے ملنے لگے۔ آنحضرتؐ نے کہنا شروع کر دیا کہ کون اس غلام کو خریدے گا؟ حضرت زاہر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! تب تو آپؐ مجھے گھاٹے کا سودا پائیں گے۔ مجھے کس نے خریدنا ہے؟ اس پر نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک تم گھاٹے کا سودا نہیں ہو، یا فرمایا کہ اللہ کے حضور تم بہت قیمتی ہو۔

حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اپنے والد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے کے بارے میں پوچھا ۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ

جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لاتے تو گھر کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے۔ ایک حصہ اللہ جلّ شانہٗ کے لیے وقف فرماتے۔ ایک حصہ اپنے اہل کے لیے ۔اور ایک حصہ خود اپنے لیے۔ پھر اپنے حصے کو بھی اپنے اور لوگوں کے درمیان بانٹ لیتے اور اس میں خاص صحابہؓ کے ذریعے عام لوگوں تک دین کی باتیں پہنچاتے اور ان سے کوئی بات بچا نہ رکھتے۔

آپؐ پر جو پہلی وحی ہوئی اس سے بھی آپؐ کی عاجزی اور انکساری کا اظہار ہوتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں :سب سے پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی جس میں جبرائیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آئے اور کہا اِقْرَاْ یعنی پڑھ۔رسول کریمﷺ نے فرمایا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ بوجھ مجھ پر نہ ڈالا جائے کیونکہ اس وقت آپﷺکے سامنے کوئی کتاب تو نہیں رکھی تھی جسے آپؐ نے پڑھنا تھا بلکہ جو کچھ جبرائیل بتاتا وہ آپؐ کو زبانی کہنا تھا اور یہ آپؐ کہہ سکتے تھے مگر آپؐ نے انکسار کا اظہار کیا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے آپﷺکو چنا تھا اس لیے بار بار کہا کہ پڑھو ۔آخر تیسری بار کہنے پر آپؐ نے پڑھا۔

حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپؐ اپنے بالا خانے میں تشریف فرما تھے اور اس وقت آپؐ ایک چٹائی پر تھے اور آپؐ کے اور اس بوریے کے درمیان کوئی چیز نہ تھی اور آپؐ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور آپؐ کے پاؤں کے پاس کیکر کے پتوں کا ڈھیر لگا تھا ۔ میں نے آپؐ کے پہلو میں چٹائی کا نشان بھی دیکھا ۔ یہ دیکھ کر میں رو پڑا ۔آپﷺنے پوچھا تمہیں کیا بات رُلارہی ہے؟میں نے کہا یا رسول اللہﷺ! کسریٰ و قیصر آسائش میں ہیں ۔ آپؐ تو اللہ کے رسول ہیں اور اس حا ل میں۔ آپؐ نے فرمایا:

کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو۔

بد اخلاق لوگوں سے بھی آپؐ ہمیشہ نرمی اور عاجزی کا سلوک فرماتے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺکے پاس آ کر اپنا حق طلب کیا اور سخت لہجہ اختیار کیا ۔ صحابہ کرامؓ غصہ ہوئے مگر رسول اللہﷺنے فرمایا : اسے چھوڑ دو اور ایک اونٹ خرید کر اسے دے دو ۔ صحابہؓ نے کہا ہمیں اس کے قرض کے برابراونٹ نہیں مل رہا بلکہ اس سےزیادہ قیمتی اونٹ مل رہے ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا :

وہی اسے دے دو کیونکہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں سب سے بہتر ہے۔

فتح مکہ کے وقت حضرت ابوبکرؓ اپنے والد کو لے کر رسول کریمﷺکے پاس حاضر ہوئے۔ نبی کریمﷺنے ان کو دیکھا تو فرمایا :اے ابوبکر! تم اس عمر رسیدہ شخص کو گھر رہنے دیتے۔ مَیں خود ان کے پاس آجاتا۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! یہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔آپؓ نے انہیں رسول کریمﷺکے سامنے بٹھایا ۔ آپﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اسلام لے آئیں آپ سلامتی میں آجائیں گے۔ چنانچہ ابوقحافہؓ نے اسلام قبول کر لیا۔

آپؐ کے گھرکے بارے میں حضرت حسنؓ سے روایت ہے کہ

رسول اللہﷺ کے دروازے سب کے لیے کھلے تھے۔ آپﷺکے لیے نہ کوئی دربان کھڑا ہوتا تھا نہ آپﷺکے لیے صبح شام بڑے بڑے برتنوں میں کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ یعنی اعلیٰ قسم کے کھانے پیش نہ ہوتے تھے۔ رسول اللہﷺسے جو بھی ملاقات کرنا چاہتا وہ آسانی سے آپﷺسے مل سکتا تھا۔ آپﷺزمین پر بیٹھتے ۔ سادہ اور موٹے کپڑے پہنتے۔ گدھے پر سوار ہوتے۔ لوگوں کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھاتے اور کھانے کے بعد اپنے انگلیاں چاٹ لیاکرتے تھے یعنی صاف کر لیتے تھے۔

انگلیاں چاٹنے کے بارے میں حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ کا ایک نوٹ ہے جس میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اطباء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انسان کے ہاتھ کی انگلیوں میں خاص لمس کی طاقت ہے۔ اس لیے اگر کھانے کے بعد انگلیاں چاٹ لی جائیں تو ہاضمہ میں مفید ہوتا ہے۔

مسجد کی صفائی کرنے کے متعلق حضرت یعقوب بن زیدؓ سے مروی ہے کہ

رسول اللہﷺ مسجد میں آنے والی گرد و غبار کو ایک چھڑی کے ساتھ صاف کر لیا کرتے۔یعنی چھڑی کے آگے کوئی کپڑا وغیرہ لگا کر اس سے جھاڑ پونچھ کر تے تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے۔وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا اور اس پر رحم کرتا ہے اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مرسلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلود زندگی سے نجات دیں۔ مگر تکبر بہت خطرناک بیماری ہے۔ جس انسان میں یہ پیدا ہو جاوے اس کے لیے روحانی موت ہے۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ بیماری قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ متکبر شیطان کا بھائی ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ تکبر ہی نے شیطان کو ذلیل و خوار کیا ۔ اس لیے

مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی ، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا کے ماموروں کا خاصہ ہوتا ہے ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔

آپؐ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپؐ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ میری خدمت کرتے ہیں ۔اللّٰھم صل علی محمدو علی آل محمدو بارک وسلم۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرتﷺ کی تعلیمات اور آپؐ کی سنت پر چلتے ہوئے عاجزی کی راہوں کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے

مکرم ملک داؤد محمودصاحب ابن محمد اسحاق صاحب مرحوم آف وہاڑی حال کراچی کا ذکر خیر فرمایا۔

مرحوم موصی تھے۔ آپ کے دادا محمد دین صاحب نے ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔مقامی سطح پر صدر جماعت اور سیکرٹری جماعت کے طور پر خدمت کی توفیق ملتی رہی۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔ایک بیٹے محمد اکمل صاحب گیمبیام میں بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق پا رہے ہیں جو میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے اپنے والد کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔حضور انور نے مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا کی۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button