حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ہمیشہ نظام جماعت کی اطاعت میں ہی برکت ہے

ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے حاکم سے ناپسندیدہ بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو نظام سے بالشت بھر جدا ہو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔ (صیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظہور الفتن وتحذیرالدعاۃ الی الکفر)

بعض لوگ، لوگوں میں بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ نظام نے یہ فیصلہ کیا فلاں کے حق میں اور میرے خلاف۔ لیکن میں نے صبر کیا لیکن فیصلہ بہرحال غلط تھا۔ میں نے مان تو لیا لیکن فیصلہ غلط تھا۔ تو اس طرح لوگوں میں بیٹھ کر گھماپھرا کر یہ باتیں کرنا بھی صبر نہیں ہے۔ صبر یہ ہے کہ خاموش ہو جاتے اور اپنی فریاد اللہ تعالیٰ کے آگے کرتے۔ ہو سکتا ہے جہاں بیٹھ کر باتیں کی گئی ہوں وہاں ایسی طبیعت کے مالک لوگ بیٹھے ہوں جو یہ باتیں آگے لوگوں میں پھیلا کر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس طرح نظام کے بارے میں غلط تأثر پیدا ہو۔ اور اس سے بعض دفعہ فتنے کی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور پھر جولوگ اس فتنے میں ملوث ہو جاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ پھر وہ جاہلیت کی موت مرتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں :’’کیا اطاعت ایک سہل امر ہے جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلے کو بدنام کرتا ہے۔ حکم ایک نہیں ہوتابلکہ حکم تو بہت ہیں۔ جس طرح بہشت کے کئی دروازے ہیں کہ کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے اور کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے، اسی طرح دوزخ کے کئی دروازے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم ایک دروازہ تو دوزخ کا بند کرو اور دوسرا کھلا رکھو۔‘‘(ملفوظات جلد دوم صفحہ ۴۱۱، البدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء)

(خطبہ جمعہ ۲۷؍اگست ۲۰۰۴ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۰؍ستمبر ۲۰۰۴ء)

مزید پڑھیں: شیطان ہمیشہ انسان کے پیچھے پڑا رہتا ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button