افریقہ (رپورٹس)

کانگو کنشاسا میں مسجد بیت الباسط اور مسجد بیت التواب کا مبارک افتتاح

محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ کانگوکنشاسا کو دو مساجد کی تعمیر اور پھر ان کے افتتاح کی بابرکت تقریبات منعقد کرنے کی توفیق ملی۔

مسجد بیت الباسط (Mbali)

Mbali صوبہ Kwilu کا ایک گاؤں ہے۔ یہاں جماعت نے ایک چھوٹی مسجد تعمیر کی تھی لیکن شدید بارشوں کی وجہ سے وہ منہدم ہو گئی۔ اس وجہ سے یہاں ایک بڑی مسجد کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ مکرم فرید احمد بھٹی صاحب ریجنل مبلغ سلسلہ نے اس مسجد کا سنگ بنیاد مورخہ ۱۸؍جولائی ۲۰۲۵ء کو رکھا۔

مسجد بیت الباسط (Mbali)

یہاں تعمیراتی سامان پہنچانا بہت مشکل کام تھا۔ موٹر والی کشتی پر سامان پہنچانے کے لیے تقریباً دس گھنٹے سے زائد لگتے ہیں جس کے بعد مزید تین کلو میٹر بہت دشوار زمینی راستہ ہے۔ تعمیراتی سامان باندوندو شہر سے بھجوایا گیا جس کے بعد پورٹ سے مقامی احمدی احباب نے تین کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے مسجد کی تعمیر کی جگہ پر پہنچایا۔ سامان کی رسد یہاں کافی مشکل تھی جس کی وجہ سے اس مسجد کی تعمیر کا کل دورانیہ تقریباً چار ماہ رہا۔

افتتاح مسجد:جماعتی وفد پہلے دریا اور پھر موٹرسائیکلز کے ذریعہ مورخہ ۳۰؍جنوری ۲۰۲۶ء کو Mbali پہنچا۔ مقامی افراد جماعت کے علاوہ قریب کی جماعتوں سے آنے والے ۲۵۰؍سے زائد احمدی احباب، مقامی چیف اور مقامی آبادی کے افراد موجود تھے۔ سکول کے بچوں نے جن کی تعداد ۱۵۰؍کے قریب تھی، مقامی زبان میں نغمے پڑھے اور خوش آمدید کہا۔

مسجد بیت الباسط (Mbali)

افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم و ترجمہ سے ہوا۔ مکرم عبداللہ وابی صاحب معلم سلسلہ نے احباب جماعت اور مہمانوں کے سامنے جماعت احمدیہ کا تعارف پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم محمد بولیمے صاحب نے ’’اسلام اور امن عالم‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ صدر جماعت Mbali مکرم راشدی ماپیلے صاحب نے تعمیر مسجد کی رپورٹ پیش کی جس میں آپ نے بتایا کہ اس دُوردراز علاقے میں مسجد کی تعمیر ایک بہت ہی مشکل کام تھا لیکن مقامی جماعت نے انتھک محنت سے اس کی تعمیر کو ممکن بنایا۔ اس مسجد کا کُل مسقف حصہ ۷۵؍مربع میٹر ہے۔

دو بڑے چیفس نے اس مسجد کی تعمیر پر مبارک باد دی۔ بعد ازاں فیتہ کاٹ کر اس مسجد کا افتتاح کیا گیا اور دعا کروائی گئی۔

مسجد بیت التواب (Bunzili)

بونزیلی باندوندو ریجن کا ایک بڑا گاؤں ہے جو دریائے کوویلو کے کنارے پر باندوندو سے تقریباً ۳۰؍کلو میٹر کے دریائی فاصلے پر واقع ہے۔ بونزیلی کی جماعت کا شمار باندوندو ریجن کی ابتدائی جماعتوں میں ہوتا ہے۔ یہاں بھی ٹین کی چھت کی کچی مسجد تعمیر کی گئی تھی جو بارش کی وجہ سے منہدم ہو گئی۔

مکرم فرید احمد بھٹی صاحب نے ۲۱؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ تعمیراتی سامان جماعتی موٹر بوٹ کے ذریعے پہنچایا جاتا رہا۔ مقامی احمدیوں نے ریت، پتھر اور بجری وقار عمل کے ذریعہ خود مہیا کی۔ ان کی انتھک محنت کی وجہ سے یہ مسجد انتہائی کم بجٹ میں صرف ۴۰؍دنوں میں مکمل ہوئی۔

مسجد بیت التواب (Bunzili)

افتتاح مسجد:مورخہ یکم فروری ۲۰۲۶ء کو جماعتی وفد موٹر بوٹ کے ذریعہ تقریباً ۱۲؍بجے Bonzili پہنچا۔ مقامی افراد جماعت کے علاوہ قریب کی جماعتوں کے ۲۰۰؍سے زائد احمدی احباب، مقامی چیف اور مقامی آبادی کے افراد موجود تھے۔

مسجد بیت التواب (Bunzili)

افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم و ترجمہ سے ہوا۔ مکرم عمر بلیسی صاحب ہیڈ چیف، جو پرانے احمدی ہیں اور آپ کی زیر نگرانی بہت بڑا علاقہ ہے جس میں چالیس سے زائد گاؤں ہیں، نے استقبالیہ کلمات کہے۔ مکرم عبداللہ وابی صاحب معلم سلسلہ نے احباب اور مہمانوں کے سامنے جماعت احمدیہ مسلمہ کا تعارف پیش کیا جس کے بعد مکرم محمد بولیمے صاحب نے ’’اسلام اور امن عالم‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ صدر جماعت مکرم ظفر سلانگا صاحب معلم سلسلہ نے مسجد کی تعمیر کی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا کہ اس دُوردراز کے علاقے میں مسجد کی تعمیر ایک بہت ہی مشکل کام تھا لیکن مقامی جماعت نے انتھک محنت سے اس کی تعمیر کو ممکن بنایا۔ اس مسجد کا کُل مسقف حصہ ۷۲؍مربع میٹر ہے۔ اس کے بعد مقامی چیف نے مسجد کی تعمیر پر مبارک باد دی۔ بعدہٗ فیتہ کاٹ کر علامتی طور پر اس مسجد کا افتتاح کیا گیا اور دعا کروائی گئی۔ اس تقریب میں شاملین کی تعداد ۴۴۵؍رہی۔ الحمدللہ

اللہ تعالیٰ ان مساجد کو دین اسلام اور احمدیت کے پیغام کے فروغ کا مرکز بنائے اور مقامی جماعتوں کو مزید ترقیات عطا فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: شاهد محمود خان۔نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ لائبیریا کے بائیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ءکا بابرکت انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button