لطیف مزاح
٭… حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک طالبہ سے تحقیق کے نتائج کے بارے میں دریافت فرمایا کہ اس کے رزلٹس کیا آئے ہیں؟
اس طالبہ نے بتایا اس کے رزلٹس مثبت ہیں، گیزن میں جہاں میں پڑھتی ہوں، وہاں تین مریضوں پر اس کو آزمایا گیا۔ اس سے ان کی لائف کی میعاد بڑھ گئی تھی، ان کے ٹیومر سکڑ گئے تھے، لیکن وہ تینوں فوت ہوگئے تھے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے ایک بادشاہ کے گھوڑے کی مثال سنائی کہ ایک بادشاہ کا گھوڑا تھا جو اس کا بہت لاڈلا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا، اونچی اونچی سانسیں لینے لگا، مرنے لگا تو اس نے حکیموں کو بلایا۔ سب نے کہا یہ مرنے والا ہے۔ بادشاہ نے ان کو خوب جوتیاں ماریں۔ پھر ایک اور حکیم کو بلایا۔ اس نے باقیوں کا حال دیکھا تھا۔ اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ کا گھوڑا پُرسکون ہوگیا ہے۔ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اب یہ آرام سے سویا رہے گا۔ بادشاہ نے کہا کہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ مرگیا ہے۔ اس نے کہا یہ آپ کہہ رہے ہیں میں نہیں کہہ رہا۔ یہ آپ کی ریسرچ کے نتائج ہیں کہ بہت اچھے آئے اور تینوں مریض پُرسکون ہو کر مرگئے۔(الفضل انٹرنیشنل 17 جولائی 2015ء)
٭… ایک واقف نو نے عرض کی کہ میرا سوال یہ ہے کہ میں آپ کو نظم کے دو شعر سنا سکتا ہوں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا یہ سوال تو نہیں جواب ہے۔ (مسکراتے ہوئے فرمایا) سنا دو۔چنانچہ بچے نے دو شعر سنائے۔(الفضل انٹرنیشنل24جولائی 2015ء)
٭… ایک بچے نے عرض کیا کہ میں دو شعر نظم کے پڑھ سکتا ہوں کیونکہ میں اپنے نانا ابو سے یہ وعدہ کرکے آیا ہوں۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : اگر وعدہ پورا نہ کیا تو پھر کیا کہتے تھے ماروں گا؟ چلو پڑھ دو۔چنانچہ اس بچے نے دو اشعار پڑھے۔(الفضل انٹرنیشنل 24 جولائی 2015ء)
٭… حضورانور نے ایک واقفہ نوسےدریافت فرمایا کہ بڑی ہو کر کیا کرو گی تو اُس نے کہا کہ میں Psychology میں ماسٹرز کروں گی۔
اس پر حضور انور نے ایک لطیفہ سنایا کہ ایک لڑکا Psychology پڑھ رہا تھا تو ایک دن گھر میں کھانے کی میز پر اس کی ماں نے پوچھا کہ آجکل تم کیا پڑھ رہے ہو تو اس نے جواب دیا کہ میں Logic پڑھ رہا ہوں یعنی ایک اور ایک کو تین ثابت کرنا۔ تو وہاں چکن کے دو پیس پڑے تھے۔ اُس کے باپ نے ایک اپنی پلیٹ میں رکھ لیا اور دوسرا اُس کی ماں کی پلیٹ میں اور اپنے بیٹے سے کہا کہ تم ایک اور ایک کو تین ثابت کرتے ہو نا ںتو تیسرا تم لے لو۔(الفضل انٹرنیشنل 13؍ ستمبر2013ء)
٭… حضورِ انور نے ایک پنجابی مثال کے ذریعے سمجھایا کہ سوئے ہوئے کو تو آدمی جگا سکتا ہے لیکن جاگتے ہوئے آدمی کو کوئی کس طرح جگائے ، جو جاگتا آدمی مچلا بنا ہوا ہے، اس کو جگانا بڑا مشکل کام ہے۔ اس میں ایک لطیفہ بھی ہے۔ قادیان کی بات ہے کہ ہوسٹل کے بعض لڑکے بورڈنگ سکول کے سوئے رہتے تھے اور فجر کی نماز پر نہیں جاتے تھے، تو superintendent نے شکایت کی۔ تو ان کے انچارج نے کہا کہ اچھا! صبح مَیں آؤں گااور دیکھوں گا۔ انہیں کہا گیا کہ سوئے نہیں ہوتے بلکہ مچلے بنے ہوتے ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ اچھا! پھر مَیں اس کا علاج کرتا ہوں اور صبح مَیں آؤں گا۔ فجر کی نماز پر وہ گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو ! تم کہتے ہو کہ یہ سوئے ہوئے ہیں، لیکن یہ تو سارے جاگ رہے ہیں، کیونکہ سوئے ہوئے آدمی کا دائیں پاؤں کا انگوٹھا سوتے وقت ہلتا ہے۔ انہوں نے ویسے ہی ایک بات کی تھی۔ مگریہ بات سنتے ہی جتنے مچلے بنے سوئے ہوئے تھے ، ان سب نے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلانا شروع کر دیا۔ تو انہوں نے اِنہیں اُٹھایا کہ تم لوگ اُٹھ کے بیٹھ جاؤ، تم جاگ رہے ہو، کیونکہ میری بات سن کے تم نےانگوٹھا ہلانا شروع کر دیا ہے۔(الفضل انٹرنیشنل 18 دسمبر 2025ء)
٭… حضورِ انور نے تسبیحات تیزی سے پڑھنے کے رجحان کی نفی فرماتے ہوئے ایک لطیفہ بھی بیان فرمایا کہ اوّل تو پُھر پُھرکر کے جو لوگ بعض پڑھتے ہیں وہ تو پانچ منٹ میں ہی ختم کر دیتے ہیں، جس طرح پاکستان کی ایک بڑی سیاستدان کا ایک لطیفہ ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ تسبیح ہاتھ میں رکھتی ہو، تو بڑی جلدی دانے پھیرتی ہو ، کیا کرتی ہو؟ اس نے کہا کہ مَیں آیت الکرسی پڑھ رہی ہوتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی جلدی آیت الکرسی کس طرح پڑھی جاتی ہے؟ سیاستدان تھی، اس نے کہا کہ اس میں کیا ہے، کرسی کرسی کرتی رہتی ہوں۔ تو کرسی کرسی نہ کرتے رہیں باقی اس میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔(الفضل انٹرنیشنل5 فروری 2026ء)
٭… لڑکے میں برداشت کا مادہ زیادہ ہونا چاہیے۔ بعض دفعہ گھر میں اونچ نیچ ہو بھی جاتی ہے تو برداشت کرو۔ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص تھا اس کو ایک لڑکا ملا اس نے کہا بابا جی سنا ہے آپ کی شادی کو تیس سال ہو گئے ہیں اور کبھی لڑائی نہیں ہوئی،کبھی تعلقات خراب نہیں ہوئے، کیا وجہ ہے؟ کہتا ہے شادی کے دن میں نے اپنی بیوی کو کہا تھا اگر کبھی مجھے غصہ چڑھے تو تم بجائے آگے سے جواب دینے کے کچن میں چلی جانا اور جب تمہیں غصہ چڑھے گا تو میں بھی تمہیں جواب نہیں دوں گا میں اوپر اپنے گھر کے ٹیرس (terrace)پہ چلا جایا کروں گا۔ تو کہتا ہے گذشتہ تیس سال سے میں ٹیرس پہ بیٹھا ہواہوں۔اس لیے مرد کو ہی حوصلہ دکھانا پڑتا ہے۔(الفضل انٹرنیشنل 24 فروری 2023ء)
٭… دوبارہ reading اور editingکرنی پڑتی ہے۔ کیونکہAIکے پاس تو اتنی ہی capacity ہے جتنی اس کو آپ نے feed کی ہوئی ہے یا اس کو جو انسان نے feed کیا، وہ اس نےproduceکر دینا ہے۔ یہی ہوتا ہے۔حضورِانور نے ایک لطیفہ بیان فرمایا کہ کسی نے کہا کہ غالب کا شعر ہے
ہے خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پُرزے
اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں خبر پہنچی ہوئی ہے کہ غالب کوdisgraceکیا جائے گا۔تو کسی نے اس کو کہا کہ اس کا ترجمہ کرو۔ اس نے ترجمہ کیا کہ
It is a hot news that the parts of the Ghalib will fly,
تو یہ ترجمہ AIکو تم دو گے تو وہ پُرزے کو partsبنا دے گا اور اُڑنے کوflyکر دے گا۔اس طرح کہو تو بہرحال تمہیں دوبارہ دیکھنا پڑے گا، editing کرنی پڑتی ہے۔(الفضل انٹرنیشنل 19؍اکتوبر 2024ء)
