خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍جولائی 2026ء

آپؑ کی عطا ایک دریائے بیکراں تھی اور آپؑ کا ہاتھ ابرِ گوہر بار تھا۔برستا تھا اور سیراب کرجاتا تھا۔اور یہ سلسلہ رمضان کے مہینے میں بہت بڑھ جاتا تھا۔اور مخفی در مخفی طریقوں سے حضورؑ حاجت مندوں کو دیتے رہتے تھے۔اور قیمتی سے قیمتی چیز دوسرے کو دے دینے میں آپؑ کو کبھی تامّل نہ ہوتا تھا… کوئی موقع ایسا آپؑ کو پیش نہیں آیا کہ آپؑ سے کسی نے کچھ مانگا ہو اور آپؑ نے نہ دیا ہو۔ یا آپؑ نے کسی کی حاجت کو محسوس کر کے بغیر اس کے سوال یادرخواست کے اس کی مدد نہ کی ہو۔ آپؑ کریم ابن ِکریم ابن ِکریم تھے (روایت حضرت یعقوب علی عرفانی صاحبؓ)

حضرت صاحبؓ بڑی مہربانی فرماتے اور ہمیشہ ہنستے ہوئے ملتے اور کبھی خالی ہاتھ آنے نہ دیتے…
ہمیشہ حضرت صاحبؑ سے محبت اور مروّت ہی دیکھی ہے (روایت پنڈت موہن لال)

آپؑ کو کسی چیز کے قیمتی ہونے سے غرض نہیں تھی۔ آپؑ نے تو اپنے اخلاق کے اعلیٰ ظرف دکھانے تھے

علاج کے باوجود جب میری بیوی کی حالت نازک ہوگئی تو آپؑ نے فرمایا: دنیا کے جتنے ہتھیار تھے وہ تو ہم نے چلا لیے۔ اب ایک ہتھیار باقی ہے اور وہ دعا ہے۔ تم جاؤ مَیں دعا سے اس وقت سر اٹھاؤں گا جب اسے صحت ہو گی (روایت حضرت مفتی فضل الرحمٰن صاحبؓ)

جب دوائی (تریاقِ الٰہی) تیار ہوئی تو حضورؑ نے نہایت فراخدلی کے ساتھ اسے تقسیم کیا اور ایک حَبَّہ یعنی ایک دانہ بھی کسی سے نہیں لیا۔
کچھ نہیں لیا بلکہ باہر سے طلب کرنے والوں کو رجسٹرڈ پارسل بھی اپنے خرچ سے بھجواتے تھے (ایک روایت)

جو ہم کسی کو دے دیا کرتے ہیں واپس نہیں لیتے (حضرت مسیح موعودؑ)

حضور علیہ السلام کو ایک دفعہ مَیں نے دیکھا کہ کُرتے کی جھولی میں بہت سے روپے لائے اور بغیر شمار مُلّا احمد نورکی جھولی میں ڈال دیے (ایک روایت)

میرے والد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ذکر کیا کہ بچوں کو کھانے کی تکلیف ہے۔ اس پر حضورؑ نے ازراہ شفقت فرمایا کہ کھانا بچوں کو گھر سے ملا کرے گا ۔ چنانچہ کئی ماہ تک کھانا حضورؑ کے اپنے گھر سے ہمیں آتا رہا اور کبھی کبھی حضورؑ گھر سے آم اور مٹھائی وغیرہ بھی کھانے کے لیے بھیجتے رہے (ایک روایت)

حضرت صاحبؑ  کی یہ عام عادت تھی کہ روپیہ خادموں کو بھی گِن کر نہیں دیتے تھے۔ پورا اعتماد اور اعتبار رکھتے تھے۔ جہاں تک مجھے رہنے کا اتفاق ہوا ہے کبھی کسی خادم سے حضرت صاحبؑ نے حساب نہیں مانگا بلکہ جب کوئی مانگتا حضرت صاحبؑ اسے دے دیتے (ایک روایت)

آخر عمر تک مجھ سے کبھی حساب نہیں مانگا اور نہ کبھی ناراض ہوئے (روایت حضرت شیخ حامد علی صاحبؓ)

حضرت حکیم الامت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آپؑ سے کچھ قرض لیا۔ جب انہوں نے اس روپیہ کو حضرتؑ کی خدمت میں واپس بھیجا تو حضرتؑ نے ناپسند فرمایا اور واپس کر کے فرمایا کہ آپ ہمارے روپیہ کو اپنے روپیہ سے الگ سمجھتے ہیں؟

جب سے حضرت اقدسؑ نے بعثت کا اعلان کیا اور لوگوں کو یہ بھی علم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے آپؑ کو بشارت دی ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ لوگ علی العموم آپؑ سے کپڑوں کا سوال کرتے تھے اور آپؑ کبھی کسی کو جواب نہیں دیتے تھے اور بعض اوقات یہ حالت ہو جاتی تھی کہ آپؑ کے بدن پر ہی کپڑے رہ جاتے تھے اورسب دے دیے جاتے

حضرت صاحبؑ کی سخاوت کا کیا کہنا۔مجھے کبھی آپؑ کے زمانہ میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
جو ضرورت ہوتی بلا تکلّف مانگ لیتا اور حضورؑ میری ضرورت سے زیادہ دے دیتے اور خود بخود بھی دیتے رہتے (ایک روایت)

یہ ہیں اپنے آقا ؐکی کامل اتباع کے نمونے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی عَبْدِکَ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ

امام الزمان سیدناحضرت اقدس مسیح موعودؑ کی شفقتوں، عنایتوں اورجُود و سخا کے ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍جولائی 2026ء بمطابق 03؍وفا1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی شفقتوں اور جُودو سخا کے کچھ واقعات پیش کروں گا۔

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓلکھتے ہیں کہ

آپؑ کی عطا ایک دریائے بیکراں تھی اور آپؑ کا ہاتھ ابرِ گوہر بار تھا۔یعنی موتی برسانے والے بادل تھے ۔برستا تھا اور سیراب کرجاتا تھا۔اور یہ سلسلہ رمضان کے مہینے میں بہت بڑھ جاتا تھا۔اور مخفی در مخفی طریقوں سے حضورؑ حاجت مندوں کو دیتے رہتے تھے۔اور قیمتی سے قیمتی چیز دوسرے کو دے دینے میں آپؑ کو کبھی تامّل نہ ہوتا تھا۔

یہ حالت آپؑ کی زندگی کے تمام حصوں میں پائی جاتی ہے۔ بعثت اور ماموریت سے پہلے بھی یہ اپنی شان میں جلوہ گر ہے ۔چنانچہ میاں غَفَارَا صاحب (عبدالغفار) کشمیری… حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احسان اور مروّت کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنا بیان دیتے ہیں کہ جب ان کی شادی ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں دو قیمتی زیور ان کی مدد کے لیے دے دیے۔ یہ آپؑ کی بعثت کے زمانے سے پہلے کی بات ہے جبکہ آپؑ ایک گوشہ نشین کی صورت میں زندگی بسر کرتے تھے۔

حضرت شیخ صاحبؓ  لکھتے ہیں کہ یہ ایک اکیلی مثال نہیں۔ایسے بہت سے واقعات ہیں۔

کوئی موقع ایسا آپؑ کو پیش نہیں آیا کہ آپؑ سے کسی نے کچھ مانگا ہو اور آپؑ نے نہ دیا ہو۔ یا آپؑ نے کسی کی حاجت کو محسوس کر کے بغیر اس کے سوال یا درخواست کے اس کی مدد نہ کی ہو۔ آپؑ کریم ابن ِکریم ابن ِکریم تھے۔

(ماخوذ از سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 312) (ماخوذ ازسیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 290) (فیروزاللغات صفحہ 52)

حضرت والدہ بشیر احمد صاحب بھٹی بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی حضرت مرزا محمود احمد ؓکی شادی کے موقع پر ایک میراثی عورت ڈھول لے کر حضورؑ کے گھر آگئی اور بجانا شروع کر دیا جس سے اس کی غرض کچھ لینے کی تھی کیونکہ شادی کا موقع تھا۔ یہ وہاںرواج ہے عام طور پر۔ جب حضورؑ نے ڈھول کی آواز سنی تو فوراً اس طرف متوجہ ہو گئے اور فرمایا کہ اس کو کہو کہ یہ نہ بجائے اور بند کراؤ اور جو کچھ یہ مانگتی ہے اس کو دے دو۔ چنانچہ اس کو چار پانچ روپے دے دیے گئے۔پھر وہ کہنے لگی کہ سردی کا مہینہ آگیا ہے اور مجھے سردی لگتی ہے۔تب اسے ایک رضائی بھی آپؑ نے دلوا دی لیکن ڈھول بند کروا دیا۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 3 صفحہ441)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ سب سے اوّل یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آپؑ کو کسی قسم کے خاص لباس کا شوق نہ تھا۔ آخری ایام کے کچھ سالوں میں آپؑ کے پاس کپڑے سادے اور سِلے سلائے بطور تحفہ کے بہت آتے تھے۔ خاص کر کوٹ، صدری اور پائجامہ قمیض وغیرہ جو اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری ہر عید بقر عید کے موقعہ پر اپنے ہمراہ نذر لاتے تھے وہی آپؑ استعمال فرمایا کرتے تھے مگر علاوہ ان کے کبھی کبھی آپؑ خود بھی بنوا لیا کرتے تھے۔ عمامہ تواکثر خود ہی خرید کر باندھتے تھے ۔جس طرح کپڑے بنتے تھے اور استعمال ہوتے تھے اُسی طرح ساتھ ساتھ خرچ بھی ہوتے جاتے تھےیعنی ہر وقت تبرک مانگنے والے طلب کرتے رہتے تھے۔ بعض دفعہ تو یہ نوبت پہنچ جاتی کہ آپؑ ایک کپڑا بطور تبرک کے عطا فرماتے تو دوسرا بنوا کر اس وقت پہننا پڑتا اور بعض سمجھدار اس طرح بھی کرتے کہ مثلاً ایک کپڑا اپنا بھیج دیا اور ساتھ عرض کر دیا کہ حضور اپنا اترا ہوا تبرک مرحمت فرما دیں۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1 حصہ 2 صفحہ 416 روایت 447)

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ  تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے انہیں فرمایا کہ’’ میرے پاس ایک چھوٹی سی حمائل ہوا کرتی تھی‘‘ چھوٹا قرآن شریف تھا ’’جس کا خط بھی بہت واضح تھا اور وہ مجھے بہت پسند تھی مگر ایک شخص نے سوال کیا تو مَیں نے اسے دے دیا تاکہ سوال ردّ نہ ہو۔‘‘

(ذکرِ حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ صفحہ 138)

حضرت قریشی شیخ محمد صاحبؓ جو چٹھی رساں تھے پوسٹ آفس میں، قادیان کے رہنے والے تھے کہتے ہیں کہ’’ ایک دفعہ مَیں حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں بہت سے منی آرڈر برائے تقسیم لے کر گیا اور ان کی رقومات حضورؑ کو تقسیم کرنے کے بعد شہر میں ڈلیوری کا کام کرتا رہا۔ جب چار بجے کے قریب ڈاکخانہ واپس پہنچا اور پوسٹ ماسٹر کو تقسیم شدہ منی آرڈروں کی واپسی دینے لگا تو حساب کرنے سے معلوم ہوا کہ مَیں نے غلطی سے چھ روپے کسی جگہ زائد تقسیم کر دیے ہیں۔ بڑی تشویش ہوئی کیونکہ حضورؑ کو جو رقم تقسیم کی گئی تھی وہ ہی ایک کثیر رقم تھی اس لیے پوسٹ ماسٹر نے جس کا نام اللہ دِتّا تھا اور جو ایک متعصب غیر احمدی تھا اُس نے کہا کہ بہتر ہے کہ تم جا کر مرزا صاحب سے دریافت کرو۔ میرا دل تو نہیں چاہتا تھا کہ حضورؑ کو پھر سے جا کر تکلیف دوں مگر اس کے بار بار کے اصرار پر مَیں حضورؑ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کی کہ حضور !آج مَیں نے غلطی سے کسی جگہ چھ روپے زائد تقسیم کر دیے ہیں۔ حضورؑ نے فرمایا کہ میاں! مجھے تو معلوم ہی نہیں کہ رقم کس قدر وصول کی گئی تھی اور مَیں تو اب اس میں سے کچھ خرچ بھی کر چکا ہوں‘‘ یعنی کہ دے دیے لوگوں کو’’ مگر خیر تم غریب آدمی ہو مَیں یہ رقم تمہیں دے دیتا ہوں مگر آئندہ احتیاط سے کام کیا کرو کیونکہ تم غریب ہو۔ اس واقعہ سے حضورؑ کے اخلاق حسنہ، سخاوت اور غربا پروری کا پتہ چلتا ہے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 5 صفحہ337-338)

حضرت میر مہدی حسین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب نے مجھ سے ’چشمہ مسیحی‘ کا ایک نسخہ طلب کیا۔مَیں نے کہا حضرت صاحبؑ نے فرمایا ہے کہ اتنے نسخے دفتر میں موجود ہونے چاہئیں کیونکہ بعض اوقات گورنمنٹ طلب کرتی ہے۔نسخے منگوا لیتی ہے جو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ اس لیے اب کوئی نسخہ زائد نہیں ہے جو آپ کو دیا جائے۔ آپ حضرت صاحبؑ سے اجازت لےکر لےسکتے ہیں تو مولوی صاحب نے حضور ؑکی خدمت میں لکھا کہ خط کا خلاصہ یہ تھا کہ دفتر میں نسخہ چشمہ مسیحی کے صرف بیس نسخے باقی ہیں اور مجھے ایک نسخے کی ضرورت ہے۔اگر حرج نہ ہو تو ایک نسخہ مجھے دے دیا جائے۔ حضور علیہ السلام نے کہا کہ آپ ایک نسخہ لے لیں تو اسی پہ تحریر لکھ دی،دستخط کر دیے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 3 صفحہ 479)

یہاں جہاں صحابہ ؓکی صاف گوئی کا بھی پتہ لگتا ہے کہ کس طرح انہوں نے بتا دیا کہ اتنے نسخے ہیں اور مجھے چاہیے اور دفتر تویہ کہتا ہے لیکن اگر نوازش ہو تو مل جائے ۔یہ ان کی صاف گوئی تھی ۔اور آپؑ کی عنایت کا بھی یہاں پتہ چلتا ہے کہ گو کہ ریزرو کے طور پر رکھے ہوئے تھے کہ کسی وقت ضرورت پڑسکتی تھی لیکن آپؑ نے سوالی کا سوال ردّ نہیں کیا۔

حضرت اقدسؑ کے پاس کبھی کبھی پنڈت موہن لال جو اس وقت ایک زیرک نوجوان تھا لیکھرام صاحب کا کوئی رقعہ وغیرہ لے کر چلا جاتا۔ چونکہ حضرت اقدسؑ کے خاندان کے ساتھ موہن لال کےقدیم تعلقات چلے آتے تھے۔ حضرت اقدسؑ پنڈت موہن لال صاحب کو بھی جب وہ جاتے خالی ہاتھ نہ آنے دیتے تھے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور دے دیتے تھے پھل وغیرہ یا شکر جو نہایت عمدہ آتی تھی۔اس زمانے میں ایک خاص تحفہ ہوتا تھا۔ پنڈت موہن لال نے جن کے خاندان کے ساتھ یہ شیخ یعقوب علی صاحبؓ  کہتے ہیں میرے بھی دوستانہ مراسم تھے اور ان کے باپ کے وقت سے چلے آتے تھے مجھ سے ان ایام کے واقعات کو دوہراتے ہوئے ہمیشہ کہا کہ

حضرت صاحبؓ بڑی مہربانی فرماتےاور ہمیشہ ہنستے ہوئے ملتے اور کبھی خالی ہاتھ آنے نہ دیتے۔

ایک دفعہ حضرت صاحبؓ نے مجھے نہایت عمدہ سیب دیے۔ مَیں لے کر گیا۔پنڈت لیکھرام کا بھی معمول ہو گیا تھا کہ جب میں واپس جاتا تو ضرور پوچھتا کیا لائے ہو؟ مَیں نے جب کہا کہ سیب لایا ہوں تو اس نے گویا للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر کہا کہ لاؤ لاؤ مَیں بھی کھاؤں۔ پنڈت موہن لال کہتے ہیں کہ مَیں نے ان کو ہنسی سے کہا کہ دشمن کے گھر کی چیز تم کو نہیں کھانی چاہیے۔ تم تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے دشمن ہو، باتیں کرتے ہو، تم کیوں مانگ رہے ہو ان کے گھر کی چیز؟ تو اس نے جھٹ میرے ہاتھ سے سیب لے لیا اور کھانا شروع کر دیا۔ چھین لیا اور کھانا شروع کر دیا۔ غرض یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے

ہمیشہ حضرت صاحبؑ سے محبت اور مروّت ہی دیکھی ہے۔

(ماخوذ ازحیات احمدؑ از یعقوب علی عرفانی صاحبؓ جلد 2 حصہ دوم صفحہ 186، 187)

حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں:’’حضور کے پاس مُشک ہوتا تھا ۔ایک دفعہ ذکر کیا کہ حضور! مجھے مُشک چاہیے۔ حضورؑ نے ڈبیہ میرے سامنے کر دی کہ اس میں سے جتنا چاہیں لے لیں۔ مَیں نے اس میں سے تھوڑا سا اٹھایا۔مسکرا کر فرمایا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے اور پھر تولہ ڈیڑھ تولہ کے قریب مُشک خود حضورؑ نے مجھے دے دی۔‘‘

(اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ 213)

یہ بہت قیمتی چیز ہے۔ مُشک آج بھی قیمتی ہے اور دوائیوں وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے لیکن

آپؑ کو کسی چیز کے قیمتی ہونے سے غرض نہیں تھی۔ آپؑ نے تو اپنے اخلاق کے اعلیٰ ظرف دکھانے تھے۔

آپؑ کا

دوستوں کے لیے درد اور عطا کا ایک واقعہ

حکیم مفتی فضل الرحمٰن صاحبؓ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میری بیوی کو بچہ تولد ہوا اور اس کے ساتویں دن مغرب کے قریب بیوی کو تشنج کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔کیونکہ ان دنوں میں یہ وبا پھیلی ہوئی تھی اس لیے اس کی طرف بہت توجہ ہو گئی۔ کہتے ہیں مَیں مغرب کے بعد حضرت صاحبؑ کی خدمت میں دوڑا گیا اور ان سے عرض کی کہ یہ حالت ہے میری بیوی کی۔ آپؑ نے فرمایا :یہ تو بڑی خطرناک مرض کا پیش خیمہ ہے۔ تم فوراً اس کو دس رتّی ہینگ دے دو۔ دوائی بتائی ہینگ کی اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹے بعد مجھے اطلاع دو۔ مَیں عشاء کے بعد پھر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مرض میں ترقی ہو گئی ہے۔ مرض بجائے کم ہونے کے بڑھ گیا ہے۔ پھر آپؑ نے فرمایا کہ دس رتّی کونین دے دو۔ ایک گھنٹہ کے بعد پھر مجھے اطلاع دو۔اور یہ نہ سمجھنا کہ میں سو گیا ہوں۔ بے تکلّف مردانہ سیڑھیوں سے آواز دو۔ ایک گھنٹے کے بعد مَیں پھر گیا اور عرض کیا کہ کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ پھر آپؑ نے فرمایا کہ دس رتّی مُشک دے دو۔ مَیں نے عرض کیا کہ اس وقت مُشک کہاں سے لاؤں؟ حضورؑ ایک مٹھی بھر کر مُشک کی لے آئے اور فرمایا کہ دس رتّی ہو گی۔ مَیں نے عرض کیا:حضور! یہ زیادہ ہے۔ فرمایا: لے جاؤ۔پھر کام آئے گی۔ مَیں نے وہ لے لی اور دس رتّی مریضہ کو دے دی۔ ایک گھنٹے بعد پھر گیا اور عرض کیا کہ مرض میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ فرمایا کہ دس تولہ اب کسٹرائیل دے دو۔ مختلف دوائیاں بدلتے رہے۔ مَیں نے آکر دس تولہ کسٹرائیل دے دیا۔ اس کے بعد اس کو بہت سخت قے ہوئی اور قے اس مرض میں آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ قے کے بعد اس کا سانس اکھڑ گیا ۔گردن پیچھے کو کھنچ گئی ۔آنکھوں میں اندھیرا آ گیا اور زبان بند ہو گئی۔ مَیں پھر بھاگ کر سیڑھیوں پر چڑھا۔ حضورؑ نے میری آواز سن کر دروازہ کھول دیا اور فرمایا کیوں خیر ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ اب تو حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔ سانس اکھڑ گیا ہے ۔گردن کھنچ گئی ہے ۔یہ تشنج کی کیفیت ہے (meningitis) جسے کہتے ہیں ۔آنکھوں میں روشنی نہیں۔زبان بند ہو گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ

دنیا کے جتنے ہتھیار تھے وہ تو ہم نے چلا لیے۔ اب ایک ہتھیار باقی ہے اور وہ دعا ہے۔ تم جاؤ مَیں دعا سے اس وقت سر اٹھاؤں گا، کیا شفقت ہے آپؑ کی، کہ جب اسے صحت ہو گی۔

تو کہتے ہیں کہ مَیں یہ سن کر واپس لوٹ آیا اور بیوی سے کہا کہ

اب تجھے کیا فکر ہے؟ اب تو ٹھیکیدار نے خود ٹھیکہ لے لیا ہے۔

کہتے ہیں اس وقت رات کے دو بج چکے تھے۔مَیں گھر آیا اور مریضہ کو اسی حالت میں چھوڑ کر دوسرے کمرے میں چارپائی پر جاکر سو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا ہے کہ مَیں اب دعا کروں گا تو چلو میرا تو اب کوئی کام نہیں۔ کہتے ہیں صبح کو کسی برتن کی آہٹ سے میری آنکھ کھلی۔ جب مَیں نے دیکھا تو میری پائنتی کی طرف میری بیوی کچھ برتن درست کر رہی تھی۔ مَیں نے پوچھا کیا حال ہے ؟کہنے لگی :

آپ تو سو رہے تھے اور مجھے دو گھنٹے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

(ماخوذ ازسیرت احمدؑ از قدرت اللہ سنوری صاحب صفحہ170-172)

اس واقعہ میں دوستوں کے لیے درد اور عطا دونوں کے اعلیٰ ترین معیار کا پتہ لگتا ہے۔

حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ’’قادیان میں نِہَال سنگھ نامی ایک بانگرو‘‘، بیوقوف ’’جٹ تھا۔ اپنے ایام جوانی میں وہ کسی فوج میں ملازم بھی تھا اور پنشن پاتا تھا۔اس کا گھر جناب خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب کے دیوان خانہ سے دیوار بدیوار ہے‘‘ساتھ جڑا ہوا تھا۔’’ یہ سلسلہ کا بہت بڑا دشمن تھا اور اس کی تحریک سے حضرت حکیم الامت ‘‘حضرت خلیفہ نور الدین حضرت خلیفةالمسیح الاولؓ ’’اور بعض دوسرے احمدیوں پر ایک خطرناک فوجداری جھوٹا مقدمہ دائر ہوا تھا اور ہمیشہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر احمدیوں کو تنگ کیا کرتا تھا اور گالیاں دیتے رہنا تو ایک معمول تھا۔ عین ان ایام میں جبکہ مقدمات دائر تھے اس کے بھتیجے سنتاسنگھ کی بیوی کے لیے مُشک کی ضرورت پڑی اور کسی دوسری جگہ سے یہی نہیں کہ مُشک ملتا نہ تھا بلکہ یہ بہت قیمتی چیز تھی وہ اس حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دروازہ پر گیا اور مُشک کا سوال کیا‘‘ اسی شخص نے جو مخالف تھا۔’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے پکارنے پر فوراً ہی تشریف لے آئے اور اسے ذرا بھی انتظار میں نہ رکھا ۔اس کا سوال سنتے ہی فوراً اندرتشریف لے گئے اور کہہ گئے کہ ٹھہرو مَیں ابھی لاتا ہوں۔ چنانچہ آپؑ نے کوئی نصف تولہ کے قریب مُشک لا کر اس کے حوالہ کر دی۔‘‘

(سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 295، 296) (فیروزاللغات صفحہ۱۷۵)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ یہ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب طاعون اس ملک میں پھیلی تو اللہ تعالیٰ کی وحی اور علم کے ماتحت ایک دوائی تیار کرنی شروع کی جس کا نام حضورؑ نے ’’تریاق الٰہی‘‘ رکھا اور اس دوائی کا کوئی مقرر نسخہ نہ تھا بلکہ جس جس طرح پر اللہ تعالیٰ کی وحی خفی نے ہدایت کی آپؑ اس کے اجزاءمہیا کرتے تھے اور عُرْفِی اصول کے مطابق یعنی طب کا جو عام رائج اصول ہے اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور اجزاءکے وزن اور پیمانے کو اسی اصل علم الٰہی کے ماتحت کر دیا تھا۔ جس جس طرح ہوتا تھا اتنا آپ ڈالتے جاتے تھے۔ اس دوائی میں کئی ہزار کے تو جواہرات ڈالے گئے اور بہت سی قیمتی ادویات ڈالی گئیں۔

جب یہ دوائی تیار ہوئی تو حضورؑ نے نہایت فراخدلی کے ساتھ اسے تقسیم کیا اور ایک حَبَّہ یعنی ایک دانہ بھی کسی سے نہیں لیا۔کچھ نہیں لیا بلکہ باہر سے طلب کرنے والوں کو رجسٹرڈ پارسل بھی اپنے خرچ سے بھجواتے تھے۔

ڈاکٹر صادق صاحب نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ کسی شخص نے دو تین ماشہ تریاق طلب کیا تو آپؑ نے اسے بہت سی مقدار ڈبیہ میں بند کر کے رجسٹری کروا کے روانہ کر دی۔ عرفانی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ خود خاکسار نے بھی عرض کیا تو بہت بڑی مقدار مجھے عطا فرمائی۔ تریاق ہی کے متعلق حضورؑ کا یہ طرز عمل نہ تھا بلکہ ادویات کے متعلق تو حضور ؑکا اسوہ یہ تھا کہ بعض اوقات تمام بوتل ہی حوالہ کر دیتے تھے اور بعض اوقات آپؑ نے نہایت قیمتی اور اعلیٰ درجے کا مُشک اپنے تلخ دشمنوں کو دے دیا۔ جس کا ایک واقعہ کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔

(ماخوذ از سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 309، 310)

حضرت شیخ محمد نصیب صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ ہمیں کستوری کی ضرورت پڑی۔ قادیان میں ان دنوں ملنی محال تھی۔ حضرت صاحبؑ کی خدمت میں عرض کیا۔

آپؑ نے ضرورت سے بہت زیادہ عطا فرمائی۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد5 صفحہ446)

منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلویؓ بیان کرتے ہیں:’’ایک دوست نے بہت محنت ،کوشش اور صرفِ کثیر کرکے کسی شخص سے ایک کُشتہ کا نسخہ حاصل کیا اور کشتہ بنا کر حضورؑ کی خدمت میں پیش کیا اور نسخہ بھی دے دیا۔ ایک اَور دوست نے مجھے کہا کہ وہ نسخہ حاصل کیا جائے مگر وہ دوست کسی کو بتاتے نہیںتھے۔ مَیں حضرت صاحبؑ  کی خدمت میں گیا اور عرض کیا کہ فلاں دوست نے کوئی کشتہ حضورؑ کو دیا ہے فرمانے لگے… وہ شیشی پڑی ہوئی ہے وہ لے لو۔مَیں نے عرض کیا اس کا نسخہ؟ حضورؑ نے فرمایا :وہ بھی‘‘ وہاں ہی ساتھ ہی ’’پڑا ہوا ہے ۔چنانچہ وہ کشتہ معہ نسخہ کے مَیں لے آیا اور اس دوست کو دکھایا کہ دیکھو تم نہیں بتاتے تھے مَیں لے آیا ہوں، یہ ہے۔ وہ حضورؑ کی خدمت میں جا کر عرض کرنے لگا کہ حضورؑ نے وہ دے دیا ہے۔ فرمانے لگے:وہ ہم سے لے گیا۔‘‘ آیا تھا مانگنے ہم نے دے دیا۔ پھر ’’حضورؑ نے مجھے یہ بھی فرمایا کہ مرزا صاحب (یعنی حضورؑ کے والد صاحب مرحوم) کی بیاض ہمارے پاس ہے‘‘ تمہیں نسخے چاہئیں ناںتو اپنے والد کی بیاض مَیں تمہیں دیتا ہوں’’ اس میں بہت عمدہ نسخے ہیں وہ بھی آپ لے لیں۔ پھر مجھے اس بیاض کے لینے کا خیال نہ رہا گو حضورؑ نے عنایت فرمانا چاہی تھی۔‘‘

(اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ 214-215)

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ اپنے ایک خط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تحریر فرماتے ہیں: بباعث حمل کچھ عرصہ سے میرے گھر میں ایسی تکلیف ہے کہ گھر میں کھانا تیار ہو نہیں سکتا۔ روٹی تندور پر پکوالی جاتی ہے مگر ہانڈی کے واسطے دقّت ہے۔ اس واسطے عرض پرداز ہوں کہ کچھ عرصہ لنگر سے سالن کھانا لگوا دیا جائے۔ اس کے جواب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے جو لنگر کے انچارج تھے میاں نجم الدین صاحبؓ انہیں لکھ کر ہدایت یہ فرمائی کہ مفتی صاحب کو دو وقت لنگر سے عمدہ سالن دے دیا کریں اور یہ تاکید ہے۔

(ماخوذ از ذکرِ حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ صفحہ 281)

حضرت محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک وفد نصیبین بھیجنے کا قصد کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات دریافت کرنے کے متعلق۔ اس میں مرزا خدا بخش صاحب اور مولوی قطب الدین صاحب تھے اور تیسرے ممبر یہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب میاں جمال الدین صاحب تھے۔ قرعہ اندازی سے یہ سب مقرر ہوئے تھے۔ حضور علیہ السلام نے کپڑوں وغیرہ کی تیاری کے لیے تینوں صاحبوں کو پچاس پچاس روپے دیے۔اور پھر حضورؓ نے ایک جلسہ الوداع کیا ۔ بعض وجوہات کی وجہ سے بہرحال بعد میں یہ وفد روک دیا گیا۔ جب وفد کا جانا رک گیا تو کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے پچاس روپے حضور ؑکی خدمت میں واپس پیش کیے۔ حضور نے فرمایا :

جو ہم کسی کو دے دیا کرتے ہیں واپس نہیں لیتے۔

جب والد صاحب واپس گھر آئے تو کہتے ہیں یہ واقعہ انہوں نے مجھے سنایا۔

(ماخوذ ازروایات اصحاب احمد جلد2صفحہ140)

حضرت ملک غلام حسین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ 1894ء یا 1895ء کے جلسہ سالانہ کی بات ہے اور حسام الدین صاحب سیالکوٹی کھانا پکانے اور کھانے کے بڑا شوقین تھے، اس وقت جلسے پہ آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے حضرت صاحبؑ کی خدمت میں شب دیگ کی بڑی تعریف کی۔ عرض کی کہ حضور شب دیگ نہایت لذیذ پکتی ہے۔ شب دیگ میں مختلف گوشت بھی ہوتے ہیں اور اس میں مختلف پھل اور سبزیاں وغیرہ بھی ڈالی جاتی ہیں اور ساری رات پکائی جاتی ہے۔ حضرت صاحبؑ نے مجھے بلایا اور فرمایا شاہ صاحب جو کچھ پسند کریں جس قدر اشیاء چاہیں ان کے لیے مہیا کر دو ۔چنانچہ گوشت یہاں مل جاتا تھا یہاں سے لیا گیا اور شلجم بٹالہ سے منگوائے گئے۔ شام کے قریب قریباً چار دیگیں رکھ دی گئیں اور چاول بھی وہاں دکان سے جو مشہور دکان تھی وہاں سے دو اڑھائی من اچھے چاول لیے اور صبح مہمانوں کو سید حسام الدین صاحب کی منشاء کے مطابق کھانا کھلایا گیا۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ30)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحبؓ نے مجھے تحریر لکھ کے دی ہے کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر خرچ نہ رہا ۔ان دنوں جلسہ سالانہ کے لیے چندہ ہو کر نہیں جاتا تھا۔یعنی باقاعدہ چندے کا انتظام نہیں تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پاس سے ہی خرچ صَرف فرماتے تھے۔ میر ناصر نواب صاحب مرحومؓ نے، وہ انچارج تھے لنگر کے انہوں نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لیے کوئی سامان نہیں ہے۔ یعنی خرچ ختم ہو گیا ہے، پیسے ختم ہو گئے ہیں ۔جنس ختم ہو گئی ہے۔ اب مہمانوں کے لیے کوئی کھانے کا سامان نہیں ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے یعنی حضرت اماں جانؓ سے زیور لو جو کفایت کر سکے، کافی ہو فروخت کر کے سامان کر لو۔چنانچہ زیور فروخت کیا گیا یا رہن رکھ کر میر صاحبؓ روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لیے سامان بہم پہنچا دیا۔ دو دن کے بعد پھر کہتے ہیں کہ میر صاحبؓ نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لیے پھر کچھ نہیں ہے۔ دو دن تو گزر گئے اس زیور کے بیچنے سے اب باقی کیا کریں؟ فرمایا کہ ہم نے برعایت ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا۔ جو کچھ ہمارے پاس تھا ہم نے دے دیا۔ اب ہمیں ضرورت نہیں ہے جس کے مہمان ہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر آنے والے لوگ ہیں یہ اللہ کے مہمان ہیں وہ خود اب انتظام کر دے گا۔ کہتے ہیں اگلے دن آٹھ یا نو بجے صبح جب چٹھی رسان آیا تو حضورؑ نے میر صاحبؓ  کو اور مجھے بلایا اور چٹھی رساں کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈر ہوں گے جو مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے۔ سو سو پچاس پچاس روپیہ کے اور اس پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں مہمانوں کے صَرف کے لیے روپے بھیجے جاتے ہیں۔ وہ آپؑ نے وصول فرما کر توکّل پر تقریر فرمائی۔ کہتے ہیں اس وقت اَور بھی چند آدمی وہاں تھے۔ وہاں فرمایا کہ جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر توکّل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے فوراً خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے ۔

(ماخوذ ازسیرت المہدی جلد 2 حصہ 4 صفحہ 97-98 روایت 1124)

تو آپؑ نے بھی جب یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اس کی خاطر آئے ہیں۔ پھر دعا بھی یقیناً آپؑ نے کی ہوگی اور توکّل بھی کامل تھا اور اللہ تعالیٰ نے پھر انتظام فرما دیا۔

حضرت میاں رحمت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ’’حضورؑ فرمایا کرتے تھے کہ قحط اور وباء اکٹھے ہو رہے ہیں پھر بھی لوگ توبہ نہیں کرتے۔ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔اس کے تین سال بعد سخت طاعون ملک میں پھیل گئی۔ قحط کے دنوں میں حضورؑ فرمایا کرتے تھے کہ حدیثوں میں اِس کا ذکر آیا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں قحط پڑے گا۔ نبی کریم ؐکا فرمودہ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا اور دوسری طرف مولوی صاحب خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ غلہ جس قدر ہو سکے مہیا کیا جاوے اورلنگر کا انتظام اس وقت حضورؑ کے ہاتھ میں تھا۔‘‘ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتظام ہاتھ میں رکھا ہوا تھا۔ قحط کا خطرہ تھا ،خوف تھا ۔اس لیے آپؑ نے کہا جنس وغیرہ کا انتظام پہلے کرو اور حضرت خلیفہ اوّل ؓکے سپرد یہ کام کیا کہ فوراً خرید لیں۔ حضورؑ نے مولوی صاحب کو فرما دیا اورحضورؑ کے حکم سے مولوی صاحبؓ نے تیس بوری لنگر خانہ کی مجھ سے خرید کی۔ چندہ کی قلّت تھی اور جس قدر زیور گھر میں موجود تھا سب فروخت کر دیا ‘‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے۔’’سات سو روپیہ گندم خریدنے کے لیے مولوی صاحب کو دیا‘‘ سات سو روپے اس زمانے میں بڑی رقم تھی۔ ’’حضرت مولوی صاحب نے میاں نجم الدین صاحب مرحوم کو گندم خریدنے کے لیے گاؤں میں روانہ کر دیا۔‘‘ کہتے ہیں کہ اس کے ’’ہمراہ مرزا اسماعیل صاحب بھی گئے۔ غلہ لیا گیا اور بیکانیر‘‘ بھارت کی ریاست راجھستان کا ایک علاقہ ہے سے’’ اجڑ کر ہمارے ملک میں آگئے۔‘‘ وہاں قحط بہت پڑ گیا تھاوہاں سے لوگ آگئے ’’اور روٹی روٹی کی آواز ہر طرف سے آیا کرتی تھی۔ حضورؑ نے حکم دیا کہ لنگر میں ہر وقت آٹا پکتا رہے اور روٹی تیار رہے۔ میاں نجم الدین صاحب کو فرمایا کہ روٹی مانگنے والے کو روٹی دی جاوے اور کوئی بھی خالی ہاتھ نہ جائے۔ چند روز میں غلہ ختم ہو گیا ‘‘جو خریدا تھا۔’’پھر حضورؑ نے تقریر فرمائی جس کے الفاظ یہ تھے کہ یہ وقتی بات ہے ہمیشہ نہ ایسی قربانی کرنی پڑتی ہے نہ ایسا اجر ملا کرتا ہے۔ یہ مومنوں کے لیے خاص دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اللہ تعالیٰ دوستوں کو توفیق دے۔ اس تقریر پر کچھ روپیہ اکٹھا ہو گیا اور کچھ باہر سے آیا اور غلہ خرید کیا گیا ۔غرض اسی طرح یہ سلسلہ قحط کے دنوں میں جاری رہا۔‘‘ جو لوگ آتے تھے قحط زدہ ان کو فوراً کھانا مہیا کیا جاتا تھا’’اور حضورؑ فرمایا کرتے تھے کہ مَیں نے فلاں اخبار میں دیکھا کہ کسی ملک میں اتنے بچے بھوک سے مر گئے اور اتنے آدمی مر گئے۔ غلہ ملتا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب ہے کہ غلہ نہیں ملتا اور بارہا ذکر کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ رحم فرما دے اور سخت گھبراہٹ سے میاں نجم الدین سے پوچھتے اور مولوی صاحبؓ سے غلہ کے بارہ میں ذکر کرتے تھے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 72-73) (بیکانیر: ویکیپیڈیا)

آج کل بھی دنیا کے بعض ملکوں میں یہ حالات ہیں۔ بڑی مشکل ہے۔قحط سالی ہے۔ غلہ نہیں ملتا یا مہنگائی ہے خرید نہیں سکتے۔ غربت سے، بھوک سے لوگ مر رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جہاں جہاں پتہ لگتا ہے جماعت ان کی مدد کے لیے رقمیں بھی بھیج دیتی ہے اور ضروریات بھی پورا کرتی ہے اور اس میں لوگ بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی مزید توفیق دے کہ ان غریبوں کی مدد کے لیے، قحط زدہ لوگوں کی مدد کے لیے مزید کوشش کرتے رہیں۔

حضرت قاضی نور محمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کے زمانے کی بات ہے۔ کہتے ہیں میرے ہم جماعت تھے، خاکسار کو ان کے ساتھ دار مسیح میں رات کو پڑھنے کا موقع ملتا رہا۔ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ پڑھایا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مستورات میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔ اس وقت تو وعظ کی آواز ہمارے کانوں تک بخوبی پہنچتی تھی مگر افسوس اس میں سے کوئی یاد نہیں۔ لنگر کے آٹے کے واسطے عموماً مُلّا احمد نورجایا کرتے تھے اور گدھے پر جب آٹا آتا تو خاکسار کو آٹے کی بوری اٹھا کر دارمسیح میں پہنچانے کا موقع بھی اللہ تعالیٰ بخشتا ۔اور

حضور علیہ السلام کو ایک دفعہ مَیں نے دیکھا کہ کُرتے کی جھولی میں بہت سے روپے لائے اور بغیر شمار مُلّا احمد نورکی جھولی میں ڈال دیے۔

بغیر گنے پیسے دے دیے کہ لنگرخانہ کا کیونکہ انتظام ہے، جاؤ اور خرید کے لاؤ چیزیں تاکہ لنگر کا انتظام چلتا رہے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ75)

حضرت میاں چراغ دین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میرا گلا ایسا بند ہوا کہ آواز نکلنی بند ہو گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ…کو فرمایا چراغ کے گلے کا علاج کریں۔ کیا سبب ہے کہ اس کی آواز نہیں نکلتی۔ حضرت مولوی صاحبؓ علاج فرماتے رہے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ پھر ایک موقع پر ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر بَوْڑے خان صاحب لاہور اکٹھے ہوئے تو ان کے سامنے بھی حضورؑ نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ لڑکے کی آواز بند ہے؟ اس پر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے میرا گلا دیکھ کر کہا کہ حضور حکم دیں تو اس کے گلے اندر سے کاٹ لیے جاویں‘‘ یعنی لگتا ہے ٹانسلز کی وجہ سے ہوگی ’’اور اس طرح کرنے سے آواز کھل جائےگی۔حضورؑ نے اس پر کچھ نہیں فرمایا ‘‘اور خاموش ہو گئے۔ کہتے ہیں:’’ پھر چند دنوں کے بعد حضور ؑنے فرمایا کہ چراغ !اب ہم تیرا علاج کریں گے اور اسی وقت دیکھ کر فرمایا کہ ہم تیرے لیے نسخہ تیار کریں گے۔ خدا کی حکمت ہے کہ اسی دن امرتسر کا ایک عطار آک کے پتوں کا اچار والا مرتبان لایا۔ حضورؑ نے کھول کر دیکھا اور فرمایا :یہ تیرا علاج ہے۔‘‘ آپؑ نے پہلے فرمایا کہ نسخہ تیار کروں گا پھر اسی طرح ایک نسخے بنانے والے نے یا اچار بنانے والے نے جو حکمت کا کام بھی کرتا تھا وہ آک کے پتوں کا اچار لے کر آیا تو آپؑ نے فرمایا کہ یہ تمہارا علاج ہے۔’’ کھانے کے وقت پھلکے پر دو تین پتے رکھ کر مجھے دے دیتے تھے۔ وہ بہت مزیدار تھا اورحضورؑ نے بھی اس میں تناول فرمایا۔ ‘‘کہتے ہیں:’’ مجھے اس سے آرام آ گیا اس پر حضورؑ نے وہ سارا مرتبان مجھے دے دیا کہ تم کھا لو۔چنانچہ مَیں نے وہ کھایا اور مجھے بالکل صحت ہو گئی۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 72)

حضرت مرزا افضل بیگ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مَیں قادیان پہلی دفعہ 1898ء میں آیا۔ میرے والد مرزا فضل بیگ صاحب مختار عدالت نےتعلیم حاصل کرنے کے لیے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کر دیا اور بورڈنگ میں چند طالب علم تھے۔ اس وقت بورڈنگ کے لڑکوں کے کھانے پینے کا انتظام لنگر خانہ کے ساتھ تھا۔ کھانے کے متعلق کچھ شکایت پیش آئی تو

میرے والد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ذکر کیا کہ بچوں کو کھانے کی تکلیف ہے۔ اس پر حضورؑ نے ازراہ شفقت فرمایا کہ کھانا بچوں کو گھر سے ملا کرے گا۔ چنانچہ کئی ماہ تک کھانا حضورؑ کے اپنے گھر سے ہمیں آتا رہا اور کبھی کبھی حضورؑ گھر سے آم اور مٹھائی وغیرہ بھی کھانے کے لیے بھیجتے رہے ۔ ‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ167)

خواجہ عبدالرحمان صاحب کشمیری نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ  کو بتایا کہ ’’حافظ حامد علی صاحب مرحوم ان سے بیان کرتے تھے کہ

جب حضورؑ کے پاس کہیں سے روپیہ آتا تھا تو حضورؑ مجھے بلا لیتے اور بلا گنتی روپیہ دے دیتے ۔اور فرماتے تھے کہ اس وقت روپیہ لے لو، نہ معلوم پھر کب ہاتھ میں آئے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم حضرت صاحبؑ کے خاص خادم تھے جنہیں حضرت صاحبؑ  گھر کی ضروریات اور مہمانوں وغیرہ کی مہمانی کے لیے روپیہ دیا کرتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1 حصہ 3 صفحہ 529 ، 530 روایت 530)

حضرت خان صاحب سید غلام حسین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک بار حضورؑ نے مجھے قادیان سے بھیجا کہ بٹالہ سے ایک پارسل ریل کا لے کر آؤ۔ بلٹی آئی ہےاور پانچ روپیہ بھی مجھےدیے۔‘‘ ٹرین کے ذریعے سے بلٹی آئی تھی وہ بٹالے سے لے آؤ۔ ’’پارسل انگوروں کی ٹوکری تھی جس پر صرف چار آنہ خرچ لگا۔ جب میں نے وہ ٹوکری لا کر پیش کی تو حضورؑ نے ٹوکری کا ٹاٹ چاک کر کے دونوں ہاتھوں سے انگور نکال کر پہلے مجھے دیے کہ یہ آپ کا حصہ ہے۔

مَیں نے بقایا رقم پونے پانچ روپیہ واپس کرنے چاہے تو حضورؑ یہ فرماتے ہوئے ٹوکری کو اٹھا کر اندر لے گئے کہ ہم اپنے دوستوں سے حساب نہیں رکھا کرتے۔

اُس وقت میری عمر کہتے ہیں پندرہ سال تھی۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد5 صفحہ 120)

حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحبؓ  کہتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب پشاور میں مل کر وکالت کیا کرتے تھے۔ دونوں شریک تھے یعنی آپس میں ان کا مشترکہ کام تھا۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان آگئے اور خواجہ صاحب وہاں ہی رہے۔ اب حضرت صاحب علیہ السلام پر مقدمات جو تھے غالباً کرم الدین کے مقدمات کا ذکر ہے کہ ان کی پیروی کے لیے خواجہ صاحب پشاور سے آئے۔ حضرت اقدس علیہ السلام مبارک مسجد میں تشریف لائے۔خواجہ صاحب نے نہایت رونی شکل بنا کر عرض کیا کہ حضور! خدا اور رسول ہی جانتا ہے کہ کس طرح یہاں پہنچا ہوں۔ بیوی کا زیور گروی رکھوا کرکرایہ کے لیے رقم حاصل کر کے یہاں تک پہنچا ہوں۔ بہت بری مالی حالت ہے۔حضرت صاحبؑ فرمانے لگے خواجہ صاحب! آپ کو روپے کی ضرورت ہے؟ آئیے! پھر حضرت صاحبؑ اندر گئے اور خواجہ صاحب بھی ہمراہ گئے۔ ایک ٹرنک کھولا اور دو تین بوک ہاتھ سے بھر کر۔ اس میں Coin ہوں گے خواجہ صاحب کی جھولی میں ڈال دیے اور فرمایا خواجہ صاحب بس کہ اَور چاہئیں؟ خواجہ صاحب نے کہا بس حضور اب تو بہت ہو گئے ہیں۔ خواجہ صاحب نے وہ روپیہ بعد میں مسجد مبارک میں گنا تو قریباً تین سو روپیہ تھا۔ خواجہ صاحب دوسرے دن گورداسپور چلے گئے۔ حضرت صاحبؑ نے وہ روپیہ اَن گنت ہی ان کی جھولی میں ڈالا اور

حضرت صاحبؑ کی یہ عام عادت تھی کہ روپیہ خادموں کو بھی گن کر نہیں دیتے تھے۔ پورا اعتماد اور اعتبار رکھتے تھے۔ جہاں تک مجھے رہنے کا اتفاق ہوا ہے کبھی کسی خادم سے حضرت صاحبؑ نےحساب نہیں مانگا بلکہ جب کوئی مانگتا حضرت صاحبؑ اسے دے دیتے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 277)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ خواجہ صاحب پر شفقت کا یہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’خواجہ کمال الدین صاحب جو آج سلسلہ سے منقطع ہو چکے ہیں‘‘ یعنی جماعت سے علیحدہ ہو گئے ہیں’’اور محسن باپ کی اولاد سے بَیر اور دشمنی رکھتے ہیں‘‘ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان پہ احسان کیے تھے اور ان کی اولاد حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ ان سے اُن کو دشمنی ہے، ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نوازشوں اور کرم فرمائیوں اور جُود و عطاء کے بہت بڑے تجربہ کار ہیں۔‘‘ ان کو تو بہت تجربہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نوازشوں کا۔ ’’بیش قرار رقوم انہوں نے لیں اور باوجود لینے کے کبھی اقرار نہیں کیا‘‘ لینے کے بعد بھی کبھی بتایا نہیں اور نہ احسان کا شکریہ ادا کیا ’’اور اپنی خدمات کی ڈینگ مارتے رہے۔‘‘ یہی کہتے رہے کہ مَیں سلسلے کی بہت بڑی خدمت کر رہا ہوں۔ لکھتے ہیں کہ ’’مَیں اسے محسن کشی اور احسان فراموشی سمجھتا ہوں۔ جن ایام میں گورداسپور میں مولوی کرم دین کے مقدمات ہو رہے تھے ایک دفعہ دوران مقدمہ میں انہوں نے حضرتؑ کو خط دکھایا جو انہیں اپنے گھر پشاور سے آیا تھا اس میں خرچ کی تنگی کا ذکر تھا۔ حضرتؑ نے فوراً پانچ سو روپیہ نقد ان کو دے دیا اور پھر ماہانہ ایک سو روپیہ ماہوار دیتے رہے۔ خاص طور پر احباب نے حضرتؑ کی تحریک پر بہت بڑی رقم اخراجات مقدمہ کے لیے بھیجی تھی جو خواجہ صاحب کے پاس رہتی تھی۔ حضرت صاحبؑ نے کبھی حساب نہیں مانگا ۔اس قسم کے مالی سلوک اور عطاء کے علاوہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے ایک قیمتی کوٹ جو افغانی طرز کا تھا لائے۔ خواجہ صاحب نے یہ کہہ کر مانگ لیا کہ حضور !یہ کوٹ مجھے عنایت کر دیں کہ مَیں پہن کر عدالت میں داخل ہوا کروں اور اس کی برکت سے فریق مخالف کے وکیل اور عدالت میں میرا رعب ہو۔ حضورؑ نے ہنس کر یہ کامدار قیمتی چوغہ خواجہ صاحب کو دے دیا۔ ‘‘

(سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 311-312 )

گذشتہ خطبہ میں بھی ذکر ہوا تھا کہ ایک کوٹ لائے تھے پوستین کا یعنی leather کا بنا ہوا، اچھی اعلیٰ قسم کے چمڑے کا۔ آج کل بھی لیدر (leather)کا جو لباس ہے بڑا قیمتی سمجھا جاتا ہے اس زمانے میں بھی تھا۔ وہ کوٹ بھی آپؑ نے خواجہ صاحب کے مانگنے پر ان کو دے دیا۔

شیخ حامد علی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ

’’آخر عمر تک مجھ سے کبھی حساب نہیں مانگا اور نہ کبھی ناراض ہوئے

بلکہ ایک دفعہ میں لاہور گیا۔ مولوی نورالدین صاحبؓ نے سات سو کی ہنڈی روانہ کی تھی وہ لے کر گیا۔‘‘ پیسے تھے کوئی منی آرڈر تھا یا واؤچر تھا۔’’کچھ اسباب لایا‘‘ سامان بھی خریدا۔ ’’تقریباً پچاس روپے واپس لایا۔‘‘ جو اس میں سے سامان خریدنے کے بعد بچ گئے۔’’ اس کا حساب میں نے حضرت صاحبؑ  کو دیا۔ آپؑ نے فرمایا: مَیں نے کب حساب مانگا ہے۔‘‘

(ماخوذ از سیرت احمدؑ از قدرت اللہ سنوری صاحب صفحہ59)

حضرت شیخ احمد الدین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بندے کو حکم دیا کہ تم امرتسر میاں نبی بخش صاحب رفوگر کے پاس جاؤ اور ایک خط لکھ کر دیا کہ یہ ان کو دے دینا۔ جو چیزیں وہ خرید کر دے دیں وہ جلدی لے آنا اور کل تک واپس آ جانا۔ دوسرے دن مَیں کچھ دیر سے پہنچا ۔حضور ؑکا ایک خادم میاں کرمداد صاحب تھا۔ان کو حکم دیا کہ جلدی جاؤ اور احمد دین کو امرتسر بھیجا تھا وہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔ خیر تو ہے پتہ کرو۔ راستے میں میاں کرم داد صاحب کو مَیں مل گیا ۔وہ کہنے لگا کہ حضرت صاحبؑ تیرا بہت فکر کر رہے ہیں ۔جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو پہلے ہی حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟ مَیں نے عرض کیا کہ حضور !کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔اس طرح میرا حال دریافت کرنے سے میرا دل باغ باغ ہو گیا کہ میرا حال آپؑ نے پوچھا ہے۔ مَیں نے ایک حساب کا کاغذ اور کچھ پیسے واپس دینے چاہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کاغذ کیسا ہے؟ مَیں نے ادب سے عرض کی ان چیزوں کا حساب ہے اور یہ پیسے باقی ہیں۔ بہت محبت سے فرمایا کہ

ہمارا اور آپ کا کیا حساب ہے۔ یہ پیسے تم اپنی ضرورت میں خرچ کرلو۔

مَیں بہت خوش ہوا۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 4صفحہ95-96)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ لکھتے ہیں کہ

’’حضرت حکیم الامت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آپؑ سے کچھ قرض لیا۔ جب انہوں نے اس روپیہ کو حضرتؑ کی خدمت میں واپس بھیجا تو حضرتؑ نے ناپسند فرمایا اور واپس کر کے فرمایا کہ آپ ہمارے روپیہ کو اپنے روپیہ سے الگ سمجھتے ہیں؟‘‘

(سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 307)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ ہی تحریر کرتے ہیں کہ

’’ جب سے حضرت اقدسؑ نے بعثت کا اعلان کیا اور لوگوں کو یہ بھی علم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے آپؑ کو بشارت دی ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ لوگ علی العموم آپؑ سے کپڑوں کا سوال کرتے تھے اور آپؑ کبھی کسی کو جواب نہیں دیتے تھے اور بعض اوقات یہ حالت ہو جاتی تھی کہ آپؑ کے بدن پر ہی کپڑے رہ جاتے تھے اورسب دے دیے جاتے تھے۔ ‘‘

(سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ290)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓکہتے ہیں:’’آپؑ نے میرعباس علی صاحب کو براہین احمدیہ کی قیمت جو ان کے پاس آئے خرچ کر لینے کی اجازت دے دی۔ یہ وسعت حوصلہ اور فیاضی کا ایک معمولی ثبوت ہے۔ ‘‘

(حیات احمدؑ از یعقوب علی عرفانی صاحب ؓ جلد 2 حصہ دوم صفحہ 200)

حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کہتے ہیں کہ

’’مرزا نظام الدین صاحب اور مرزا امام الدین صاحب باوجودیکہ سخت مخالف تھے۔‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت مخالف تھے۔ یہ دونوں رشتہ دار بھی تھے لیکن مخالف تھے’’ مگر ضرورت کے وقت جب کبھی انہوں نے سوال کیا تو حضورؑ اسے پورا کر دیتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ‘‘ کہتے ہیں ’’میرے سامنے مرزا نظام الدین صاحب نے پچاس روپے یا کچھ کم و بیش حضورؑ سے طلب کیے اور حضورؑ نے فوراً حافظ حامد علی کے ہاتھ بھجوا دیے۔‘‘

(اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ 215-216)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؑ لکھتے ہیں کہ’’ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالمحی صاحب عرب نے مجھ سے ایک روز حضرت خلیفہ اوّلؓ کے زمانہ میں ہی ذکر کیا کہ

حضرت صاحبؑ کی سخاوت کا کیا کہنا ہے۔‘‘ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سخاوت کاکیا کہنا ہے۔ کہتے ہیں :’’مجھے کبھی آپؑ کے زمانہ میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ جو ضرورت ہوتی بلا تکلّف مانگ لیتا اور حضورؑ میری ضرورت سے زیادہ دے دیتے اور خود بخود بھی دیتے رہتے۔

جب حضورؑ کا وصال ہو گیا تو حضرت خلیفہ اوّلؓ حالانکہ وہ اتنے سخی مشہور ہیں میری حاجت براری نہ کرسکے۔ آخر تنگ ہو کر مَیں نے ان کو لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ تو بن گئے مگر میری حاجات پوری کرنے میں تو ان کی خلافت نہ فرمائی۔ حضرت صاحبؑ  تو میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا کرتے تھے۔ اس پر حضرت خلیفہ اوّل ؓنے میری امداد کی‘‘ لیکن کہتے ہیں کہ’’ مگر خدا کی قسم !کہاں حضرت صاحبؓ اور کہاںیہ۔ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔‘‘

(سیرۃ المہدی جلد اول حصہ سوم صفحہ 545 روایت 562)

’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ کے گھر میں کسی غریب عورت نے کچھ چاول چرا لیے۔ لوگوں نے اسے دیکھ لیا اور شور پڑ گیا۔ حضرت مسیح موعود ‘‘علیہ السلام ’’اس وقت اپنے کمرے میں کام کر رہے تھے۔ شور سن کر باہر تشریف لائے تو یہ نظارہ دیکھا کہ ایک غریب خستہ حال عورت کھڑی ہے اور اس کے ہاتھ میں تھوڑے سے چاولوں کی گٹھڑی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو واقعہ کا علم ہوا اور اس غریب عورت کا حلیہ دیکھا تو آپؑ کا دل پسیج گیا۔ فرمایا :یہ بھوکی اور کنگال معلوم ہوتی ہے۔اُسے کچھ چاول دے کر رخصت کر دو‘‘ اَور بھی دے دو ’’اور خدا کی ستّاری کا شیوہ اختیار کرو۔ ‘‘

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ یہ واقعہ بیان کر کے لکھتے ہیں کہ ’’اس واقعہ پر کوئی جلد باز شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ بات تو چوری پر دلیری پیدا کرنے والی ہے‘‘ کہ ایک چور ہے اس کو آپؑ دلیر بنا رہے ہیں ’’مگر دانا لوگ سمجھتے ہیں‘‘ عقلمند سمجھتا ہے’’ کہ جب مال خود حضرت مسیح موعود ؑکا اپنا تھا اور لینے والی عورت ایک بھوکوں مرتی کنگال عورت تھی تو یہ چوری پر اعانت نہیں بلکہ حقیقتاً اِطْعَامِ مسکین میں داخل ہے۔ حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے حالات میں جبکہ چوری کرنے والا بہت غریب ہو اور انتہائی بھوک کی حالت میں کوئی کھانے کی چیز اٹھا لے تو اسے سارق نہیں گردانا بلکہ چشم پوشی سے کام لیا ہے۔‘‘

(سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ64-65)

یہ ہیں اپنے آقا ؐکی کامل اتّباع کے نمونے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی عَبْدِکَ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button