کیا آپ نے اس ہفتے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو دعائیہ خط لکھا ہے؟
خط آدھی ملاقات ہے!
٭… حضورِانور فرماتے ہیں کہ ’’زمانہ خط و کتابت کا تھا، تو اس لیے اُردو میں ایک محاورہ بنا ہوا ہے کہ جو خط ہے وہ آدھی ملاقات ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹ میسج تو اس سے بھی جلدی ہو جاتا ہے۔ خط تو پھر پُرانے زمانے میں پندرہ دن میں پہنچتا تھا یا مہینہ لگاتا تھا۔ حضورِ انور نے دستِ مبارک سے نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ آج تو ٹیکسٹ میسج یُوں آپ کرتے ہیں، sendکرتے ہیں اور اگلے سیکنڈ میں اگلے کو پہنچا ہوتا ہے اور اس کا محبّت والا جواب آ جاتا ہے۔ … لوگ بے شمار خط لکھتے ہیں۔ اب جماعت کی اتنی بڑی تعداد ہے، لاکھوں کروڑوں میں ہو گئی، خط لکھتے ہیں اور مجھے روزانہ کے ہزاروں خط آتے ہیں۔ اب وہ جو مَیں نے کسی کو دیکھا بھی نہیں ہوتا ، وہ دعا کےلیے کہتے ہیں، ان کے لیے دعا اس وقت بھی نکلتی ہے کہ جب خط پڑھ رہا ہوتا ہوں اور بعد میں نماز کے وقت بھی ان کے لیے دعا ہو جاتی ہے۔ ہر ایک کے نام نہیں یادرہتے تو عمومی طور پر ہو جاتی ہے۔ اسی سے محبّت بڑھتی ہے‘‘۔(الفضل انٹرنیشنل 11؍مئی 2026ء)
٭… ایک طفل نے سوال کیا کہ حضورِانور سے تعلق بنانے کا بہترین طریقہ کون سا ہے کہ حضور کو علم ہو کہ میں کون ہوں؟
حضورِانور نے فرمایا (مجھے یہ تعارف ہونا چاہیے کہ)آپ کون ہیں۔ آپ کو مجھے باقاعدگی سے لکھنا چاہیے۔ اور کسی وقت کوئی اچھا لطیفہ بھی بھجوا دیا کریں یا اچھی تحریر بھی۔ یوں مجھے یاد رہے گا کہ آپ وہ ہو جس نے مجھے یہ لکھا تھا۔ اگر آپ کو پسند ہو تو اپنے خط پر اپنی تصویر بھی بھجوا دیا کرو۔(الفضل انٹرنیشنل 2؍نومبر 2021ء)
٭… ایک خادم نے سوال کیا کہ جب حضور ہمارے خطوط موصول کرتے ہیں تو کیا محسوس کرتے ہیں؟
حضور انور نے فرمایا بات یہ ہے کہ اگر دوران سال آپ کا صرف ایک ہی خط مجھے ملے تو میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنا فضل فرمائے جس نے مجھے یہ خط لکھا ہے۔ اور بعض وہ افراد جو مجھے باقاعدگی سے مہینہ میں ایک مرتبہ خط لکھتے ہیں ان افراد کے ساتھ ایک ذاتی رابطہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ توظاہر ہے کہ انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ میں بھی انسان ہی ہوں تو انسانی فطرت ہے کہ ایسے مختلف لوگوں کے لیے مختلف احساسات ہوتے ہیں۔ بہرحال خواہ آپ سال کے دوران ایک مرتبہ لکھیں یا مہینہ میں ایک مرتبہ لکھیں، میں ان لوگوں کے لیے دعا کرتا ہوں جو مجھے خط لکھتے ہیں بلکہ ان کے لیے بھی جو مجھے نہیں لکھتے۔ لیکن وہ جن کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں ان کے ساتھ ایک ذاتی را بطہ ہے۔ ان کے لیے ذاتی احساسات اور جذبات ہیں۔ تو جب آپ اپنے دوست یا بھائی یا عزیز کا کوئی خط موصول کرتے ہیں تو اسی طرح میرے بھی جذبات ہوتے ہیں۔(الفضل انٹرنیشنل 5؍اپریل 2022ء)
تو پیارے بچو! کیا آپ نے پیارے حضور کو اپنے لیے یا اپنے پیاروں کے لیے خط لکھ کر دعا کی درخواست کی ہے؟ اگر نہیں تو ابھی قلم اور کاغذ اٹھائیں اور لکھنا شروع کریں۔
٭…٭…٭
