جنازے کے آداب اور ہماری ذمہ داریاں
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ
وفات یافتگان کا ذکر ہوا ہے تو اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا طریق تھا۔ ان کے بارے میں آپؐ نے کیا نصیحت فرمائی کہ کس طرح دعا کی جائے۔ آپؐ کا اسوہ کیا تھا؟اس بارے میں چند احادیث بھی پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ اس پر عمل کرکے ہم اپنے لئے بھی اور وفات یافتگان کے لئے بھی اللہ کا رحم اور مغفرت حاصل کرنے والے ہوں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ … آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین کے بعد خود بھی استغفار کرتے تھے اور لوگوں سے بھی مخاطب ہو کر فرماتے تھے یہ حساب کا وقت ہے اپنے بھائی کے لئے ثابت قدمی کی دعا مانگو۔ اور مغفرت طلب کرو۔
… حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا کہ کیا یہ جائز ہے جب کارِ قضا کسی بھائی کے گھر میں ماتم ہو جائے یعنی کوئی فوت ہو جائے تو دوسرے دوست اپنے گھر میں اس کا کھانا تیار کریں۔ فرمایا نہ صرف جائز بلکہ برادرانہ ہمدردی کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ ایسا کیا جاوے۔ (ملفو ظات جلد پنجم صفحہ 233جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ یہاں اس طرف پوری توجہ نہیں دی جاتی۔ ہمسایوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جماعتی انتظام کے تحت لنگر میں جو کھانا پکتا ہے وہیں سے آ جائے۔ اگر تو ہمسائے نہ ہوں پھر تو جماعت کا فرض ہے کرتی ہے اور کرنا چاہئے۔ لیکن اگر ارد گرد احمدی ہمسائے رہتے ہوں تو ان کو اپنے فرض کو ادا کرنا چاہئے۔ اور اس طرف خاص توجہ دیں۔ اور دنیا میں ہر جگہ جماعت کواس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔…
جنازے میں شامل ہونے کے بارے میں روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ ثواب کی نیت سے جاتا ہے اور اس کے دفن ہونے تک ساتھ رہتا ہے تو وہ دو قیراط اجر لے کر واپس لوٹتا ہے۔ اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر سمجھو اور جو شخص دفن ہونے سے پہلے واپس آجاتا ہے تو وہ صرف ایک قیراط کا ثواب پاتا ہے۔
اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔ خاص طور پر ربوہ میں، مَیں نے پہلے بھی اس طرف توجہ دلائی تھی کہ جس محلے میں کوئی احمدی وفات پا جاتا ہے تو اس محلے کے لوگوں کا فرض ہے کہ اس جنازے کے ساتھ جایا کریں لیکن باہر سے موصیان کے جنازے ربوہ میں آتے ہیں تو ان کے لئے وہاں جماعتی طور پر انتظام ہونا چاہئے۔
خدام الاحمدیہ کو بھی انتظام کرنا چاہئے کہ جنازے میں کافی لوگ شامل ہوا کریں۔ پھر فوت شدہ کی خوبیوں کا ذکر کرتے رہنے کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے وفات یافتگان کی خوبیاں بیان کیا کرو۔ اور ان کی کمزوریاں بیان کرنے سے احتراز کرو۔ (خطبہ جمعہ یکم ستمبر 2006ء)
