نظم
اِک نہ اِک دن پیش ہو گا تُو فنا کے سامنے
اِک نہ اِک دن پیش ہو گا تُو فنا کے سامنے
چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے
چھوڑنی ہوگی تجھے دنیائے فانی ایک دن
ہر کوئی مجبور ہے حکمِ خدا کے سامنے
بارگاہِ ایزدی سے تُو نہ یوں مایوس ہو
مشکلیں کیا چیز ہیں مشکِل کشا کے سامنے
حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر
کر بیاں سب حاجتیں حاجَت روا کے سامنے
راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا
قدر کیا پتھر کی لعلِ بے بہا کے سامنے
(در ثمین صفحہ 181)
