خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍جون2026ء
اللہ تمام سخاوت کرنے والوں سے بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہے اور مَیں بنی آدم میں سب سے بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہوں(حدیث نبوی ﷺ)
صرف ایک خُلق ہی نہیں بلکہ آپؐ کی زندگی کا ہر لمحہ قرآن کریم کے مطابق تھا۔اس لیے حضرت عائشہ ؓنے آپؐ کے اوصاف کے بارے میں فرمایا تھا کہ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن۔ کہ آپؐ کے اخلاق قرآن کریم کے عین مطابق تھے۔ توکسی بھی خُلق کو لے لیں آپؐ اس کی اعلیٰ ترین مثال تھے جس سے بڑھ کر کوئی اَور مثال پیش نہیں کی جا سکتی
سخاوت کرنے والا اللہ کے قریب ہے۔ جنت کے قریب ہے۔لوگوں کے قریب ہے۔ آگ سے دور ہے۔اور بخیل اللہ سے دُور ہے۔ جنت سے دُور ہے۔ لوگوں سے دُور ہے اور آگ کے قریب ہے۔اور سخاوت کرنے والا جاہل، بخیل عابد سے اللہ عزّوجلّ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے (حدیث نبویﷺ)
مومن سادہ لوح اور سخی ہے اور فاجر دھوکہ دینے والا اور رذیل ہے (حدیث نبویﷺ)
اے ابن آدم !تیرا مال تو وہی ہے جو تُو نے کھایا اور ختم کر دیا۔ پہن کر پرانا کر دیا یا صدقہ کیا اور آگے بھیج دیا (حدیث نبویﷺ)
دو عادتیں مومن میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ بخل اور بد خلقی (حدیث نبویﷺ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ حسین تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو مال آتا تھا وہ آپؐ کا مال ہوتا تھا اور قرآنی ہدایت کے مطابق موقع محل کے حساب سے آپؐ خرچ کرتے تھے
’’آنحضرتؐ کی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس جو کچھ ہوتا وہ سخاوت کر دیا کرتے تھے۔ ایک بار آپ کے گھر میں ایک مُہر تھی آپؐ نے اس کو لے کر تقسیم کر دیا‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
’’مال و دولت کے باوجود آپؐ نے ایسی سیر چشمی اور استغناء ظاہر کی کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔جو کچھ آتا آپؐ خدا تعالیٰ کی راہ میں تقسیم کر دیتے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپؐ نے نہ کہا ہو
حضرت علیؓ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرتے تو فرمایا کرتے کہ آپؐ عطا کرنے کے لحاظ سے سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے
آنحضرت ﷺ کی بے مثل جُود و سخا
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍جون2026ء بمطابق جون12؍احسان1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ
وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ (البقرہ:275)
وَ فِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۔ (الذّاریات:20)
پہلی آیت جو میں نے پڑھی ہے سورہ بقرہ کی ہے۔ اس کا ترجمہ ہے کہ
جو لوگ اپنے مال رات اوردن پوشیدہ (بھی) اور ظاہر (بھی) (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر (محفوظ) ہے اور نہ (تو) انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اور دوسری آیت سورة الذّاریات کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور ان کے مالوں میں مانگنے والوں کا بھی حق تھا اور جو مانگ نہیں سکتے تھے ان کا بھی (حق تھا)۔
آج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جُودو سخا کے اسوہ کے بارے میں کچھ روایات بیان کروں گا۔
ان روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐ نے اس بارے میں کس طرح بار بار مومنوں کو توجہ دلائی ہے اور اسی طرح آپؐ کااپنا عمل کیا تھا۔ یہ آیات جو میں نےتلاوت کیں جیسا کہ مَیں نے بتایا ان میں بھی اور دوسری بہت سی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے، دینی ضروریات بھی اور ضرورت مندوں کی ضروریات بھی پوری کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور اس حکم کے تحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقی مومن کو بھی اس طرف توجہ دلائی ہے اور سب سے بڑھ کر اپنا نمونہ پیش کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی عملی تصویر اپنے اسوہ سے ہمیں دکھائی۔ پس
صرف ایک خُلق ہی نہیں بلکہ آپؐ کی زندگی کا ہر لمحہ قرآن کریم کے مطابق تھا۔اس لیے حضرت عائشہ ؓنے آپؐ کے اوصاف کے بارے میں فرمایا تھا کہ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن۔
(مسند احمد بن حنبل جلد8صفحہ144 حدیث نمبر25108مکتبہ عالم الکتب بیروت 1998ء)
کہ آپؐ کے اخلاق قرآن کریم کے عین مطابق تھے۔ تو کسی بھی خُلق کو لے لیں آپؐ اس کی اعلیٰ ترین مثال تھے جس سے بڑھ کر کوئی اَور مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔
بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا آج آپؐ کے جُود و سخاکا جو خُلق ہے اس حوالے سے روایات پیش کروں گا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دعائیہ کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے کہ
اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْکَسَلِ وَاَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْیَا وَ الْمَمَاتِ۔
کہ اے اللہ! مَیں بخل سے،سستی سے، بدترین عمر سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
(صحیح مسلم مترجم (اردو) جلد 14 صفحہ 79، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ …باب التعوذ من العجز والکسل… حدیث نمبر4865، نور فاؤنڈیشن)
اسی طرح اس بارے میں ایک یہ دعا بھی ہے۔ حضرت انسؓ سے ہی روایت ہے۔ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے کہ
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ
وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ۔
کہ اے اللہ! مَیں تیری پناہ لیتا ہوں فکر اور غم سے اور عاجزی اور سستی سے اور بزدلی اور کنجوسی سے اور قرضے کے زیادہ ہونے سے اور لوگوں کے غلبے سے۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 15 صفحہ 109 کتاب الدعوات باب الاستعاذۃ من الجبن… حدیث6369 شائع کردہ نظارت اشاعت)
اسی طرح
خدا تعالیٰ کی راہ میں اور بندوں کی مدد کرنے کے حوالے سے آپؐ نے مومنوں کو یہ نصیحت بھی فرمائی۔
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تھیلی کو باندھ کر نہ رکھا کرو۔ کھولو ورنہ تم سے روک لیا جائے گا۔ یعنی جس میں تم نے اپنی دولت رکھی ہوئی ہے اس کا منہ بند نہ کرو اور حسبِ ضرورت خرچ کیا کرو اور دوسروں کی مدد کیا کرو۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ گنتی نہ رہا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 3 صفحہ 55-56 كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الصَّدَقَةِ …حدیث:1433 شائع کردہ نظارت اشاعت)
یعنی اگر تمہیں اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے تو پھر تم اس کی شکر گزاری کا حق ادا کرو اور شکر گزاری کا حق یہ ہے کہ دوسروں کی مدد کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں مزید دے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
سخاوت کرنے والا اللہ کے قریب ہے۔ جنت کے قریب ہے۔لوگوں کے قریب ہے۔ آگ سے دور ہے۔اور بخیل اللہ سے دُور ہے۔ جنت سے دُور ہے۔لوگوں سے دُور ہے اور آگ کے قریب ہے۔اور سخاوت کرنے والا جاہل، بخیل عابد سے اللہ عزّوجلّ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے۔
(جامع الترمذی أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّخَاءِ حدیث:1961)
کنجوس جو بےشک عبادت کرنے والا ہو لیکن اس کے مقابلے میں ایک جاہل جو ہے اور سخاوت کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ پسند کرتا ہے۔
اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جنّت میں داخل نہ ہوگا دھوکے باز اور نہ بخیل اور نہ بہت احسان جتلانے والا۔
(جامع الترمذی أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي البخل حدیث:1963)
یہ تین خصوصیات ہیں دھوکہ دینے والا،کنجوس آدمی، بخیل آدمی اور جوکسی بات کا کسی پہ زیادہ احسان جتاتا ہے وہ جنّت میں داخل نہیں ہوں گے۔
اسی طرح ایک روایت ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مومن سادہ لوح اور سخی ہے اور فاجر دھوکہ دینے والا اور رذیل ہے۔
(جامع الترمذی أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي البُخْلِ حدیث:1964)
اب سادہ لوح سے یہ مراد نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ ہماری زبان میں سمجھتے ہیں کہ سادہ لوح سے مراد یہ ہے کہ جس میں عقل کم ہو۔ جبکہ مومن کے بارے میں تو یہ آیا ہے کہ مومن تو فراست میں بہت بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
(جامع الترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورۃ الحجر حدیث نمبر3127)
اور مومن کی فراست کی بڑی اہمیت ہے۔ اس سے ہوشیار رہنا چاہیے۔وہاں مطلب یہ ہے کہ جھگڑوں سے بچنے والا ہے اور کریم ہے اور بہت کھلے دل کا اور لوگوں میں پسند کیا جانے والا ہے۔ قابلِ عزّت ہے۔ پس
یہ ہے مومن کی نشانی اور یہ ہے ہمارے لیے اپنا جائزہ لینے کا ایک معیار۔
ایک روایت میں مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپؐ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ کی تلاوت فرما رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا:ابنِ آدم کہتا ہے میرا مال،میرا مال۔ یعنی دولت مند انسان یہ کہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے، میرا مال ہے۔ آپؐ نے فرمایا:
اے ابنِ آدم !تیرا مال تو وہی ہے جو تُو نے کھایا اور ختم کر دیا۔ پہن کر پرانا کردیا یا صدقہ کیا اور آگے بھیج دیا۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 15 صفحہ 155 كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ باب الدنیا سجن للمومن و جنۃ للکافر حدیث: 5244 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
پس آپؐ نے کہا کہ تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے خرچ کیا لیکن سب سے بہتر مال وہی ہے جو تم نے صدقہ کر دیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس کو پیش کر دیا۔اس کے بندوں کے حق ادا کرنے کے لیے پیش کر دیا۔اس کی راہ میں خرچ کر دیا۔اور یہ مال تمہیں اگلے جہان میں کئی گنا ہو کرملے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کو کوئی خوف نہیں ہوگا جیسا کہ آیت میں بتایا تھا اور نہ وہ غمگین ہوں گے کیونکہ وہ قربانیاں جو انہوں نے کی ہیں، وہ جُود و سخا جو انہوں نے کی ہے، جو مال اپنا دوسروں پہ خرچ کیا ہے وہ ان کو اگلے جہان میں ملے گا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :صرف دو ہی باتوں میں رشک کرنا جائز ہے۔ ایک تو وہ شخص جسے اللہ مال دے پھر اس کو بر محل بے دریغ خرچ کرنے کی طاقت دے۔اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے حکمت دی تو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور عمل کرتا ہے اور اَوروں کو بھی سکھاتا ہے۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 1 صفحہ 144-145 كِتَابُ الْعِلْمِ بَابُ الِْاغْتِبَاطِ فِي الْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ حدیث:73 شائع کردہ نظارت اشاعت)
پھر ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا۔
حضرت اَبُو اُمَامَہ ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم !تیرا اپنی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنا تیرے لیے بہتر ہے۔ جو مال تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس سے جو تمہاری ضروریات ہیں بیشک وہ پوری کرو لیکن اس سے زیادہ جو مال ہے اس کو خرچ کرو۔ اور تیرا اس کو روک رکھنا تیرے لیے بُرا ہے اور تجھے بقدر ضرورت رکھ لینے پر ملامت نہیں کی جائے گی۔ جو ضرورت تم نے پوری کی اس کے لیے تمہیں نہیں پوچھا جائے گا کہ کس لیے مال رکھا ؟ اور تُو اس سے شروع کر جس کی پرورش تیرا ذمہ ہے۔ خرچ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو تمہاری ذمہ داریاں ہیں،تمہاری اولاد ہے،تمہارے بیوی بچے ہیں، تمہارے غریب رشتہ دار ہیں یا جن کے ذمے کی پرورش تمہارے ذمے کی گئی ہے وہ تمہارے پہلے حقدار ہیںتمہارے مال سے مدد حاصل کرنے کے۔اور پھر فرمایا
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
(صحیح مسلم مترجم جلد4 صفحہ 209 كِتَاب الزَّكَاةِ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى… حدیث: 1704 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم میں سے کون ایسا ہے کہ جس کو اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ پیارا ہو؟ کوئی ایسا شخص ہے کہ جو کہے کہ میرے وارث کو جو مال مَیں دے کے جا رہا ہوں وہ مجھے جو مَیں نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے یا اپنے اوپر خرچ کر رہا ہوں اس سے زیادہ پیاراہے؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہؐ! ہم میں سے تو کوئی بھی ایسا نہیں جس کو اپنا مال زیادہ پیارا نہ ہو۔بہرحال جو ہمارے پاس ہے ہمیں زیادہ پیارا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:
تو پھر اس کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیج دیا۔ اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو اس نے پیچھے چھوڑ دیا۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 15 صفحہ 206-207كِتَابُ الرقاق بَابُ مَا قَدَّمَ مِنْ مَالِهِ فَهُوَ لَهُ حدیث:6442 شائع کردہ نظارت اشاعت)
جوتم نے آگے بھیج دیا، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا،غریبوں کی مدد کی وہ سب سے بہتر ہے۔ اس کا تمہیں آخر میں اجر ملے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل مال کےبے دریغ خرچ کرنے اور اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنے کے بارے میں کیا تھا۔
اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلالؓ کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس کھجور کی ایک ڈھیری لگی ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا :بلال! یہ کیا ہے ؟حضرت بلالؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ !یہ مَیں نے آپؐ کے لیے اور آپؐ کے مہمانوں کے لیے جمع کر رکھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا :کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ اس ذخیرے پر جہنم کی گرم لپیٹ آ پہنچے۔ پھر آپؐ نے بلالؓ کو نصیحت فرمائی کہ
اے بلال! خرچ کرتے چلے جاؤ اور خدائے ذوالعرش کے ہوتے ہوئے فقر و فاقہ سے مت ڈرو۔
(المعجم الکبیر للطبرانی جزء 1 صفحہ 340، حدیث 1020، باب الباء، عبد اللہ بن مسعود عن بلال رضی اللہ عنہما۔مکتبہ ابن تیمیہ۔ القاھرۃ۔)
پھر آپؐ کے اپنے اسوہ کی اس بارے میں ایک اَور مثال ہے۔حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کروائی اور اس کا گوشت غرباء میں تقسیم کیا اور کچھ گھر میں بھی کھانے کے لیے رکھ لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس قدر گوشت بچ گیا ہے؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا صرف دستی بچی ہے۔ اگلی ٹانگ جو تھی بکری کی۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سارا مال بچ گیا جو تم نے تقسیم کر دیا سوائے اس دستی کے جو ہمارے کھانے کے لیے تم نے رکھی ہے کیونکہ یہ تو کسی کے کام نہیں آئی۔ اگلے جہان میں تو وہی کام آئے گا جو تم نے خرچ کر دیا۔
(جامع الترمذی کتاب صفۃ القیامۃ…باب33حدیث نمبر 2470)
حضرت معاویہؓ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مَیں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی دیتا ہے۔
(صحیح البخاری کتاب العلم باب من یرد اللّٰہ بہ خیر ایفقھہ فی الدین حدیث نمبر71)
جُود و سخا کی صفت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات میں بعثت سے قبل بھی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی
اور اس کی گواہی جیسا کہ ہم پڑھتے ہیں آپؐ کی زوجہ ٔمطہرہ حضرت خدیجہؓ نے اس وقت دی تھی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی اور آپؐ گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تھے تو حضرت خدیجہؓ نے فرمایا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔بخدا !آپ کو اللہ کبھی رُسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ عاجز کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔وہ نیکیاں کرتے ہیں جو معدوم ہو چکی ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور حقیقی مصائب میں مدد کرتے ہیں۔
(دائرہ معارف سیرت محمد رسول اللہ ﷺ جلد 11صفحہ 48، بزم اقبال لاہور، صحیح البخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللّٰہ ﷺ، حدیث 3)
پھر ایک روایت ہے۔حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دو عادتیں مومن میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ بخل اور بد خلقی۔
(جامع الترمذی کتاب البِرِّ وَالصِّلَةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي البُخْلِ حدیث نمبر1962)
یعنی مومن جو ہے اس میں نہ بخل ہوگا نہ بدخلقی ہوگی۔ یہ بھی ایک معیار ہے اپنے آپ کو جانچنے کا۔
پھر
بخل سے بچنے کی ہدایت
کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم سے بچو۔ یقیناًظلم قیامت کے دن کے اندھیرے ہوں گے۔ اور بخل و حرص سے بچو۔یقیناً بخل نے تم سے پہلوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس بخل نے انہیں اکسایا تو انہوں نے خون بہایا اور حرام چیزوں کو حلال کیا۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 13 صفحہ 242 کتاب البر والصلہ …باب تحریم الظلم حدیث 4661شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کسی بندے کے اندر کبھی بھی اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کسی بندے کے دل میں کبھی حرص و بخل اور ایمان اکٹھے ہو سکتے ہیں۔
(سنن النسائی کتاب الجھاد باب فضل من عمل فی سبیل اللّٰہ حدیث 3112)
جیسا کہ پہلے بھی ایک روایت میں بیان ہو چکا ہے کہ حریص اور لالچی اور کنجوس جو ہے یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتا۔ پس
یہ ہیں معیار۔ مومن بننا ہے تو حرص سے بھی بچنا ہوگا۔ لالچ سے بھی بچنا ہوگا۔ کنجوسی سے بھی بچنا ہو گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی دن بھی ایسا نہیں کہ جس میں دو فرشتے جبکہ بندے صبح کو اٹھتے ہیں نازل نہ ہوتے ہوں۔ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا کر اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ !بخیل کا مال رائیگاں جائے۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 3 صفحہ 66 کتاب الزکاۃ باب قول اللّٰه تعالى: فأما من أعطى واتقى…حدیث1442شائع کردہ نظارت اشاعت)
یعنی جو خرچ کر رہا ہے اس کو اس کے بدلے میں اَور دے۔اور جو بخل کرنے والا ہے، کنجوسی کرنے والا ہے اس کے مال کو ضائع کر دے۔اس دنیا میں بھی اس مال میں برکت نہیں پڑتی۔یہی ہم دیکھتے ہیں۔بہت سے لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی یہ مال اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو اس کی محبت میں خرچ کرتے ہیں وہ اس کا اجر دیتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ حسین تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 12 صفحہ217، کتاب الفضائل، باب فی شجاعۃ النبی علیہ السلام و تقدمہ للحرب۔ حدیث4252، نور فاؤنڈیشن)
اسی طرح ایک روایت ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں سب سخاوت کرنے والوں سے بڑھ کر سخاوت کرنے والے کے بارے میں نہ بتاؤں۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ
اللہ تمام سخاوت کرنے والوں سے بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہے اور مَیں بنی آدم میں سب سے بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہوں۔
(مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 409، کتاب علامات النبوۃ باب فی جودہ ﷺ حدیث نمبر14178، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001)
دنیا میں انسانوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والا مَیں ہوں۔
اسی طرح حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی میں سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان کے مہینے میں آپؐ سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام ہر سال رمضان میں آپؐ سے ملتے یہاں تک کہ وہ رمضان گزر جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قرآن سناتے۔ جب جبرائیلؑ آپؐ سے ملتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی میں تیز آندھی سے بھی بڑھ کر سخی ہوتے۔ (صحیح مسلم مترجم جلد 12 صفحہ 218-219، کتاب الفضائل باب کان النبیﷺ اجود الناس بالخیر، حدیث 4254، نور فاؤنڈیشن) اس طرح اتنا خرچ کرتے جس طرح آندھی اور طوفان آیا ہو۔
اسی بات کو حضرت مصلح موعودؓ نے ایک خطبہ میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ’’جب آپ سخاوت کرتے تو انتہا درجہ کی حتّٰی کہ صحابہؓ کا بیان ہے کہ آپ بالخصوص رمضان میں اس طرح سخاوت کرتے کہ جس طرح تیز آندھی چلتی ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا۔ پر آپ کا عمل تھا۔ یعنی سخاوت کو فضول اور رائیگاں نہ گنواتے اور نہ بے محل استعمال کرتے۔‘‘ سخاوت تھی لیکن اللہ تعالیٰ کایہ بھی حکم ہے کہ فضول خرچ نہیں کرنا۔ بلا وجہ ضائع نہیں کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فضول خرچی سے روکا ہے۔ ’’حاتم طائی کی سخاوت تو تھی مگر بے محل۔ ‘‘حاتم طائی بڑا سخی کہلاتا ہے لیکن اس کی سخاوت موقع محل کے حساب سے نہیں ہوتی تھی۔بے سوچےسمجھے ہوتی تھی ’’کیونکہ وہ حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ والی سخاوت تھی۔‘‘ یہ محاورہ ہے۔ اپنا مال کوئی نہیں ’’باپ کے مال پر اس کا کیا حق تھا کہ اسے تقسیم کر دیتا۔ ‘‘حاتم طائی کے بارے میں آتا ہے کہ بچپن سے اس کی فطرت میں سخاوت تھی اور آخر اس کے باپ نے دیکھا کہ وہ تو میرا مال لٹائی جا رہا ہے اس کو باہر بھیج دیا کہ اونٹوں کی نگرانی کرو اور ایک دن اس نے جو دیکھا کہ تین آدمی آئےہیں۔ تین بڑے شاعر تھے۔ انہوں نے اس کو سفر میں دیکھا تو ان کے لیے، مہمان نوازی کے لیے تین اونٹ قربان کر دیے۔ انہوں نے کہا ہم تین آدمی ہیں ایک اونٹ ہی کافی ہے۔ اس نے کہا نہیں اگر مَیں ایک کروں گا تو باقی دو طفیلی ہو گئے۔ تو باپ کا مال تھا مفت کا، اس نے ان کے لیے تینوں اونٹ ذبح کر دیے۔ بچ گئے ہوں گے۔ بہرحال باقی ضائع ہو گیا یا کسی کو دے دیا تو باپ کو بھی بڑا بُرا لگا کہ میرا مال اس طرح لٹائی چلا جاتا ہے لیکن
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو مال آتا تھا وہ آپؐ کا مال ہوتا تھا اور قرآنی ہدایت کے مطابق موقع محل کے حساب سے آپؐ خرچ کرتے تھے۔
یہاں ان احادیث کی وضاحت ہو گئی ہے جہاں آپؐ نے فرمایا ہے کہ بے دریغ خرچ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ موقع محل کے حساب سے خرچ کرو۔ پھر کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ نہیں ہے کہ تین آدمی ہیں جنگل میں آئے ہیں تین اونٹ ذبح کر دو اور بعد میں ان کا گوشت ضائع ہو جائے۔ کیونکہ وہاں اَور تو کھانے والا ہے نہیں۔ یقیناً جنگل میں اَور نہیں ملا ہوگا۔ اگر کوئی مل بھی گئے ہوں گے تو چند ایک لوگ۔ پھر بھی کافی گوشت بچ گیا ہوگا جو ضائع گیا۔ اس کافائدہ کوئی نہیں ہے۔ تو موقع محل کے لحاظ سے خرچ کرنا چاہیے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں اور موقع محل کے لحاظ سےخرچ کررہے ہو تو پھر بے فکر رہو کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جیسا کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کوئی فکر و غم نہیں ہوگا۔ بہرحال حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:’’ اس کے مقابل پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف تو آپ اس قدر سخی تھے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صحابہؓ کہتے ہیں کہ رمضان کے دنوں میں آپ اس طرح سخاوت کرتے کہ گویا تیز آندھی چل رہی ہے ‘‘ مگر دوسری طرف سوچ سمجھ کر خرچ کرنے والے تھے۔
(خطبات محمود جلد 18 صفحہ641،ماخوذ از بلوغ الارب فی معرفۃ احول العرب جلد 1 صفحہ 74 ’’حاتم الطائی‘‘، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2020ء)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس تہامہ کے پہاڑوں یعنی عرب کے ساحلی پہاڑوں کا جو سلسلہ ہے ان کے برابر سونا ہوتا تو میں وہ سب تم میں تقسیم کر دیتا اور تم مجھے جھوٹا یا بخیل نہیں پاؤ گے۔
(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 7 صفحہ 53، فی کرمہ و جودہ ﷺ، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)
ایک روایت ہے۔ حضرت ابوذرؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے میدان میں چلا جا رہا تھا کہ اتنے میں اُحد پہاڑ ہمارے سامنے آگیا۔ آپؐ نے فرمایا :ابوذر! مَیں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہؐ! آپؐ نے فرمایا:مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ میرے پاس اس اُحد جتنا سونا ہو اور تیسری رات مجھ پر گزر جائے اور اس میں سے میرے پاس ایک دینار بھی موجود ہو سوائے کچھ اس کے جو میں نے قرض چکانے کے لیے رکھ چھوڑا ہو بلکہ مَیں ضرور ہی اللہ کے بندوں میں اسے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح خرچ کردوں۔ یعنی اپنے دائیں اور اپنے بائیں اور اپنے پیچھے۔ آپؐ چلے اور پھر فرمایا :وہ جو بہت مالدار ہیں وہی قیامت کے دن نادار ہوں گے۔ جو مالدار ہیں پیسے جوڑتے رہتے ہیں خرچ نہیں کرتے ضرورت مندوں پہ اور غریبوں پہ وہ قیامت کے دن نادار ہوں گے مگر وہ نہیں جو اس طرح، اس طرح، اس طرح خرچ کرے۔ جو خرچ کر رہا ہے وہ نادار نہیں ہو گا قیامت کے دن۔یعنی اپنے دائیں اور اپنے بائیں اور اپنے پیچھے۔ اور وہ بہت ہی تھوڑے ہیں۔ ایسے لوگ آپؐ نے فرمایا بہت تھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں اس طرح خرچ کرتے ہیں۔ جو مالدار ہیں وہ بخل نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مومن مالدار بےخوف ہو کر خرچ کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں اَور بھی نوازتا چلا جاتا ہے۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 15 صفحہ 211-212کتاب الرقاق باب قول النبی ﷺ ما یسرنی ان عندی مثل احد ھذا ذھبا حدیث:6444، نظارت اشاعت)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان جتنی بھی بکریاں تھیں مانگ لیں اور آپؐ نے اسے وہ عطا فرما دیں۔ پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا کہ اے میری قوم !اسلام لے آؤ۔ خدا کی قسم !محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اتنا دیتے ہیں کہ غربت کا ڈر نہیں رہتا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی آدمی صرف دنیا کے لیے اسلام قبول کرتا تھا مگر جونہی اسلام قبول کرتا تو اسلام اسے دنیاو مافیہا سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 12 صفحہ 223-224، کتاب الفضائل باب ما سئل رسول اللّٰہ ﷺشیئا قط فقال لا حدیث نمبر 4262، نور فاؤنڈیشن)
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل کے لیے کوئی چیز بچا کر نہیں رکھتے تھے۔
(شمائل النبی ﷺ صفحہ 148باب ما جاء فی خلق رسول اللہ ﷺ حدیث 339، نور فاؤنڈیشن)
حضرت عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے گھر گئے اور تھوڑی ہی دیر بعد باہر تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں کہ مَیں نے آپؐ سے پوچھا یا کسی اَور نے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ مَیں گھر میں صدقہ کے مال سے سونے کا ایک ٹکڑاچھوڑ آیا تھا۔ مَیں نے پسند نہ کیا کہ وہ رات بھر میرے پاس رہے۔ اس لیے مَیں نے اسے تقسیم کر دیا۔
(صحیح بخاری مترجم جلد 3 صفحہ 53-54، کتاب الزکوٰۃ باب من احب تعجیل الصدقۃ حدیث نمبر 1430، نظارت اشاعت)
حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپؐ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ مَیں نے سوچا کہ کسی تکلیف یا دَرد کی وجہ سے ایسا ہوگا۔ کہتی ہیں کہ مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! مَیں آپؐ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا دیکھ رہی ہوں۔ کیا کسی تکلیف کی وجہ سے ایسا ہے؟ آپؐ نے فرمایا :نہیں! ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے جو ہمارے پاس شام کو آئے تھے اور رات گزر گئی اور ہم نے ان کو خرچ نہیں کیا۔ مَیں انہیں بستر کے کونے میں بھول گیا تھا اور جب مجھے یاد آیا تو مجھے اس کی سخت فکر پیدا ہوئی۔
(مسند احمد بن حنبل جلد8صفحہ630-631 حدیث نمبر27207مکتبہ عالم الکتب بیروت 1998ء)
حضرت عقبہؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مدینہ میں عصر کی نماز پڑھی۔ آپؐ نے سلام پھیرا اور جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنوں سے گزرتے ہوئے اپنی ازواجِ مطہرات کے ایک حجرےکی طرف گئے۔ لوگ آپؐ کی اس جلدی سے گھبرا گئے۔ پھر آپؐ ان کے پاس باہر آئے اور دیکھا کہ وہ آپؐ کی اس جلدی سے تعجب میں ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے پاس کچھ سونا تھا جو مجھے یاد آیا اور مَیں نے پسند نہ کیا کہ وہ میری توجہ کو ذکر الٰہی سے روکے۔ اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کے لیے کہہ دیا ہے۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 2 صفحہ 252-253کتاب الاذان باب من صلى بالناس، فذكر حاجة فتخطاهم روایت 851 … نظارت اشاعت)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ
’’آنحضرتؐ کی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس جو کچھ ہوتا وہ سخاوت کر دیا کرتے تھے۔ایک بار آپ کے گھر میں ایک مُہر تھی آپؐ نے اس کو لے کر تقسیم کر دیا۔‘‘
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 323،ایڈیشن 2022ء)
اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ یہ اس طرح لکھا ہے کہ ’’ایک دفعہ صدقات کا کچھ روپیہ آیا اور اسے تقسیم کرتے ہوئے ایک دینار کسی کونے میں گر گیا جسے اٹھانے کا آپ کو خیال نہ رہا۔ نماز کے بعد یاد آیا تو لوگوں کے اوپر سے پھا ندتے ہوئے آپ جلدی سے اپنے گھر تشریف لے گئے۔ صحابہؓ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہؐ! کیا بات تھی۔ آپؐ نے فرمایا اس اس طرح ایک دینار تقسیم کرنے سے رہ گیا تھا مَیں نے چاہا کہ جس قدر جلدی ممکن ہو اسے بھی تقسیم کر دوں… غرض
مال و دولت کے باوجود آپؐ نے ایسی سیر چشمی اور استغناء ظاہر کی کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔جو کچھ آتا آپؐ خدا تعالیٰ کی راہ میں تقسیم کر دیتے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 478-479ایڈیشن2023ء)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے مال لایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے مسجد میں ڈال دو۔ یہ سب سے زیادہ مال تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپؐ نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس کی طرف دیکھا نہیں۔ جب آپؐ نماز ختم کر چکے تو آکر اس مال کے پاس گئے اور جس کسی کو بھی دیکھتے اس کو دیتے۔ اتنے میں آپؐ کے پاس حضرت عباسؓ آئے اور کہا :یا رسول اللہؐ! مجھے بھی دیجئے کیونکہ مَیں نے بدر کے دن اپنا فدیہ دیا تھا اور عقیل کا بھی فدیہ تھا۔عقیل بن ابو طالب یہ حضرت عباسؓ کے بھتیجے تھے۔ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ اس میں سے لے لو۔ تو انہوں نے دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کے اپنے کپڑے میں ڈالا۔ پھر اس کو اٹھانے لگے مگر نہ اٹھا سکے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ؐ!کسی کو حکم دیجئے کہ اس کو مجھے اٹھوا دے۔ آپؐ نے فرمایا :نہیں! یہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پھر آپؐ اٹھا کر مجھ پر رکھ دیں۔ آپؐ نے کہا :نہیں! یہ بھی نہیں۔ اس پر انہوں نے اس میں سے کچھ نکال دیا۔ پھر اٹھانے لگے۔ پھر بھی نہ اٹھا سکے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ؐ!کسی کو حکم دیجئے کہ اس کو مجھے اٹھوا دے۔ آپؐ نے فرمایا :نہیں۔ تو انہوں نے کہا پھر آپؐ ہی اٹھا کر مجھ پر رکھ دیں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ اس پر انہوں نے اس میں سے کچھ اَور نکال دیا۔پھر اسے اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور چل دیے۔ جب چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل انہیں دیکھتے رہے جب تک کہ وہ ہم سے اوجھل نہ ہو گئے۔
ہر موقع پر آپؐ صحابہؓ کو اعتدال کی نصیحت کرتے تھے۔ ٹھیک ہے مَیں دیتا ہوں۔ لیکن اٹھاؤ تم اعتدال سے۔ چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اعتدال ہونا چاہیے۔ جتنی ضرورت ہے اتنا لو۔ زیادہ نہیں لینا چاہیے۔ جو راوی ہے اس نے اس حدیث کے آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس حرص پر تعجب تھا۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 1 صفحہ517-518، کتاب الصلوٰۃ، باب القسمۃ و تعلیق القنو فی المسجد حدیث 421، نظارت اشاعت)
یہ راوی کا اپنا تاثر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے نہیں دیکھ رہے ہوں گے کہ ان کی حرص پر تعجب تھا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کووہ غربت کا زمانہ یاد آگیا جو صحابہ ؓکی پرانی حالت تھی اور اس پر غور کرتے ہوئے انہیں دُور تک آپؐ دیکھتے رہے تھے کہ کس طرح یہ لوگ قربانیاں دیتے رہے،کس طرح ان پہ غربت کا زمانہ تھا اور آج اللہ تعالیٰ کس طرح ہمیں نواز رہا ہے۔ مختلف شارحین نے بھی، اسے راوی کی اپنی سوچ قرار دیا ہے۔ یہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب کیا کہ حرص کیوں کر رہا ہے بلکہ اَور خیالات کا ہی شارحین نے لکھا ہے۔
(الإفصاح عن معاني الصحاح جلد 5 صفحہ 323 دار الوطن)
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپؐ نے نہ کہا ہو۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 12 صفحہ 222-223، کتاب الفضائل۔ باب فی ما سئل رسول اللّٰہ ﷺ شیئا قط فقال لا، وکثرۃ عطائہ حدیث4260، نور فاؤنڈیشن)
حضرت سَہل بن سعدؓ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت حیا والے تھے۔ جب بھی آپؐ سے کچھ مانگا جاتا آپؐ عطا فرما دیتے۔
(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 7 صفحہ 50، فی کرمہ و جودہ ﷺ، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)
ابن ابی خَیْثَمَہ حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ
حضرت علیؓ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرتے تو فرمایا کرتے کہ آپؐ عطا کرنے کے لحاظ سے سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔
(سبل الھدیٰ والرشاد جلد 07 صفحہ 52، فی کرمہ و جودہ ﷺ،دارالکتب العلمیۃ 1993ء)
حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت بُرْدَہ (یہ چادر کی ایک قسم ہے ) لے کر آئی اور کہا یارسول اللہؐ! مَیں نے یہ اپنے ہاتھ سے بُنی ہے کہ مَیں آپؐ کو پہناؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے لی جیسے آپؐ کو اس کی ضرورت تھی۔ پھر آپؐ ہمارے پاس آئے اور وہی چادر ازار کے طور پر آپؐ نے پہنی ہوئی تھی، باندھی ہوئی تھی۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا :یا رسول اللہؐ! یہ چادر مجھے پہننے کے لیے دے دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا:اچھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر مجلس میں بیٹھے رہے پھر اندر جا کر اسے تہ کیا اور اس شخص کے پاس بھیج دی۔ کپڑے بدل کے دوسری چادر پہن کے آگئے۔لوگوں نے اس سے کہا تُو نے آپؐ سے یہ مانگ کے اچھا نہیں کیا۔ تجھے علم ہے کہ آپؐ سائل کو ردّ نہیں کرتے۔ تو اس شخص نے کہا :بخدا !مَیں نے یہ اس لیے مانگی ہے کہ جب مَیں مر جاؤں تو یہ میرے لیے کفن ہو۔ لکھا ہے کہ حضرت سہلؓ نے کہا تھا تو وہی چادر پھر بعد میں ان کے کفن کے طور پر استعمال کی گئی۔
(صحیح البخاری مترجم جلد 4 صفحہ 58-59، کتاب البیوع باب :النسّاج، حدیث 2093، نظارت اشاعت)
ایک روایت میں ہے حضرت مِسْوَر بن مَخْرَمَہؓ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم فرمائیں اور مَخْرَمَہکو کوئی قبا نہ دی۔ ان کے بیٹے مِسْوَر نے روایت کی ہے کہ مَخْرَمَہؓ نے اپنے بیٹے کو کہا :اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ مَیں ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے کہا اندر جاؤ اور آپؐ کو میرے پاس بلاؤ۔ خیر کہتے ہیں مَیں چھوٹا تھا۔ اندر گیا۔آپؐ کو بلایا اور بتایا کہ میرا باپ آیا ہے۔ آپؐ ان کے پاس تشریف لائے اور ان میں سے ایک قبا آپؐ کے ہاتھ میں تھی۔ آپؐ نے فرمایا: مَیں نے تمہارے لیے یہ سنبھال کر رکھی تھی۔ تم شکوہ لے کے آئے تھے ناں۔ اس سے پہلے کہ وہ شکوہ کا اظہار کرتے آپؐ نے وہ چادر ان کو دے دی کہ مَیں نے تمہارے لیے یہ سنبھال کے رکھی ہوئی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ آپؐ نے مَخْرَمَہ کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا:یہ چادر تمہارے لیے ہے۔مَخْرَمَہ اس بات پہ خوش ہو گیا۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 4 صفحہ 229۔ کتاب الزکاۃ باب اعطاء من سأل بفحش و غلظۃ حدیث 1736۔ نور فاؤنڈیشن)
(فتح الباری جلد 10 صفحہ281 کتاب اللباس بَابُ القَبَاءِ وَفُرُّوجِ حَرِيرٍ روایت 5800 مکتبۃ الملک فھد، ریاض 2001ء)
ایک اَور روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مَخْرَمَہ ؓکی آواز پہچان لی اور باہر تشریف لائے۔ بجائے یہ کہ بیٹا اندر جاتا آپؐ خود ہی باہر تشریف لے آئے۔ آپؐ کے پاس ایک قبا تھی۔ آپؐ اس کی خوبیاں ان کو دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ مَیں نے یہ تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ مَیں نے یہ تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 4 صفحہ 229۔ کتاب الزکاۃ باب اعطاء من سأل بفحش و غلظۃ حدیث 1737۔ نور فاؤنڈیشن)
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپؐ نے نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی جس کا کنارہ کھردرا تھا۔ آپؐ کو ایک بدوی شخص آملا اور اس نے آپؐ کی چادر کو بہت سختی سے کھینچا اور مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کی ایک جانب دیکھا اور اس کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے اس چادر کے کنارے نے آپؐ کی گردن پر نشان ڈال دیا تھا۔ پھر اس نے کہا :اے محمدؐ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دئےجانے کا حکم دو۔ رسول اللہؐ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ہنس پڑے اور پھر اسے عطا کرنے کا ارشاد فرمایا۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 4 صفحہ 227-228کتاب الزکاۃ باب اعطاء من سأل بفحش و غلظۃ حدیث 1735۔ نور فاؤنڈیشن)
اس کی تفصیل ایک جگہ یوں بیان ہوئی ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مجلس میں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے۔ پھر آپؐ کھڑے ہو جاتے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ آپؐ اپنے گھر،کسی زوجہ کے گھر میں چلے جاتے۔ ایک روز کہتے ہیں آپؐ ہم سے کلام فرما رہے تھے کہ آپؐ کے کھڑے ہونے پر ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ایک بدو کو دیکھا جس نے آپؐ کو پکڑ کر آپؐ کی چادر کے ذریعے آپؐ کو کھینچا۔ اس پر آپؐ کی گردن سرخ ہو گئی۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ چادر بہت کھردری تھی۔پھر جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف رُخ کیا تو اس بدو نے آپؐ سے کہا کہ میرے ان دونوں اونٹوں پر آپؐ مال لاد دیں کیونکہ آپؐ نہ ہی اپنے مال میں سے لاد کر دیں گے اور نہ ہی اپنے باپ کے مال میں سے۔ بڑی بدتمیزی سے بولا۔ راوی کہتے ہیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نہیں! اور مَیں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ نہیں! اور مَیں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ نہیں! اور مَیں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ ساتھ استغفار بھی کی اور کہا نہیں! مَیں اس وقت تک تمہیں نہیں دوں گا۔ یہ نہیں تھا کہ دوں گا نہیں۔ یہ شرط لگائی کہ اس وقت تک تمہیں نہیں دوں گا جب تک تم مجھے اپنے اس کھینچنے کا بدلہ نہیں دو گے۔ جو تم نے میری چادر کھینچی ہے اور میری گردن کو زخمی کر دیا ہے اس کا بدلہ دو۔ وہ بدو ہر بار کہتا تھا کہ بخدا !مَیں اس کا بدلہ نہیں دوں گا۔ اس نے کہا نہیں! مَیں کوئی بدلہ نہیں دوں گا۔ اس نے کہا کیونکہ آپؐ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔ اس نے یہ حربہ استعمال کیا۔ ہوشیار تھا بدو بھی کہ آپؐ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔ اس لیے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مَیں بدلہ دوں۔ مَیں نے تو برائی کی ہے آپؐ تو نہیں بُرا کریں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر ؓکو ارشاد فرمایا کہ اس کے دونوں اونٹوں میں سے ایک پر جَو اور دوسرے پر کھجوریں لاد دو۔ دونوں بھر دیں۔ نہ صرف اسے مال عطا فرمایا بلکہ اس کی زیادتی کو بھی معاف فرما دیا۔
(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الحلم واخلاق النبی ﷺ حدیث نمبر 4775، شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد 6 صفحہ 25، الفصل الثانی: فیما اکرمہ اللّٰہ تعالیٰ بہ من الاخلاق الزکیۃ، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو مَیں تمہیں ایسے اور ایسے اور ایسے دوں گا۔ آپؐ نے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔لیکن بحرین کا مال آنے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ پھر وہ مال آپؐ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا۔ آپؓ نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کوئی وعدہ یا قرض ہو تو اسے چاہیے کہ وہ آئے۔ اس پر میں کھڑا ہوگیا اور عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو مَیں تمہیں ایسے اور ایسے اور ایسے دوں گا۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے ایک اوک بھرا۔ ہاتھوں میں دونوں ہاتھ جوڑ کے بھرا۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ اس کی گنتی کرو۔ چنانچہ مَیں نے گنا تو وہ پانچ سو درہم نکلے۔ پھر آپؓ نے فرمایا کہ اس سے دوگنا اَور لے لو۔حضرت عَلَاء بن حَضْرمیجنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین پر عامل مقرر فرمایا تھا انہوں نے بحرین سے یہ مال بھجوایا تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی حضرت عَلَاءاسی عہدے پر فائز رہے۔
( صحیح مسلم مترجم جلد 12 صفحہ 224-225، کتاب الفضائل باب ما سئل رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم شيئا قط فقال لا وكثرة عطائه، حدیث 4264، نور فاؤنڈیشن،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ 4صفحہ 556، في أمرائه ورسله…، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)
ہارون بن رئابؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ستّر ہزار درہم آئے۔ یہ سب سے زیادہ مال تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پھر یہ مال ایک چٹائی پہ رکھا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ بانٹنے کے لیے کھڑے ہوئے تو جو سوالی بھی آیا اسے آپؐ نے خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔ یہاں تک کہ آپؐ نے وہ سارے کا سارا مال تقسیم کر دیا۔
( اخلاق النبیﷺ و آدابہ صفحہ 103-104 حدیث 97 مکتبہ دار اللؤلؤہ)
یہ اس روایت میں ہے۔ لیکن اس مال سے زیادہ بھی مال آتا رہا ہے۔ شاید راوی کے علم کے مطابق یہ سب سے زیادہ مال ہو یا جس وقت کی یہ روایت بیان کی جا رہی ہے اس وقت تک یہ سب سے زیادہ مال ہو کیونکہ اس سے پہلی جو روایت ہے اس میں بحرین سے جو مال آیا تھا وہ اس سے بہت زیادہ تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے مانگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نصف وسق کا غلہ ادھار لے کر دیا۔ ایک وسق تقریباً ساٹھ صاع کا اور ایک صاع جو ہے اڑھائی سیر کے برابر ہوتا ہے۔ پھر ادھار والا شخص اس کا تقاضا کرنے آیا تو آپؐ نے اسے ایک وسق عطا فرمایا اور فرمایا:نصف اس کے قرض کی ادائیگی کے طور پر اور نصف اس کے لیے بطور تحفہ ہے۔
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ لقاضی عیاض صفحہ 77-78فصل و اما الجود و الکرم …دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء،لغات الحدیث جلد 2 صفحہ 648، جلد 4 صفحہ 487)
یہ قرض لوٹانے کا احسن طریقہ ہے۔ اس نےنصف وسق غلہ ادھار دیا تھا۔ لیکن آپ نے ادھار دینے والے کو پورا وسق دیا۔ یہ ہے قرض لوٹانے کا احسن طریقہ، نہ یہ کہ اصل قرض بھی لوٹانے میں لیت و لعل سے کام لیا جائے۔
حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کالے رنگ کا ایک اونی جُبَّہ بنوایا گیا۔ ایک روزآپؐ وہ جبّہ پہنے ہوئے صحابہؓ میں تشریف لائے۔ آپؐ نے فرمایا:تم اسے نہیں دیکھتے کہ کتنا خوبصورت ہے۔ ایک دیہاتی نے عرض کیا :یا رسول اللہؐ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ جبّہ مجھے عنایت فرما دیں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا گیا ہو اور آپؐ نے ’’نہ‘‘ کہا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جبّہ اتار کر اسے دے دیا۔
(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 7 صفحہ 53، فی کرمہ و جودہ ﷺ، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)
ایک بڑی خوبصورت روایت ہے۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا بیچنے والے سے چار درہم میں ایک قمیض خریدی۔ وہ قمیض پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے یہ قمیض پہنا دیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو جنت کا لباس پہنائے۔ آپؐ نے وہ قمیض اتار کر اسے دے دی۔پھر آپؐ دکاندار کے پاس گئے اور اس سے چار درہم میں ایک اَور قمیض خریدی۔ آپؐ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے تھے۔ آپؐ کے پاس اس وقت دس درہم تھے۔ چار میں پہلی قمیض خریدی۔ پھر چار میں دوسری خریدی۔ دو درہم باقی رہ گئے۔ آپؐ نے راستے میں جب واپس آرہے تھے تو ایک لونڈی کو روتے ہوئے دیکھا۔ آپؐ نے اس سے رونے کی وجہ دریافت فرمائی۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسولؐ!میرے گھر والوں نے مجھے دو درہم دیے تھے کہ مَیں اس سے آٹا خرید کے لاؤںمگر وہ مجھ سے کہیں گرگئے ہیں،گم ہو گئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ دو درہم اسے عطا فرما دیے۔ وہ پلٹی اور پھر رونے لگی۔ آپؐ نے اس سے دریافت فرمایا کہ وہ کیوں رو رہی ہے جبکہ اب دو درہم اس کے پاس ہیں۔ جا کے آٹا خرید لو۔ اس نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ اب وہ مجھے ماریں گے کہ اتنی دیر ہوگئی ہے کہاں تھی؟ آپؐ اس کے ساتھ اس کے گھر والوں کی طرف چل پڑے۔آپؐ نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے آپؐ کی آواز پہچان لی مگر جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کی۔ آپؐ نے دوبارہ سلام کیا۔وہ پھر بھی خاموش رہے گھر والے۔آپؐ نے تیسری بار سلام کیا۔ اس وقت انہوں نے آپؐ کے سلام کا جواب دیا۔ آپؐ نے ان سے دریافت فرمایا: کیا تم نے پہلی دفعہ سلام نہیں سنا تھا؟ انہوں نے عرض کی۔ ہم نے سنا تھا لیکن ہم نے پسند کیا کہ آپؐ ہم پر سلامتی بڑھاتے چلے جائیں۔ بار بار سلام دیں۔ آپ پر سلامتی ہو۔ یہ حرص تھی صحابہؓ کی۔پھر انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! ہمارے ماں باپ آپؐ پر قربان! آپؐ کیسے تشریف لائے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا :یہ بچی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے۔ اس لونڈی کے آقا نے کہا :آپؐ کے اس کے ساتھ تشریف لانے کی وجہ سے مَیں نے اس لونڈی کو اللہ کی خاطر آزاد کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خیر اور جنّت کی بشارت دی اور پھر فرمایا :
اللہ نے ان دس درہموں میں بڑی برکت ڈالی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھی اس سے قمیض پہنائی۔اور ایک انصاری کو بھی قمیض پہنائی۔اور ایک لونڈی کو بھی اس کی وجہ سے آزاد کرا دیا۔
(المعجم الکبیر للطبرانی جلد 12 صفحہ 441-442، حدیث نمبر 13607، مکتبہ ابن تیمیہ، القاہرۃ)
حضرت عثمانؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو انگور کا ایک خوشہ بطور ہدیہ کے پیش کیا اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ کھجوروں کا ایک خوشہ تھا۔ پہلے ایک جگہ انگور ہے ایک جگہ کھجور ہے۔بہرحال کہتے ہیں پھر ایک سائل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اسے دے دیا۔ حضرت عثمانؓ نے اسے ایک درہم میں پھر خرید لیا۔ وہ خوشہ جو آپؓ لائے تھے کوئی خاص قسم کا ہوگا۔ کھجور اچھے ہوں گے۔ آپؓ نے ایک درہم میں اس سائل سے خرید کے دوبارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںپیش کر دیا۔ پھر وہ سائل دوبارہ آگیا تو آپؐ نے پھر اُسے دے دیا اور اسی طرح یہ معاملہ تین مرتبہ ہوا۔ حضرت عثمانؓ خریدتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتے تھے۔ وہ آ کر دوبارہ مانگتا تھا تو آپؐ پھر اس کو دے دیتے تھے۔ بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی سے اس مانگنے والے کو فرمایا اے فلاں !کیا تم سائل ہو یا تاجر ؟تم مانگنے آئے ہو۔ سوالی اس طرح تو نہیں کرتے۔ تم تو درہم بھی کمائے جارہے ہواور یہ تم تجارت کر رہے ہو۔
(تفسیرروح المعانی زیرآیت سورۃ الضحیٰ جلد15جزء 29-30 صفحہ 376 دارالکتب العلمیۃ)
آپؐ نے انکار نہیں کیا لیکن بڑے حکیمانہ رنگ میں نصیحت فرمائی کہ یہ عمل مناسب نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔
حضرت عبداللہ بن سلامؓ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے زید بن سَعْنَہؓ کو ہدایت دینی چاہی تو زید بن سَعْنَہؓ نے کہا کہ جتنی بھی نبوت کی علامات تھیں وہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک میں نظر آئیں سوائے دو باتوں کے، جن کا مجھے پتہ نہیں چلا تھا کہ آپؐ میں ہیں یا نہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نبی کا حلم اس کے غصّے پر غالب ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جتنا بھی اس سے جہالت سے پیش آیا جائے وہ اَور بھی زیادہ حلم و بردباری میں بڑھے گا۔ اور مَیں اس کی جستجو میں رہا کہ کبھی موقع ملے تو ان علامتوں کو بھی آزما ؤں۔ بہرحال آزمانا تو دوسرا تھا لیکن موقع اس طرح پیدا ہوا کہ زید بن سَعْنَہؓ کہتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر آئے۔ آپؐ کے ساتھ علی بن ابی طالبؓ تھے۔ اس دوران ایک سوار آیا جو بدوی یعنی دیہاتی لگتا تھا۔ اس نے عرض کی کہ یارسول اللہؐ! بنو فلاں کے گاؤں بُصْری کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور مَیں نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو ان کو وافر رزق ملے گا۔ اب وہ بارش کی کمی کی وجہ سے قحط اور سختی سے دوچار ہیں۔ یا رسول اللہؐ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ حرص اور لالچ میں آ کر اسلام سے نکل نہ جائیں جس طرح کہ وہ فراخیٔ رزق کی طمع پر مسلمان ہوئے تھے۔ اگر آپؐ مہربانی فرما دیں اور مناسب سمجھیں تو ان کی طرف کچھ بھیج کر ان کی مدد اور دلداری فرما دیں۔ آپؐ نے اس شخص کی طرف دیکھا۔ اور آنحضورؐ کے ہمراہ حضرت علیؓ تھے۔ انہوں نے بھی عرض کیا کہ اس وقت تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو مدد کے لیے فوری طور پر بھیجی جائے۔ زید بن سَعْنَہؓ کہتے ہیں کہ مَیں آپؐ کے قریب ہوا دیکھ رہا تھا۔ مَیں قریب کھڑا تھا اور کہا کہ اے محمد !صلی اللہ علیہ وسلم کیا بنو فلاں کے باغ کی کھجوریں ایک طے شدہ مقدار اور طے شدہ مدت کی شرط پر بیچ سکتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا اے یہودی! یہ حضرت سَعْنَہیہودی تھے۔ طے شدہ مقدار اور مدّت کی شرط پر کھجوریں تو بیچ سکتا ہوں لیکن یہ شرط نہیں مان سکتا کہ یہ کھجوریں فلاں بنوفلاں کے باغ کی ہی ہوں گی۔ مَیں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ چنانچہ آپؐ نے مجھ سے سودا کر لیا۔ مَیں نے اپنی تھیلی کھولی اور آپؐ کو سونے کے اسّی مثقال بطور پیشگی دے دیا کہ فلاں وقت اتنی کھجوریں آپؐ مجھے دے دیں گے۔ ایک مثقال تقریباً سوا چار گرام کا ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا اس شخص کو دے دیا جو مدد مانگنے کے لیے آیا تھا اور فرمایا :یہ ان مصیبت زدہ لوگوں میں برابر تقسیم کر دو اور اس کے ذریعے ان کی مدد کرو۔ زید بن سعنہؓ کہتے ہیں کہ ابھی مدّت مقررہ میں دو تین دن باقی تھے کہ مَیں آپؐ کے پاس آیا اور آپؐ کا گریبان پکڑا اور چادر کھینچی اور بڑے غصّے کی حالت بنا کر کہا کہ اےمحمد !صلی اللہ علیہ وسلم کیا میرا حق ادا نہیں کرو گے؟ خدا کی قسم! مَیں بنو عبدالمطلب کی اس عادت کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ قرض ادا کرنے میں بڑے بُرے ہیں اور تمہاری ٹال مٹول کی عادت کا بھی مجھے علم ہے اور اس کا مجھے تجربہ ہے۔حالانکہ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن بہرحال دشمن تھا۔ اُس وقت تو دل میں دشمنی تھی ناں یا آزمانا چاہتا تھا۔ بہرحال انہوں نے یہ کیا۔ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں عمر ؓکی طرف جو پاس ہی تھے دیکھ رہا تھا کہ غصے کے مارے ان کی آنکھیں یوں گھوم رہی تھیں جس طرح گھومنے والی پھرکی ہوتی ہے۔ انہوں نے یعنی حضرت عمر ؓنے بڑی تیز غصے سے بھری نظروںسے مجھے دیکھا اور کہا :اے اللہ کے دشمن !اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تُو ایسا کہتا ہے جو میں سن رہا ہوں اور اس طرح گستاخی سے پیش آتا ہے جسے مَیں دیکھ رہا ہوں۔ اس خدا کی قسم جس نے اس کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اگر مجھے ان کا ڈر نہ ہوتا تو مَیں اپنی تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا۔ کہتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اطمینان اور تسلی کے ساتھ عمر ؓکی طرف دیکھ رہے تھے اور تبسم فرما رہے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے عمر !اس غصّے کے بجائے مَیں اور یہ ہم دونوں اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ تُو مجھے حسن ادائیگی کے لیے اور اسے حسن تقاضا کے لیے کہے۔ اے عمر !اسے لے جاؤ اور اسے اس کا حق دے دو بلکہ بیس صاع زیادہ کھجوریں دے دینا۔ مَیں نے کہا :اے عمر! یہ زیادہ کس لیے؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ جو سختی مَیں نے کی ہے اس کے عوض میں تجھے زیادہ ادا کر وں۔ مَیں نے عمر ؓسے کہا آپ جانتے ہیں کہ میں کون ہوں؟ عمرؓ نے کہا نہیں۔ آپ کون ہیں؟ مَیں نے کہا کہ مَیں زید بن سَعْنَہ ہوں۔ عمر ؓنے پوچھا وہ حِبر یعنی یہود کا بڑا عالم؟ مَیں نے جواب دیا :ہاں !یہود کا عالم۔ اس پر عمرؓنے کہا :اتنے بڑے عالم ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گستاخی کا یہ طریق تم نے کیوں اختیار کیا؟ مَیں نے جواب دیا کہ اے عمر! جتنی بھی علاماتِ نبوت تھیں جب مَیں نے آپؐ کو دیکھا تو وہ مجھے آپؐ میں نظر آئیںسوائے دو علامات کے جن کا مجھے پتہ نہیں چلا۔ایک یہ کہ کیا اس نبی کا حلم اس کے غصہ پر غالب ہے۔ دوسرے یہ کہ جتنا زیادہ ان سے تلخی اور جہالت سے پیش آیا جائے اتنا ہی زیادہ وہ حلم اور بردباری سے پیش آئیں گے۔ پس مَیں نے ان دونوں باتوں کی آزمائش کی ہے۔ اے عمر! مَیں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ مَیں اللہ کو اپنا ربّ اور اسلام کو اپنا دین، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی ماننے پر خوش ہوں اور مَیں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا آدھا مال کیونکہ مَیں ایک مالدار شخص ہوں، اُمّتِ محمد کے لیے صدقہ ہے۔ اس پر عمرؓ نے کہا بعض اُمّتِ محمدیہ کے لیے کہو کیونکہ ساری اُمّت کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ ان کے لیے مال کیسے پورا آ سکتا ہے؟ مَیں نے کہا: اچھا! ان میں سے بعض کے لیے صدقہ ہے۔ پھر زید ؓآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا :مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ مَیں اس پر ایمان لاتا ہوں۔ اس طرح زیدؓ نے آپؐ کی تصدیق اور بیعت کی اور کئی جنگوں میں آپؐ کے ساتھ شریک رہے یہاں تک کہ غزوۂ تبوک سے واپس آتے ہوئے راستے میں ہی زیدؓ کی وفات ہوئی۔
(مستدرک علی الصحیحین للحاکم جزء 4 صفحہ328-329 کتاب معرفۃ الصحابۃ باب ذکر اسلام زید بن سعنہ مولیٰ رسول اللہ ﷺ حدیث 6665،دارالفکر بیروت 2002ء،https://en.wikipedia.org/wiki/Mithqal)
یہودی عالم تھے۔ نیک فطرت تھی۔ آپؐ کو دیکھ کے اور ساری علامتیں دیکھ کے اسلام قبول کر لیا۔
یہ ہے آپؐ کا حسنِ خلق کہ نہ صرف قرض لے کر ایک قوم کو بھوک سے نجات دلوائی بلکہ اپنے اخلاق سے ایک یہودی عالم کو بھی مسلمان بنا لیا۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍوَ بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 05؍جون 2026ء




