دادی جان کا آنگن

جنازے کے آداب

ایک سہ پہر محمود گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا کہ اچانک محلے سے اطلاع موصول ہوئی کہ ایک بزرگ کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کی نماز جنازہ بعد از نماز مغرب ہے۔ابو جان اور احمد ان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جارہے تھے تو محمود میاں نے بھی ضد پکڑ لی اور بولا:

محمود: دادی جان! میں بھی جنازے میں شریک ہونا چاہتا ہوں آپ ابو جان سے کہیں ناں کہ مجھے بھی ساتھ لے کر جائیں۔میں فاران کے ساتھ کھیل لوں گا۔

دادی جان: پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی کھیل کود کا موقع نہیں ہے۔اور دوسرا یہ کہ چھوٹے بچوں کو قبرستان نہیں جانا چاہیے۔

محمود: مگر احمد بھائی تو گئے ہیں تو میں کیوں نہیں جاسکتا؟

دادی جان: احمد تو ماشاء اللہ سمجھ دار ہے اس لیے جارہا ہے جبکہ آپ ابھی بہت چھوٹے ہو۔

محمود: تو چھوٹے بچے کیوں نہیں جاسکتے ؟

دادی جان: کیونکہ وہ گھبرا کر یا ڈر کر بسا اوقات رونا شروع کردیتے ہیں۔ اور یہ ڈر ہو سکتا ہے ان کے دل میں بیٹھ جائے۔ اسی طرح حضرت امِ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابی حضرت ابو سلمہؓ کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو ان کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے محبت اور احترام کے ساتھ ان کی آنکھیں بند کر دیں۔اس دوران گھر والوں میں سے کسی نے رونے اور ماتم کرنے کے لیے بلند آواز نکالی۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ مرنے والے کے بارے میں اچھی اور خیر کی باتیں کرو، کیونکہ فرشتے تمہاری باتوں پرآمین کہتے ہیں اور انہیں لکھ لیتے ہیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے انتقال کے وقت چیخ و پکار اور رونے اور ماتم کرنے کی بجائے صبر کرنا چاہیے، مرحوم کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اچھی باتیں کہنی چاہئیں، کیونکہ دعا اور خیر کے کلمات میت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

محمود: لیکن دادی جان! میں بس سب کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ میں بالکل نہیں ڈروں گا۔

دادی جان: بیٹا، بات ڈرنے کی نہیں ہے۔ قبرستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسان آخرت کو یاد کرتا ہے۔ اچھا بتائیں کہ آپ کو دعائے جنازہ آتی ہے ؟

محمود: نہیں دادی جان۔ مجھے تو نہیں آتی مگر گڑیا باجی کو یاد ہے میں انہیں بلاتا ہوں آپ ان سے سنیں۔(وہ گڑیا کو بلانے اندر چلا جاتا ہے۔کچھ دیر بعد گڑیا کو ساتھ لیے دادی جان کے پاس پھر سے آجاتا ہے۔)

گڑیا: جی دادی جان ! آپ نے بلایا تھا ؟

دادی جان: جی ہم آج نمازِ جنازہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ہمارے ساتھ بیٹھ جائیں۔

گڑیا: دادی جان میرا بھی ایک سوال ہے کہ کیا عورتیں قبرستان جا سکتی ہیں ؟

دادی جان: عورتوں کا جنازہ کے ساتھ جانا پسند نہیں کیا گیا، لیکن اسے حرام بھی قرار نہیں دیا گیا۔ چنانچہ حضرت ام عطیہ ؓکہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانے سے منع کیا جاتا تھا لیکن اس معاملہ میں ہم پر سختی نہیں کی جاتی تھی۔ زمانۂ جاہلیت میں جب کسی کا انتقال ہوتا تھا تو لوگ، خاص طور پر عورتیں، زور زور سے روتیں، چیختیں اور نوحہ کرتی تھیں۔ اسلام نے اس طریقے کو پسند نہیں کیا اور نوحہ کرنے سے منع فرمایاہے۔اسی وجہ سے عورتوں کو عام طور پر جنازے کے ساتھ قبرستان جانے سے روکا گیا، تاکہ تدفین کے وقت جذبات میں آکر چیخ و پکار یا ماتم نہ کریں۔اسی تعلیم کی بنیاد پر ابتدائی علماء اور فقہاء نے بھی عورتوں کے جنازے کے ساتھ قبرستان جانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے سے لے کر خلفائے احمدیت کے دور تک بھی یہی طریق رائج رہا ہے کہ اگر عورتیں مسجد یا نماز کے مقام پر موجود ہوں تو وہ مناسب انتظام کے ساتھ نمازِ جنازہ میں شامل ہو سکتی ہیں، لیکن عموماً انہیں جنازے کے ساتھ قبرستان جانے یا تدفین کے عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔(ماخوذ از بنیادی مسائل کے جوابات قسط 80)

گڑیا: اور دادی جان نماز جنازہ کیسے ادا کی جاتی ہے ؟

دادی جان: چلیں میں آپ کو اس کا مسنون طریق بتاتی ہوں۔ اس نماز کے چار حصے ہوتے ہیں۔حاضر لوگ امام کے پیچھے صف بندی کریں اور یہ صفیں تعداد میں طاق بنائی جاتی ہیں۔امام آگے درمیان میں کھڑا ہو۔میت امام کے سامنے رکھی جاتی ہے۔امام قبلہ رخ کھڑے ہوکر بلند آواز سے تکبیر تحریمہ کہتا ہے۔مقتدی بھی آہستہ آواز میں تکبیر کہیں۔اسکے بعد ثناء اور سورۃ فاتحہ آہستہ آواز میں پڑھی جائے۔پھر امام بغیر ہاتھ اٹھائے بلند آوازسے دوسری تکبیر کہے اور مقتدی بھی آہستہ آواز سےکہیں۔پھر درود شریف جونماز میں پڑھتےہیں پڑھا جائے۔پھر تیسری تکبیر کہی جائے اور میت کے لیے مسنون دعا کی جائے۔گڑیا آپ مجھے دعا سنائیں۔

گڑیا نے دعا سنائی تو دادی جان بولیں: شاباش! آپ نے بہت اچھی یاد رکھی ہے ماشاء اللہ۔

گڑیا: دادی جان جنازے کے کیا آداب ہیں ؟

دادی جان: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے وفات یافتگان کی خوبیاں بیان کیا کرو۔ اور ان کی کمزوریاں بیان کرنے سے احتراز کرو۔ میّت کے عزیزوں کے ساتھ تعزیت کی جائے اور صبر وحوصلہ کی تلقین کی جائے۔ قریبی یا پڑوسی پسماندگان کے گھر کھانا بھی بھجوائیں۔رسوم پرستی اور توَہُّمَات سے اِجتناب کیا جائے۔افسوس کرنے اور تعزیت کی حالت تین دن تک قائم رکھی جائے۔اس کے بعد زندگی معمول پر آ جانی چاہیےالبتہ جس عورت کا خاوندفوت ہو جائے یعنی بیوہ چار ماہ دس دن تک سوگ منائےجسے عدّت کہتے ہیں۔ یعنی بلا اشد ضرورت گھر سےباہر نہ نکلے۔بناؤ سنگھار نہ کرے۔بھڑکیلے کپڑے نہ پہنے۔خوشبو کا استعمال نہ کرے۔ صبر وشکر کے ساتھ ذکر الٰہی میں یہ دن گزارے۔

محمود: دادی جان قبرستان جانے کے بھی آداب ہیں؟

دادی جان: جی بالکل اس کے بھی آداب ہیں۔ اوّل تو نماز جنازہ کے بعد جتنی جلدی ہو سکے میت کو دفنانے کے لیے قبرستان لےجایا جائے۔سب ساتھ جانے والوں کو باری باری کندھا دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر میت دور لے جانا ہو تو گاڑی یا ٹرک وغیرہ پر رکھ کرلے جایا جا سکتا ہے۔جنازےکے لیے جاتے وقت ساتھ ساتھ زیر لب ذکرالٰہی اوردعائے مغفرت بھی کرتے جانا چاہے۔قبرستان میں شور نہیں کیا جاتا، ہنسی مذاق نہیں کیا جاتا اور مرنے والوں کے لیے دعا کی جاتی ہے۔ وہاں انسان کو ادب اور خاموشی کے ساتھ رہنا چاہیے۔

محمود: اب میں سمجھ گیا۔ مجھے ضد نہیں کرنی چاہیے۔

دادی جان: شاباش میرے بچے! تم گھر میں رہ کر مرحوم کے لیے دعا کرو۔ اللہ تعالیٰ دعا کو بہت پسند فرماتا ہے۔ ہم آپ کےابا جان کے ساتھ بعد میں جا کر قبر پر دعا کر آئیں گے۔

محمود: جی دادی جان! میں ان کے لیے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب فرمائے۔

دادی جان مسکرائیں اور محمود کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں:

دادی جان: اللہ تمہیں نیک اور سمجھدار بنائے۔

محمود نے خوشی خوشی آمین کہا اور دعا میں مشغول ہوگیا۔

(درثمین احمد۔جرمنی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button