بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایتِ مسیح الزماںؑ

کسی سے بغض نہ رکھو

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ

’’اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔ سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے اور اگر کسی جگہ درشتی کرنی بھی پڑ جائے تو اس طرح کرے جس طرح کوئی کسی کا مامور یا نائب حکم کی پابندی کی وجہ سے کرتا ہے۔ انبیاء نے بھی بعض اوقات سختی کی ہے مگر نہ جوش ِنفس سے بلکہ محض خدا کے حکم اور اصلاح کی غرض سے۔

ہم نے کسی کتاب میں ایک حکایت پڑھی ہے۔ لکھا ہے کہ حضرت علیؓ کی ایک کافر سے جنگ ہوئی۔ جنگ میں مغلوب ہو کر وہ کافر بھاگا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا تعاقب کیا اور آخرا سے پکڑا۔ اس سے کشتی کر کے اس کو زیر کر لیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ اس کی چھاتی پر خنجر نکال کر اس کے قتل کرنے کے واسطے بیٹھ گئے تو اس کا فر نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کی چھاتی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس سے الگ ہو گئے۔ وہ کافر اس معاملہ سے حیران ہوا اور تعجب سے اس کا باعث دریافت کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں تو محض خدا کے حکم سے کرتے ہیں۔ کسی نفسانی غرض سے نہیں کرتے بلکہ ہم تو تم لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے تم کو پکڑا خدا کے لئے تھا۔ مگر جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو اس سے مجھے بشریت کی وجہ سے غصہ آگیا تب میں ڈرا کہ اگر اس وقت جبکہ اس معاملہ میں میرا نفسانی جوش بھی شامل ہو گیا ہے تم کو قتل کروں تو میرا سارا ساختہ پرداختہ ہی برباد نہ ہو جاوے اور جوش نفس کی ملونی کی وجہ سے میرے نیک اور خالصاً للہ اعمال بھی حبط نہ ہو جاویں۔ یہ ماجرا د یکھ کر کہ ان لوگوں کا اتنا بار یک تقویٰ ہے۔ اس نے کہا کہ میں نہیں یقین کر سکتا کہ ایسے لوگوں کا دین باطل ہو۔ لہذا وہ وہیں مسلمان ہو گیا۔

غرض اسی طرح ہماری جماعت کے بھی جنگ ہوتے ہیں ان میں جوش نفس کو شامل نہ کرنا چاہیے۔ دیکھو! اگر ہم خدا کے نزدیک کافر اور دجّال نہیں ہیں تو پھر کسی کے کافر اور دجّال وغیرہ کہنے سے ہمارا کچھ بگڑتا نہیں اور اگر واقع میں ہی ہم خدا کے حضور میں مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں تو پھر کسی کے اچھا کہنے اور نیک بنانے سے ہم خدا کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔‘‘

(ملفوظات جلد دہم صفحہ 295-296ایڈیشن2022ء)

(مشکل الفاظ کے معنی: ساخْتَہ پَرْداخْتَہ: جسے پال پوس کر بڑا کِیا گیا ہو، تربیت کردہ، سنوارا ہوا، تربیت یافتہ۔ حبط ہونا: گرجانا۔ مردود: ردّ کیا گیا)

سوال جواب

ملاقات واقفین نوِ

جج بننا کیسا ہے؟

٭… حضورِ انور نے ایک واقف نو سے اس کی مستقبل کی خواہش کے بارے میں دریافت فرمایا کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے؟

اس پر واقف نو نے عرض کیا کہ وہ ایک جج بننا چاہتا ہے۔

واقف نو کی یہ خواہش سماعت فرما کر حضورِ انورنے نہایت شفقت و محبّت کے ساتھ فرمایا کہ جج بننا ہے۔ اچھی بات ہے۔ پھر انصاف کرنا۔ لوگوں کے حق میں صحیح فیصلے کرنا۔

سیاستدان بننا کیسا ہے؟

٭… ایک واقف نو نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ وہ سیاستدان بننا چاہتا ہے۔

اس پر حضورِ انور نے انتہائی مشفقانہ انداز میں فرمایا کہ اچھا! جھوٹ نہ بولنا۔ سیاستدان تم بیشک بن جاؤ۔ سیاستدان جھوٹ بڑا بولتے ہیں۔ سچ کی خاطر لڑنا ہے اور ہر ایک کو سچائی کا پیغام دینا ہے پھر تو تم سیاستدان بن جاؤ۔

اسی طرح حضورِ انور نے فرمایا کہ اس سے بہتر ہے کہ تم گورنمنٹ سروس بیورو کریسی میں جاؤ۔ پولیٹکس میں بھی بعد میں آپ آ جاؤ گے۔ پولیٹیشنز کو کنٹرول کرنے کے لیے بہتر ہے کہ سول سروس جو گورنمنٹ سروس مختلف منسٹریز کی ہوتی ہے، اس کے لیے پڑھائی کرنے کی کوشش کرو اوراس کا امتحان دو۔

سائنسدان بن کر کیسے خدمت کی جا سکتی ہے؟

٭… ایک واقف نو نے سوال کیا کہ سائنٹسٹ بن کے جماعت کی کیسے خدمت کی جا سکتی ہے؟

اس پر حضورِ انور نے سائنسدان بن کر انسانیت کی خدمت اور جماعت کے تعارف کے عملی مواقع پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے راہنمائی فرمائی کہ سائنٹسٹ بنو، پھر کوئی ایسی اچھی چیز ایجاد کرو جس سے جماعت کو بھی فائدہ ہو اور دنیا کو بھی فائدہ ہو۔ سائنٹسٹ بن کے کوئی تم انسانیت کے لیے کام کرو گے تو اس سے پھر لوگوں کو پتا لگے گا کہ تم احمدی ہو اور جب احمدیت کا پتا لگے گا تو اس سے تمہیں تبلیغ کا رستہ بھی کھلے گا۔ وہی تمہاری جماعت کی خدمت ہے۔ انسانیت کی خدمت کر لو وہی جماعت کی خدمت ہے۔

سجدہ سہو کیوں کیا جاتا ہے؟

٭… جج بننے کی خواہش رکھنے والے واقف نو کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں ایک سوال پیش کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ واقف نو نے عرض کیا کہ جب نماز کے دوران ہم سے کوئی غلطی ہو جائےتو دیکھا گیا ہے کہ سجدہ سہو یعنی دو سجدے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے پیچھے کیا حکمت ہے؟

اس پر حضورِ انور نے سجدہ سہو کی بنیادی حکمت بیان کرتے ہوئے غلطی کی تلافی اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ غلطی ہو جائے تو دو سجدے کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتے ہیں کہ غلطی ہو گئی۔ ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ تمہیں غلطی ہو سکتی ہے،تو غلطی کا مداوا یہ ہے کہ تم دو سجدے کرو اور نماز میں جو غلطی ہو گئی ہے، اللہ تعالیٰ سے کہو کہ ہمارے سے غلطی ہو گئی، ہمیں معاف کر دے۔

(الفضل انٹرنیشنل 5؍اپریل 2022ء)

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button