نیت دراصل قلب کی ہوتی ہے
کیا نیت تکبیر سے پہلے ہے یا بعد میں ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۱؍جنوری ۲۰۲۳ء میں اس کے بارے میں درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔ حضور نے فرمایا:
جواب:نیت کا تعلق انسان کے دل کے ساتھ ہے اس کے لیے کوئی معین الفاظ بیان نہیں ہوئے، نماز کی نیت سے صرف اس قدر مراد ہے کہ انسان کے دل میں یہ ہونا چاہیے کہ وہ کونسی نماز پڑھ رہاہے۔ زبان سے الفاظ کا ادا کرنا یا نماز شروع کرنے سے پہلے اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔(الانعام:۸۰)کے کلمات دہراناکسی نصّ سے ثابت نہیں۔…
جماعت کی طرف سے شائع شدہ فقہ کی کتاب میں بھی یہ وضاحت موجود ہے کہ نیت کے معنے ارادہ کے ہیں:نیت کا تعلق دل سے ہے اس لیے دل میں یہ طے ہونا چاہیے کہ وہ کس وقت کی اور کتنی رکعت نماز شروع کرنے لگا ہے۔ منہ سے نیت کے الفاظ ادا کرنے ضروری نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں تو منہ سے اظہار نیت کے الفاظ نکالنے کو مستحسن بھی نہیں سمجھا گیا۔ (فقہ احمدیہ عبادات صفحہ ۷۱)
جماعتی لٹریچر میں غالباً سب سے پہلے حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ کی مرتب کردہ کتاب فقہ احمدیہ مطبوعہ ۱۹۲۳ء میں نیت نماز کے لیے قرآنی آیت اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْن کے الفاظ کو سہواً درج کر دیا گیا تھا، جس کا کوئی حوالہ اس کتاب میں موجود نہیں ہے۔ (فقہ احمدیہ از حضرت حافظ روشن علی صاحب صفحہ ۳۲ مطبوعہ ۱۲؍مارچ ۱۹۲۳ء )
باقی جہاں تک نماز کے آغاز میں تکبیر تحریمہ کے بعد وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْن کےکلمات یا ثناء اور دیگر مسنون کلمات کے پڑھنے کا تعلق ہے تو احادیث سے پتا چلتاہے کہ آنحضرتﷺ تکبیر تحریمہ (اللہ اکبر) کہہ کر نماز شروع کرنے کے بعد مختلف کلمات پڑھا کرتے تھے۔ان میں سے بعض کلمات دعا پرمشتمل ہیں اور بعض کلمات اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء پر مشتمل ہیں۔ اس بارے میں کئی روایات آتی ہیں۔ ان روایات میں سے بعض میں حضورﷺ کے ایک لمبی دعا پڑھنے کا بھی ذکر آیا ہے جس کا آغاز آپ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْن کے کلمات سے فرماتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا بَاب الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ)…. پس یہ دعا ہے نیت نماز نہیں، نیت نماز کے لیے کسی قسم کے الفاظ دہرانے یا قرآن کریم کی کسی آیت کو پڑھنے کی کوئی سند موجود نہیں۔ لہٰذا ان چیزوں کو نیت نماز کے طور پر نہ تکبیر تحریمہ سے پہلے اور نہ ہی تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھا جائے گا۔ بلکہ نیت کا تعلق چونکہ دل سے ہوتا ہے، اس لیے نماز شروع کرنے سے پہلے دل میں یہ ارادہ ہونا چاہیے کہ انسان کس وقت کی اور کون سی نماز پڑھنے لگا ہے۔ اس کے لیے کسی قسم کے الفاظ دہرانے کی ہر گز ضرورت نہیں۔ اسی طرح تکبیر تحریمہ کے بعد جو ہم وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْن کی مسنون دعا پڑھتے ہیں، وہ نیت نماز کے طور پر نہیں پڑھتے بلکہ جس طرح حضورﷺ نے یہ کلمات یہاں پڑھے ہیں یا دیگر دعائیں پڑھی ہیں، اسی طرح آپؐ کی سنت کے تابع ہم یہ دعا یا یہ کلمات پڑھتے ہیں۔
(بنیادی مسائل کے جوابات قسط۷۶مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۱۸؍مئی ۲۰۲۴ء)
مزید پڑھیں: حیا کی حفاظت کے لئے بہت زیادہ جہاد کی ضرورت ہے




