آنحضورﷺ کے غلام صادق سیدناحضرت اقدس مسیح موعودؑ کی جُود و سخاکا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۰؍جولائی ۲۰۲۶ء
٭… مرزا امام الدین صاحب اس سلسلے کے سخت دشمن تھے اور حضرتؑ کے خاندان کے ساتھ ان کو عداوت تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی عداوت کو دنیاوی معاملات میں ہمیشہ نظر انداز کر دیتے تھے
٭… آپؑ جو کچھ کسی کو دیتے وہ کسی نمائش کے لیے نہ ہوتا تھا بلکہ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے نقطۂ خیال سے دیتے۔ اس لیے عام طور پر آپؑ نہایت مخفی طریقے سے عطا فرماتے تھے اور کبھی دوسروں کو عملی سبق دینے کے واسطے اعلانیہ بھی کرتے تھے
٭… آپؑ کی عادت تھی کہ سوالی کی بات کو ردّ نہ کرتے اور یہ بھی معمولات میں سے تھاکہ بعض لوگوں کی ضرورتوں کا احساس کر کے قبل اس کے کہ وہ کوئی سوال کریں ان کی مدد کیا کرتے تھے
٭… یہ آپؑ کی جُود وسخا کے چند واقعات ہیں جن میں اپنے آقا و مولا کی اتباع میں آپؑ نے ایسا نمونہ دکھایا کہ اپنے اور غیر حتیٰ کہ دشمن بھی فیض یاب ہوتے رہے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۰؍جولائی ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۰؍وفا ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۰؍جولائی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت بیان کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی زندگی میں جُود و سخا کی ایک اَور شان بھی جلوہ گر ہے جو شفاعت اور سفارش کا رنگ رکھتی ہے ۔ بعض اوقات آپؑ کی خدمت میں کوئی ایسا سائل آتا جس کے سوال کو پورا کرنا آپؑ کے اختیار میں نہ ہوتا بلکہ اس کا تعلق دوسروں سے ہوتا ۔اس حالت میں آپؑ اس امر کا بھی التزام رکھتے تھے کہ اس کے فائدے کے لیے ایسے لوگوں کو بھی سفارش کر دیتے تھے جن کو اپنی کسی ذاتی ضرورت کے لیے بھی کبھی کچھ نہ کہتے ۔یعنی دوسرے لوگوں کا کام تو کروا لیتے تھے لیکن اپنا کام کبھی اس شخص سے نہیں کروایا کرتے تھے ۔
مرزا امام الدین صاحب اس سلسلے کے سخت دشمن تھے اور حضرتؑ کے خاندان کے ساتھ ان کو عداوت تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی عداوت کو دنیاوی معاملات میں ہمیشہ نظر انداز کر دیتے تھے۔
یعنی ان سے سلوک میں کبھی بھی آپؑ نے فرق نہیں کیا۔ وہ بسا اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مالی مدد لے لیتے اور باوجود ان احسانات کے مخالفت میں بھی لگے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ اس نے ایک گھوڑا فروخت کرنا تھا اور اس کے لیے اس نے بہترموقع یہ تجویز کیا کہ اس گھوڑے کو جموں لے جاوے اور حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح اوّلؓ کے ذریعے پیش کرے تاکہ اس پر اسے ایک معقول رقم مل جائے ۔اس چیز کو ذہن میں رکھ کر اس نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپؑ ایک سفارشی خط حضرت حکیم الامت کا نام لکھ دیں۔ آپؑ نے اس کی درخواست کو ردّ نہ فرمایا اور بلا تامل حضرت مولوی صاحبؓ کے نام ایک سفارشی خط دے دیا ۔
مرزا محمد بیگ ولد مرزا احمد بیگ کے خاندا ن سے محض للہ آپؑ کے تعلقات خوشگوار نہ تھے۔ احمد بیگ کا خاندان سخت بے دین اور سلسلےکا دشمن تھا۔ مرزا محمد بیگ نے جموں میں ملازمت کرنا چاہی اور حضورؑ سے درخواست کی کہ حضرت حکیم الامتؓ کے نام سفارشی خط دے دیا جائے تاکہ وہ مدد کر دیں۔ آپؑ نے بلا تامل خط لکھ دیا کہ
اگرچہ ان کے والد مجھ سے عدوات رکھتے ہیں لیکن کچھ مضائقہ نہیں کہ ان کی سختی کے عوض نرمی اختیار کرکے اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ کا ثواب حاصل کیا جائے ۔ پس ان کی مدد کر کے پولیس کے محکمے میں نوکر کروا دیں۔
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ لکھتے ہیں کہ قادیان میں ایک شخص نہال چند برہمن تھا جو اپنی جوانی کے ایام میں مشہور مقدمہ باز تھا اور حضرت صاحبؑ کے خاندان کے ساتھ عموماً مقابلہ اور شرارتیں کرتا رہتا۔ اخیر عمر میں اس کی مالی حالت نہایت خراب ہو گئی۔ یہاں تک کہ بعض اوقات اس کو اپنی روزانہ ضروریات کے لیے بھی مشکلات پیش آتی تھیں۔اس نے ایک مرتبہ حضرت اقدسؑ کے دروازے پر آکر ملاقات کی خواہش کی اور اپنا قصہ کہا۔ آپؑ نے تسلی دی اور ۲۵؍روپے کی رقم دی نیز فرمایا :جب ضرورت ہو مجھے بتانا ۔ پھر اس کا معمول ہو گیا ۔وہ مہینے دو مہینے بعد آتا اور معقول رقم لے جاتا۔ایک مرتبہ حضرت خلیفہ اوّلؓ سے بھی قرض لیا ۔ جب آپؓ نے واپسی کا تقاضا کیا تو کہنے لگا :مرزاجی تو مجھے ہمیشہ روپیہ دیتے ہیں اور اس سے میرا گزارہ چلتا ہے ۔آپؑ نے کبھی پیسے واپس نہیں مانگے۔چنانچہ آپؓ نے بھی اس کو چھوڑ دیا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ پادری والٹر صاحب ایم اے جو وائی ایم سی اے کے سیکرٹری تھے، نے اپنی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ رائے لکھی ہے کہ
مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے ۔ان کی اخلاقی جرأت جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے سخت مخالفت اور ایذارسانی کے مقابلہ میں دکھائی، یقیناًقابل تحسین ہے ۔صرف ایک مقناطیسی جذب اور نہایت خوشگوار اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا تھا جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کی وجہ سے جان دے دی مگر مرزا صاحب کا دامن نہیں چھوڑا ۔مَیں نے بعض پرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہونے کی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحبؑ کے ذاتی اثر اور ان کے جذب اور کھینچ لینے والی شخصیت کو پیش کیا۔
آپؑ جو کچھ کسی کو دیتے وہ کسی نمائش کے لیے نہ ہوتا تھا بلکہ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے نقطۂ خیال سے دیتے۔ اس لیے عام طور پر آپؑ نہایت مخفی طریقے سے عطا فرماتے تھے اور کبھی دوسروں کو عملی سبق دینے کے واسطے اعلانیہ بھی کرتے تھے ۔
منشی محمد نصیب صاحب ایک یتیم کی حیثیت سے قادیا ن آئے ۔حضرت اقدسؑ کے رحم و کرم پر انہوں نے قادیان میں رہ کر تعلیم پائی۔ان کے اخراجات اور ضروریات کا سارا بار سلسلہ پر تھا۔جب وہ جوان ہو گئے اور انہوں نے شادی کر لی تو وہ لاہور کے اخبار کے دفترِ محرر ہو گئے اور پھر دفتر بدر قادیان میں آ کر بارہ روپے ماہوار پرملازم ہوئے۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا بیٹا نصیر احمد عطا فرمایا(جو بعد ازاں فوت ہو گیا) تو اس کے لیے ایک انا (دائی)کی ضرورت پیش آئی۔راوی نے شیخ نصیب صاحب کوتحریک کی کہ یہ ثواب کا موقع ہے تم اپنی بیوی کی خدمات پیش کر دو۔ انہوں نے مشورہ قبول کیا اور ان کی اہلیہ دودھ پلانے پر مامورہو گئیں۔حضورؑ نے باتوں ہی باتوں میں دریافت کیا کہ شیخ محمد نصیب صاحب کو کیا تنخواہ ملتی ہے؟ معلوم ہوا کہ ۱۲؍روپے تو فرمایا شاید اس میں گزارہ نہ ہو اور ایک دن ۲۰/۲۵؍روپے کی پوٹلی ان کے کمرے میں رکھ دی تاکہ وہ استعمال کر لیں۔ انہوں نے اس سے زیور بنوا لیا۔
آپؑ کی عادت تھی کہ سوالی کی بات کو ردّ نہ کرتے اور یہ بھی معمولات میں سے تھاکہ بعض لوگوں کی ضرورتوں کا احساس کر کے قبل اس کے کہ وہ کوئی سوال کریں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔
۱۹۰۴ء میں ایک مرتبہ ایک مخلص مہاجر کو کچھ روپے دیے کہ موسم سرما ہے آپ کو کپڑوں کی ضرورت ہو گی ۔حالانکہ اس کی طرف سےکوئی سوال نہ تھا۔پھر آپؑ بہت مخفی طور پر لوگوں کو دیتے اور اس میں دوست دشمن کا امتیاز نہ تھا۔ شیخ فتح محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپؑ ہمیشہ میرا کرایہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ اگرچہ مجھے ضرورت نہ ہوتی لیکن حضرت ؑکی روحِ سخاوت اس قدر عظیم الشان تھی کہ آپؑ بغیر استفسار ہمیشہ پیش کر دیتے ہیں اور یہ میرے ساتھ معاملہ نہ تھا بلکہ اکثر کو دیتے رہتے تھے۔ شام اور عرب سے بعض لوگ آتے اور آپؑ ان کو بعض اوقات بیش قرار رقوم بطور زادِ راہ دے دیتے کیونکہ وہ بہت دور دارز سے آئے ہوتے۔بعض اوقات لوگ سوال نہ کرتے اور رقعہ لکھ دیتے ۔کسی کو یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ اس نے سوال کیا ہے لیکن جب حضرت اقدسؑ اندر سے سائل کے لیے کچھ بھیجتے تو پتہ لگتا یا کبھی اندر تشریف لے جاتے وقت کہہ جاتے کہ تم بیٹھو مَیں آتا ہوں۔حضرت صاحبؑ آتے تو معلوم ہوتا کہ آپؑ سائل کے لیے اس کی مطلوبہ چیز نقدی یا کپڑا لے کرآرہے ہیں۔
منشی ظفر احمد صاحبؓ کہتے ہیں کہ میاں جی نظام الدین احمدی ساکن کپورتھلہ نہایت غریب آدمی تھے۔ایک دفعہ پیدل چل کر وہ قادیان آئے اوردو آنے حضور ؑکو پیش کیے۔آپؑ اندر سے جا کر سات یا آٹھ روپے لائے اور میاں جی نظام الدین کو عطا فرما دیے۔
دعویٰ سےقبل آپؑ کے بھائی کی شادی کے وقت انہوں نے کچھ بکرے منگوائے تھے جنہیں ننگل باغبانہ کا ایک شخص چرایا کرتا تھا۔ایک دن حضور ؑسیر کو چلے جا رہے تھے کہ راستے میں اس آدمی کو دیکھا ۔ اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا لیکن ننگے پاؤں تھا۔ حضورؑ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: میاں تم ننگے پاؤں پھر رہے ہو تمہیں کانٹے نہیں چبھتے؟ اس نے عرض کی کہ حضور! میرے پاس جوتی نہیں ہے۔حضورؑ نے اپنی جوتی اتاری اوراس کو پہنائی ۔ اس نے معذرت کی تو آپؑ نے فرمایا کہ نہیں! اس کو پہنو اور استعمال کرو۔ پھر آپؑ ننگے پاؤں واپس گھر تشریف لے آئے۔ اس وقت آپؑ کی عمر بیس یا تیس سال تھی۔
حضور علیہ السلام اپنے محسن و پیشوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں جُود و سخا کے پیکر تھے تاہم بعض دفعہ ہمیں یہ بھی نظر آتا کہ کسی حکمت و مصلحت کے پیشِ نظر آپؑ نے سوالی کو دینے سے احتراز بھی فرمایا ۔
شیخ یعقوب علی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ۱۸۸۹ء میں آپؑ لدھیانہ میں موجود تھے۔ آپؑ کے پاس ایک سائل آیا اور کہا کہ میرا عزیز فوت ہو گیا ہے۔ میرے پاس کفن دفن کے لیے کچھ انتظام نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مکرم قاضی خواجہ علی صاحبؓ کو فرمایا کہ اس کے ساتھ جا کر کفن کا سامان کر دو ۔عام طور پر حضورؑ کی یہ عادت نہ تھی بلکہ سوالی کو دے دیتے تھے۔قاضی صاحب سائل کے ساتھ رخصت ہوئے اور کچھ دیر بعد ہنستے ہوئے واپس آئے اور کہا کہ سائل نے منت سماجت اور خوشامد شروع کر دی تھی کہ آپ نہ جائیں اور جو دینا ہے دے دیں۔ مَیں نے کہا کہ نہیں !مجھے یہی حکم ہوا ہے تو اس نے کہا نہ کوئی مرا ہے نہ کفن دفن کی ضرورت ہے۔یہ میرا پیشہ ہے۔اب میری پردہ دری نہ کرو اور وہ چلا گیا۔
آپؑ بچوں کی خواہش کے مطابق بھی عطا فرمایا کرتے تھے ۔
بی بی رانی والدہ عزیز بیگم زوجہ حکیم محمد عمر صاحب قادیان نے بیان کیا کہ مَیں نے ۱۹۰۱ء میں بذریعہ خط بیعت کی ۔ ۱۹۰۲ء میں قادیان آئی تو میری چھوٹی لڑکی ساتھ تھی ۔ حضرت صاحبؑ صبح کے وقت سیر کو باغ کی طرف تشریف لے جاتے۔مَیں بھی اکثر اوقات ساتھ جاتی تھی ۔ ایک دفعہ صبح کے وقت جب حضرت صاحب ؑکھانا کھا رہے تھے تومَیں بھی آگئی۔ میری چھوٹی لڑکی نے رونا شروع کیا۔ حضرت صاحبؑ نے پوچھا کیا کہتی ہے؟ مَیں نے کہا :روٹی مانگتی ہے ۔ آپؑ نے روٹی دی مگر وہ چپ نہ ہوئی ۔پھر پوچھا :اب کیا کہتی ہے؟مَیں نے عرض کی یہ وہ روٹی مانگتی ہے جو حضور ؑکھا رہے ہیں میں ۔حضورؑ نے وہ روٹی اسے دے دی جو حضور ؑخودکھا رہے تھے اور پھر یہ چپ ہو کر کھانے لگی۔
خدام سے کام کرواتے تو ان کی سہولت کا بھی خیال رکھتے ۔ ایک مرتبہ میر محمد اسحاق صاحبؓ بچے تھے ۔آپؓ کہیں باہر چلے گئے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر ملی تو آپؑ فوراً فکر مند ہو گئے اور فوراً بورڈنگ ہاوس سے تیز بھاگنے والے بچے بلوائے۔ جب طلبہ آئے تو بہت شفقت سے فرمایا کہ آپ لوگوں کو بڑی تکلیف ہوئی ہے۔ ایک کام کے لیے جانا پڑے گا۔ پھر بہت سی روٹیاں اور سالن دیا کہ تلاش کے لیے جا رہے ہیں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ہم تیار تھے کہ اتنے میں شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ، میر صاحب ؓکو اٹھا کرلے آئے کہ یہ مل گئے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ گذشتہ خطبہ میں مَیں نے واقعہ بیان کیا تھا کہ لنگر کا خرچ بڑھ گیا تو حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت اماں جان ؓکے زیور بیچ کر خرچ پورا کیا۔ اس پرگذشتہ ہفتے میرے سے کسی نے سوال کیا ہے کہ کیا بیوی کا زیور ضرورت پڑنے پر خاوند کے تصرف میں آسکتا ہے اور خرچ کیا جا سکتا ہے۔تو واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود ؑقرض لیا کرتے تھے اور واپس فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ اس بارے میں ایک روایت ہے ۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت امّ المومنین سے روپیہ قرض لیا ۔ گند م خرید کر لنگر کا خرچ اور گھر کا خرچ پورا کیا کیونکہ بہت سارا کھانا آپؑ کے گھر سے ہی پکتا تھا۔بعد ازاں آپؑ نے چودھری رستم علی صاحب سے ۵۰۰؍روپے منگوا ئے اور کچھ گھی کی چاٹیاں منگوائیں اور حضرت اماں جان ؓکا قرض ادا کیا۔
ایک واقعہ کھانے میں برکت کا ہے۔حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوری ؓکہتے ہیں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند مہمانوں کی دعوت کی ۔کھانے کے وقت اتنے ہی اَور مہمان آ گئے۔آپؑ نے اندر پیغام بھیجا ۔ اس پر حضرت اماں جانؓ نے آپؑ کو بلوایا اور کہا کھانا تو تھوڑا سا ہے ۔صرف چند لوگوں کے لیے بنوایا ہے ۔ باقی تو کچھ کھینچ تان کر انتظام ہو جائے لیکن زردہ بہت کم ہے ،یہ نہیں بھیجتے۔حضرت صاحبؑ نے فرمایا: نہیں! یہ مناسب نہیں ہے۔ تم زردے کا برتن میرے پاس لاؤ ۔آپؑ نے اس برتن پر رومال ڈال دیا اور پھر رومال کے نیچے اپنا ہاتھ گزار کے اپنی انگلیاں زردے میں داخل کر دیں اور پھر کہا سب کے واسطے کھانا نکالو۔ جب یہ کھانا پیش کیا گیا تو سب نے کھایا اور کچھ زردہ بچ بھی گیا۔
یہ آپؑ کی جُود وسخا کے چند واقعات ہیں جن میں اپنے آقا و مولا کی اتباع میں آپؑ نے ایسا نمونہ دکھایا کہ اپنے اور غیر حتیٰ کہ دشمن بھی فیض یاب ہوتے رہے۔
٭…٭…٭



