نظام جماعت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ افراد اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کریں(قسط سوم۔ آخری)
خلیفۂ وقت کے مقرر کردہ عہدیداروں کی اطاعت بھی ضروری ہے
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۴۰ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے احباب جماعت کو عہدیداران کی اطاعت کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
[گذشتہ سے پیوستہ] پس جماعت کے دوستوں کو مَیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ نظام کی برکتیں اس کی پیچیدگیوں کو حل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں ورنہ نظام کے لفظ کا اندھا دھند استعمال خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ جیسے ہمارے مختار نے ایک زمین کے معاملہ میں دوسرے سے کہہ دیا کہ تمہارا مقابلہ خلیفۃ المسیح سے ہے حالانکہ وہاں خلافت کا کوئی سوال نہ تھا بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں میری طرف سے ایک سودا ہورہا تھا اور ایسی صورت میں دوسرے فریق کا حق تھا کہ وہ اگر چاہتا تو زمین زیادہ قیمت پر دوسرے کو دے دیتا۔ اگر مَیں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا ہوں تو میری حیثیت خلیفہ کی ہوتی ہے۔اگر مَیں جماعت کو کوئی حکم دیتا ہوں تو میری حیثیت خلیفہ کی ہوتی ہے لیکن اگر میں اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لئے کوئی زمین خریدتا ہوں تو اس میں میری حیثیت خلیفہ کی نہیں ہوتی اور دوسرا اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ سودے سے انکار کر دے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ترکاری بکنے لگے تو ایک طرف سے میرا آدمی ترکاری لینے کے لئے چلا جائے اور دوسری طرف سے جماعت کا کوئی اَور آدمی۔ اب ایسے موقع پر اگر میرا آدمی دوسرے سے یہ کہے کہ تم ترکاری مت خریدو کیونکہ خلیفۃ المسیح یہ ترکاری لینا چاہتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہو گی کیونکہ جیسے میرا حق ہے کہ ترکاری لوں اسی طرح اس کا حق ہے کہ وہ ترکاری لے۔ اگر وہ پہلے پہنچ جاتا ہے تو یقیناً اسی کو حق ہے۔ گو بعض دفعہ شریفانہ رنگ میں ایک دوسرے کی ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اگر اس کی ضرورت زیادہ اہم ہو گی تو میرا آدمی اپنا حق چھوڑ سکتا ہے اور اگر میرے آدمی کی ضرورت زیادہ ہو گی تو دوسرا اپنا حق چھوڑ سکتا ہے۔
پس
جماعت کے عہدیداروں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر چیز کو اس کی حد کے اندر رکھو۔ اگر تم اسے حد سے بڑھا دو گے تو وہ چیز خواہ کتنی ہی اعلیٰ ہو بُری بن جائے گی۔
ایک شاعر کا ایک شعر ہے جو مجھے یاد تو نہیں رہا مگر اس کا مفہوم یہ ہے کہ تِل بڑی خوبصورت چیز ہے لیکن جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو مسّا بن جاتا ہے۔ پس ہر چیز کو اس کی حد کے اندر رکھو۔ نظام کو بھی اور انفرادی معاملات کو بھی۔ اور کبھی اپنے عہدوں کا نام لے کر ذاتی معاملات میں دوسروں پر رعب نہ ڈالو۔‘‘ (الفضل ۲۷؍جولائی ۱۹۶۰ء)
پس جماعت کے عہدیداروں کو میں نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ رعب کا کوئی جائز طریق نہیں۔ محض ناظر ہونا تمہیں یہ حق نہیں دے دیتا کہ تم درست معاملات میں بھی لوگوں پر اپنی نظارت کا رعب ڈالو۔ رعب ناظر ہونے میں نہیں بلکہ اُولِی الْاَمْر ہونے اور شریعت کے مطابق چلنے میں ہے۔ اگر میری اس نصیحت کے بعد بھی کسی کے متعلق میرے پاس یہ رپورٹ پہنچی کہ اس نے اپنے عہدہ کا ناجائز استعمال کیا ہے تو مَیں اسے سخت سزا دوں گا۔
اس کے بعد مَیں ایک اَور بات کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک اخبار میرے سامنے پیش کیا ہے جس میں ایک شادی کے سلسلہ میں ایک احمدی عورت کے یہ الفاظ شائع ہوئے ہیں کہ اس کی مثال عائشہؓ جیسی ہے۔ مَیں نے وہ اخبار خود بھی پڑھا تھا اور مَیں محسوس کرتا تھا کہ یہ غلطی ہے مگر مَیں نے اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ جب جماعت کے اَور دوستوں کے نوٹس میں بھی یہ بات آئی اور انہوں نے اس کے متعلق مجھے بعض خطوط لکھے تو انہیں پڑھ کر مجھے یہ خیال آیا کہ جیسے دو چار آدمیوں کے دلوں میں یہ شبہات پیدا ہوئے ہیں ممکن ہے ایسے ہی شبہات بعض اَور لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوئے ہوں اس لئے ضروری ہے کہ مَیں اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دوں۔ اگر اخبار میں یہ بات نہ آتی تو اس کی حیثیت بالکل اَور ہوتی اور ذاتی طور پر اس کی اصلاح کی جا سکتی تھی مگر اب چونکہ یہ بات اخبا رمیں آ گئی ہے اور اخبار میں آ جانے کی وجہ سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کی نظروں سے یہ بات گزری ہو گی اس لئے مَیں اس بارہ میں کھلے طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ویسا ہی غلو ہے جیسے ناظر یہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ ناظر ہیں اس لئے دنیوی معاملات میں بھی وہ لوگوں کے حکمران ہیں حالانکہ ان معاملات میں وہ ویسی ہی حیثیت رکھتے ہیں جیسے جماعت کا کوئی اَور فرد، چاہے وہ کیسی ہی ادنیٰ حالت کیوں نہ رکھتا ہو۔ اسی طرح اس معاملہ میں بھی غلو سے کام لیا گیا ہے۔
میرے پاس سال ڈیڑھ سال ہوا یہ بات پہنچی کہ ہماری جماعت کے دو مبلغ جن میں سے ایک ریٹائرڈ ہیں اور دوسرے ابھی کام کر رہے ہیں مگر وہ دونوں ہی بڑی عمر رکھتے ہیں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ جب ان کی یہ بات لوگوں میں پھیلی تو قادیان میں ایک طوفان بے تمیزی برپا ہو گیا اور میرے پاس رقعوں پر رقعے آنے لگ گئے کہ بھلا بڈھے آدمیوں کو شادی کی کیا ضرورت ہے، انہیں اس بات سے روکا جائے۔ مَیں نے انہیں جواب دیا کہ بڈھے آدمی کو تو شادی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اسے کسی ایسے مونس و غمگسار ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی خدمت کرے۔
بیوی صرف شہوانی ضرورتوں کو پورا نہیں کرتی بلکہ اَور بھی بہت سے کام سرانجام دیتی ہے۔
اگر شادی صرف شہوانی ضروریات کے لئے ہی کی جاتی ہے تو کیا لوگ یہ پسند کریں گے کہ ان کی بیویاں رات کو صرف ایک گھنٹہ کے لئے ان کے پاس آ جایا کریں اور پھر چلی جایا کریں۔ اگر شہوانی ضرورتوں کے لئے ہی شادی ہوتی ہے تو پھر بیوی کا مرد کے پاس رات کو صرف ایک گھنٹے کے لئے آ جانا کافی ہے بلکہ وہ لوگ جن میں یہ قوت نسبتاً کم ہوتی ہے ان کے لئے تو صرف اتنا ہی کافی ہو سکتا ہے کہ ہفتہ میں ایک دفعہ بیوی ان کے پاس ایک گھنٹہ کے لئے آ جائے مگر کیا کوئی بھی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی بیوی ہفتہ میں صرف ایک گھنٹہ کے لئے اس کے پاس آئے او رباقی اوقات میں اس کے پاس نہ رہے۔ اگر نہیں تو معلوم ہوا کہ شادی صرف شہوانی ضروریات کے لئے ہی نہیں کی جاتی بلکہ اس کے اَور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی جب کوئی شخص شادی کا خواہشمند ہو تو یہ نہیں کہا کرتا کہ شہوانی ضرورت کے لئے میں شادی کرنا چاہتا ہوں بلکہ وہ یہی کہا کرتا ہے کہ ’’روٹی ٹک‘‘کی بڑی تکلیف ہے، کہیں رشتہ ہو جائے تو بڑی اچھی بات ہے۔ شہوانی ضرورت کا وہ نام تک نہیں لیتا۔ پس جبکہ ہمارے ملک میں شادی کی ہی اس لئے جاتی ہے کہ روٹی ٹک کی تکلیف نہ ہو تو کیا بڈھوں کو روٹی ٹک کی ضرورت نہیں ہوتی؟ بلکہ اگر ہم غور سے کام لیں تو بڈھے کو تو روٹی ٹک کی زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اس کے لئے ایسے نرم نرم پُھلکے پکیں جو آسانی سے حلق سے نیچے اتر جائیں۔ اسی طرح وہ کبھی حلوہ چاہتا ہے اور کبھی کھچڑی اور خُشکا اور اسے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ گھر میں کوئی روٹی پکانے والی ہو۔ پس یہ ایسی احمقانہ بات تھی کہ جب میرے پاس پہنچی تو میں نے اسے نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔ بے شک اگر کوئی بڈھا کسی لڑکی پر دباؤ ڈال کر جبراً اس سے شادی کرتا ہے تو یہ قابلِ اعتراض امر ہے لیکن اگر ایک عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ایک بڈھے آدمی کے ساتھ آسانی سے گذارہ کر سکے گی تو اس سے زیادہ کمینہ اور کون شخص ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ بڈھے کو شادی کی کیا ضرورت ہے؟ یہ عورت کا کام ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ وہ ایک بڈھے کے ساتھ گذارہ کر سکتی ہے یا نہیں اور اگر وہ اس بات کا فیصلہ کر لیتی ہے کہ وہ بڈھے کے ساتھ گذارہ کر سکتی ہے تو اسے شادی سے روکنا نہ صرف حماقت ہو گی بلکہ لوگوں میں بداخلاقی اور بے دینی پیدا کرنے والی بات ہو گی۔ اوّل تو یہ بات ہی غلط ہے کہ تمام بڈھے شہوانی قوتوں سے محروم ہوتے ہیں۔ مَیں بیسیوں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اٹھارہ اٹھارہ انیس انیس سال کی عمر کے ہیں مگر ان میں قطعاً شہوانی قوت نہیں اور مَیں بیسیوں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ستّر ستّر یا اسّی اسّی سال کے ہیں اور ان کے شہوانی قویٰ نوجوانوں جیسے ہیں یا اچھے خاصے ہیں۔ مَیں نے طب پڑھی ہوئی ہے اور چونکہ کئی دوست مجھ سے طبی مشورہ لیتے رہتے ہیں اس لئے ایسے حالات میرے سامنے آتے رہتے ہیں۔ مَیں جانتا ہوں کہ بعض آدمی بظاہر بڑے مضبوط نوجوان دکھائی دیتے ہیں مگر طاقتِ مردمی ان میں بالکل نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ ایسے آدمی شکل و صورت سے بھی پہچانے جاتے ہیں مگر بعض دفعہ خود ہم بھی ان کی صورت کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں اور جب وہ بتاتے ہیں کہ ان میں ایسی کمزوری پائی جاتی ہے تو حیرت آتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں کئی ایسے بڈھے ہوتے ہیں جو لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں مگر ان کے شہوانی قویٰ خوب مضبوط ہوتے ہیں اور ان کے بچے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ پس یہ بالکل غلط خیال ہے کہ شہوانی قویٰ بڈھوں میں نہیں ہوتے بلکہ دنیا میں بعض امراض ایسے ہیں جن کے نتیجہ کے طور پر بڑھاپے میں انسان کے اندر شہوت بڑھ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ فیصلہ کر دینا کہ بڈھوں کو شادی نہیں کرنی چاہیے انہیں بداخلاقی اور گناہ کے گڑھے میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ جو شخص تقویٰ شعار ہے وہ تو گذارہ کر لے گا مگر جس کے اندر تقویٰ کم ہو گا وہ ناجائز رنگ میں اپنی شہوات کو پور ا کرے گا اور اس طرح نہ صرف اس کو بلکہ تمام قوم کو نقصان پہنچے گا۔ پھر جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے کہ خالی شہوانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہی شادی نہیں کی جاتی بلکہ اس لئے شادی کی جاتی ہے کہ
ہر انسان کو ایک مونس و غمگسار کی ضرورت ہوتی ہے یا پنجابی محاورہ کے مطابق روٹی ٹک کے لئے انسان شادی کرتا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کی احتیاج جوانی میں ہی نہیں بلکہ بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے۔
پس مَیں نے لوگوں کی ان باتوں کو نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور مَیں نے کہا کہ اگر ہماری جماعت میں ایسی عورتیں موجود ہیں جو بڈھوں کے ساتھ گذارہ کر سکتی ہیں تو ہمیں تو خداتعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہئے کہ ان کو جس چیز کی ضرورت تھی اس کو خدا نے خود اپنے فضل سے پورا کر دیا نہ یہ کہ الٹا ہم ناراض ہوں اور ان کے رستے میں روڑے اٹکائیں۔ پس جہاں ان کے راستہ میں لوگوں کی طرف سے رکاوٹیں ڈالی گئیں انہیں مَیں نے نہایت ہی ناپسند کیا۔ وہاں مَیں نے اس بات پر بھی نہایت بُرا منایا کہ کوئی نوجوان لڑکی کسی بڈھے سے شادی کر کے اپنے آپ کو عائشہ قرار دے لے کیونکہ
عائشہؓ اس وجہ سے عائشہؓ نہیں کہ انہوں نے محمدﷺ سے شادی کی بلکہ اس وجہ سے عائشہؓ ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی اُمّت سے فرمایا کہ تم آدھا دین عائشہؓ سے سیکھو۔ (البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر جز ۳ صفحہ ۱۲۹ الطبعۃ الاولیٰ ۱۹۹۶ء مطبع مکتبۃ المعارف بیروت لبنان)
ہم تو کسی کو عائشہؓ کہلانے سے نہیں روک سکتے۔ اگر کوئی عورت ہمیں عائشہؓ کی طرح آدھا دین سکھا دے تو ہم تو سارا دن اسے عائشہؓ، عائشہؓ کہتے رہیں گے لیکن جب کسی کو دین کی واقفیت نہ ہو اور نہ یہ رتبہ اور مقام اسے حاصل ہو اور پھر وہ عائشہؓ سے اپنی نسبت قرار دے دے تو یہ عائشہ کی ہتک تو کیا ہو گی البتہ اس بات کا ایک ثبوت ہو گا کہ ایسے معاملات میں نہایت دیدہ دلیری سے بات کی جاتی ہے۔درحقیقت ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں جن سے دشمن کو بعض دفعہ سلسلہ پر اعتراض کرنے کا موقع ہاتھ آ جاتا ہے اور خود بھی انسانی قلب پر زنگ لگ جاتاہے۔
مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک دوست کی کسی دوسرے دوست سے کسی مسئلہ پر بحث ہوئی۔ باتوں باتوں میں وہ نہایت جوش سے کہنے لگے کہ مَیں نے اپنی تمام زندگی تمہارے اندر گزاری ہے کیا تم مجھ پر کوئی بھی الزام لگا سکتے ہو؟ یہ حضرت خلیفہ اوّلؓ کے زمانہ کی بات ہے۔ مَیں نے جب یہ بات سنی تو مَیں نے انہیں کہا کہ یہ معیار تو محمد ﷺ کی صداقت کا خداتعالیٰ نے پیش کیا ہے کیونکہ آپؐ کی تمام زندگی لوگوں کے سامنے گزری تھی اور انہیں معلوم تھا کہ آپؐ کیا کیا کرتے تھے مگر تمہاری زندگی کا کتنے لوگ مطالعہ کرتے رہے ہیں۔ تمہارے تو شاید ہمسائے بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ تم کیسی زندگی بسر کرتے ہو ؟ پس جبکہ تمہاری زندگی کا آج تک کسی نے مطالعہ ہی نہیں کیا تو تم لوگوں کو کس طرح چیلنج دے سکتے ہو کہ مَیں نے اپنی زندگی تم میں گزاری ہے کیا تم کوئی الزام مجھ پر لگا سکتے ہو؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ایک پردہ کے پیچھے بیٹھا ہوا انسان کہنا شروع کر دے کہ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ مَیں کالا ہوں۔ اب ہمیں کیا معلوم کہ وہ کالا ہے یا گورا ہے۔ وہ پردہ سے نکلے تو اس کے متعلق کوئی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح جس شخص کی زندگی تاریکی کے پردوں میں چھپی ہوئی ہو وہ یہ دعویٰ کس طرح کر سکتا ہے کہ مجھ پر کوئی شخص الزام عائد نہیں کر سکتا۔ اس کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کی زندگی پبلک زندگی تھی اور آپ اس بات کا حق رکھتے تھے کہ لوگوں کو چیلنج کریں کہ تم میں سے کوئی مجھ پر الزام عائد نہیں کر سکتا۔ تو یہ غلو ہے جس سے عزّت نہیں بڑھتی بلکہ دشمن کو خواہ مخواہ ہنسی کا موقع ملتا ہے۔ اگر کوئی عائشہؓ بننا چاہتی ہے تو وہ عائشہؓ کی طرح ہمیں آدھا دین سکھا دے۔ جس دن ہماری جماعت میں کوئی ایسی عورت پیدا ہو جائے گی جو ہم کو اسی طرح پڑھانے کے لئے تیار ہو جائے گی جس طرح عائشہؓ نے ابوبکرؓ کو پڑھایا، جس طرح عائشہؓ نے عمرؓ کو پڑھایا، جس طرح عائشہؓ نے عثمانؓ کو پڑھایا، جس طرح عائشہؓ نے علیؓ کو پڑھایا اور جب کوئی ایسی عورت پیدا ہو جائے گی جو خود مجھے آ کر دین سکھا سکے گی اس دن میں اس کے متعلق کہہ دوں گا کہ وہ عائشہؓ ہے۔ آخر
جب قرآن کہتا ہے کہ اے لوگو! تم محمد ﷺ کی نقل کرو یہاں تک کہ تم محمد ﷺ کا کامل نمونہ بن جاؤ تو ہمارے لئے اس میں کون سی حرج کی بات ہے کہ ہم اپنی عورتوں سے کہیں کہ تم عائشہؓ بنو اور جب کوئی عائشہؓ بن کر دکھا دے تو اسے کہہ دیں کہ وہ عائشہؓ کی طرح ہو گئی۔
لیکن دین کے متعلق تو کوئی واقفیت نہ ہو اور محض ایک بڈھے سے شادی کر کے اپنے آپ کو عائشہؓ قرار دے لیا جائے یہ دین سے تمسخر اور استہزاء ہے۔
پھر بڈھے سے کسی نوجوان لڑکی کا شادی کرنا کوئی ایسی بات بھی نہیں جس کی دنیا میں مثال نہ ملتی ہو۔ موجودہ زمانہ میں ہی دنیا میں ہزاروں ایسی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اور گذشتہ تیرہ سو سال میں تو اس کی لاکھوں مثالیں مل سکتی ہیں۔ قریب کی مثالوں میں سے مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی مثال ہے۔ ان کے متعلق یہ بات ثابت ہے کہ وہ بڑھاپے تک شادیاں کرتے چلے گئے تھے یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اوّلؓ ہنس کر فرمایا کرتے تھے کہ وفات سے تین چار دن پہلے انہوں نے اپنے بعض شاگردوں سے کہا کہ مَیں چاہتا ہوں تم میری کوئی اَور شادی کرا دو تاکہ سنت نبوی پر عمل ہو جائے۔ ان کے پاس دنیا نہیں تھی صرف دین تھا اور لوگ اسی وجہ سے اپنی لڑکیاں ان سے شادی کے لئے پیش کر دیا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی اپنی شادی بھی اسی قسم کی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر پچاس سال سے زائد تھی اور ہماری والدہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں۔ دلّی والے تو شہروں میں بھی بڑی عمر کے مردوں سے اپنی لڑکیوں کو نہیں بیاہتے سوائے اس کے کہ وہ بہت مالدار ہوں اور گاؤں کے رہنے والوں سے تو شادی کرتے ہی نہیں مگر پھر بھی یہ شادی ہو گئی۔ اسی طرح اَور بھی کئی مثالیں مل سکتی ہیں اور تیرہ سو سال میں تو یقیناً ایسی لاکھوں مثالیں موجود ہوں گی مگر ان لاکھوں میں سے کوئی بھی عائشہؓ نہیں کہلا سکتی کیونکہ عائشہؓ ان قربانیوں کی وجہ سے عائشہؓ بنی تھی جو اس نے دین کے سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کے لئے کیں اور وہ عائشہؓ اس وجہ سے کہلائی کہ اُمّتِ محمدیہؐ نے اس سے نصف دین سیکھا۔ کیا ہی وہ سمجھ دار عورت تھی اور کیسا شاندار اس کا بلند علمی مقام تھا کہ حضرت جعفرؓ کی شہادت پر جب رسول کریم ﷺ نے ایک دَرد کی حالت میں فرمایا کہ جعفرؓ پر تو رونے والا بھی کوئی نہیں تو صحابہؓ اپنے اپنے گھروں کو گئے اور انہوں نے عورتوں سے کہا کہ اپنے مُردوں پر رونا چھوڑو اور جعفرؓ کے گھر جا کر روؤکیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جعفرؓ پر تو رونے والا بھی کوئی نہیں۔ اس پر مدینہ کی تمام عورتیں جعفر کے گھر اکٹھی ہو گئیں اور انہوں نے بَین ڈالنے شروع کر دیے۔ رسول کریم ﷺ نے سناتو فرمایا کیا ہوا؟ صحابہؓ نے عرض کیا آپؐ نے جو فرمایا تھا کہ جعفرؓ پر رونے والا بھی کوئی نہیں ہم نے اپنی عورتوں کو جعفرؓ کے گھر بھیج دیا ہے اور سب مل کر رو رہی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ اور ان کو روکو میرا اس سے یہ منشاء نہیں تھا۔ ایک صحابی گیا اور اس نے ان عورتوں کو رونے سے منع کیا مگر وہ کب رکنے والی تھیں۔ انہوں نے کہا تم ہمیں کون منع کرنے والے آئے ہو؟ رسول کریم ﷺ نے خود یہ فرمایا ہے کہ جعفرؓ پر تو رونے والا بھی کوئی نہیں۔ اس نے جب دیکھا کہ وہ کسی طرح خاموش ہونے میں نہیں آتیں تو وہ پھر رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یَا رَسُوْلَ اللّٰہؐ! وہ تو خاموش نہیں ہوتیں۔ آپؐ نے فرمایا ڈالو ان کے مونہوں پر مٹی۔ مطلب یہ تھا کہ تم انہیں ان کے حال پر رہنے دو۔ وہ خود ہی رو دھو کر خاموش ہو جائیں گی مگر اس صحابی نے اپنی جھولی میں مٹی بھر لی اور جا کر ان عورتوں کے منہ پر ڈالنا شروع کر دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کاعلم ہوا تو آپ نے اسے سختی سے روکا اور فرمایا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ان عورتوں کے منہ پر مٹی ڈال رہے ہو۔ اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ان کے منہ پر مٹی ڈالو۔ آپؓ نے فرمایا تم نے رسول کریم ﷺ کا مطلب نہیں سمجھا۔ آپؐ کا تو یہ مطلب ہے کہ اس بات کو جانے دو۔ خود ہی خاموش ہو جائیں گی مگر تم نے مٹی ڈالنی شروع کر دی ہے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ما جاء فی البکاء علی المیت)
پھر عائشہؓ وہ تھی جس نے تیرہ سو سال کے علماء کو یہ کہہ کر شکست دی کہ قُوْلُوْا اِنَّہٗ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ (در منثور جلد ۵ صفحہ ۳۸۶الطبعۃ الاولیٰ۱۹۹۰ء مطبع دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)بے شک تم رسول کریم ﷺ کو خاتم النبیین کہو مگر یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔… ‘‘
(از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)
مزید پڑھیں: نظام جماعت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہافراد اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کریں(قسط دوم)




