پیارے حضور (ایّدہ اللہ) کی پیاری باتیں

کھانے کو ضائع مت کرو

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ ’’مہمانوں کو چاہیے کہ جلسہ سالانہ کے اِن دنوں میں کھانے کو برکت سمجھ کر کھائیں اور اسے ضائع نہ کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی مثال یہ تھی کہ ایک دفعہ آپ کے کھانے کا انتظام نہ ہو سکا اور انتظام کرنے والے بھول گئے اور آپ بھی مصروف تھے۔ آپ نے جب اپنے کھانے کے بارے میں پوچھا تو سب پریشان تھے۔ کھانا ختم ہو چکا تھا۔ آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں۔ دستر خوان پر جہاں لوگوں نے کھانا کھایا ہے وہاں اگر روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑے اور سالن ہے تو وہی لے آؤ میں وہی کھا لوں گا۔ چنانچہ آپؑ نے وہ ٹوٹے ہوئے ٹکڑے جو لوگ چھوڑ کر گئے تھے وہی کھا لیے۔یہ آپؑ کا اسوہ حسنہ ہے جو آپ نے ہمارے لیے قائم فرمایا۔ پس ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم نے رزق کو ضائع ہونے سے بچانا ہے اور اس طرح کام سمیٹنے والوں کے لیے بھی آسانی پیدا کرنی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کھانے کو ضائع مت کرو۔

کھانے کی قدر کرتے ہوئے اسے کھاؤ اور جو پیش کیا جائے اسے خوشی سے کھاؤ۔ بیشک آپ کا یہ فرمان جو ہے وہ مہمانوں کے لیے خاص طور پر ہے۔ اس لیے کہ وہ ان مہمانوں کے لیے ہے جو اس پر عمل کرتے ہیں اور اپنے ساتھ برکتیں لے کر آتے ہیں لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے ہر مہمان کو بھی اس کا نمونہ بننا چاہیے۔

ایسا مہمان جو برکتیں لانے والا ہو وہ مہمان بنیں اور ایسے مہمان نہ ہوں جو گھر والوں کے لیے پریشانی کا باعث ہوں بلکہ ان کو پریشانی سے نکالنے والے ہوں۔… کھانے کی مارکی اور دیگر جگہوں پر بھی صفائی کا خیال رکھیں۔ صفائی کے حوالے سے بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ آسانی پیدا کرنی ہے۔ سڑکوں اوررستوںپر گند نہ پھینکیں اس میں بھی اس بات کا خیال رکھیں۔ بعض لوگ بازار سے اشیاء خرید کر کھاتے ہیں، جہاں بیٹھیں وہاں کھانے پینے کے بعد اس کے جو خالی پیکٹ ہیں اور لفافے ہیں ادھر ادھر پھینکنے کی بجائے ڈسٹ بن میں ڈالیں تاکہ کام سمیٹنے والوں کے لیے بھی آسانی پیدا ہو اور کم وقت میں زیادہ کام کر کے انتظام کو زیادہ صحیح طور پر چلایا جا سکے۔ پھر یہ ہے کہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہر طرف سے ہونا چاہیے۔

… اسی طرح بچوں کے کھانے کے بارے میں بھی بتا دوں اُس میں بھی یہ خیال رکھنا چاہیے۔ بعض دفعہ لوگ بچوں کو پلیٹ بھر کر کھانا دے دیتے ہیں اور بچے اتنا کھا نہیں سکتے جس سے کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔ تو یہاں بھی جیسا میں پہلے کہہ آیا ہوں کھانا ضائع ہونے سے بچائیں اور بچوں کو تھوڑا تھوڑا ڈال کر دیں چاہے بار بار ڈال کر دینا پڑے‘‘۔(خطبہ جمعہ 25؍ جولائی 2025ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button