نظم

اے میرے سانسوں میں بسنے والو!

دیارِ مغرب سے جانے والو! دیارِ مشرق کے باسیوں کو

کسی غریب الوطن مسافر کی چاہتوں کا سلام کہنا

ہمارے شام و سحر کا کیا حال پوچھتے ہو کہ لمحہ لمحہ

نصیب اِن کا بنا رہے ہیں تمہارے ہی صبح و شام کہنا

تمہاری خوشیاں جھلک رہی ہیں مرے مقدر کے زائچے میں

تمہارے خونِ جگر کی مے سے ہی میرا بھرتا ہے جام کہنا

الگ نہیں کوئی ذات میری ، تمہی تو ہو کائنات میری

تمہاری یادوں سے ہی مُعَنوَن ہے زیست کا اِنصِرام کہنا

اے میرے سانسوں میں بسنے والو! بھلا جدا کب ہوئے تھے مجھ سے

خدا نے باندھا ہے جو تعلق رہے گا قائم مدام کہنا

(کلام طاہر صفحہ26۔ایڈیشن2004ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button