بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایتِ مسیح الزماںؑ

دعا کے لیے تعلق کی ضرورت ہوتی ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

بد خیالات کا اثر بغیر ظاہری اسباب کے صرف صحبت سے بھی ہو جاتا ہے۔ کوئی کسی کو کسی برائی میں پڑنے کی ترغیب دے یا نہ دے اگر کسی برے کی صحبت میں انسان وقت گزار رہا ہو تو وہ برائی لاشعوری طور پر اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔ برے انسان کا اثر لاشعوری طور پر اس پر ہو رہا ہوتا ہے۔ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپؑ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک سکھ طالبعلم نے جو گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اخلاص کا تعلق رکھتا تھا حضرت صاحب کو کہلا بھیجا یا دوسری روایت میں ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ سے کہلا کے بھیجا (مأخوذ از اپنے اندر یکجہتی پیدا کرو … انوار العلوم جلد24 صفحہ422) کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے کہلا بھیجا کہ جہاں تم کالج میں جس سیٹ پر بیٹھتے ہو اس جگہ کو بدل لو۔ چنانچہ اس نے جگہ بدل لی اور پھر بتایا کہ اب خدا تعالیٰ کے بارے میں کوئی شک پیدا نہیں ہوتا۔ جب یہ بات حضرت صاحب کو سنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس پر ایک شخص کا اثر پڑ رہا تھا جو اس کے پاس بیٹھتا تھا اور وہ دہریہ تھا۔ جب جگہ بدلی تو اس کا اثر پڑنا بند ہو گیا اور شکوک بھی نہ رہے۔ تو برے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بھی بِلا اس کے کہ وہ کوئی لفظ کہے اثر پڑتا ہے اور اچھے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بِلا اس کے کہ وہ کچھ کہے اچھا اثر پڑتا ہے۔‘‘(مأخوذ ازملائکۃ اﷲ۔ انوار العلوم جلد 5صفحہ537)

پس دنیا میں خیالات ایک دوسرے پر اثر کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کا پتا نہیں لگتا۔ پس خاص طور پر نوجوانوں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ ان کی دوستیاں، ان کا اٹھنا بیٹھنا، ایسے لوگوں سے ہو جو اُن پر بد اثر نہ ڈالیں۔ اسی طرح ٹی وی پروگرام ہیں۔ اس بارے میں بڑوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بچوں کو پروگرام دیکھنے سے روکتے ہیں تو وہ اگر بچوں کو ایسے پروگرام نہ بھی دیکھنے دیں جو بچوں کے اخلاق پر برا اثر ڈالتے ہیں یا پروگراموں میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ بچوں کی عمر کے لئے نہیں ہیں، اس عمر کے بچوں کے لئے نہیں لیکن خود گھروں میں اگر ماں باپ دیکھ رہے ہوں تو ایک تو یہ بات ہے کہ کبھی نہ کبھی بچوں کی نظر اس پروگرام پر پڑ جاتی ہے جب ماں باپ دیکھ رہے ہوں۔ دوسرے لاشعوری طورپر ماحول کا بھی اثر ہو رہا ہوتا ہے اور بچوں کی تربیت بھی خراب ہو رہی ہوتی ہے۔ ایسے ماں باپ جو ایسے پروگرام دیکھتے ہیں یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ خود یہ پروگرام دیکھنے کے بعد بالکل تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں پر قائم ہوں۔ بعض دیر تک دیکھتے ہیں اور پھر صبح فجر پہ نمازوں کے لئے بھی نہیں جاگتے۔ پس والدین کا بھی فرض ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو پاک صاف رکھیں کیونکہ لاشعوری طور پر ان چیزوں کا بھی بچوں پر اثر پڑتا ہے اور تربیت پر اثر پڑتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ دعا کے لئے تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کروں گا۔ یہ طریق اس لئے اختیار کرتے تھے کہ تعلق بڑھے۔ اس کے لئے حضرت صاحب نے بارہا ایک حکایت سنائی ہے کہ ایک بزرگ سے کوئی شخص دعا کرانے گیا۔ اس کے مکان کا قبالہ گم ہو گیا تھا۔ مکان کے جو کاغذات تھے وہ گم گئے تھے۔ اس نے کہا مَیں دعا کروں گا پہلے میرے لئے حلوہ لاؤ۔ وہ شخص حیران تو ہؤا کہ میں دعا کے لئے گیا ہوں اور یہ مجھے حلوہ کا کہہ رہے ہیں۔ مگر بہرحال اس کو دعا کی ضرورت تھی حلوہ لینے چلا گیا اور حلوائی کی دکان سے حلوہ لیا۔ اور جب حلوہ اس نے لیا اور حلوائی اس کو ایک کاغذ میں ڈال کر دینے لگا جو کاغذ حلوائی کے پاس پڑا ہوا تھا تو اس نے شور مچا دیا کہ اس کاغذ کو نہ پھاڑنا۔ یہی تو میرے مکان کے کاغذات ہیں۔ اسی کے لئے تو میں دعا کروانا چاہتا تھا۔ غرض وہ حلوہ لے کر گیا اور بتایا کہ مجھے قبالہ یا وہ کاغذات مل گئے ہیں تو اس بزرگ نے کہا کہ میری غرض حلوہ سے صرف یہ تھی کہ تمہارے سے ایک تعلق پیدا ہو اور وہ تعلق دعا کے لئے تو پیدا ہونا ہی تھا تمہیں ظاہری فائدہ بھی ہو گیا۔ (مأخوذ از منصب خلافت۔ انوار العلوم جلد2صفحہ49-50)

…حضرت مصلح موعود ہستی باری تعالیٰ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑفرماتے ہیں کہ ‘‘حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے ساتھ ایک دہریہ پڑھا کرتا تھا۔ یعنی ہستی باری تعالیٰ کا کیا ثبوت ہے اس کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں کہ ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے بے اختیار ’رام رام‘ نکل گیا۔ پہلے ہندو تھا۔ دہریہ ہو گیا تو میر صاحب نے جب اس سے پوچھا کہ تم تو خدا کے منکر ہو پھر تم نے رام رام کیوں کہا۔ کہنے لگا غلطی ہو گئی۔ یونہی منہ سے نکل گیا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مگر اصل بات یہ ہے دہریے جہالت پر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماننے والے علم پر۔ اس لئے مرتے وقت یا خوف کے وقت دہریہ کہتا ہے کہ ممکن ہے مَیں ہی غلطی پر ہوں۔ ورنہ اگر وہ علم پر ہوتا تو اس کے بجائے یہ ہوتا کہ مرتے وقت دہریہ دوسروں کو کہتا کہ خدا کے وہم کو چھوڑ دو کوئی خدا نہیں۔ مگر اس کے الٹ نظارے نظر آتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی ہستی کی یہ بہت زبردست دلیل ہے کہ ہر قوم میں یہ خیال پایا جاتا ہے۔‘‘ (مأخوذ از ہستی باری تعالیٰ۔ انوار العلوم جلد 6 صفحہ 286)

(خطبہ جمعہ 30؍ اکتوبر 2015ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button