بچوں کا الفضل

جلسہ سالانہ کی یادیں اور باتیں

(مرتبہ: نائب مدیر برائے بچوں کا الفضل)

مجھے یاد ہے کہ ایک جلسہ میں مَیں شامل ہوا تو بارش کی وجہ سے جلسہ گاہ کے اندر بھی کچھ حصہ میں پانی آ گیا اور زمین گیلی ہو گئی۔ کناروں پر تو پانی کھڑا تھا اور جو لوگ کناروں پہ کھڑے ہو کے نماز پڑھتے تھے ان کے گھٹنے اور ماتھے پانی میں ہوتے تھے یا کیچڑ میں ہوتے تھے۔ خود میرے ساتھ بھی اسی طرح ہوا اور سجدے سے سر اٹھا کر پہلے ماتھا صاف کرنا پڑتا تھا کہ آنکھوں میں پانی یا کیچڑ نہ آجائے یا گھاس پھوس لگا ہوتا تھا۔

پیارے بچو! بچوں کے الفضل کے خلافت نمبر 24؍مئی 2026ء میں آپ نے ’’حضور انور ايدہ اللہ کا جلسہ۔ حضور ايدہ اللہ کی زبانی‘‘ پڑھا۔ اسی تسلسل میں آج آپ کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی جلسہ سالانہ کے بارے میں فرمائی گئی یادیں بتاتے ہیں۔ ان واقعات اور یادوں میں جماعت کی ایک تاریخ بھی بیان ہو رہی ہے اور جلسہ سالانہ کی ترقی کا نظارہ بھی ہو جاتا ہے۔ چلیں پڑھتے ہیں۔

حضور کا AIMSکارڈ

٭… ایک وقف نو بچی نے سوال کیا کہ آپ کے پاس ایک ID-Card ہے؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میرے پاس میرے ملک کا اپنا ID-Card ہے۔ ایک AIMS کا Card میرا بھی ہے۔ میں بھی جہاں جلسہ پر جاؤں تو وہ دکھا کر جلسہ میں Enter ہوسکتا ہوں۔ بلکہ جو جلسہ کی ڈیوٹیاں لگتی ہیں، تو سب سے پہلے میں اپنا Card چیک کرواتا ہوں تاکہ میری Entry ہو جائے۔(کلاس واقفات نو جرمنی 2015ء)

جلسہ سالانہ کا ورک لوڈ

٭… ایک صاحب نے سوال کیا کہ ہم نے جلسہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مصروفیت دیکھی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کس طرح اتنا بوجھ اٹھاتے ہیں؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا جب خداتعالیٰ نے ذمہ داری ڈالی ہے تو وہ مدد بھی کرتا ہے۔ دعا کریں کہ خدا اپنی مدد کا ہاتھ بڑھاتا چلا جائے۔ آپ کو یہ دعا کرنی چاہئے۔(ترک وفد سے ملاقات دورہ جرمنی 2015ء)

بطور خادم ڈیوٹی

٭… ایک خادم نے سوال کیا کہ پیارے حضور کیا جب آپ خدام الاحمدیہ کے ممبر تھے تو اُس وقت کی چند خوشگوار یادیں ہمارے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں؟

اس کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ میری خدام الاحمدیہ سے جڑی ہر یاد خوشگوار ہے۔ جب آپ بوڑھے ہو جاتے ہیں تو جوانی کی ہر بات آپ کے لیے خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب خدام الاحمدیہ میں ہم اپنا اجتماع منعقد کرتے تھے اور وہ کھلی فضا میں منعقد ہوتا تھا، ہم خود شامیانے لگاتے تھے اور باقاعدہ مارکی نہیں ہوتی تھی جیسی آج کل یورپ میں یا دوسری جگہوں پر ہو تی ہے۔ ہم اپنی بیڈشیٹس سے ٹینٹ بناتے تھے۔ اور جب بارش ہوجاتی تھی تو قطرے اندر بھی آجاتے تھے کیونکہ وہ waterproof نہیں تھے۔ تو ہم ان دنوں میں بہت خوشی محسوس کرتے تھے اور کیمپنگ کا بھی مزہ لیتے تھے۔ تین دنوں تک ہم اس کیمپ میں رہتے تھے۔ ساری جگہ کی ایک باڑ لگا کر حد بندی کردی جاتی تھی اور ایک کھلے میدان میں یہ سارا عارضی انتظام ہوتا تھا۔ پھر جلسہ یا اجتماع کی مارکی بھی وہیں لگتی تھی وہ بھی waterproof نہیں ہوتی تھی جیسی یہاں ہوتی ہے اور اگر بارش ہو جاتی تھی تو ہم پوری طرح بھیگ جاتے تھے۔ تو اس طرح ہم اپنے دنوں میں مزہ کرتے تھے۔ پھر وہیں کھانا پکتا تھا اور ہم بالٹی میں اپنا کھانا لاتے تھے۔ ایک ٹینٹ میں 10؍ افراد ٹھہر سکتے تھے۔ تو یہ وہ دن ہیں جو مجھے یاد ہیں اور جن کو یاد کرکے مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے۔(الفضل انٹرنیشنل 29؍ستمبر 2021ء)

ربوہ کے مکین مہمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے گھروں میں سمو لیتے تھے

حضور انور نے فرمایاکہ یوکے (UK) کا جلسہ سالانہ ایسا جلسہ ہے جہاں جلسے کے عارضی انتظامات کر کے چند دنوں کے لئے ایک عارضی شہر ہی بنا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جلسے ہوتے تھے تو وہاں بھی لنگر خانوں کا ایک مستقل انتظام تھا، کئی لنگر تھے۔ اسی طرح رہائش گاہیں بھی کافی حد تک مستقل ہو گئی تھیں۔ اس سے پہلے جب سکول اور کالج جماعت کے تھے تو وہ رہائش گاہ ہوتی تھی۔ لیکن جب حکومت نے لے لئے تو پھر دوسری رہائش گاہیں بن گئیں۔ گو بہت زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے عارضی رہائش گاہیں خیمے لگا کر بھی بنائی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ ربوہ کے مکین مہمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے گھروں میں سمو لیتے تھے۔ وہ جس جس جگہ پر ہوتے تھے اُن کا کھانا وغیرہ لنگر خانوں سے آتا تھا۔ بہر حال ربوہ کے جلسے کے بعض مستقل انتظامات بھی تھے اور ایک لمبے تجربے سے، علاوہ مستقل انتظامی ڈھانچے کے، ربوہ کے مکین بھی انتظامات کے ماہر ہو چکے تھے۔ اللہ کرے کہ اُن کی یہ رونقیں اور یہ تربیتی ماحول اور یہ خدمت کے جذبے اُن کی زندگی کا دوبارہ حصہ بن جائیں۔ اسی طرح اب قادیان میں بھی بہت سے مستقل انتظامات ہو چکے ہیں۔ عارضی طور پر اب زیادہ جلسہ گاہ کے انتظامات ہی ہیں، جلسہ گاہ ہی ہے جو زیادہ انتظامات چاہتی ہے۔ بیشک لنگر خانوں کے لئے غیر احمدیوں میں سے زائد لیبر یا غیر مسلموں میں سے لیبر لانی پڑتی ہے۔ کھانے پکوائی کے لئے، روٹی پکوانے کے لئے پکانے والے لانے پڑتے ہیں۔ لیکن لنگروں کا مستقل وہاں بھی انتظام ہے۔(خطبہ جمعہ 23؍ اگست 2013ء)

ربوہ کا سردی میں کھلے میدان میں جلسہ

مجھے بتایا گیا کہ پچھلے سال شامل ہونے والی ایک خاتون نے کہا کہ مارکیوں میں ایئر کنڈیشننگ کا انتظام ہونا چاہئے۔ موسم گرم ہوتا ہے۔ ہمیں علم ہے اور انتظامیہ کو بھی علم ہے لیکن ایئر کنڈیشننگ کا انتظام کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر ایسی صورت ہو تو دروازے کھول دینے چاہئیں تاکہ ہوا آتی رہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک معمولی چیز ہے یا اگر پنکھوں کا بھی انتظام ہے تو یہ معمولی چیز ہے۔ بعض تکنیکی روکیں اور مسائل بھی سامنے آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے انتظام نہیں ہو سکتے۔ پنکھوں کا انتظام بھی بعض دفعہ مشکل ہو جاتا ہے اور پھر اخراجات کو بھی مدّنظر رکھنا پڑتا ہے۔ ربوہ میں جو جلسے ہوتے تھے یا قادیان میں ابھی بھی ہوتے ہیں تو سردیوں میں کھلے میں بیٹھ کر اور بعض دفعہ بارش میں بھی لوگ جلسہ سنتے ہیں اور سردی بھی برداشت کرتے ہیں۔ پس اگر شامل ہونے والوں کو ایسی چھوٹی موٹی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، گرمی برداشت کرنی پڑے تو برداشت کرنی چاہئے۔(خطبہ جمعہ 12؍ اگست 2016ء)

ربوہ کے مکینوں کی قربانیاں

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ سب کارکنان مرد عورتیں بچے خوش قسمت ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت پر مامور کئے گئے ہیں اور بغیر کسی مشقت کے صرف مہمان نوازی کے فرائض ہی ادا کر رہے ہیں۔ کوئی مالی بوجھ نہیں پڑ رہا یا کسی اور قسم کی قربانی نہیں دینی پڑ رہی۔ ربوہ میں جب جلسہ سالانہ ہوتا تھا تو ربوہ کے مکین اپنے گھروں کے آرام کو مہمانوں کے آرام کی خاطر قربان کر دیا کرتے تھے۔ جماعت کو اپنے گھر پیش کر دیتے تھے کہ ان کے مہمان اس میں ٹھہرائے جائیں۔ باوجود یکہ لنگر ہمیشہ جاری رہتا تھا، یہ خاص طور پرجلسے کے آٹھ دس دنوں میں بعض بوجھ اٹھا کر بھی کھانے پینے کی مہمان نوازی کیا کرتے تھے لیکن بہرحال وہ حالات کہیں بھی نہیں تھے جس کے نمونے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے ہمیں دکھائے۔(خطبہ جمعہ 22؍ اگست 2014ء)

ربوہ میں لاکھوں کا جلسہ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جتنی بھی کوشش ہو جائے یہاں آنے یا قادیان کے جلسہ میں شمولیت کے لئے چند ہزار سے زیادہ لوگ شامل نہیں ہو سکتے۔ لیکن پاکستان میں تو لاکھوں کا جلسہ ہوتا تھا۔ ربوہ کے چھوٹے سے شہر میں جب جلسے کے دنوں میں اتنا رش ہوتا تھا توسڑکوں پر چلنا مشکل ہو جاتا تھا۔ وہ بھی عجیب رونقیں تھیں اور عجیب بہاریں ہوتی تھیں۔ ایک عجیب روحانی ماحول ہوتا تھا۔ یہاں کے جلسے ربوہ کے جلسوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن بھی ضرور آئیں گے جب ربوہ کی رونقیں دوبارہ قائم ہوں گی اور پاکستانی احمدی بھی ایک شان سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ وہ اُسوہ ان کے سامنے ہو گا جو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فتح مکّہ کے موقع پر اونٹ کے کجاوے پر سجدہ ریز ہوتے ہوئے قائم فرمایا تھا۔(خطبہ جمعہ یکم اگست 2008ء)

جلسہ سالانہ ربوہ کا رش

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی اس تحریک کا اس زمانے میں بڑا فائدہ ہوا تھا۔ مجھے بھی یاد ہے مَیں اس زمانے میں فیصل آباد میں پڑھتا تھا۔ اس تحریک کی وجہ سے مجھے سائیکل سفر کی عادت پڑ چکی تھی۔ تو جلسہ کے بعد ایک دفعہ فیصل آباد جانے کے لئے مَیں بس کے اڈے پہ آیا تو ان دنوں میں بہت رَش ہوتا ہے۔ جنہوں نے ربوہ کا جلسہ دیکھا ہو ان کو پتہ ہو گا۔ میرے ساتھ میرے ایک عزیز بھی تھے تو آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد مَیں نے کہا چلو بہتر یہ ہے کہ سائیکل پہ چلتے ہیں۔ ہم دونوں گھر آئے وہاں سے سائیکل لیا اور سائیکل پہ بیٹھ کے آرام سے فیصل آباد پہنچے گئے۔ اگلے دن میرا پیپر تھا یا جو بھی ایمرجنسی تھی۔ تو اگر ہمیں پہلے عادت نہ ہوتی تو شاید چھ گھنٹے تک بس کے انتظار میں کھڑے رہنا پڑتا، تو بڑا فائدہ ہو جاتا ہے سائیکل سواری کا۔(الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شمارہ نمبر 34 مورخہ 22 تا 28 اگست 2008ء صفحہ 5 تا 8)

کیچڑ پر سجدہ

ایک انٹرویو میں عامر سفیرصاحب نے دریافت کیا کہ پیارے حضور! آپ نے ایک خطاب میں فرمایا کہ ایک دفعہ حضور کو کسی جلسہ کے موقع پر اپنے چہرۂ مبارک سے مٹی یا کیچڑ صاف کرنا پڑا تھا۔ کیا حضور انور وہ واقعہ بیان فرما سکتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا کہ یہ 1988ء کی بات ہے جبکہ میں مہتمم مجالس بیرون تھا اور تمام دنیا میں صرف ایک صدر خدام الاحمدیہ ہوا کرتے تھے، اور ہر ملک میں نیشنل قائد ہوتا تھا۔میں اس وقت جلسے پر مجلس خدام  الاحمدیہ پاکستان کے نمائندے کے طور پر آیا تھا جب مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کے سپرد دنیا بھر کے خدام کی دیکھ بھال کا کام تھا۔(الفضل انٹرنیشنل 10؍ستمبر 2021ء)

یہ واقعہ حضور انور نے خطبہ جمعہ میںیوں بیان فرمایا تھا:

’’موسم کی خرابی کو عذر نہ بنائیں۔ موسم کی خرابی کی بات ہوئی ہے تو شاملین کو یاد رکھنا چاہیے کہ ربوہ یا قادیان میں سردیوں کے دنوں میں کھلے میں جلسے منعقد ہوتے ہیں۔ ربوہ میں تو اب پابندیوں کی وجہ سے نہیں ہوتے۔ سالوں سے نہیں ہوئے لیکن ہوا کرتے تھے اور جب سردیوں میں جلسہ ہوتا تھا تو پھر لوگ بارش کی صورت میں بھی آرام سے بیٹھ کر کسی نہ کسی ذریعہ سے اپنے آپ کو ڈھانک کر جلسہ سنتے تھے۔ یہاں جب اسلام آباد میں جلسے ہوتے تھے تو بارش کی وجہ سے جلسہ گاہ کی مارکی کے باوجود بھی بہت براحال ہو جاتا تھا۔ نیچے بیٹھنے کے لیے صرف گھاس رکھا جاتا تھا۔ نیچے باقاعدہ کوئی فرش نہیں بنایا جاتا تھا جس طرح اب لکڑی کا بنایا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک جلسہ میں مَیں شامل ہوا تو بارش کی وجہ سے جلسہ گاہ کے اندر بھی کچھ حصہ میں پانی آ گیا اور زمین گیلی ہو گئی۔ کناروں پر تو پانی کھڑا تھا اور جو لوگ کناروں پہ کھڑے ہو کے نماز پڑھتے تھے ان کے گھٹنے اور ماتھے پانی میں ہوتے تھے یا کیچڑ میں ہوتے تھے۔ خود میرے ساتھ بھی اسی طرح ہوا اور سجدے سے سر اٹھا کر پہلے ماتھا صاف کرنا پڑتا تھا کہ آنکھوں میں پانی یا کیچڑ نہ آجائے یا گھاس پھوس لگا ہوتا تھا لیکن سب لوگ مَیں نے دیکھا ہے ایک جذبے سے جلسہ میں شامل ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بھی یہ جذبہ ہے اور کہنا چاہیے کہ احمدیوں کی تقریباً اکثریت میں یہ جذبہ موجود ہے لیکن بعض ذرا نازک مزاج بھی ہوتے ہیں یا حالات کی وجہ سے اب زمانے کی دوری کی وجہ سے نازک مزاجی آ گئی ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 6؍ اگست 2021ء)

روٹی پکانے والوں کی ہڑتال

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جلسہ کے دنوں میں بعض اوقات ایسے ہو جاتا ہے کہ کھانے میں وقتی طور پر کمی آ جاتی ہے۔ اس لئے ایک تو یہ کہ کھانا کھانے والوں کو، مہمانوں کو اس وقت صبر سے کام لینا چاہئے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، عموماً جلسے کے دنوں میں اگر کھانے میں وقتی کمی آ جائے۔ بعض دفعہ اگر سالن ہو بھی تو روٹی میں کمی آ جاتی ہے تو وہ بہت تھوڑے وقت کے لئے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ انتظام فرما دیتا ہے، جلدی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔ گزشتہ سال مثلاً مشین میں چند گھنٹوں کے لئے خرابی ہو گئی جس کی وجہ سے پریشانی ہوئی لیکن کیونکہ متبادل انتظام تھا اور اس عرصے میں مشین بھی ٹھیک ہو گئی تو اتنا احساس نہیں ہوا۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ خود جلدی انتظام بھی فرما دیتا ہے۔

ایک دفعہ ربوہ میں روٹی پکانے والوں نے ہڑتال کر دی یا پیڑے بنانے والوں نے کام سے انکار کر دیا۔ روٹی کے پیڑے وہاں مشین سے نہیں بنتے۔ ایک دفعہ عین موقعے پر بڑی دِقّت پیدا ہو گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ویسے تو جماعت کے افراد کو ہنگامی حالات سے نپٹنے کا بڑا ملکہ دیا ہوا ہے اور جب بھی کوئی ایسے حالات پیدا ہوں ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ایک تو یہ اعلان فرمایا کہ ہر شخص دو روٹیوں کی بجائے (کیونکہ فی کس عموماً دو روٹیوں کا اندازہ رکھا جاتا ہے) ایک کھائے۔ او رپھر ربوہ کے گھروں کو کہا کہ تم روٹیاں بنا کر بھجواؤ۔ تعداد تو اس وقت مجھے یاد نہیں بہرحال ہر گھر کے ذمہ معیّن مقدار لگائی گئی تھی آٹے کی یا روٹیوں کی۔ تو گھروں سے مختلف سائزوں کی روٹیاں آنی شروع ہو گئیں جو تقسیم کے لئے لنگر خانوں میں آجاتی تھیں، وہاں سے تقسیم ہو جاتی تھیں۔ گو اس کے بعد فوری طور پر حالات ٹھیک بھی ہو گئے۔ لیکن اس ارشادکی و جہ سے جو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ان دنوں میں میرا خیال یہی ہے کہ تقریباً سارا جلسہ ہی لوگوں نے ایک روٹی پر گزارا کیا اور یوں اپنی خوراک نصف کر لی اور دو کے کام آ گئی۔ تو یہ جو آنحضرتﷺ نے بظاہر چھوٹے چھوٹے ارشادات فرمائے ہیں ان کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور جب موقع آئے تب پتہ لگتا ہے کہ ان کی کیا اہمیت ہے۔ اور ان پر عمل کرنے والے بھی آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہی ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ برکت بھی ڈالتا ہے۔ مجھے یاد ہے ربوہ میں جب جلسے ہوتے تھے یا جب تک میں وہاں رہا، جلسوں کی ڈیوٹیاں دیتا رہا، تو روزانہ رات کو متوقع مہمانوں کی حاضری کو سامنے رکھتے ہوئے اور جو اس دن کھانا استعمال ہوا تھا، اس دن کی جو حاضری تھی اس کو سامنے رکھتے ہوئے، یہی طریق کار ہے کہ افسر جلسہ سالانہ کی طرف سے اگلے دن کا جو آرڈر ملا کرتا تھا کہ اتنا کھانا پکانا ہے، اتنی روٹی پکانی ہے۔ تو مَیں نے یہ دیکھا ہے کہ عموماً اتنی تعداد میں روٹی پکا نہیں کرتی تھی کیونکہ کچھ دیر پہلے تک کے جو اندازے ہوتے تھے روٹی کی تعداد اتنی ہی ہوتی تھی۔ لیکن جب آخری وقت آتا تھا تو جو روٹی تقسیم ہوتی تھی وہ اتنے مہمانوں کی یا اس سے زیادہ کی ہوتی تھی جتنا کہ آرڈر دیا جاتا تھا۔ تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس وقت بڑی پریشانی ہوا کرتی تھی کہ روٹی پوری کس طرح ہو گی مہمان بھوکے رہ جائیں گے، ابھی شور پڑ جائے گا، ابھی خلیفۃ المسیح کو رپورٹ ہو جائے گی کہ مہمان بھوکے رہ گئے۔ اور پھر بڑی فکر میں اور دعاؤں میں وقت گزرا کرتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے انتظامات فرما دیتا تھا کہ یا تو لوگوں کے پیٹ چھوٹے ہو جاتے تھے یا کیا وجہ ہوتی تھی، بہرحال لوگ پیٹ بھر کر کھانا بھی کھا لیتے تھے اور ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ اس کم روٹی سے اتنی ہی تعداد میں یا اس سے زیادہ تعداد میں لوگوں نے کھانا کھایا ہے۔ بعض دفعہ اتنی کمی ہوتی تھی کہ اگرتعداد کو گنا جائے تو ایک ایک آدمی کا کھانا جو تھا وہ تین تین کے لئے کافی ہوا کرتا تھا۔ تو یہ برکت کے نظارے ہمیں جلسے کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خوراک میں برکت ڈالتا ہے۔(خطبہ جمعہ 29؍ جولائی 2005ء)

1985ء کا جلسہ یوکے

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تو تقریباً چار دہائیاں گزر گئی ہیں یہاں خلافت کی موجودگی میں جلسہ سالانہ منعقد ہوتے ہوئے۔ شروع میں وسیع انتظامات کی وجہ سے یہاں کی جماعت کو بہت کچھ سکھانے کی ضرورت تھی جس کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ذاتی دلچسپی سے بھی راہنمائی فرمائی اور ربوہ سے بھی تجربہ کار لوگوں کو یہاں بلا کر کام سکھایا جن میں چودھری حمیداللہ صاحب افسر جلسہ سالانہ بھی تھے، انہوں نے بڑی مدد کی۔

1985ء میں یہاں جو پہلا جلسہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی موجودگی میں ہوا، اس سے پہلے ایک جلسہ 84ء میں بھی ہوا تھا لیکن بہت مختصر تھا۔ جو باقاعدہ جلسہ ہوا 1985ء میں ہوا۔اس میں شاید پانچ ہزار لوگ شامل ہوئے اور اس کی بھی انتظامیہ کو بڑی فکر تھی۔ ہر ایک پریشان تھا کہ کس طرح سنبھالیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف خدام الاحمدیہ یوکے کے اجتماع میں یا لجنہ اماء اللہ کے اجتماع میں اس سے کہیں زیادہ حاضری ہوتی ہے اور بڑے احسن طریقے سے یہ ذیلی تنظیمیں بھی اپنا انتظام سنبھال لیتی ہیں۔ پس اس لحاظ سے یوکے کی جماعت بہت تجربہ کار ہو چکی ہے کہ انتظامات سنبھال سکے۔(خطبہ جمعہ 28؍ جولائی 2023ء)

جلسہ سالانہ حقیقی اسلامی تقریب

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پہلے یہ جلسہ صرف قادیان میں ہوتا تھا پھر قادیان سے نکل کر ربوہ میں شروع ہوا لیکن ربوہ میں پابندیاں لگ گئیں۔ مخالفین نے تو سمجھا تھا اور حکومتِ وقت نے بلکہ حکومتوں نے جو بھی وقتی حکومتیں رہی ہیں انہوں نے مخالفین پر ہاتھ رکھ کر یہ سمجھا تھا کہ جماعت احمدیہ پر پاکستان میں پابندیاں لگا کر وہ احمدیت کی ترقی کو روک دیں گے۔ لیکن ہوا کیا؟ جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے کہ آج ان دنوں میں دنیا کے کئی ممالک میں جلسے ہو رہے ہیں اور دوران سال اپنی اپنی سہولت اور حالات کے مطابق دنیا کے تقریباً تمام ان ممالک میں جلسے ہوتے ہیں جہاں جماعت احمدیہ قائم ہے۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قائم کردہ اس جلسے کے نظام نے بین الاقوامی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ گو چند ممالک میں پہلے بھی جلسے ہوتے تھے جب ربوہ میں جلسے ہوا کرتے تھے لیکن اب ان جلسوں کی بھی وسعت کئی گنا زیادہ ہو چکی ہے اور مزیدنئے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں اور صرف احمدی ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک کے دنیاوی لیڈر اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بلکہ بعض شریف الطبع مسلمان بھی جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ کو ایک ایسی تقریب قرار دیتے ہیں جو دنیا کو اسلام کی حقیقت بتا کر اسلام کی خوبصورت تعلیم سے آگاہ کرتی ہے۔ (خطبہ جمعہ 26؍ دسمبر 2014ء)

جلسہ سالانہ ربوہ کے لیے دعا کی تحریک

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسی ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ ربوہ کے انعقاد کے سلسلے میں دعا کی کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ قریباً 24سال سے جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی یہاں ہجرت ہوئی، یہ جلسہ سالانہ، یو کے کا جلسہ سالانہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی جلسہ کی صورت اختیار کر گیاہے۔ اور جیسا کہ مَیں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ جب تک خلافت کا یہاں قیام ہے اس جلسے کی بین الاقوامی حیثیت رہے گی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے یہاں آنے کے بعد جو پہلا جلسہ ہوا تھا اس کی اہمیت کے پیش نظر بلکہ بعد کے کئی سال بھی مختلف اوقات میں آپؒ نے یہاں کے ملکی جماعتی نظام کی ٹریننگ کے لئے، ان کو صحیح جماعتی روایات سے متعارف کرانے کے لئے، جلسے کے مختلف شعبہ جات اور مختلف امور کی باحسن سرانجام دہی کے لئے جہاں خود بڑی محنت سے ذاتی دلچسپی لے کر جلسے کے نظام کواپنی رہنمائی سے نوازا، وہاں مرکز سے، ربوہ سے بھی تجربہ کار، پرانے کام کرنے والے افسران، جن کا سالہاسال جلسہ کے انتظام چلانے کا تجربہ تھا اور جماعتی روایات سے بھی واقف تھے، کو بھی یہاں کے نظام کے ساتھ مشوروں میں شامل رکھا۔

بہرحال چند سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یو کے کی جماعت اس معاملے میں اتنی تربیت یافتہ ہو گئی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر اب لاکھوں کی تعداد میں بھی مہمان آ جائیں تو یہ بغیر کسی گھبراہٹ اور انتظامی نقص کے یادِقّت کے جلسے کے انتظام کو اللہ کے فضل سے احسن طریق پر سرانجام دے سکتے ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ جب میں سوچتا ہوں تو یہ فکر ہوتی ہے کہ پاکستان میں بھی جب انشاء اللہ تعالیٰ حالات بہتر ہوں گے، جلسہ سالانہ ہو گا تو لمبے عرصے کے تعطُّل کی وجہ سے بہت سے کارکنان جو اس وقت جب آخری جلسہ 1983ء کا ہوا تو active تھے، اور اب بڑی عمر ہو جانے کی وجہ سے اتنے active نہیں رہے ہوں گے، بعض ان میں سے دنیا میں بھی نہیں رہے تو نئی نسل ڈیوٹیاں دینے کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے جلسے کے انتظام کو کس طرح سنبھالے گی؟ لیکن پھر اللہ تعالیٰ کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت سے سلوک ہے اسے دیکھ کر اور احمدیوں کی فدائیت اور ایمان کے جذبے کو دیکھ کر تسلی ہوتی ہے کہ انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ خود ہی ان فکروں کو دور کرنے کے سامان پیدا فرمائے گا۔ بہرحال آپ سب سے اور خاص طور پر پاکستان کے رہنے والے احمدیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان میں بھی جلسے کے انعقاد کے سامان پیدا فرمائے اور ان کی یہ محرومیاں بھی دور ہوں اور ہماری فکریں جو بشری تقاضا ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ دور فرمائے۔ بہرحال یہ تو ضمنا ً دعا کی تحریک کی طرف توجہ پیدا ہوئی تھی جو میں نے کی۔(خطبہ جمعہ 20؍ جولائی 2007ء)

٭… ٭… ٭… ٭… ٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button