لطیف مزاح
(بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
٭… حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔ مجھے بچپن کا ایک لطیفہ یاد آ گیا اُس وقت میں نے اس سے بہت مزا اٹھایا تھا اور اب بھی مجھے یاد آتا ہے تو ہنسی آتی ہے۔ کہتے ہیں کہ پانچویں یا چھٹی جماعت میں مَیں پڑھتا تھا تو ہمارے استادنے یہ طریق مقرر کیا ہوا تھا کہ ان کے سوال کا جواب جو طالبعلم وقت مقررہ میں دے دے وہ اوپر کے نمبر میں آجائے گا۔ ہم کھڑے تھے۔ استادنے سوال کیا ایک لڑکے نے اس کا جواب دیا۔ دوسرے نے ہاتھ بڑھا کر کہا ماسٹر جی یہ جواب غلط ہے۔ ماسٹر صاحب نے پہلے لڑکے سے کہا تم نیچے آ جاؤ اور دوسرے کو کہا تم اوپر چلے جاؤ۔ نیچے آتے ہی اس لڑکے نے جو پہلے اوپر کے نمبر پہ تھا کہا کہ ماسٹر صاحب اس نے میری غلطی نکالتے ہوئے غَلَطْ لفظ کو غَلْطْ کہا ہے جو غَلَط ہے۔ اس استادنے پھر اسے سابق جگہ پر کھڑا کر دیا اور دوسرے لڑکے کو پھر نیچے گرا دیا۔(خطبہ جمعہ 2؍ دسمبر 2016ء)
٭… [حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ]اسی طرح طب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہدایت کے ماتحت میں نے آپ[حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ] سے شروع کر دی تھی۔ طب کا سبق میں نے اور میر اسحاق صاحبؓ نے ایک ہی دن شروع کیا تھا۔ پھر آپؓ فرماتے ہیں کہ میرصاحب کا ایک لطیفہ ہے جو ہمارے گھر میں خوب مشہور ہوا کہ دوسرے ہی دن، (جب پہلے دن کا سبق دونوں نے لے لیا تو دوسرے دن) ‘‘میر محمد اسحٰق صاحبؓ اپنی والدہ سے کہنے لگے کہ اماں جان مجھے صبح جلدی جگا دیں کیونکہ مولوی صاحبؓ دیر سے مطب میں آتے ہیں۔ میں پہلے مطب میں چلاجاؤں گا تا کہ مریضوں کو نسخے لکھ کر دوں حالانکہ ابھی ایک ہی دن ان کو طب شروع کئے ہوئے ہوا تھا۔(خطبہ جمعہ 22؍ فروری 2019ء)
٭… ایک غیر احمدی نے ایک اخبار میں مضمون لکھا جو ایک لطیفہ تو ہے۔ اس سے ایک مولوی صاحب کی جہالت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کی سوچوں کا بھی پتا لگتا ہے کہ یہ اس چیز کو جائز سمجھتے ہیں۔ یہ لکھنے والا لکھتا ہے کہ ایک جگہ ایک عرب گلوکارہ عربی میں میوزک کے ساتھ گانا گا رہی تھی۔ مولوی صاحب کو بھی وہاں لے گئے۔ وہ بڑے جھوم جھوم کر وہ سن رہے تھے۔ تو انہوں نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ اس عربی پہ اتنا جھوم کیوں رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سبحان اللہ اور ساتھ ساتھ سبحان اللہ اور ماشاء اللہ اور اللہ اکبر بھی پڑھتے جائیں۔ انہوں نے کہا جھوم کیوں رہے ہیں؟ کہتا ہے دیکھو۔ دیکھ نہیں رہے تم کتنی خوبصورت آواز میں قرآن کریم پڑھ رہی ہے۔ اس گانے کو انہوں نے کیونکہ وہ عربی میں تھا قرآن کریم بنا دیا۔ تو جب یہ بدعات پھیلتی ہیں تو سوچیں بھی اسی طرح تبدیل ہو جاتی ہیں۔(خطبہ جمعہ 18؍ مارچ 2016ء)
٭… حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے ایک لطیفہ سنا ہوا ہے جو شاید مقامات حریری یا کسی اور کتاب کا قصہ ہے۔ آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی مہمان کسی جگہ نہانے کے لئے گیا۔ حمام کے مالک نے مختلف غلاموں کو خدمت کے لئے مقرر کیا ہوا تھا۔ بعض ملکوں میں حمام ہوتے ہیں جہاں خادم ہوتے ہیں جو مہمانوں کو مالش کرتے ہیں، نہلاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت مالک موجودنہ تھا۔ جب وہ نہانے کے لئے حمام میں داخل ہوا تو تمام غلام اسے آ کر چمٹ گئے اور چونکہ سر کو آسانی سے ملا جا سکتا ہے اس لئے یکدم سب سر پر آ گرے۔ ایک کہے کہ میرا سر ہے۔ دوسرا کہے یہ میرا سر ہے۔ جس پر آپس میں لڑائی شروع ہو گئی اور ایک نے دوسرے کے چاقو مار دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ شور ہونے پر پولیس بھی آ گئی اور معاملہ عدالت تک پہنچا۔ عدالت کے سامنے بھی ایک غلام یہ کہہ رہا تھا کہ یہ میرا سر ہے۔ دوسرا کہے کہ یہ میرا سر تھا۔ عدالت نے نہانے والے سے پوچھا تو وہ کہنے لگا حضور! یہ تو بے سر تھے۔ بیوقوف تھے۔ ان کی باتوں پر تو مجھے تعجب نہیں۔ تعجب یہ ہے کہ آپ نے بھی یہ سوال کر دیا۔ حالانکہ سر نہ اِس کا ہے نہ اُس کا ہے۔ سر تو میرا تھا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مثال اس لئے دیا کرتے تھے کہ دنیا کے جھگڑے بیہودہ ہوتے ہیں۔ میرا کیا اور تیرا کیا۔ غلام کا تو کچھ بھی نہیں ہوتا(خطبہ جمعہ 12؍ فروری 2016ء)
٭… [حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ]حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ کوئی چوہڑا لاہور کے پاس سے ایک مرتبہ گزرا۔ گاؤں کا رہنے والا تھا۔ بوجھ اٹھانے کے کام کیا کرتا تھا یا گند اٹھانے کے کام کیا کرتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ شہر میں کہرام مچ رہا ہے۔ بڑا شور مچا ہوا ہے۔ ہندو مسلمان مرد عورت سب رو رہے ہیں۔ اس نے کسی سے اس کی وجہ دریافت کی تو اسے بتایا گیا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ مر گیا ہے۔ حضرت مصلح موعود ؓکہتے ہیں یوں تو سکھوں کی حکومت بہت بدنام ہے۔ اس زمانے میں بعض ایسے بھی راجے آئے تھے جو بڑے بدنام تھے مگر اس میں شبہ نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی مَیں نے بارہا سنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں امن قائم ہو گیا تھا اور اس نے خرابیوں کو بہت حد تک دُور کر دیا تھا۔ مسلمانوں پر سکّھوں کے مظالم کے جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں وہ دوسرے زمانے کے ہیں جب ملک کی حکومت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی، لوٹ مار ہو رہی تھی اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی کوشش ہمیشہ یہی رہتی تھی کہ امن قائم ہو اور وہ مسلمانوں کے ساتھ بھی ایک حد تک اچھا سلوک کرتے تھے۔ (آپؓ اس کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ) ان کے وزراء میں مسلمان بھی تھے۔ حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے والد یعنی ہمارے دادا بھی ان کے جرنیلوں میں سے تھے اور کئی مسلمان بھی بڑے بڑے عہدوں پر تھے۔ پس اس امن کو دیکھتے ہوئے جو ان کی وجہ سے ملک کو حاصل ہوا تھا اور اس فساد کو یاد کر کے جو ان سے قبل پایا جاتا تھا ان کی موت کا سب کو صدمہ تھا اور لوگ رو رہے تھے۔ چوہڑے نے اس کہرام کی وجہ دریافت کی تو کسی نے اسے بتایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گئے ہیں۔ وہ بڑی حیرت سے اس شخص کا منہ دیکھنے لگا اور دریافت کرنے لگا کہ لوگ ان کی وفات پر اتنے بے تاب کیوں ہیں۔ میرے باپ جیسے لوگ مر گئے تو مہاراجہ رنجیت سنگھ کس شمار میں ہیں۔ یہ لطیفہ بیان کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جسے کسی چیز کی قدر ہوتی ہے وہی اس کے نزدیک بڑی ہوتی ہے۔ اس چوہڑے کا باپ اس سے حسن سلوک کرتا تھا اس لئے وہ اسے پیارا تھا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کا حسن سلوک گو لاکھوں سے ہو مگر چونکہ وہ ان لاکھوں میں سے نہ تھا، نہ اس کی نظر اتنی وسیع تھی کہ وہ سمجھتا کہ ملک کا فائدہ اور امن و امان بڑی چیز ہے۔ انفرادی فائدے کی اس کے مقابل پر کوئی حقیقت نہیں۔ اس لئے اس کا یہی خیال تھا کہ اصل چیز جو قدر کی ہے میرا باپ تھا جس کی مجھے قدر کرنی چاہئے۔ جب وہ فوت ہو گیا تو پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گیا تو کیا ہوا۔(خطبہ جمعہ 26؍ فروری 2016ء)
٭… ٭… ٭… ٭… ٭
