دَورِ خلفائے راشدین میں لڑی جانے والی جنگوں کے مقاصد اور ان کے شیریں ثمرات
دَورِ خلفائے راشدین کی جنگوں کے مقاصد بتاتے ہوئے اول اور عمومی جواب تو یہی ہے کہ دَورِخلافت راشدہ کی تمام جنگوں کا مقصد وہی تھا جو جنگ بدر کا تھا
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’تاریخ کو اگر انسان پڑھے تو اسے نظر آئے گا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جس قدر فتوحات کیں وہ انسانی طاقت اور سعی کا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک بیس سال کے اندر ہی اندر اسلامی سلطنت عالمگیر ہوگئی۔ اب ہم کو کوئی بتاوے کہ انسان ایسا کرسکتا ہے؟‘‘(ملفوظات جلداول صفحہ ۱۶۵۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)
بانی اسلام حضرت محمد ﷺ کی وفات ۱۱ ہجری (جون ۶۳۲ عیسوی) تک دین اسلام جزیرہ نمائے عرب کے دُورو نزدیک کی سب شہری و صحرائی اکائیوں تک متعارف و قائم ہوچکا تھااور یہ جزیرہ نما عرب سے باہر پھیلنے کی راہ پر تھا۔
آنحضور ﷺ کے تربیت یافتہ جاںنثار صحابہ پہلے خود ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے اور پھر روئے زمین پر اس آسمانی نور کو پھیلانے کا بیڑا اٹھایا ، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’د یکھو کہ اُس مرد کی کیسی بلند شان ہے جس نے تھوڑے سے عرصہ میں ہزاروں انسانوں کی اصلاح کی اور فساد سے صلاحیت کی طرف اُن کو منتقل کیا یہاں تک کہ اُن کا کفر پاش پاش ہوگیا۔…اُن کی ہمتیں دینی خدمات کےلیے بلند ہوگئیں اور وہ دعوت اسلام کے لیے ممالکِ شرقیہ اور مغربیہ تک پہنچے اور ملتِ محمدیہ کی اشاعت کے لیے بلاد جنوبیہ اور شمالیہ کی طرف انہوں نے سفر کیا ۔…یہاں تک کہ دین کو فارس اور چین اور روم اور شام تک پہنچا دیا اور جہاں جہاں کفر نے اپنا بازو پھیلا رکھا تھا اور شرک نے اپنی تلوار کھینچ رکھی تھی وہیں پہنچے۔ …اور زمین کی انتہائی آبادی تک زمین پر قدم مارتے ہوئے پہنچے۔…اور یہ معجزہ ہمارے رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور حقیقت ِ اسلام پر ایک صریح دلیل ہے۔‘‘(نجم الہدی، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۴۱تا ۴۴)
اب سب کو معلوم ہے کہ ملک عرب سے نکل کر چین اور انڈونیشیا تک اشاعت اسلام کے لیے کبھی بھی تیر و تلوار، بحری و زمینی لشکرکشی اور جنگ وجدال کا ماحول نہ تھا بلکہ اسلام کی روحانی تاثیر نے کروڑوں سعید روحوں پر اپنا اثر دکھایا۔
آنحضور ﷺ کی حیات طیبہ میں اشاعت اسلام کا جو مبارک سفر شروع ہواتھا اس میں مذکورہ بالا اگلا دور تب آیا جب مسلمان حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہاتھ پر بیعت کرکے جمع ہوئے تو دور خلافت راشدہ کا آغاز ہوا، جو حضرت علی ؓ کی شہادت سنہ ۶۶۱ء تک جاری تھا ۔ یہ مبارک عرصہ قریبا ساڑھے انتیس سال پرمحیط ہے۔ اس دور میں ہونے والی جنگوں کا پس منظر اور مقاصدکا جاننا بہت ضروری ہے۔کیونکہ جیسا کہ ثابت شدہ امر ہے کہ اسلام کے پھیلاؤ اور مشرق و مغرب میں قیام محض جنگ کا مرہون منت نہ تھا۔
مذکورہ بالا ۳۰؍سالہ دور میں ہونے والی جنگیں محض مخصوص علاقہ میں ہوئیں اور باقی سب جگہ اسلام اپنی خوبصورت تعلیم کے برتے پر پھیلا اور ایک عجیب معجزہ رونما ہوا۔
مذکورہ بالا جنگیں بھی دراصل عرب کے ہمسایہ میں موجود پہاڑوں جیسی عظیم اور پُرہیبت سلطنتوں کو اڑانے کے لیے تھیں جیسا کہ قرآن کریم بتاتاہے کہ وَیَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡجِبَالِ فَقُلۡ یَنۡسِفُہَا رَبِّیۡ نَسۡفًا۔ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفۡصَفًا۔(طہ: ۱۰۶ و ۱۰۷) اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تُو کہہ دے کہ ا نہیں میرا ربّ ریزہ ریزہ کر دے گا۔پس وہ انہیں ایک صاف چٹیل میدان بنا چھوڑے گا۔
ابتدائی دور میں اہل عرب حضرت بانی اسلام ﷺ کا پیغام سن کر سوال کیا کرتے تھے کہ تم ایک عالمگیر مذہب لیکر آئے ہو، جبکہ عرب کے دائیں اور بائیں بڑے بڑے پہاڑی سلسلے موجود ہیں جو ایک لمبے عرصہ سے ایک مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں۔ ان کا کیا ہوگا؟ ان کے ہوتے ہوئے اسلام کا پیغام دنیا میں کیسے پھیلے گا۔ تب خدا نے حضرت محمد ﷺ کو حکم دیا کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کردے گا۔ اور ایک صاف چٹیل میدان بناچھوڑے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔
اس معجزہ کی تفصیل کےلیے دیکھیں تو ہمارے سامنے ہے کہ امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بدری صحابہ کے حالات و واقعات کے ضمن میں ۲۷؍نومبر ۲۰۲۰ء کوچوتھے خلیفہ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ذکرخیر سے خطبات کا سلسلہ شروع فرمایا جو ۹؍دسمبر ۲۰۲۲ء تک جاری رہا، اس سلسلہ کے اس آخری خطبہ میں حضورانور ایدہ اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کا ذکر خیر مکمل فرمایا۔ یوں دو سال سے کچھ زائد عرصے کے خطبات جمعہ میں چاروں خلفائے راشدین کا ہی ذکر جاری رہا، اور قریبا تیس سالہ دورخلافت راشدہ میں ان آفاقی وجودوں کی زیر قیادت مشرق و مغرب میں لڑی جانے والی چھوٹی بڑی جنگوں، پہاڑوں جیسی بڑی دنیاوی سلطنتوں اور ہیبت ناک افواج کے مقابل پر ملنے والی غیر معمولی عسکری فتوحات اور ان کے عالمگیر ثمرات کاتذکرہ جاری رہا۔ قریبا ۱۰۰ گھنٹوں پر مشتمل خطبات کو سینکڑوں صفحات پر طبع کیا گیا ہے۔
اس مجموعہ کا بغور مطالعہ جہاں حقیقی تاریخ فہمی کا ذریعہ ہے، مشکل گتھیاں سلجھتی ہیں،شان اسلام، شان قرآن ،شان بانی اسلام اور شان صحابہ پر عمداً یا سہواً پھیلائی گئی گرد صاف ہوتی ہےوہاں اس تائید یافتہ اور مقدس خلیفہ کی مبارک زبان سے دور خلافت راشدہ کا ایک تفصیلی بیان ہے جو اپنی ذات میں ایک منفرد تاریخی پہلو رکھتا ہے۔
دور خلافت راشدہ(۶۳۲-۶۶۱ء)کی کل جنگوں کی تعداد اور مقامات اور حالات کا جائزہ لیں تو ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے۔ لیکن کہیں یہ مضمون صرف جنگوں کی فہرست نہ بن جائے، اس لیے صرف ایک محاذ یعنی ساسانی /ایرانی سلطنت سے کشمش اور فتح کا جائزہ لینا کافی ہوگاجس سے باقی محاذوں پر لشکرکشی کے اسباب کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔
دور خلفائے راشدین کی جنگوں کے مقاصد بتاتے ہوئے اوّل اور عمومی جواب تو یہی ہے کہ دو رخلافت راشدہ کی تمام جنگوں کا مقصد وہی تھا جو جنگ بدر کا تھا۔کیونکہ وہاں اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر سےمقابلہ سے قبل پوری رات نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے نہایت الحاح سے یہی دعا کی تھی کہ اَللّٰھُمَّ إِنْ تَھْلِکْ ھٰذِھِ الْعِصَابَةَ الْیَوْمَ لَا تُعْبَدْ، اَللّٰھُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْیَوْمِ أَبَدًا (بخاری و مسلم)
پس روئے زمین پر ہر نوع کے شرک کاخاتمہ ، اللہ تعالیٰ کی حقیقی عبادت اور خالص بندگی کا قیام ہی روز اول سے اہل اسلام کے ہر چھوٹے بڑے فیصلہ کی بنیاد رہا ہے اور اسلامی جنگیں ہمیشہ سے ہی مقصدیت، مہارت اور نتائج کے اعتبار سے خاص اور منفرد رہی ہیں کیونکہ قتال کی اجازت دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے پوری قدرت کے ساتھ مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے: ’’وہ لوگ جن سے (بلاوجہ) جنگ کی جارہی ہے ان کو بھی (جنگ کرنے کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔‘‘(الحج: ۴۰)
اس تناظر میں صرف ایک معرکہ بدر ہی اپنے ہمہ گیر عالمی اثرات اور قیامت تک پیدا ہونے والے تغیّرات میں جنگ عظیم اوّل اور دوم سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جب روئے زمین پر خدائے واحد کی عبادت اور حکومت قائم رکھنے کے لیے ۳۱۳؍جانثاروں نے نہایت اخلاص سے اپنی گردنیں پیش کردیں ۔ خدا کو یہ قربانی اتنی پسند آئی کہ اس نے رہتی دنیا تک ان مجاہدوں کا اجر و ثواب بھی قائم کردیا اور ان کو ایسا اَمر کیا کہ مہدی آخر زمان احمدی ہندی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک خاص تاکید کی ،جس کی تعمیل میں دورِخلافتِ خامسہ میں ہوتی دیکھ چکے ہیں۔ حضرت قاضی عبدالرحیمؓ نے ۱۷فروری ۱۹۰۴ء کی ڈائری میں لکھا کہ ’’آج رات حضرتؑ (حضرت مسیح موعودؑ) نے خواب بیان فرمایا۔ کسی نے کہا کہ جنگ بدر کا قصہ مت بھولو۔‘‘(اصحاب احمد جلد ششم صفحہ۱۳۳)
اب اگر قرآن کریم میں مذکور متعلقہ پیش گوئیاں دیکھیں تو ملتا ہے کہ سورۃ الفتح میں کسریٰ اور قیصر کے ساتھ کی جنگوں کا ذکر ہے کیونکہ یہاں ملک عرب کے منافقین سے کہا گیا ہے کہ اگر تم ان صحابہؓ کے ساتھ ہوکر جنگوں میں ہمت دکھاؤ گے تو قصور معاف ہو جائے گا، ورنہ خداتعالیٰ کا عذاب تمہیں ملے گا۔فرمایا: قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِیۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَہُمۡ اَوۡ یُسۡلِمُوۡنَ ۚ فَاِنۡ تُطِیۡعُوۡا یُؤۡتِکُمُ اللّٰہُ اَجۡرًا حَسَنًا ۚ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا کَمَا تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا۔ (الفتح: ۱۷)اعراب میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑے گئے ہیں تو ان سے کہدے کہ ضرور تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لیے بلائےجاؤ گے جو فنون جنگ میں بڑی ماہرہے تم ان سے اس وقت تک جنگ کرو گے کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ پس اگر تم (اس وقت خدا کی آواز) مانو گے تو اللہ تم کو بڑا اچھا اجر دے گا اور اگر تم (حکم سے) روگردانی کرو گے جس طرح اس سے پہلے (روگردانی) کی تھی تو اللہ تم کو دردناک عذاب دے گا۔
نیزیہاں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ وہ جنگیں بہت عرصہ تک لمبی چلی جائیں گی۔یہ حکم نہیں کہ مسلمان ہونے تک ان سے لڑو بلکہ مستقبل کا صیغہ ہے اور واقعہ بتایا ہے کہ وہ دشمن جب تک مسلمان نہ ہوں گے تم سے لڑتے جائیں گے۔ چنانچہ روم اور فارس نے ایسا ہی کیا۔
پھر سورۃ الاحزاب میں ہے کہ وَاَوۡرَثَکُمۡ اَرۡضَہُمۡ وَدِیَارَہُمۡ وَاَمۡوَالَہُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡہَا ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا۔ (الاحزاب:۲۸)اور تمہیں ان کی زمین اور ان کے مکانوں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور ایسی زمین کا بھی جسے تم نے (اس وقت تک) قدموں تلے پامال نہیں کیا تھا۔ اور اللہ ہرچیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
اس آیت میں اہل اسلام کے لیے ایسے علاقوں کی فتوحات کی پیشگوئی ہے جن میں ابھی تک مسلمانوں کو قدم رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ دراصل اس میں پیشگوئیوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔
جنگوں کی وجوہات و مقاصد
جنگوں کے مقاصد کی تلاش میں صرف ایک محاذ کا جائزہ ہی کافی رہے گا اور وہ ہے ساسانیوں کے مقابل پر اسلامی لشکر۔
خلفائے راشدین کے عہد میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غیر معمولی حالات میں اُس وقت کی دو عظیم الشان سلطنتوں پر غلبہ عطا فرمایا۔ ان میں ایک سلطنت ایران کی ساسانی مملکت تھی۔
اسلام میں جبر کے ساتھ دین کی اشاعت کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ قرآن بار بار بڑے زور سے کہتا ہے کہ مسلمان کےلیے کسی کا مال لینا یا زمین میں فتنہ و فساد پھیلانا یا بغیر کسی دفاعی ضرورت کے کوئی خونریزی کرنا قطعاً جائز نہیں۔
حضرت محمدﷺکے اقوال بھی سراسر انسانی ہمدردی اور مخلوق اللہ پر شفقت اور رحم کی تلقین سے معمور ہیں۔ اوراحادیث میں یہ تعلیم تو کہیں نظر نہیں آتی کہ کمزوروں پر حملہ کرو، غرباء کا مال لُوٹ کر کھالو، جبراً لوگوں کو مسلمان بناؤ بلکہ نہایت پُردرد اور پُرسوز الفاظ میں ہمسایہ پر شفقت ، یتیموں، غریبوں ، کمزوروں کی ہمدردی اور خلقِ خدا کی خدمت سے احادیث کی کتب بھری پڑی ہیں۔ اور خاص دشمنوں سے مقابلہ سے متعلق تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ واضح ہدایت ہے:’’لا تَتَمَنَّوْا لقاءَ العدوّ‘‘یعنی دشمن سے لڑائی کی خواہش کبھی تمہارے دل میں پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
پھر فتحِ ایران کے بعدکے معاہدات میں بڑے پختہ طورپر مقامی آبادی کی جان، مال اور مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے بطور نمونہ بعض معاہدے پیش ہیں:مثلاً اہلِ طفلس کے معاہدہ میں لکھا گیا: ’’ھذا کتاب من حبیب بن مسلمہ لاھل طفلس بالامان علیٰ انفسھم و بِیَعِھم و صوامعھم و صلوٰتھم و دینھم‘‘(بلاذری صفحہ ۲۰۴) یعنی یہ تحریر حبیب بن مسلمہ کی طرف سے اہل طفلس کے نام ہے کہ ان کو ان کی جانوں، ان کے کلیسائوں، ان کے معبدوں، ان کی نمازوں اور ان کے مذہب کے امان کی ضمانت دی جاتی ہے۔
اہلِ موقان کے معاہدہ میں لکھا گیا: ’’الامان علیٰ اموالھم و انفسھم و ملّتھم و شرائعھم‘‘۔ یعنی ان کے مالوں، جانوں، ملّت اور شریعتوں کی امان دی جاتی ہے۔‘‘
اہلِ آرمینیہ کے معاہدہ میں لکھا گیا : ’’اعطاھم اماناً لانفسھم و اموالھم و ملّتھم‘‘ (طبری جلد ۲ صفحہ ۲۳۵)یعنی اسلامی نمائندہ ان کی جانوں، مالوں اور ملّت کی امان دیتا ہے۔
اسلامی سلطنت کو وسیع کرنے کے لیے خلفائے راشدین کا اپنے غیر مسلم ہمسائیوں پر حملے کروانے کا بے سروپا الزام لگانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ایران پر فتح اور مکمل غلبہ کے بطل جلیل حضرت عمرؓ کا اپنا ملازم وثیق نامی غیر مسلم تھا۔ آپ اس کو سمجھاتے، تبلیغ فرماتے مگر جب وہ آپ کی بات ماننے سے انکار کر دیتا تو آپ لا اکراہ فی الدّین کہہ کر خاموش ہو جاتے۔
اسلامی حملہ کی حقیقی وجوہات کی تلاش کریں تونظر آتا ہے کہ ایران اور عرب کی اسلامی حکومت کے درمیان کش مکش کا بیج اسلام کے ظہور سے پہلے ہی موجود تھا۔ وہاں ساسانی خاندان کی شخصی بادشاہت قائم تھی جہاں مطلق العنان بادشاہ اور ان کے درباری امرائے ملک گیری کے نشہ میں سرشار رہتے تھے اور آئے دن ہمسایہ مملکتوں پر حملہ آور رہنا ہی ان کا شغل تھا۔
ساسانی دربار کے یہ بادشاہ اور امراء ہمیشہ عرب کی کمزور اور قبائلی رقابت کی وجہ سے بٹی ہوئی قوم کو مغلوب اور زیر اقتدار رکھنے کی کوشش میں رہتے۔ یمن، بحرین اور دیگر قریبی علاقے تو وہ بلا واسطہ ہی اپنے ماتحت سمجھتے تھے مگر بقیہ تمام عرب کو بھی وہ اپنے زیر نگین ہی تصور کرتے تھے۔
اہل عرب گو غیر متمدّن اور کمزور اور پراگندہ تھے مگر وہ ہمیشہ ہی اہلِ ایران کے اس جارحانہ روّیہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے اور ہمیشہ ہی انہوں نے اپنی آزادی اور خود مختاری کو برقرار رکھنا چاہا۔
ظاہر ہے کہ وہ ایرانی مملکت جو عرب کے متفرق قبائل کو اپنا باج گزار اور مطیع بنا کر رکھنا چاہتی تھی کب یہ برداشت کر سکتی تھی کہ اسلام کے ذریعہ عرب اپنے تفرقہ کو چھوڑ کر ایک مضبوط اور متمدّن حکومت کی صورت اختیار کر لیں اور ایرانی امپیریلزم کی غلامی کا جُؤا اُتار پھینکیں۔ چنانچہ اسلام کے عرب میں غلبہ کے ساتھ ہی ایرانیوں کے حملے عرب پر تیز تر ہوئے اور عرب کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے قبائل ان حملوں کا خصوصی تختۂ مشق بنے۔
ایران و عرب کی کش مکش میں ایران کے جارحانہ رویّہ کی متعدد مثالیں ہیں۔ ایسا ہی ایک معرکہ آنحضرت ﷺکے ظہور کے بعد ہوااور حضورﷺ نے جب اس فتح کی خبر سنی تو فرمایا:’’ھذا اوّل یومٍ انتصفت العرب من العجم‘‘یعنی آج پہلا دن ہے کہ عرب نے ایران سے انصاف حاصل کیا ہے۔
یہ ایک مختصر سا فقرہ ایک لمبی داستان اپنے پیچھے لیے ہوئے ہے ان مظالم اور زیادتیوں کی جو ایرانی حکومت عرب پر روا رکھتی تھی اور یہ ایک بے ساختہ اظہار ہے اس احساس کا جو ایرانیوں کے ہاتھوں سے تنگ آ کر اہلِ عرب کے قلوب میں پایا جاتا تھا۔
ایرانی حکومت کا معاندانہ رویّہ عرب میں اسلام کی ترقی کے زمانے میں سخت تر ہو تا چلا گیا۔جس کی ایک مثال آنحضرتﷺ کاتبلیغی خط اوراس پر شاہِ ایران کا ردِّ عمل بھی ہے۔خط کا ترجمہ سن کر کسریٰ غصہ سے بھر گیا اور ترجمان سے خط لے کر اُسے یہ کہتے ہوئے ریزہ ریزہ کر دیا کہ’’میرا غلام ہو کر مجھے اِس طرح مخاطب کرتا ہے۔‘‘
اس سفّاک کسریٰ نے خط پھاڑنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ اس نے یمن کے گورنر کو یہ ہدایت لکھ کر بھیجی کہ حجاز میں جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کو گرفتا رکر کے میرے پاس بھیج دیا جائے۔
اسی طرح عرب کی سرحد کے قریب ترین ایرانی صوبہ کا گورنرہُرمز تھا ، عرب سرزمین پر مسلسل حملے کرنا اسکا معمول تھا اور اس شخص کے مظالم اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ وہ خباثت میں عربی زبان میں ضرب المثل بن گیا اور’’اخبث من ھرمز‘‘اور’’ اکفر من ھرمز ‘‘کے فقرات اہلِ عرب میں عام استعمال ہونے لگے تھے۔(طبری جلد۲ صفحہ ۵۵۵و ۵۵۶)
پس ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے مسلمان مجبور ہوچکے تھے۔
اسلامی جوابی حملوں کی ابتدا
ایرانی مملکت کے ان جارحانہ حملوں کے خلاف مسلمانوں کی جوابی کارروائیوں کے آغاز کے متعلق عموماً ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے عرب کی اندرونی بغاوت اور فتنۂ ارتداد سے نجات پائی تو فوراً حضرت خالد بن ولیدؓ کو حکم بھیجا کہ وہ عراق پر حملہ آور ہوں۔ حالانکہ ایران پر حملہ کی ابتداء حضرت مثنّٰی بن حارثہؓ کےمدافعانہ حملوں کے ذریعہ ہوئی جو انہوں نے مرکز خلافت مدینہ سے باقاعدہ اجازت حاصل کر کے شروع کی۔ حضرت مثنّٰیؓ اور ان کا قبیلہ عرب میں ایران کی سرحد کے قریب رہتا تھا۔(طبری جلد ۲ صفحہ ۵۵۲)اور گویا ایرانی جارحانہ حملوں کا پہلا شکار تھا۔کیونکہ حضرت مثنّٰی ؓحضرت ابوبکرؓ کے پاس مدینہ آئے اور درخواست کی کہ مجھے میری قوم کا افسر مقرر کر دیجئے تاکہ میں اس ایرانی علاقہ سے لڑائی کرسکوں جو ہمارے ساتھ لگتا ہے اور ’’اکفیک بنا حیتی‘‘ یعنی اپنے علاقہ کی سمت میں آپ کا بوجھ سنبھال لوں۔
چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ بعد میں جب مزید امداد کی ضرورت پڑی تو حضرت خالدؓ کو وہاں بھیجا گیا۔
اسلامی حملہ کی مدافعانہ نوعیت کا قطعی ثبوت تاریخ کے صفحات میں محفوظ رہ جانے والے اس واقعہ سے بھی ملتا ہے جب حضرت عمرؓ کی خدمت میں ایران میں لڑنے والی اسلامی افواج کے چیندہ کمانڈروں کا ایک وفد کسی سلسلہ میں مدینہ میں حاضر ہوا تو حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے مفتوحہ علاقے میں بغاوت کیوں ہو جاتی ہے؟ کیا ایسا تو نہیں کہ مسلمان ذِمّیوں کو تکلیف دیتے ہیں؟ اس کے جواب میں وفد کے ارکان نے کہا ایسا ہرگز نہیں۔ ہمارا علم تو یہ ہے کہ مسلمان ذمّیوں سے نہایت حسن سلوک کرتے ہیں اور ان سے جو معاہدات ہوئے ہیں ان کو پوری وفاداری سے نبھاتے ہیں۔
اس موقع پر حضرت احنف بن قیسؓ نے ایک جواب دیا جس سے حضرت عمرؓ پر اصلی صورتِ حالات واضح ہو گئی ،انہوں نے کہا: ’’اے امیر المومنینؓ! میں آپ کو اصل صورتِ حال سے مطلع کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آپ نے ہمیں مزید فوجی اقدام سے منع فرما دیا ہے اور اسی علاقے پر رُکے رہنے کی ہدایت دی ہے جو اب تک فتح ہوچکا مگر ایران کا بادشاہ ابھی زندہ موجود ہے اورجب تک وہ موجود ہے ایرانی ہم سے مقابلہ جاری رکھیں گے اور یہ کبھی ممکن نہیں کہ ایک ملک میں دو بادشاہ رہ سکیں۔ بہرحال ایک دوسرے کو نکال کر رہے گا اور آپ جانتے ہیں کہ ہم نے کسی علاقہ کو بھی پہلے دشمن کی لشکر کشی کے بغیر فتح نہیں کیا اور یہ لشکر کشی ان کے بادشاہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اس کا یہ طریق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آپ ہمیں اس امر کی اجازت نہ دیں کہ ہم اس کے علاقہ میں گھس کر اس کو اس کی مملکت سے نکال نہ دیں۔‘‘ (طبری جلد ۳ صفحہ ۱۵۸)
۱۱ھ میں ایران کے خلاف مسلمانوں نے جوابی کارروائیاں شروع کیں اور یہ وفد ۱۷ھ میں حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ گویا چھ سال کی مسلسل جنگوں کے بعد جس دوران میں تمام عراق فتح ہو چکا تھا اور قادسیہ جیسے بڑے معرکے ہوچکے تھے۔ حضرت عمرؓ کی خدمت میں ایک بڑے مسلمان فوجی کمانڈر کا یہ کہنا کہ ’’آپ جانتے ہیں کہ ہم نے ایران کا کوئی حصہ اس وقت تک فتح نہیں کیا جب تک شاہِ ایران کی افواج نے حملہ نہیں کیا‘‘ بڑی وضاحت سے بتاتا ہے کہ مسلمانوں کا ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں واحد مقصد اپنا دفاع تھا۔
حضرت عمرؓ کی ایک خواہش بھی بتاتی ہے کہ خلفائے راشدین ملک گیری کے لیے بیتاب نہ تھے،جلولاء کے معرکہ میں اسلامی فوج کو اہلِ ایران کے خلاف ایک عظیم الشان فتح حاصل ہوئی تو سپہ سالار نے حضرت عمرؓ کو اس فتح کی خبر بھیجنے کے ساتھ مزید پیش قدمی کی اجازت مانگی اس پر آپؓ نے سختی سے منع کر دیا اور فرمایا: ’’میری تو خواہش ہے کہ ہمارے اوران کے درمیان کوئی ایسی روک ہو کہ وہ نہ ہماری طرف آسکیں اور نہ ہم ان کی طرف جا سکیں‘‘(طبری جلد ۳صفحہ ۱۱۵)
الغرض ایران سمیت ہر محاذ پر مسلمان اپنے حق دفاع بلکہ حق بقا کے لیے آگے بڑھے، کیونکہ اگر مسلمان معمولی سی بھی غفلت یا دیر کرتے تو دشمن ان کو کچل ڈالنے کو بالکل تیار بیٹھا تھا۔
عرب اور ایرانی و بازنطینی ایمپائرز کی طاقت کا موازنہ اور سرسری اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی جنگوں میں کوئی معرکہ بھی تو ایسا نہیں ہوا جس میں ایرانیوں کی تعدادمسلمانوں سے کئی گنا زیادہ نہ ہو۔ اور مسلمانوں کے اسلحہ کی یہ حالت تھی کہ ایرانی ان کے اسلحہ کو دیکھ کر تمسخر اُڑایا کرتے تھے اور ہنسی سے ان کے تیروں کو تُکّے کہتے۔
بفرض محال اگر مسلمانوں کا ارادہ لُوٹ ما رکا تھا، اگر ابوبکرؓ اور عمرؓ نے معاشی بدحالی کی وجہ سے حملہ کا حکم دیا تھا تو وہ بڑی آسانی سے صرف ایک حکومت پر لوٹ مار کے لیےاپنی آمدن میں اضافہ کر سکتے تھے۔ عراق کی زرخیز زمین پر سرحدی حملے ہی ان کی غذائی ضروریات کو درست کرنے کے لیے کافی ہو سکتے تھے۔ ایرانی اور بازنطینی حکومتیں آپس میں شدید رقابت رکھتی تھیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ بالکل آسان تھا کہ وہ ایک حکومت پر اپنی لُوٹ مار کی غرض سے حملہ کریں اور دوسری حکومت کی پشت پناہی انہیں حاصل ہو بلکہ جہاں ایک حکومت پر لُوٹ مار کے لیے یلغار کریں وہاں دوسری حکومت سے امداد حاصل کر کے فائدہ اٹھائیں۔ ظاہر ہے کہ اگر عرب بیک وقت ان دو بڑی حکومتوں سے ٹکرائے جو علاقائی وسعت کے لحاظ سے، آبادی کے لحاظ سے، فوجوں کی تعداد کے لحاظ سے، اسلحہ کے لحاظ سے، زرخیزی اور آسودہ حالی کے لحاظ سے ان سے سینکڑوں گنا طاقت کی مالک تھیں تو یہ اقدام ان کو بامرِ مجبوری کرنا پڑا اور لاچار ہوکر وہ مدافعانہ کاروائی پر مجبور ہو گئے۔
اہل عرب ان دونوں سلطنتوں کی وسعت اور عظمت سے ہمیشہ مرعوب رہتے تھے اور خصوصاً ایران کی حکومت تو عربوں کی نظر میں ایک نہایت شان و شوکت اور جاہ و جلال کی حکومت تھی جس سے وہ ہمیشہ خائف رہتے تھے اور مسلمانوں کو بھی اس ظاہری طاقت کے عدمِ توازن کا پورا احساس تھا۔ چنانچہ جب حضرت عمرؓ تختِ خلافت پر متمکن ہوئے اور آپ نے ایران کی طرف افواج روانہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو اپنے نام پیش کرنے کی دعوت دی تو کوئی شخص آگے بڑھنے کی جرأت نہ کر سکتا تھا۔ تین دن تک حضرت عمرؓ کے متعدد اور مسلسل جوش انگیز خطبات کے باوجود ایک شخص نے بھی اپنا نام پیش نہ کیا ۔
محض یہ ایک واقعہ ہی اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ مسلمانوں کا ایران پر حملہ قطعاً جارحانہ نہ تھا۔(تفصیل کے لیے دیکھیں: مجلہ الجامعہ ربوہ۔اکتوبر نومبر دسمبر ۱۹۶۵ءمضمون: ایران پر اسلامی حملہ۔ (قسط اول)،مضمون نگار: سید محمود احمد ناصر۔ صفحہ ۶۸ تا ۸۵، جلد ۲ شمارہ نمبر۴۔ مطبع ضیاء الاسلام پریس، ربوہ)
دور خلافت راشدہ کی بعض معروف جنگوں کے حالات اور شیریں ثمرات
معروف کتاب ’’اٹلس فتوحات اسلامیہ‘‘مرتبہ احمد عادل کمال سے دورِ خلافتِ راشدہ کی جنگوں کا خلاصہ دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ خلافتِ راشدہ کے عہد (۱۱ھ تا ۴۰ھ) میں پیش آنے والی بڑی فوجی مہمات دکھاتی ہیں کہ چند ہی دہائیوں میں اسلامی ریاست جزیرۂ عرب سے نکل کر شام، عراق، مصر اور ایران تک پھیل گئی۔ جس میں دور خلافتِ ابوبکرؓ (۱۱-۱۳ھ) میں اولا جنگِ ارتداد تھی ، جس میں رسول کریم ﷺ کے وصال کے بعد عرب کے متعدد قبائل نے بغاوت کی، زکوٰۃ سے انکار کیا یا جھوٹے مدعیانِ نبوت کا ساتھ دیا۔اور اس دوران جو اہم معرکے ہوئے، ان میں سنہ ۶۳۲ء کی یمامہ (مسیلمہ کذاب کے خلاف) اور بزاخہ (طلیحہ اسدی کے خلاف) اور بحرین اور عمان کی مہمات قابل ذکر ہیں۔ جن سے پورا جزیرۂ عرب دوبارہ مرکزی حکومت کے تحت متحد ہوگیا۔اسلامی ریاست داخلی انتشار سے محفوظ ہوگئی اور بیرونی فتوحات کی بنیاد پڑی۔اگر مرتدین کے خلاف جنگ کامیاب نہ ہوتی تو بعد کی تمام فتوحات ناممکن ہوتیں، کیونکہ اسلامی ریاست اندر سے ٹوٹ جاتی۔ اس لیے ان جنگوں کی تاریخی اہمیت شام و عراق کی بعد کی فتوحات سے کم نہیں۔
حضرت عمرؓ کا دور خلافت (۱۳-۲۳ھ) اسلامی عسکری تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔جس میں عراق اور ایران کی فتوحات ہوئیں۔ جب جنگِ قادسیہ (۱۵ھ/۶۳۶ء) کے سالار حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے مقابل پر ساسانی سلطنت کا سپہ سالار رستم آیا اور اپنے زمانہ کی سپر پاور ساسانی طاقت کو شدید دھچکااور ان کا دارالحکومت مدائن اپنے محلات ، قلعوں اور املاک سمیت مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔
پھر جنگِ جلولاء میں قادسیہ کے بعد ایرانی مزاحمت کو مزید شکست ہوئی۔اور جنگِ نہاوند (۲۱ھ/۶۴۲ء) کو تو ’’فتح الفتوح‘‘ کہا جاتا ہے۔کیونکہ اس فتح سے تو ساسانی سلطنت عملاً ختم ہوگئی اور خطہ ایران کے بڑے حصے اسلامی حکومت کے زیرِ اثر آگئے۔
اس زمانے کی دوسری سپر پاور شام کی بات کی جائے تو فتوحات کے تسلسل میں نظر آتا ہے کہ جنگِ یرموک (۱۵ھ/۶۳۶ء) کے مسلمان سالار حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہما کے مقابل پربازنطینی سلطنت کی فوج آئی۔ مگر ہوا یہ کہ شام میں بازنطینی اقتدار تقریباً ختم ہوگیا۔اور دمشق، حمص اور دیگر شہر مستقل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ کئی لحاظ سے جنگ یرموک اسلامی تاریخ کی غیر معمولی طور پر فیصلہ کن جنگوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اگر یرموک میں مسلمانوں کو شکست ہوتی تو شام کی فتوحات رک جاتیں اور اسلامی ریاست دوبارہ عرب تک محدود ہوسکتی تھی۔
حضرت عمرفاروق ؓ کے دورخلافت میں ۶۳۷ء میں بیت المقدس کی فتح جو فتحِ ایلیا بھی کہلاتی ہے، ہوئی جس کے بعد شہر نے براہِ راست حضرت عمر بن الخطاب کے ہاتھ پر صلح کی۔جس سے دنیا میں مذہبی رواداری کی غیر معمولی مثال قائم ہوئی کیونکہ مقامی عیسائی آبادی کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ فتح اور امان فوجی کامیابی سے زیادہ مسلمانوں کی سیاسی اور اخلاقی فتح کی اعلیٰ مثال ہے۔
عرب کی مغربی سمت میں براعظم افریقہ کی طرف اسلامی سلطنت کی وسط کا جائزہ لیں تو حضرت عمر ؓکے دور میں مصر کی فتح ہوئی جب مسلمان سپہ سالار حضرت عمرو بن العاصؓ نے کمال فوجی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرحلہ وار جنگی کارروائی کرتے ہوئے فرما، بابلیون اور اسکندریہ حاصل کیے اور یوں مصر بھی بازنطینی سلطنت سے نکل گیااور مسلمانوں کی بحری قوت کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔الغرض مصر کی فتح نے اسلامی ریاست کو معاشی استحکام دیا، کیونکہ مصر اس وقت بھی دنیا کے اہم زرعی علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔
خلافتِ عثمانؓ (۲۳-۳۵ھ) کے دور کابھی طائرانہ جائزہ لیں تو ایران اور خراسان میں پیش قدمی کرتے ہوئے مسلمان افواج نےخراسان، طبرستان ، آرمینیا اور آذربائیجان تک اپنی موجودگی، فوجی برتری اور زمینی سطوت کا اظہار کیا جبکہ شمالی افریقہ کی مہمات میں موجودہ لیبیا اور تیونس کے علاقوں تک اسلامی نفوذ بڑھا۔
اس غیر معمولی دو رکی بحری جنگوں میں جنگِ ذات الصواری (۳۴ھ/۶۵۵ء) ہوئی۔ جس میں مسلمانوں کے مقابل پر بازنطینی بحری بیڑا تھا۔ اور نتیجہ یہ سامنے آیا کہ مسلمانوں کی پہلی بڑی بحری فتح ملی اور بحیرۂ روم میں بھی اسلامی قوت کی برتری تسلیم کی گئی۔
اگر دیکھا جائے تو دور خلافتِ عثمانی کی سب سے بڑی عسکری کامیابی بحری طاقت کا قیام تھا، جس نے مستقبل میں قبرص، شمالی افریقہ اور اندلس کی فتوحات کی بنیاد رکھی۔
حضرت علیؓ (۳۵-۴۰ھ) کے دور خلافت میں بیرونی فتوحات تقریباً رک گئیں اور داخلی اختلافات نمایاں ہوگئے۔جن میں جنگِ جمل ہوئی جس میں حضرت علی بن ابی طالب کے مقابل پرام المومنین حضرت عائشہؓ کے حامی تھے۔ اور جنگِ صفین میں حضرت علیؓ اور معاویہ بن ابی سفیان کی تلواریں ٹکرائیں۔ جبکہ ایک اور خون ریز جنگ وہ تو جب نہروان میں خوارج کے خلاف کارروائی ہوئی۔ مورخین و مصنفین نے اس دور کو عسکری فتوحات کے بجائے سیاسی بحران کا دور قرار دیا ہے کیونکہ اندرونی اختلافات نے اسلامی دنیا کی توجہ بیرونی توسیع سے ہٹا دی تھی۔
شیریں ثمرات
خلافت راشدہ کی جنگوں کے شیریں ثمرات کا خلاصہ دیکھیں تو سامنے آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد عرب میں ارتداد اور بغاوتیں پیدا ہوئیں اور نہایت کامیابی سے باغیوں اور فسادیوں کا صفایا ہوا۔تب رومی اور ساسانی ہمسایہ سلطنتیں مسلمانوں کے لیے مستقل خطرہ تھیں اور سرحدی علاقوں میں امن قائم کرنا ضروری تھا تا مظلوم اقوام خود کو ان ظالم سلطنتوں سے محفوظ محسوس کریں، مذہبی آزادی کا تحفظ ہو اور زبردستی لوگوں کا مذہب تبدیل کروانا ممکن نہ رہے۔ نومولود اسلامی سلطنت کے معاشی حقوق کی حفاظت اور ضمانت کے لیے تمام تجارتی راستوں کا تحفظ ہوجائے۔ اور سلطنت کے دور و نزدیک تمام علاقوں میں عدل پر مبنی ایسا نظام حکومت قائم ہو جس سے مفتوحہ علاقوں کے حقوق ، تمام معاہدات کی پابندی اور بیت المال کا منصفانہ نظام راہ پکڑ سکے۔
اس جنگی دور کے بعد جو علمی ثمرات سامنے آئے ان میں علم کی اشاعت کے راستے کھلتے چلے گئے۔ مختلف تہذیبوں کا ملاپ ہوا۔ معروف رسالہ ’’نیشنل جیوگرافک‘‘ کی ویب سائٹ پر ۵؍جون ۲۰۲۶ء کو شائع ہونے والے Sergi Grau Torras کےتحقیقی مقالہ کے مطابق آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل اسلامی دنیا نے ایک عظیم علمی و سائنسی دور دیکھا جسے اسلام کا سنہری دور کہا جاتا ہے، اور اس کی بنیاد اسی دور خلافت راشدہ میں پڑی تھی۔
گو یہ دور آٹھویں صدی میں خلافتِ عباسیہ کے عہد میں بغداد سے شروع ہوا اور تیرہویں صدی میں منگول حملوں تک جاری رہا۔ اس زمانے میں عباسی خلفاء نے ایک وسیع ترجمہ تحریک کا آغاز کیا، جس کے ذریعے یونانی، فارسی، ہندی، مصری اور بابلی علوم کو عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔ بغداد کا بیت الحکمہ دنیا کا ممتاز علمی مرکز بن گیا، جہاں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے علماء نے مل کر تحقیق و تدریس کی۔اس علمی ماحول نے ریاضی، فلکیات، طب، بصریات، جغرافیہ اور دیگر علوم میں غیر معمولی ترقی کو جنم دیا۔ مسلمان علماء نے صرف قدیم علوم کی حفاظت ہی نہیں کی بلکہ ان میں نئے اضافے بھی کیے۔ مثلاً الجبرا کی ترقی، اعشاری نظام اور صفر کے استعمال کو فروغ ملا، جبکہ طب اور فلکیات میں بھی نمایاں ایجادات ہوئیں۔ بعد ازاں انہی عربی علمی ذخائر کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا، جس نے یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور جدید سائنس کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ ۱۲۵۸ء میں منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور بیت الحکمہ کی بربادی کے ساتھ اس سنہری دور کا اختتام ہوا، تاہم اس دور کی علمی میراث آج بھی جدید سائنس، ریاضی اور طب کی تاریخ میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ صہبا لکھنوی نے کیا خوب لکھا ہےکہ
کارواں کے چلنے سے کارواں کے رکنے تک
منزلیں نہیں یارو راستے بدلتے ہیں
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: یہود کو دوبارہ فلسطین میں آباد کرنے کا نظریہ پہلے کس نے پیش کیا تھا؟



