متفرق مضامین

اسلام۔ حقوقِ انسانی کا علمبردار

(ابو سدید)

آنحضرت ﷺ نےانسان کی جان، مال، عزّت، آزادی، مساوات، انصاف اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے جامع اصول عطا فرمائے

حالاتِ جنگ میں اسلام نے بنیادی حقوق کی پاسداری اورحُسنِ سلوک کو یقینی بنایا ۔اسلام کا بین الاقوامی چارٹر اور آفاقی پیغام پُرامن، منصفانہ اور فلاحی معاشرے کی ضمانت ہے

دنیا کے مذاہب پر نظر ڈالی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو اُن سب پر وہ فضیلت اور اعلیٰ امتیاز حاصل ہے، جواسلام انسانیت اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے درمیان مساوات قائم کرتاہے اوراُن کے بنیادی حقوق کا علمبردار ہے نیز سب انسانوں کو یکساں قرار دیتا ہے۔ مذہب، زبان، رنگت، قوم،ذات اور ملکی حدود کی وجہ سے اُن میں کسی امتیاز کو روا نہیں رکھتا۔ سب کو برابر کی سطح پر صرف اللہ کا بندہ اور انسان قرار دیتا ہے۔ سب کے حقوق برابر ٹھہراتا ہے اور ہر ایک کی عزّت، مال اور جان کی حفاظت کا یقین دلاتا ہے۔ اسلام کسی مذہب کے خلاف یا فرقہ پرستی کا حامی نہیں ہے بلکہ وہ سب انسانوں کو ماں باپ سے پیدا ہونے والے باہم بھائی بھائی قرار دیتا ہے۔ گورے، کالےیا امیر، غریب کی اسلام میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ اسی انسانی مساوات کا نتیجہ ہے کہ ہر بچے کو پیدائشی طور پر پاک اور فطرت پر قائم ٹھہراتا ہے۔ یعنی اسلامی نکتہ نگاہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ بے عیب اور بے گناہ ہوتا ہے۔ بعد میں اُس کے والدین اُس کو جو بھی بنا دیں۔ اسلام یہ تسلیم نہیں کرتا کہ تناسخ یا کفارہ کے چکر میں پیدا ہونے والا انسان گناہ گار سمجھا جائے یا حضرت آدم ؑ کے فرضی گناہ کے نتیجے میں تمام آدم زادوں کو پیدائش کے معاً بعد ہی گناہگار ٹھہرایا جائے۔ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا ہے کہکُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ۔کہ ہر بچہ نیک فطرت لے کر آتا ہے، وہ پاک ہوتا ہے۔ پھر ماں باپ اُسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بناتے ہیں۔ ( صحیح بخاری۔ کتاب الجنائز، باب اذا اسلم، حدیث نمبر ۱۳۸۵۔ صحیح مسلم، کتاب القدر حدیث نمبر ۲۶۵۸)

انسانوں میں عدم ِ مساوات کی یہ کتنی خراب صورت ہے کہ یہاں تک حکم دیا جاتا ہے کہ تُو اجنبی کو سُودی قرض دے سکتا ہے، پر اپنے بھائی کو سُو دی قرض مت دیجیو۔ (استثناء باب ۲۳۔ آیت ۲۰)اِس کے مقابل پر اسلام کی سود کے بارے میں کتنی خوبصور ت اور حکمت پر مبنی تعلیم ہے کہ وہ سود کو حرام ٹھہراتا ہے اور ہر انسان سے سود لینا یا دینا ناجائز قرار دیتا ہے تاکہ معاشرے میں لڑائی جھگڑے اور بد امنی کا ماحول پیدا نہ ہو اور سب ایک دوسرے سے ہمدردی اورسب کے حقوق کا خیال رکھیں۔ اسلام نے مسلمانوں میں بے مثال اخوت قائم فرمائی ہے۔ نماز میں سب مسلمان چھوٹے بڑے امیر غریب یکساں رکوع و سجود کرتے ہیں۔ دُور کھڑا دیکھنے والا افسر اور ماتحت میں کوئی فرق نہیں کرسکتا گویا ؎

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

اسلام میں رواداری کی مثال یوں بھی دی جاسکتی ہے کہ حج کے موقع پر مشرقی و مغربی، گورے اور کالے سب مسلمان کس طرح دو چادروں میں لپٹے ہوئے یکساں طور پر بیت اللہ کا طواف کرتے نظر آتے ہیں۔ گویا ہر طرف مساوات بکھری ہوئی ہے۔ نظام قضاء کے سامنے ہر شخص برابر ہے۔ مختلف طبقوں کے افراد میں کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہوتا۔ بادشاہ ہو یا گدا، امیر ہو یا غریب، خاص ہو یا عام آدمی، سب اسلامی عدل و انصاف کے آگے یکساں اور برابر ہیں زندگی میں بھی اعزاز و اکرام کا معیار تقویٰ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ۔ (الحجرات : ۱۴) یعنی اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ مرنے کے بعد بھی صفت تقویٰ بنیاد بنتی ہے، رنگتوں، قبیلوں اور خاندانوں کا کوئی فرق نہیں، بلکہ مرد و عورت کا بھی کوئی اثر نہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ یُرۡزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ۔ (المومن:۴۱) ترجمہ: اور جو کوئی ایمان کے مطابق عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ ایمان میں سچا ہو، وہ اور اُس کے ہم مشرب لوگ جنت میں داخل ہوں گےاور اُن کو اس میں بغیر حساب کے انعام دیا جائے گا۔

گویا پیدائش سے لے کر جنت میں داخل ہونے تک ہر جگہ انسانی حقوق کا حصول اور مساوات کا نظریہ کار فرما ہے اور ہر جگہ امن اور انسانیت کا احترام موجود ہے۔

اسلام دنیا کے اُن چند مذاہب میں سے ہے جنہوں نے انسانی حقوق کا ایک جامع، متوازن اور عملی تصوّر پیش کیا۔ اسلام نے چودہ سو سال قبل ایسے اصول عطا کیے جو آج بھی انسانی حقوق کے عالمی منشور کی بنیادوں سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ اسلام میں انسان کو محض ایک فرد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیق قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: وَلَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ۔اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو (بہت) شرف بخشا ہے۔(سورۃ بنی اسرائیل : ۷۱)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام ہر انسان کی عزت، وقار اور بنیادی حقوق کو تسلیم کرتا ہے، خواہ اُس کا تعلق کسی بھی نسل، قوم، زبان یا مذہب سے ہو۔اسلام نے سب سے پہلے انسانی مساوات کا اعلان کیا۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق تمام انسان ایک ہی ماں باپ، حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی اولاد ہیں، اِس لیے کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر یا کسی امیر کو غریب پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ اور نیکی کے۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں اِس اصول کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ “اے لوگو! تمہارا ربّ ایک ہے، اور تمہارا باپ (آدم ؑ) ایک ہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت ہے، سوائے تقویٰ کے۔” (مسند احمد بن حنبل۔ حدیث نمبر ۲۳۴۸۹)

یہ تعلیم اِس بات کو واضح کرتی ہے کہ نسل، رنگ، زبان،قوم یا معاشرتی حیثیت کی بنیاد پر انسانوں میں برتری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل معیار تقویٰ اور نیک کردار ہے۔

اسلام نے جان، مال اور عزت کے تحفظ کو بنیادی انسانی حق قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں(المائدہ : ۳۳) ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح چوری، ظلم، دھوکہ دہی اور کسی کی عزت کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسلام نے افراد کو امن و امان کی فضا میں زندگی گزارنے کا حق دیا اور معاشرے کو اِس بات کا پابند بنایا کہ وہ کمزور اور مظلوم افراد کی حفاظت کرے۔

اسلام عورتوں کے حقوق کا بھی علمبردار ہے۔ اسلام نے عورت کو وراثت، تعلیم، نکاح، جائیداد کی ملکیت اور معاشرتی احترام کے حقوق عطا کیے، جب کہ اُس دور میں دنیا کے بہت سے معاشروں میں عورت بنیادی حقوق سے محرومی اور ناانصافی کا شکار تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی تلقین فرمائی اور اُنہیں معاشرے کا قابلِ احترام اور باوقار رکن قرار دیا نیز اُن کی فلاح و بہبود اور عزت و وقار کو ملحوظ رکھتے ہو ئے حقوق مرتب کیے گئے۔

اسلام مذہبی آزادی کا بھی داعی ہے۔ قرآن کریم کا واضح ارشاد ہے: لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ۔ (البقرہ: ۲۵۷) یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر(جائز) نہیں۔

اس تعلیم کے تحت غیر مسلموں کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے، عبادت کرنے اور اپنے مذہبی معاملات سرانجام دینے کا حق حاصل ہے۔ اسلامی تاریخ میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ رواداری اور انصاف کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔

معاشی حقوق کے حوالے سے اسلام نے محنت کی کمائی کو محترم قرار دیا اور غربت کے خاتمے کے لیے زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا نظام قائم کیا۔ اسلام مزدور کو اُس کی مزدوری بروقت ادا کرنے، یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور معاشی استحصال سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اِس طرح اسلام ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جہاں ہر فرد کو بنیادی ضروریات اور معاشی انصاف میسر ہو۔

اسلام انصاف کو انسانی حقوق کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ۔(النساء: ۱۳۶) یعنی تم پوری طرح انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں اور کسی کو اِس کے عہدے، دولت یا خاندانی حیثیت کی بنیاد پر خصوصی رعایت حاصل نہیں ہونی چاہیے۔

مختصراً، اسلام انسانی حقوق کا حقیقی علمبردار ہے۔ اِس نے انسان کی جان، مال، عزت، آزادی، مساوات، انصاف اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے جامع اصول مرتب کیے۔ اگر اسلامی تعلیمات پر صحیح معنوں میں عمل کیا جائے تو ایک ایسا پُرامن، منصفانہ اور فلاحی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جہاں ہر انسان عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ یہی اسلام کا آفاقی پیغام اور انسانی حقوق کے میدان میں اس کا عظیم ترین کردار ہے۔

ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے میں مسلمان ہو یا غیر مسلم سب انسانوں کے بنیادی انسانی حقوق مقرر فرمائے۔ اِن کو اپنی پاک زندگی میں قائم فرمایا اور اسلام کا انسانی حقوق کا بین الاقوامی چارٹر مسلمانوں اور غیروں کو عطا فرمایا۔ جس کی وجہ سے زمانہ جاہلیت کے ظالمانہ قوانین اور جاہلانہ اصول دم توڑ کر رہ گئے۔ اسی طرح امن کا زمانہ ہویا جنگ کے دن ہوں، ہر موقع کے مناسب حال حقوق انسانی، مساوات اور عدل کا قیام ہمارے آقا ﷺ کا ہی سنہرا کارنامہ ہے۔ اِس جگہ ہم جنگ او رغزوات کے حوالے سے بھی قائم کیے جانے والے انسانی حقو ق پر ایک عمیق نظر ڈالتے ہیں۔

جنگ سے متعلق اسلام کا نکتہ نظر اور حقوق انسانی پر عمل

جنگوں میں زمانۂ جاہلیت کے قتل و غارت اور ظلم و بربریّت کے حالات میں اسلام کا ظہور ہوا، مسلمانوں نےاللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جب اپنے دفاع میں لڑی جانے والی جنگوں میں حصہ لینا شروع کیا تو آنحضرت ﷺ نے حُسن اخلاق، الٰہی بصیرت اور جنگی حکمتِ عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے دورِ جاہلیت کی جنگ کی حقیقت اور مکروہ شکل کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔ اسلام امن، عدل اور انسانی احترام کا مذہب ہے۔ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف امن کے زمانے میں، بلکہ جنگ کے انتہائی نازک حالات میں بھی انسانی حقوق کے ایسے سنہری اصول قائم فرمائے جو آج کے بین الاقوامی قوانین اور حقوقِ انسانی کے عالمی منشور اور چارٹر سے صدیوں پہلے دنیا کے سامنے آچکے تھے۔ آپﷺ نے جنگ کو ظلم، انتقام اور تباہی کا ذریعہ بنانے کی بجائے اسے ناگزیر دفاعی ضرورت کے دائرے میں محدود رکھا اور دشمنوں کے بنیادی اور ضروری حقوق تک کا خیال رکھنے کی مسلمانوں کو تعلیم دی۔ ہر کس و ناقص اور امیر و غریب کےبنیادی حقوق انسانی کا خیال رکھنا، عورتوں، بزرگوں، بچوں اور زخمیوں پر رحم کھانا اور اُن کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے جیسے اصول مرتب ہوئے۔

رسول کریم ﷺ نے یہاں تک تفصیلی ہدایات فرمائیں کہ سفر جہاد پر جاتے ہوئے راستے میں کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ حضرت جابرؓ  کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر رات کو تم پر کوئی شب خون مارے تو اذان کہہ کر اپنے اسلام کا اعلان کرو اور راستے کے درمیان نماز نہ پڑھو اور نہ ہی اُس پر پڑاؤ کرو۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحہ ۳۰۵)

عبدالرحمٰن بن عائذ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عام طور پر لوگوں سے نرمی اور محبت کا سلوک کرو اور اُس وقت تک اُن پر حملہ نہ کرو جب تک تم اُن کو صلح کی دعوت نہ دے دو۔ پھر فرمایا : اگر تم اہلِ زمین کو مطیع کرکے اور مسلمان بنا کر میرے پاس لے آؤ تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ اُن کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بناؤ اور مردوں کو قتل کرو۔ (کنز العمال جلد ۴ صفحہ ۴۶۹)

یہ بھی یاد رہے کہ رسول کریم ﷺ صحابہؓ کو صبح و شام جنگ میں سورۃ المومنون کی آیت ۱۱۶ پڑھنے کا ارشاد فرماتے تھے جس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّاَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ۔کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے؟ اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤگے؟ اس آیت کی تلاوت کرتے رہنے کے حکم کی حکمت یہی تھی کہ اُن اصحابؓ پر خوف ِ خدا طاری رہے اور کسی پر زیادتی کا ارتکاب نہ کریں۔ وہ اپنے اصل مقصدیعنی عبودیت و رضا ئے الٰہی پر نظر رکھیں۔ آنحضرت ﷺ کی طرف سے یہ پُر حکمت تلقین نے آنے والے دنوں میں بلا شبہ حقوق انسانی کو نافذ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ آنحضور ﷺ نے یہ بھی حکم فرمایا کہ : دشمن پر را ت کو سوتے ہوئے حملہ نہ کرنا اور شب خون نہ مارنا۔(صحیح بخاری۔ کتاب المغازی )

حضرت رسول کریمﷺ کے بیان فرمودہ آداب جنگ اور حقوق انسانی کے اصول پر عمل کرنے کی تعمیل حضورؐ کے زمانے میں نہایت پابندی سے کی گئی اور آپؐ کے بعد بھی خلفائے راشدین نے اِس ضابطہ اخلاق کا بے حد خیال رکھا، بلکہ اس پاکیزہ تعلیم کی روح مدِّ نظر رکھتے ہوئے حسبِ حال مزید ہدایات جاری فرمائیں، جو آج بھی اسلامی ضابطہ جنگ کا حصہ ہیں، کیونکہ مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خلفائے راشدین کی پیروی کا بھی حکم ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ ہدایات دیں کہ جن غیر مسلم لوگوں نے اپنی خدمات کسی بھی مذہب کے لیے وقف کی ہوں، اُن سے میدانِ جنگ میں تعرض نہ کیا جائے۔ اُن کے مذہب کی مقدس چیزوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ کوئی پھل دار درخت نہ کاٹا جائے، نہ ہی کسی آبادی کو ویران کیا جائے اور کسی جانور کو ذبح بھی نہ کریں سوائے اِس کے جسے کھانا مقصود ہو۔ اسی طرح کسی کو آگ سے نہ جلایا جائے۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الجہاد، باب النھی عن قتل النساء و الولدان فی الغزوہ)

اسلام کی رُو سے نظریہ جنگ یہ تھا کہ جنگ و جدال کوئی پسندیدہ بات نہیں۔ اِس سے انسان کو پرہیز کرنا چاہیے لیکن جب ظلم و تشدد پھیل جائے فتنہ و فساد ہر سُو نظر آئے اور سرکش لوگ عوام الناس کے امن و امان اور دین و مذہب کو خطرےمیں ڈال دیں تو اُس وقت دفع شر کے لیے جنگ ضروری ہے۔اِس نظریہ سے چونکہ جنگ کا اصلی مقصد حریف مقابل کو ہلاک کرنا اور نقصان پہنچانا نہیں بلکہ محض اُس کے شر کو دفع اور دُورکرنا ہے، اِس لیے اسلام یہ اصول پیش کرتا ہے کہ جنگ میں صرف اتنی قوت استعمال کی جائے جو دفع شر کے لیے ضروری ہو۔ یہ بھی انسانی حقوق میں داخل کیا گیا ہے کہ اسلامی نکتہ نگاہ سے جنگ کے دوران اپنی قوت کا استعمال صرف اُنہی کے خلاف کیا جائے جو عملاً بر سرِ پیکار ہوں، باقی تمام انسانی طبقات کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنا اُن کے حقوق میں شامل ہے۔ انسانی جان کے احترام کا اصول اور اُس کے حق کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔چنانچہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جنگ کے دوران بےگناہ افراد کے قتل کو سختی سے منع فرمایا۔ آپ ﷺ جب کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو ہدایت دیتے کہ کسی بوڑھے، بچے اور عورت کو قتل نہ کرنا۔(سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، حدیث ۲۶۱۴) ایک موقع پر جنگ کے میدان میں کسی عورت کی لاش دیکھی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا: ’’یہ عورت لڑنے والوں میں سے نہ تھی۔‘‘(صحیح بخاری، کتاب الجہاد، حدیث ۳۰۱۵۔ صحیح مسلم، حدیث ۱۷۴۴) اس ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے غیر جنگجو افراد کی جان و مال کے تحفظ کو بنیادی انسانی حق قرار دیا۔

چنانچہ قارئین یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ جنگ کا یہ تصوّر اُن تمام تصوّرات سے بالا تر اور علیحدہ ہے جو قبل از اسلام لوگوں کے دماغوں میں موجود تھے۔اسلام نے جنگوں میں مختلف انسانی طبقات کے بنیادی حقو ق قائم کیے اور جنگ کے تمام وحشیانہ طریقوں کو مٹا کر نئے اعلیٰ اخلاق پر مبنی اصولِ جنگ رائج کیے۔ آنحضرت ﷺ نے جس طرح جنگ کے مقصد کو بدلا اُسی طرح آہستہ آہستہ اُن تمام وحشیانہ حرکات کو بھی روک دیا جو جاہلیت کی لڑائیوں میں کی جاتی تھیں۔

رسول اللہﷺ نے جنگ کے دوران بلاوجہ تباہی پھیلانے سے منع فرمایا۔ آپﷺ نے درخت کاٹنے، کھیتیوں کو جلانے اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے روکا۔جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے رسول اللہﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں فوجوں کو ہدایت دی: ’’پھل دار درخت نہ کاٹنا، کھیتیاں نہ جلانا، بکری، گائے یا اونٹ کو ذبح نہ کرنا، مگر کھانے کی ضرورت کے لیے۔‘‘ (تاریخ الطبری، جلد ۳)

یہ تعلیمات ماحولیات کے تحفظ اور معاشی حقوق کے احترام کی بہترین مثال ہیں۔ اسلام نے جنگ کے دوران بھی مذہبی آزادی کو برقرار رکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے راہبوں، اُن کی عبادت گاہوں اور مذہبی شخصیات کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا۔آپ ﷺ نے فرمایا: ’’خانقاہوں میں عبادت کرنے والوں کو اُن کی عبادت کے لیے چھوڑ دو۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل، جلد ۱) اس سے واضح ہے کہ اسلام دشمن قوم کے مذہبی حقوق کا بھی احترام کرتا ہے۔

اسلامی آدابِ جنگ اور حقوق انسانی

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے متعدد اسلامی آدابِ جنگ بیان فرمائے ہیں، اِن میں سےوہ چند آداب اور اصولِ جنگ خلاصۃً یہاں بیان کیے جاتے ہیں جن کا تعلق حقوق انسانی سے ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں:

٭… جب آنحضرت ﷺ کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تو اُنہیں چلتے ہوئے یہ نصیحت فرماتے تھے کہ جب تم دشمن کے سامنے ہوتو اُسے تین باتوں کی طرف دعوت دو، اور اگر اِن باتوں میں سے وہ کوئی ایک بات بھی مان لے تو اُ سے قبول کرلو اور لڑائی سے رُک جاؤ۔ سب سے پہلے اُسے اسلام کی دعوت دو اگر وہ لوگ مسلمان ہونا پسند کرلیں تو پھر اُنہیں ہجرت کرنے کی تحریک کرو۔ اگر وہ ہجرت کرنا قبول نہ کریں، تو اُن سے کہو اچھا تم مسلمان رہو اور اپنے گھروں میں ٹھہرو لیکن اگر وہ مسلمان ہونا ہی پسند نہ کریں تو پھر اُن سے کہوں اپنے مذہب پر رہو لیکن مسلمانوں کی عداوت اور اُن سے جنگ کرنا چھوڑ دو اور اسلامی حکومت کے ماتحت آجاؤاور اگر وہ لوگ یہ بھی نہ مانیں تو پھر اِس کے بعد تمہیں لڑنے کی اجازت ہے۔ (صحیح مسلم، سنن ابوداؤد)

٭… جب آپ ﷺ کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تو اُسے نصیحت فرماتے کہ نکلو اللہ کا نام لے کر اور جہاد کرو حفاظتِ دین کی نیت سے مگر خبردار مالِ غنیمت میں بددیانتی نہ کرنا اور نہ کسی قوم سے دھوکا کرنا۔ اور نہ دشمنوں کے مقتولوں کا مثلہ کرنا۔ اور نہ بچوں اور عورتوں اور مذہبی عبادت گاہوں کے لوگوں کو قتل کرنا۔ اور نہ بہت بوڑھوں کو قتل کرنا، اور ملک میں اصلاح کرنا۔ اور لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

حضرت صاحبزادہ صاحبؓ مزید فرماتے ہیں:یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عرب میں دستور تھا کہ بعض اوقات لڑائی میں دشمن کے بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کردیا کرتے تھے۔ بعض اوقات نہایت بے رحمی کے ساتھ دشمن کے مقتولوں کے ہاتھ پاؤں اور ناک کان وغیرہ کاٹ ڈالتے تھے اور دشمن کے اموال اور ان کی آبادی کو تباہ و برباد کردیتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے اِن سب باتوں سے روک دیا۔ مذہب اور مذہبی چیزوں کی حفاظت کے طریق میں بھی اسلام نے ایک نمایاں امتیاز پیدا کیا۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آپؐ جب کسی جماعت کو روانہ فرماتے تھے تو اُسے نصیحت فرماتے تھے کہ لوگوں کو خوشخبریاں دو یعنی اُن کو خوش رکھنے کی کوشش کرو اور ایسا طریق اختیار نہ کرو جس سے اُن کے دلوں میں نفرت پیدا ہو، اُن کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور اُنہیں مشکل میں نہ ڈالو۔ جنگوں میں آپؐ دشمن کو خبردار کیے بغیر جنگ کرنے یا شب خون مارنے کے خلاف تھے۔ بلکہ لڑائی کے لیے صبح کا وقت پسند فرماتے تھے۔ (ملخص از: سیرت خاتم النبیینؐ  صفحہ ۳۱۷۔۳۱۸)

جنگوں میں دیگر حقوق انسانی کا خیال رکھنے کے حوالے سے آپؓ فرماتے ہیں:آنحضرت ﷺ کی طرف سے صحابہؓ کو حکم تھا کہ لڑائی میں کسی کے منہ پر ضرب نہ لگائیں۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ ضرب لگانے میں سب لوگوں سے زیادہ نرم مسلمان کو ہونا چاہیے۔

مسلمانوں کو لوٹ مار اور غارت گری سے نہایت سختی سے روکا جاتا تھا۔ عہدو پیمان اور وعدوں کو پورا کرنے کی سختی سے تاکید کی جاتی تھی۔ آنحضرت ﷺ کا یہ طریق تھا کہ حتی الوسع دشمن کے مقتولوں کو بھی اپنے انتظام میں دفن کروادیتے تھے۔ دشمن کے قاصد کو روک لینے یا کسی قسم کا نقصان پہنچانے یا قتل کرنے سے آنحضرت ﷺ سختی سے منع فرماتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ کچھ لوگ کفار کے قاصد ہو کر آئے اور انہوں نے آپؐ کے سامنے گستاخانہ طریق سے باتیں کیں۔ آپؐ نے فرمایا تم قاصد ہو اِس لیے میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ایک اور موقع پر ایک قاصد آیا اور آپؐ سے مل کر مسلمان ہوگیا، پھر اُس نے آپؐ سے عرض کیا کہ میں اب واپس جانا نہیں چاہتا۔ آپؐ نے فرمایا میں بد عہدی کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔ تم قاصد ہو تمہیں بہر حال واپس جانا چاہیے ہاں اگر پھر آنا چاہو تو آجانا۔ چنانچہ وہ گیا اور کچھ عرصہ بعد موقع پاکر پھر واپس آگیا۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد)

الغرض حضرت رسول کریم ﷺ کو دشمن کے حملے سے مجبور ہوکر اپنا دفاع کرنے کے لیے جب تلوار اُٹھانا پڑی تو جنگ کی حالت میں جہاں دنیا سب کچھ جائز سمجھتی ہے۔ آپؐ نے پہلی دفعہ دنیاکو جنگ کے آداب سے روشناس کرایا۔ اِس ضابطہ اخلاق کے ساتھ جب آپؐ جنگ کے لیے نکلتے تو پھر آپؐ کا تمام تر بھروسہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ہوتا تھا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوہ کے لیے نکلتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اَنتَ عَضُدِی وَ اَنتَ نَصِیرِی وَ بِکَ اُقَاتِلُ۔ (جامع ترمذی، حدیث نمبر ۳۵۸۴) (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر ۲۶۳۲)اے اللہ! تُو ہی میرا سہار ا، تُو ہی میرا مددگار ہے، اور تیرے بھروسے پر ہی میں لڑتا ہوں۔

مندرجہ بالا تعلیمات کی روشنی میں ہم نے تفصیل کے ساتھ معلوم کرلیا ہے کہ جنگوں کے درمیان اور ان سے متعلق امور میں اسلام حقوق انسانی کی کیسے تعلیم دیتا اور اُن کی ترویج کرتا ہے ؟ اسلام سے پہلے عرب کے علاقوں میں رہنے والے قبائل میں جنگوں کا کیا تصوّر تھا یہ جاننا ضروری ہے اوریہ بھی کہ وہ کون سے قبیح اور ظلم و بربریت پر مبنی قوانین اپنائے ہوئے تھے، آیئے دیکھتے ہیں۔

اسلام سے پہلےجنگوں میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں

اسلام سے پہلے عرب میں جنگ کا تصوّر ایک ایسی چیز کا نام تھا جس میں لوٹ مار ہو،جنگوں میں غضب و اشتعال، ظلم و ستم، وحشت و بربریت ہوتی تھی۔ جس کے خلاف جنگ لڑی جاتی اس کو پیس کر رکھ دیا جاتا اور کُلیّ طور پر تباہ و برباد کردیا جاتا۔ جس طرح جنگ کے متعلق عرب جاہلیت کا تصور نہایت ادنیٰ تھا اور جس طرح اُن کے مقاصدِجنگ ذلیل اور وحشیانہ تھے اُسی طرح وہ طریقے بھی جو وہ جنگ میں استعمال کرتے تھے، انتہائی وحشیانہ تھے۔ حریف قوم کے ہر فرد کو دشمن سمجھا جاتا اور جنگ کا دائرہ تمام طبقوں پر یکساں محیط ہوتا۔ عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار اور زخمی الغرض کوئی بھی دست درازی سے مستثنیٰ نہ ہوتا تھا۔ بلکہ دشمن قوم کو ذلیل و خوار کرنے کی خاطر اُس کی عورتیں خصوصیت کے ساتھ جنگی کارروائیوں میں تختہ مشق بنائی جاتیں۔مفتوح قوم کی عورتوں کو بے حرمت کرنا، اُن کی تحقیر و تذلیل کرنا فاتح لوگوں کے امتیازات میں شامل تھا اور شعراء اس کو قصیدوں میں تکبر سے بیان کرتے۔

اسلام سے پہلے حقوقِ انسانی کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے، دشمن کو ایذاء دینے اور ضرر پہنچانے کا حق غیر محدود تھا، یہاں تک کہ آگ میں زندہ جلا دینے میں بھی تامل نہ کیا جاتا۔ تاریخ عرب کا مشہور واقعہ ہے کہ یمن کےیہودی بادشاہ ذونواس نے نجران کے بعض عیسائیوں کو آگ کے گڑھوں میں ڈال کر قتل کرایا تھا۔ یہ واقعہ تاریخ میں اصحاب اُخدود کے نام سے مشہور ہے۔ ذو نواس جو چھٹی عیسوی میں یمن کے بادشاہوں میں سے تھا، نے نجران کے عیسائی باشندوں کو اپنے مذہب سے پھرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ جب اُنہوں نے انکار کیا تو اُس نے خندقیں کھدوائیں، اُن میں آگ بھڑکائی اور بہت سے لوگوں کو زندہ جلا دیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن مجید میں اِس طرح آتا ہے: قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِ۔ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۔ اِذْ ھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ۔ (البروج:۵تا۷) ترجمہ: خندقوں والے ہلاک ہوگئے۔ یعنی (خندقوں میں)آگ(بھڑکانے والے )جس میں خوب ایندھن (جھونکا گیا) تھا۔ جب وہ اُس آگ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ (صحیح مسلم۔ حدیث نمبر ۳۰۰۵کے علاوہ تفسیر ابن کثیر میں سورۃ البروج کی تفسیر کے تحت ذونواس اور اہل نجران کا واقعہ تفصیل سے نقل کیا گیا ہے۔اسی طرح تاریخ طبری اور سیرت ابن ہشام میں بھی اس واقعہ کی روایات مذکور ہیں۔ )

اُس زمانے میں اسیرانِ جنگ سے بدسلوکی اور ایذاء رسانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی تھی۔

اسلام سے پہلے دشمن کو مقابلے کا موقع دیے بغیر غفلت کی حالت میں اچانک حملہ کرنا پسندیدہ ترین جنگی چالوں میں شمار ہوتا تھا، اس غرض کے لیے عموماً رات کے آخر ی حصے میں حملے کیے جاتے تھے۔ جوشِ انتقام میں دشمنوں کی لاشوں تک کو نہ چھوڑا جاتا تھا۔ اُن کی ناک اور کان کاٹ دیتے اور اعضاء کی قطع و برید کرکے زندوں کا انتقام مردوں سے لیا جاتا۔

چنانچہ حضرت حمزہؓ جب شہید ہوئے تو ہندہ نے آپؓ کا کلیجہ نکال کر چبا یا اور دیگر اعضاء کاٹ کر ہار بنایا۔ جب کسی شخص سے سخت دشمنی ہوتی تو قسم کھا لیتے تھے کہ اس کو قتل کرکے اس کی کھوپڑی میں شراب پئیں گے، جنگ اُحد میں حضرت عاصم بن ثابتؓ کے ہاتھ سے سلافہ کے دو بیٹے قتل ہوگئے۔ سلافہ نے قسم کھائی کہ وہ عاصمؓ کی کھوپڑی میں شراب پئے گی۔ چنانچہ جب مقام رجیع میں صحابی رسولؐ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کو شہید کیے جانے کے بعد بعض مشرکین نے اُن کے جسم کو حاصل کرنے کی کوشش کی، کیونکہ سلافہ بنت سعد نے نذر مانی تھی کہ اگر اس کو ان کا سر مل جائےان کی کھوپڑی میں شراب پئے گی۔ اِس لیے کفار نے تلاش کی، تاکہ ان کا سر کاٹ کرسلافہ کے پاس بیچ دیں۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصمؓ کے جسم کی حفاظت کے لیے بھڑوں یا شہد کی مکھیوں کا ایک غول بھیج دیا، جس نے ان مشرکین کو ان کے جسم کے قریب نہ آنے دیا۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر ۴۰۸۶۔ ۳۹۸۹)۔(السیرۃ النبویہؐ لابن ہشام)

عرب جاہلیت میں وفائے عہد کا بھی کوئی پاس اور لحاظ نہ تھا۔ جب کہ کوئی اچھا موقع دشمن سے انتقام لینے کا مل جاتا تو تمام عہدو پیمان توڑ کر رکھ دیتے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانےکی بات ہے کہ غزوہ اُحد کے بعد ایک قبیلے کے چند لوگ آنحضرت ﷺ کے حضور آئے اور کہا کہ تعلیم دین کے لیے چند معلم ہمارے ساتھ بھیج دیں چنانچہ حضور ﷺ نے ۷۰؍مشہور قاری ان کے ساتھ بھیج دیے جن کو لے جاکر ان ظالموں نے شہید کردیا۔ (صحیح بخاری)

وعدے کی پاسدار اور ایفائے عہد نام کی باتوں سے وہ لوگ نابلد تھے اس کی اہمیت کو یکسر نہ جانتے تھے، اس لیے قبیح اور ظالمانہ اقدام کے مرتکب ہوئے۔ ہمارے پیارے آقاﷺ نے ایسی جاہلیت اور بیوقوفانہ باتوں کو ختم کیا اور عہد نبھانے کی اہمیت و افادیت کو قائم فرمایا۔ آیئے اب ہم قیدیوں کے ساتھ اسلام نے جو حسن سلوک کیا اور ان کے حقوق دیے جانے کے قوانین و اصول عرب کے باسیوں کے سامنے رکھے اور بے مثال نمونے قائم کرکے دکھائے، وہ پڑھتے ہیں۔

اسلام کا قیدیوں سے حُسن سلوک اور حقوق انسانی کا خیال

مختلف ملکوں کے اسیرانِ جنگ کے متعلق قوانین و قواعد بہت حد تک اچھے ہوتے ہیں۔ اور قیدیوں کے لیے سہولتوں اور آسائشو ں کے حامل بھی۔ لیکن اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جو حکومت بھی دشمن کے پکڑے ہوئے قیدیوں سے حسنِ سلوک کرتی ہے وہ اِس لیے کرتی ہے کہ دشمن اُس کے پکڑے ہوئے قیدیوں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرے گا اور یہ سب کچھ اُن معاہدوں کی رُو سے ہوتاہے جو ان ملکوں نے بنا رکھے ہوتے ہیں۔ پھر اس امر کو بھی مدِّ نظر رکھنا چاہیے کہ یہ سلوک صرف اُن قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جو جنگ میں گرفتار ہوتے ہیں۔ زمانہ جنگ سے قبل انہوں نے یا ان کے ملک نے دوسرے ملک کی قوم یا افراد کے ساتھ کوئی خاص برا سلوک نہیں کیا ہوتا۔ جنگ کرنے اور جنگ میں دشمن کو نیچا دکھانے کی کوشش کے علاوہ اُن کی طرف سے یا ان کے ملک کی طرف سے کیے گئے مظالم کی یاد دلوں میں انتقام کی آگ بھڑکانے کے لیے موجود نہیں ہوتی۔ اِن باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر قیدیوں سے اُس سلوک کو دیکھا جائے جو اسلام نے اسیرانِ جنگ کے ساتھ روا رکھنے کا حکم دیا۔ اگرہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اُسوہ کو دیکھیں تو اسلام کی فضیلت، انسانی ہمدردی بلکہ انسانیت کا احترام صاف طور پر نظر آجائے گا۔ دنیا کی قدیم تاریخ میں جنگی قیدیوں کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کیا جاتا تھا، لیکن قرآن کریم فرماتا ہے: وَیُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا۔ (الدھر :۹) یعنی، اور اُس (خدا) کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں

تاریخی روایات کے مطابق بعض صحابہ ؓخود روکھی سوکھی پر گزارا کرتے اور قیدیوں کو عمدہ کھانا پیش کرتے تھے۔ (سیرت ابن ہشام، جلد ۲)

تاریخ گواہ ہے کہ قریشِ مکہ نے آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ پر وہ مظالم ڈھائے جن کے ذکر سے آج بھی انسانیت لرز اُٹھتی ہے اور تاریخ ِ اسلام کے صفحات پر اُن کو پڑھ کر ایک انسان کی آنکھوں میں آج ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی آنسو آجاتے ہیں۔ آیئے ایک اُچٹتی نظر اُن روح فرسا ظلم و بربریت کے نظاروں پر ڈالتے ہیں۔

مسلمان ہونے والے مردوں کو دہکتے ہوئے کوئلوں پر لٹانا، تپتی ہوئی ریت میں سینے پر پتھر رکھ کر گھنٹوں لٹائے رکھنا۔ ٹانگوں میں رسّے باندھ کر بازاروں اور گلی کُوچوں میں گھسیٹنا اور پھر یہاں تک سفّاکی اور بے رحمی کہ پردہ دار اور شریف عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مارکر انہیں شہید کردینا۔ ٹانگوں میں رسیاں باندھ کر دو مخالف سمتوں میں اونٹوں کو بھگا نا اور مسلمانو کے جسموں کو دونیم کرکے دَم لینا۔ چند ایک کمزور اور بے یارومددگا ر مسلمانوں کو سالہا سال تک محاصرہ میں رکھنا اور ان کو کھانے پینے تک کی ضروریات سے محروم کردینے کے مکمل انتظامات کرنا ایسے واقعات نہیں کہ دلوں سے محو ہوسکیں۔ اور آج بھی مسلمانوں پر اُن مظالم کے زخم موجود ہیں، پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرامؓ انہیں اپنی زندگیوں میں ہی بھول جاتے۔

مکہ کے ظالموں نے ان بے یارومددگار مسلمانوں کو اپنے وطن کو خیر باد کہہ دینے پر مجبور کیا، اور پھر یہ بھی نہیں کہ انہیں اپنا مال و اسباب لے کر وطن چھوڑ جانے دیا ہوتا، بلکہ یہاں تک ظلم کیا کہ وہ راتوں کو چُھپ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ جب ہجرت کے بعد سب سے پہلی جنگ، بدر کے مقام پر ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی تائیدو نصرت نے مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کیا تو مسلمانوں کے ہاتھ ظالم قریش میں سے ۷۰؍آدمی آگئے اور قید کرلیے گئے۔ اگر آج کسی ملک کو اپنے کسی ایسے شدید معاندین پر غلبہ حاصل ہوتو اس سے وہ سلوک کیا جائے جس کی مثال ظلم کی تاریخ میں کہیں نہ مل سکے۔ اس کی تازہ مثال صیہونیوں نے غزہ فلسطین کے بے گناہ مسلمان بڑے،چھوٹے، بزرگ، جوان، بچے اور عورتوں پر وہ ظلم ڈھائے کہ اللہ کی پناہ۔عالمی میڈیامیں ان پر تشدد کے محفوظ ہونے والے واقعات اس ظلم و بربریت کے گواہ ہیں۔

اسلام جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حقوق انسانی کا علمبردار ہے تو صرف اس لیے کہ آنحضرت ﷺ کے حُسن سلوک کی اعلیٰ و ارفع مثالوں اور رحمۃ للعالمین ہونے کے ناطے، اسلام کو یہ شرف حاصل ہوا کہ دنیا بھر میں حقوق انسانی پر عملدر آمد کرنا اسلام کا بنیادی کام ٹھہرا۔ اور یہ اس لیے ممکن ہواکہ حضرت محمدﷺ نےحالاتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری فرمائی، دشمنوں کے ساتھ رحم و کرم کا سلوک کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر وہ لوگ بھی آپ ﷺ کے سامنے تھے جنہوں نے برسوں مسلمانوں پر ظلم کیے تھے، لیکن آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان کیا اور فرمایا: آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔عدل و انصاف کی تعلیم قائم فرمائی، قیدیوں کے حقوق بنائے،املاک اور ماحول کے تحفظ کا حق محفوظ کیا،مذہبی آزادی کا احترام اورعہد و پیمان کی پابندی اورمعاہدوں کی پابندی کو انتہائی اہم قرار دیا،صلح حدیبیہ اس کی روشن مثال ہے جہاں بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت شرائط کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے معاہدے کی مکمل پاسداری فرمائی۔

یہ نظارہ اُس وقت سب دنیا نے دیکھا کہ کفار مکہ کی طرف سے ظلم کے پہاڑڈھائے جانے کے باوجو جب مکہ کے وہ ظالم و سفاک لوگ قید ہوکر آئے تو رحمۃ للعالمین ﷺ نے صحابہ ؓکو تاکید فرمائی کہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کرنا، ان کو بنیادی انسانی حقو ق ہر ممکن مہیا کیے جائیں۔ جیسا خود کھاؤ ویسا ان کو کھلاؤ۔ اور جیسا خود پہنوان کو پہناؤ۔رسول اکرمﷺ نے قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی اُس تاریک دَور میں اعلیٰ مثال قائم فرمائی۔ چنانچہ اپنے دلوں میں تمام گذشتہ مظالم کی یادوں کو دفن کرتے ہوئے صحابہؓ ان کو اپنے سے اچھا کھلاتے اور اپنے سے زیادہ آرام پہنچاتے۔ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ بعض صحابہؓ  خود کھجور یں کھاکر گزارہ کر لیتے مگر ان قیدیوں کے لیے روٹی اور سالن مہیا کرتے تھے۔ ان میں سے کسی کے پاس کپڑانہ ہوتا تو آنحضرتﷺ اپنے پاس سے اُن کے لیے کپڑا عطا فرماتے۔ حالانکہ یہ وہ دَور تھا جب مسلمانوں پر خود تنگی اور افلاس کا غلبہ تھا اور مالی لحاظ سے اُن کی حالت بہت کمزور تھی۔ اُس وقت تک بیسیوں مسلمان کفار کے پاس مکہ میں قید تھے اور کفار کے انسانیت سوز مظالم اُن غریبوں پر بدستور جاری تھے۔ اِن سب حالات کے باوجود کیا غزوۂ بدر کے قیدی کفار مکہ اس حُسنِ سلوک، اس شفقت، اس رحم اور اس خدا ترسی کی کوئی مثال دنیا میں مل سکتی ہے ؟!کیونکہ غزوۂ بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہؓ کو حکم دیا گیا کہ اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے۔

آنحضور ﷺ کی بے پایاں رحمت و شفقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد ان سب کو بہت کم فدیہ لے کر رہا فرمادیا۔ بعض پڑھے لکھے قیدیوں کا فدیہ تو صرف یہ مقرر ہوا کہ چند مسلمانوں کو معمولی علم یعنی لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔

قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں:جنگی قیدیوں سے متعلق اسلامی تعلیم کا خلاصہ تین قرآنی آیتوں میں آجاتا ہے، جن میں سے دو تو خاص جنگی قیدیوں کے متعلق ہیں اور ایک اصولی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ وَاللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَاللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ۔ (الانفال :۶۸) یعنی نبی کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ اُس کے لیے جنگی قیدی پکڑے جائیں حتی ٰ کہ دشمن کے ساتھ کسی میدان میں اچھی طرح عملی جنگ نہ ہولے۔ اے مسلمانو! تم قریب کے فوائد پر نظر رکھتے ہو (کہ قیدی پکڑنے میں جلدی کی جاوے تاکہ تم اُن کے فدیہ کی رقم سے دشمن کے مقابلہ کی تیاری کرسکو)مگر اللہ تعالیٰ انجام کار کو دیکھتا ہے (اور چونکہ انجام کے لحاظ سے یہ طریق پسندیدہ نہیں اور اخلاقی طور پر اِس کا اثر خراب ہے اِس لیے وہ تمہیں اِس طریق سے باز رہنے کا حکم دیتا ہے) اور اگر تمہیں دشمن کی تعداد و طاقت کا خوف ہو تو جانو کہ اللہ تعالیٰ سب طاقتوں پر غالب ہے اور وہ حکیم یعنی تمہاری حقیقی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے۔

اس آیت کریمہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی کمزور ی اور دشمن کی طاقت کے خیال سے یا فدیہ کے ذریعہ اپنی مالی حالت کو مضبوط بنانے کی غرض سے دشمن کے قیدی پکڑنے کے معاملہ میں جلدی اور بے احتیاطی سے کام نہیں لینا چاہیے کہ جہاں بھی دشمن کو کمزور پایا، قیدی پکڑنے شروع کردیے یا میدانِ جنگ میں عملی مقابلہ ہونے سے پہلے ہی قیدی پکڑلیے۔ بلکہ مسلمانوں کو صرف اُس صورت میں قیدی پکڑنے کی اجازت ہے کہ میدانِ جنگ میں عملاًدشمن کا مقابلہ ہو اور لڑائی کے بعد قیدی پکڑے جائیں۔ اس اسلامی تعلیم میں جو بین الاقوامی ضابطہ جنگ کی اعلیٰ ترین بنیاد پر قائم ہے جنگی قیدیوں کی تعداد اور وسعت کو امکانی طور پر تنگ سے تنگ دائرہ میں محدود کردیا گیا ہے جو اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام کا منشاء یہ تھا کہ سوائے اُن صورتوں کے جو اٹل ہوں حتیّ الوسع جنگی قیدی نہیں پکڑنے چاہئیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا۔ (محمد : ۵) یعنی اے مسلمانو! جب کفار کے ساتھ تمہاری جنگ ہو تو خوب جم کر لڑو اور ظالموں کو قتل کرو اور جب اچھی طرح جنگ ہو لے تو اس کے بعد دشمن کے آدمیوں میں سے قیدی پکڑو۔پھر اگر اصلاح کی امید ہو اور حالات مناسب ہوں تو اُن قیدیوں کو بعد میں یونہی احسان کے طور پر چھوڑدو یا مناسب فدیہ لے کر انہیں رہا کردو اور اگر ضروری ہو تو اُنہیں قید میں ہی رکھو، حتیّٰ کہ جنگ ختم ہوجائے۔

یہ آیت جنگی قیدیوں کے متعلق اسلامی شریعت میں بطور بنیادی پتھر کے ہے، جس میں وہ مختلف صورتیں بتادی گئی ہیں جو قیدیوں کے معاملہ میں مختلف حالات کے ماتحت اختیار کی جاسکتی ہیں۔ (سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ ۴۱۱۔۴۱۲)

کفار مکہ مسلمانوں کو نیست و نابود کردینے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے رہے لیکن جب مکہ کی فتح کا بگل بجا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس کی فتح و کامرانی عطا فرمائی تو ہمارے آقا و مولیٰ کا اہلِ مکہ کے ساتھ حُسنِ سلوک دیکھنے کے قابل تھا۔ کیسا دلآویز اور شاندار منظر ہوگا جب اسلامی لشکر رسولِ خداﷺ کی قیادت میں مظفرو منصور فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا تو وہی اکابرین ِ مکہ اور ظلم و ستم ڈھانے والے لوگ آپؐ کے حضور پیش کیے گئے۔ آپؐ اُس وقت ان کے متعلق جو سخت سے سخت فیصلہ فرماتے، اُس پر دنیا کا کوئی امن پسند اور منصف مزاج اعتراض نہ کرسکتا۔ مگر آپؐ نے اُن لوگوں کو کوئی سزادینا تو دُور کی بات۔ اُن کو لعنت ملامت کرنا بھی پسند نہ فرمایا اور صاف فرمادیا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ اِذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَاء۔ کہ جاؤتم سے کوئی باز پُرس نہیں کی جاتی، تم سب آزاد ہو۔ (سیرت ابن ہشام، جلد ۴؛ البدایہ والنہایہ، جلد ۴)

چنانچہ یہ وہ بہترین سلوک تھا جو رحمۃ للعالمین ﷺ نے جنگی قیدیوں کے ساتھ فرمایا اور اُس صورت میں کیا، جب آپؐ کی حیثیت ایک فاتح کی تھی۔ یہ ہیں وہ حقوقِ انسانی جن کا اسلام علمبردار ہے اور اِس ضمن میں رسول کریم ﷺ کےپاکیزہ اُسوہ حسنہ کی شاندار مثال ہے۔ تاریخ عالم میں فاتحین کی جانب سے ایسی مثال بہت کم ملتی ہے۔الغرض حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی حالات میں انسانی حقوق کے جو اصول قائم فرمائے، وہ انسانی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ الغرض آپ ﷺ نے عورتوں، بچوں، بوڑھوں، قیدیوں، مذہبی شخصیات اور عام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا، ماحولیات اور املاک کے تحفظ کی تعلیم دی، عہد و پیمان کی پابندی پر زور دیا اور دشمنوں کے ساتھ بھی رحم و انصاف کا سلوک فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی جنگی تعلیمات آج بھی بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے لیے ایک روشن مینار اور قابلِ تقلید نمونہ سمجھی جاتی ہیں۔

اسلام دشمنی کی حالت میں بھی انصاف کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَلَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۔ (المائدہ:۹) اے ایماندارو! تم انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہو ئے اللہ تعالیٰ کے لیے ایستادہ ہوجاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اِس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ تم انصاف کرو، وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے یقیناً آگاہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اِس قرآنی تعلیم کو عملی طور پر نافذ کرکے ثابت فرمایا کہ جنگ بھی انصاف کے اصولوں سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔

قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ مزیدفرماتے ہیں: آنحضرت ﷺ کی طرف سے تاکیدی حکم تھا کہ جب تک عملاً لڑائی نہ ہو لے، قیدیوں کو نہ پکڑا جائے۔ یہ نہیں کہ دشمن کو دیکھا اور کمزور پاکر قیدی پکڑنے شروع کردیے۔ حکم تھا کہ جو قیدی پکڑے جائیں اُنہیں بعد میں حسب ِ حالات یا تو بطور احسان کے یونہی چھوڑ دیا جاوے یا اگر ضروری ہو تو قید میں رکھا جاوے۔ مگر یہ قید اُس وقت تک رہ سکتی ہے کہ جب تک جنگ جاری رہے۔ اِس کے بعد نہیں۔ قیدیوں کے ساتھ نہایت درجہ نرمی اور شفقت کے سلوک کا حکم تھا۔ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ کے حکم صحابہؓ  کو خود اپنے آرام کی نسبت بھی قیدیوں کے آرام کا خیال زیادہ رہتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کا یہ بھی حکم تھا کہ جو قیدی آپس میں قریبی رشتہ دار ہو ں اُن کو ایک دوسرے سے ہرگز جدانہ کیا جاوے۔(جامع ترمذی، ابواب السیر )(سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ ۳۱۹)

آخر پر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اسلام کے اِن سنہری اصولوں اور حقوقِ انسانی کے پائدار قوانین کو جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے نافذ فرمائے تھے، تمام دنیا کے مسلمانوں اور غیروں کو اپنانے اور اِن کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ انہی روشن اصولوں اور اُن حقوقِ انسانی کو جن کا علمبردار اسلام ہے، امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی عظیم قیادت میں لے کے آگے بڑھ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ پوری دنیا میں امن قائم ہوجائے۔ خدائے واحد کی شریعت، آنحضرت ﷺ کے احکامات و ارشادات اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی تعلیمات دنیا بھر میں نافذ ہوں تاکہ دنیا بھر کے باسی چین و سکون کی سانس لیتے ہوئے امن وامان اور شانتی و آشتی کے ماحول میں زندگی گزار سکیں آمین یا رب العالمین۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: عیادتِ مریض، وفات، تجہیز و تکفین،جنازہ اور عدّت سے متعلق اسلامی تعلیم

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button