دنیا میں قیامِ امن کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کاوشیں
’’ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک صفت ’’اَلسَّلَامُ‘‘ یعنی سلامتی والا، بھی بتلائی ہے اوراس کے سلامتی والا ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لیے سلامتی کے سامان کرتا ہے۔ دنیا کی سلامتی کے سامان کرنے میں ایک بڑا ذریعہ ارسال مرسلین و نبیین ہے۔ اسی لیے مامورین الٰہی نے ہمیشہ دنیا کو امن و سلامتی کا پیغام دیا ہے اور ہر فتنہ و فساد، دشمنی اور شر کی راہوں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اس زمانے میں امن و سلامتی کے اس پیغام کی تجدید کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔
اِس زمانے کے فتنہ و فساد اور جنگوں کی کثرت کے متعلق الٰہی نوشتوں میں واضح پیشگوئیاں موجود ہیں۔ انجیل میں لکھا ہے: ’’اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار! گھبرا نہ جانا ! کیونکہ ان باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے لیکن اُس وقت خاتمہ نہ ہوگا۔ کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔‘‘ (متی باب ۲۴ آیت نمبر ۷،۶)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَتَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ۔ (الکہف:۱۰۰) ترجمہ: اور اس دن ہم ان میں سے بعض کو بعض پر موج در موج چڑھائی کرنے دیں گے۔آنحضور ﷺ نے بھی ان خونریز حالات کی نشاندہی فرمائی ہے۔ ایک موقع پر فرمایا: ’’لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ‘‘۔ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللّٰہِ قَالَ ’’الْقَتْلُ الْقَتْلُ۔‘‘یعنی قیامت سے پہلے ہرج کثرت اختیار کرجائے گا۔ صحابہ نے عرض کی حضورؐ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا: قتل و غارت۔ (صحیح مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعۃ باب نمبر (۴)باب إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا) اسی طرح اس موضوع پر دیگر کئی احادیث ہیں۔
یہ اُسی زمانے کی علامات ہیں جس میں مسیح موعود کی آمد بھی بتلائی گئی ہے۔چنانچہ انہی پیشگوئیوں کے مطابق خوف اور بےچینی کے اس دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی معہود کے طور پر مبعوث فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے آپؑ کو صلح جُو اور امن پسند فطرت سے نوازا تھا اور آپؑ ہمیشہ لڑائی جھگڑوں سے دُور رہے۔ جس زمانے میں آپؑ نے آنکھ کھولی وہ زمانہ مذہبی مباحثات و مناظرات سے پُر تھا لیکن ان مباحثات کا افسوسناک پہلو یہ تھا کہ دوسرے کو نیچا دکھانے کی خاطر تہذیب و شائستگی کی حدیں بھی عبور کر دی جاتی تھیں جس کی وجہ سے معاشرے میں نقص امن اور لڑائی جھگڑوں کے حالات برپا ہوجاتے۔ بہرکیف ایک غیور مسلمان ہونے کے ناطے آپؑ کو دین اسلام کا دفاع اور اس کی سر بلندی بھی عزیز تھی لہذا آپؑ بھی ناموس رسالتؐ کی حفاظت اور دین اسلام کی صداقت کی خاطر مذہبی مباحثات کے میدان میں اترے لیکن آپؑ اپنی علمی بحثوں اور مکالمات کو ضابطہ اخلاق کا پابند بناتے اور ہر قسم کے مذہبی بغض، تعصب اور کینہ سے دور رہتے۔ آپؑ کے اس حسن اخلاق اور ادب و احترام کی مثال ’’آفتاب پنجاب اخبار‘‘ لاہور کے اس مضمون میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ یہ مضمون آریہ لوگوں کے مقابل پر لکھا گیا جس کا آغاز آپؑ یوں فرماتے ہیں: ’’میں کمال عجز و انکسار سے بخدمت اپنے معزز دوستوں آریا صاحبوں کے، یہ فیصلہ جو ذیل میں مرقوم ہے، پیش کرتا ہوں اور امیدوار ہوں کہ بجز تردید کامل و مکمل کے پایۂ قبول سے ساقط نہ فرماویں گے۔‘‘ (آفتاب پنجاب لاہور ، ۴؍فروری ۱۸۷۸ء صفحہ ۷۲)

اس طرح حقانیت اسلام اور صداقت خیر الانام ﷺ کی تائید میں آپؑ نے درجنوں مضامین لکھے یہاں تک کہ جب اپنی معرکہ آراء کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ تصنیف فرمائی تو اُس کے مقدمہ میں بھی لکھا: ’’اوّل ہر ایک صاحب کی خدمت میں جو اعتقاد اور مذہب میں ہم سے مخالف ہیں بصد ادب اور غربت عرض کی جاتی ہے جو اس کتاب کی تصنیف سے ہمارا ہرگز یہ مطلب اور مدعا نہیں جو کسی دل کو رنجیدہ کیا جائے یا کسی نوع کا بے اصل جھگڑا اُٹھایا جائے بلکہ محض حق اور راستی کا ظاہر کرنا مراد دلی اور تمناء قلبی ہے….‘‘ (براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۷۱)
اسی دور میں جب اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو وحی و الہام کے مرتبہ سے سرفراز فرمایا تو آپؑ کو عیسیٰ اور مسیح کے لقب سے بھی مخاطب فرمایا جس کی بنا پر آپؑ نے یہ اظہار فرمایا: ’’یہ عاجز (مؤلف براہین احمدیہ) حضرت جلّ جلالہٗ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی مسیح کی طرز پر کمال مسکینی اور فروتنی اور غربت اور تذلّل اور تواضع سے اصلاح خلق کیلئے کوشش کرے …‘‘(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ ۹۔ مکتوب نمبر ۱)
بعد ازاں آپؑ کے اعلان وفات مسیحؑ اور دعویٰ مسیحیت پر ایک عظیم مخالفانہ شور اٹھا اور فتووں اور بدزبانیوں اور مشتعل بیانات سے آپؑ کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی لیکن آپؑ بفضلہ تعالیٰ ایک طرف تو اولوالعزمی کے ساتھ کھڑے رہے اور دوسری طرف نرمی اور حلم کے ساتھ ان مخالفانہ حالات کا مقابلہ کرتے رہے۔ کوئی اَور ہوتا تو شاید ترکی بہ ترکی بدزبانی کا جواب دیتا لیکن آپؑ جھگڑے اور جنگ و جدال کو طول دینے کی بجائے صلح و صفائی کے طریقوں کو ہی اپناتے رہے۔ آپؑ کی مخالفت میں مولوی محمد حسین بٹالوی پیش پیش تھے، ایک مرتبہ آپؑ نے بٹالوی صاحب کے نام ایک مکتوب میں لکھا: ’’اور یہ عاجز للہ آپ کے ان الفاظ کے استعمال سے جو مخالفانہ تحریر کی حالت میں کبھی حد سے بڑھ جاتے ہیں یا اپنے بھائی کی تذلیل اور بدگمانی تک نوبت پہنچاتے ہیں معاف کرتا ہے۔ وَاللّٰہُ عَلیٰ مَا قُلْتُ شَھِیْدٌ۔‘‘ (مکتوبات احمدؑ جلد اول صفحہ ۳۱۳۔ مکتوب نمبر ۷)
ارکان اسلام اور ارکان ایمان کی پابندی کے باوجود کافر ٹھہرایا جانا سمجھ سے بالا تھا اسی لیے حضور علیہ السلام بٹالوی صاحب کے ساتھ بیٹھ کر ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتے تھے۔ مفاہمت اور مصالحت کی خاطر آپؑ نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو یہاں تک لکھا: ’’اگرچہ میں بیمار ہوں … تاہم افتاں و خیزاں آپ کے پاس پہنچ سکتا ہوں۔ بقول رنگین
وہ نہ آوے تو تُو ہی چل رنگینؔ
اس میں کیا تیری شان جاتی ہے
(مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ ۳۱۲۔ مکتوب نمبر ۶)
لیکن مولوی محمد حسین بٹالوی اس دوستانہ ماحول گفتگو کی طرف نہ آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف تکفیر اور مقاطعہ کی تحریک کو اور بڑھاوا دیتے رہے۔ آپؑ نقص امن کی وجہ سے پبلک مباحثہ سے بچنا چاہتے تھے لیکن جب باہم بیٹھ کر بات چیت کرنے کی امید دم توڑ گئی تو بالآخر بات مباحثہ تک پہنچی۔ آپؑ نے شرائط مباحثہ میں پہلی شرط امن اور سلامتی قائم رکھنے کی ہی رکھی چنانچہ آپؑ نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے نام مکتوب میں لکھا: ’’جلسہ بحث آپ کے مکان پر ہو اور امن قائم رکھنے کے لئے تمام انتظام آپ کے ذمہ ہوگا … میرے نزدیک یہ بات نہایت ضروری ہوگی کہ کوئی یورپین افسر اس جلسے میں ضرور تشریف رکھتے ہوں کیونکہ اس طرف چند آدمی اور دوسری طرف صدہا آدمی ہوں گے اور اکثر بد زبان اور مکفر ہوں گے۔ بغیر حاضری کسی یورپین کے ہرگز انتظام نہیں ہوسکتا لیکن اگر آپ کے نزدیک یورپین افسر کی ضرورت نہیں تو اوّل مجھے اپنی دستخطی تحریر سے مطلع فرما دیجئے کہ میں کامل انتظام گروہ مفسد خیال لوگوں کا کرلوں گا اور ان کا منہ بند رہے گا اور کسی یورپین افسر کی کچھ ضرورت نہیں ہوگی۔ اس صورت میں مَیں یہ شرط بھی چھوڑ دوں گا پھر اس تحریر کے بعد ہر ایک نتیجہ کے آپ ہی ذمہ وار ہوں گے۔‘‘ (مکتوبات احمدؑ جلداوّل صفحہ۳۳۵۔ مکتوب نمبر ۱۸)
بعد ازاں یہ مباحثہ جون ۱۸۹۱ء میں لدھیانہ میں ہوا جو ’’الحق مباحثہ لدھیانہ‘‘ کے نام سے مطبوعہ ہے۔ اس مباحثے میں حضرت اقدس علیہ السلام نے نہایت تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ اس مباحثے کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایک صاحب نے پیسہ اخبار لاہور کے نام اپنے مراسلے میں لکھا: ’’بڑے ہی افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان مسلمان کا دشمن جان ہے۔ جناب مرزا صاحب کی شرافت، خلق، نیک عمل، بزرگانہ عادت، فضیلت، علمیت، خیرخواہی اسلام وغیرہ صفات کا مقابلہ کرنے والا مولوی مجھ کو تو کوئی نظر نہیں آتا … پھر بڑے غضب کی بات ہے کہ بعض مسلمان مولوی اُن کی مخالفت پر کمر باندھے پھرتے ہیں بلکہ اُن کے حق میں نہایت مکروہ و ناشائستہ الفاظ استعمال میں لاتے رہتے ہیں۔ اُن کی تصانیف کو غور سے نہیں دیکھتے اور نہ تحمل و تأمل سے اُن کا ما فی الضمیر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک بٹالوی مولوی صاحب بمقام لودھیانہ جناب مرزا صاحب سے مباحثہ کیا بلکہ مجادلہ کیا … مولوی صاحب ایسے غصہ میں آگئے کہ مجسم غصہ بن کر نہایت مکروہ الفاظ جناب مرزا صاحب کے بلکہ اپنے حق میں نکالنے لگے بلکہ ’’زن طلاق‘‘ کی گالی یا قسم کا ایسے مولوی صاحب کے منہ سے نکلنا یہ پہلا موقعہ ہے کہ میں نے سنا ہے۔ طرفہ یہ کہ اشتہاروں کے ذریعہ مشتہر کر دیا کہ مرزا صاحب ہار گئے۔ سبحان اللہ مرزا صاحب کا حوصلہ و تحمل! کوئی بے جا لفظ زبان سے نہیں بولا بلکہ اپنے ساتھیوں کو ہر وقت غصہ اور فساد سے منع فرماتے رہے …‘‘ (پیسہ اخبار لاہور ۷؍ستمبر ۱۸۹۱ء صفحہ ۵)
یہ صرف ایک مباحثہ کا حال نہیں۔ ہر موقع پر آپؑ نے مخالفین کی طرف سے ظلم و زیادتی دیکھنے کے باوجود صلح و امن کی خاطر تحمل اور بردباری کا نمونہ دکھایا۔ آپؑ اپنے متعلق تو ہر ظلم و زیادتی برداشت کر جاتے لیکن اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اطہر پر ناپاک حملے آپؑ کے لیے ناقابل برداشت تھے۔ انہی ناپاک اعتراضات کی وجہ سے بعض مسلمان حلقوں کی طرف سے ہنگامہ آرائی تک نوبت بھی پہنچی اور مختلف مذاہب کی اس ناحق چپقلش کی وجہ سے حکام کو نقض امن کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں علمی لحاظ سے ان اعتراضات کے جوابات دے کر رسول اکرمﷺ کی پاکیزہ سیرت کو اجاگر کیا وہاں گورنمنٹ کے نام امن و صلح کی قابل قدر تجاویز بھی پیش کیں۔ قیام امن اور صلح کاری کے متعلق آپؑ کی یہ تجاویز سنہری الفاظ میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپؑ اپنی کتاب ’’کتاب البریہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’میرے نزدیک ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ عالیہ یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مخالف کو ہدایت فرماوے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف ان کتابوں کی بنا پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلّم اور مقبول ہوں۔ اور اعتراض بھی وہ کرے جو اپنی مسلم کتابوں پر وارد نہ ہوسکے۔ اور اگر گورنمنٹ عالیہ یہ نہیں کر سکتی تو یہ تدبیر عمل میں لاوے کہ یہ قانون صادر فرماوے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہو۔ اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ قوموں میں صلح کاری پھیلانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ کچھ عرصہ کے لئے مخالفانہ حملے روک دیے جائیں۔ ہر ایک شخص صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور دوسرے کا ذکر زبان پر نہ لاوے۔ اگر گورنمنٹ عالیہ میری اس درخواست کو منظور کرے تو میں یقیناً کہتا ہوں کہ چند سال میں تمام قوموں کے کینے دور ہو جائیں گے اور بجائے بغض محبت پیدا ہو جائے گی۔‘‘ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۳۴۶)
ایک سے زائد مرتبہ آپؑ نے یہ صلح پسند تجاویز حکام بالا اور اکابرین مذاہب کو پیش کیں لیکن افسوس کہ بعض مولویوں نے یہ کہہ کر اس تحریک کو روکنے کی کوشش کی کہ ان تجاویز سے اصل غرض مرزا صاحب کی اپنی ذات کو بچانا ہے۔ بہر کیف آپؑ کو عیسائیوں، آریوں، مولویوں اور بعض دیگر مخالفین کی طرف سے نہایت دل آزار اور تکلیف دہ باتیں سننا پڑیں، آپؑ کی نسبت اور آپؑ کے گھر والوں کی نسبت بازاری زبان تک استعمال کی گئی، اشتہارات لگائے گئے، مضامین لکھے گئے حتیٰ کہ روبرو آکے بھی آپؑ کو بُرا بھلا کہا گیا لیکن حضرت اقدس علیہ السلام خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰہِلِیۡنَ۔(الاعراف:۲۰۰) کی عملی تفسیر بنے رہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’مَیں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے آخر وہی شرمندہ ہوگا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔‘‘(ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۴۱۱۔ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
ایک اَور موقع پر فرمایا: ’’… جو ہم کو گالیاں دیتے ہیں، ہم ان کی گالیوں کا کوئی جواب نہیں دیتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہم سے تو گالیوں کی قوت ہی کھودی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۱۲۲،ایڈیشن ۱۹۸۸ء)
جہاں آپؑ نے صبر و تحمل، عفو و درگذر اور امن و سلامتی کا خود یہ اعلیٰ نمونہ دکھلایا وہاں اپنی جماعت کو بھی اس کی بارہا تاکید کی اور ہر قسم کی خصومت اور تشدّد کے طریق سے بچنے اور امن اور بھائی چارے کی راہ ہموار کرنے کی تعلیم دی۔ حضرت اقدس علیہ السلام اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’آخرکار مَیں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم دشمن کے مقابلہ پر صبر اختیار کرو۔ تم گالیاں سُن کر چپ رہو … مَیں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر تم کو کوئی زد وکوب بھی کرے تب بھی صبر سے کام لو … یہ خدا کا فضل ہے کہ ہماری جماعت امن جُو ہے۔ اگر وہ ہنگامہ پرداز ہوتی تو بات بات پر لڑائی ہوتی اور پھر اگر ایسے لڑنے والے ہوتے اور ان میں صبر و برداشت نہ ہوتی تو پھر ان میں اور ان کے غیروں میں کیا امتیاز ہوتا؟ …
لوگ مجھے کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ہمیں مارا اور مسجد سے نکال دیا۔ مَیں یہی جواب دیتا ہوں کہ اگر تم جواب دو تو میری جماعت میں سے نہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۱۳۰ تا ۱۳۲،ایڈیشن ۱۹۸۸ء)
آپؑ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں:
گالیاں سُن کے دعا دو پاکے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی
چھوڑ دو اُن کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار
چُپ رہو تم دیکھ کر اُن کے رسالوں میں ستم
دم نہ مارو گر وُہ ماریں اور کر دیں حال زار
خیر خواہی میں جہاں کی خُوں کیا ہم نے جگر
جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کیں سے فرار
بلکہ آپؑ نے شرائط بیعت میں ہی چوتھے نمبر پر یہ شرط رکھی کہ’’یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا، نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔‘‘
بفضلہ تعالیٰ افراد جماعت نے آپؑ کی اس تعلیم پر بخوبی عمل کیا اور معاندین کے انتہائی ظلم و ستم کے باوجود قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ ۲۸؍فروری ۱۹۰۳ء کو کچھ آریہ لوگ حضرت اقدسؑ کی مجلس میں حاضر ہوئے اور مختلف باتیں ہوئیں۔ ایک آریہ صاحب بولے کہ اصل میں جاہل تو دو ہی قومیں ہیں۔ آپ برا نہ مانیں تو مَیں عرض کردوں۔ اوّل تو سکھ دوسرے ہمارے مسلمان بھائی۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’کسی شخص کو اس کے منہ پر جاہل کہنا بہت سخت گالی ہے مگر سوچو تو کیا ان حاضرین میں سے کوئی ایک بھی بولا ہے؟ کیا اب بھی تمہیں اس مجلس کی نرمی اور تہذیب پر کچھ شک ہے؟ بہت ہیں جو ہمارے منہ پر گالیاں دے جاتے ہیں مگر ان میں سے ایک کی بھی مجال نہیں ہوتی کہ دم مار کر اس کو کچھ بھی کہہ جاوے۔
ہم ان کو دن رات صبر کی تعلیم دیتے ہیں۔ نرمی اور حلم سکھاتے ہیں۔ یہ وہ قوم نہیں کہ آپ کے اس اُصول کی مصداق بن سکے۔ ہاں ہم البتہ عوام الناس لوگوں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ہم تب مانیں اگر کسی آریہ لوگوں کے مجمع میں اس طرح کہہ دیں کہ تم جاہل ہو اور وہ صبر کر رہیں اور ایک کی بجائے ہزار نہ سنائیں تو!‘‘(ملفوظات جلد سوم صفحہ ۱۱۶ ،۱۱۷، ایڈیشن ۱۹۸۸ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قیام امن کاوشوں میں سے ایک بڑا کارنامہ اسلامی جہاد کے تصور کی درستی ہے۔ مخالفین اسلام نے اسلام پر لگائے جانے والے اعتراضات میں جہاد کے مسئلہ کو بہت اچھالاہے کہ اسلام ایک پُر تشدّد مذہب ہے اور قتل و غارت کی تعلیم دیتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ مولویوں کا امام مہدی کی خونریزی کے متعلق تصور مخالفین کے اعتراض کو تقویت دے رہا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے تمام تصوّرات کو ردّ فرمایا اور مسیح موعودؑ کے متعلق آنحضرتﷺ کی پیشگوئی یَضَعُ الْحَرْبَ کی یاد دہانی کراتے ہوئے دین کے نام پر ہر قسم کی لڑائی اور جنگ کے خاتمہ کا اعلان فرمایا۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’… عیسیٰ مسیح ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ حملوں اور خونریزیوں سے روک دوں جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور سے وارد ہوچکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سو ایسا ہی ہوتا جاتا ہے …. اور یہ وہ صلح کاری کا جھنڈا کھڑا کیا گیا ہے کہ اگر ایک لاکھ مولوی بھی چاہتا کہ وحشیانہ جہادوں کے روکنے کے لئے ایسا پُر تاثیر سلسلہ قائم کرے تو اس کے لئے غیر ممکن تھا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو چند سال میں ہی یہ مبارک اور امن پسند جماعت جو جہاد اور غازی پن کے خیالات کو مٹا رہی ہے کئی لاکھ تک پہنچ جائے گی اور وحشیانہ جہاد کرنے والے اپنا چولہ بدل لیں گے۔‘‘ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۸ ،۲۹)
آپؑ نے اپنی تحریرات، ملفوظات اور اشتہارات میں اس تعلیم کو بار بار دہرایا ہے اور اپنے مصلح اور امن پسند ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ایک اور جگہ آپؑ فرماتے ہیں: ’’بلا شبہ ان کے عقیدے ایسے تھے کہ جو وحشیانہ جوشوں کو پیدا کرتے اور تہذیب اور شائستگی سے دور ڈالتے تھے اور غور کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ ایسے عقیدوں کا انسان ایک خطرناک انسان ہوتا ہے سو خدا نے جو رحیم کریم ہے میرے ظہور سے صلح کاری کی بنیاد ڈالی اور میری جماعت کے دلوں کو ان بیہودہ عقیدوں سے ایسا دھویا جیسے ایک کپڑا صابون سے دھویا جائے …‘‘ (کشف الغطاء، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۱۹۴)
جولائی ۱۹۰۳ء میں جب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدرضی اللہ عنہ کو افغانستان میں بے دردی سے شہید کیا گیا تو آپؑ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے تذکرے میں اور باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی اظہار فرمایا کہ ’’ہماری تعلیم ایسی تعلیم نہیں تھی کہ کوئی اس کو پکڑ سکے بلکہ یہ تعلیم تو امن کے پھیلانے والی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۵۱۳ ایڈیشن ۱۹۸۸ء)
مخالف مولویوں نے حکومت برطانیہ کو آپؑ کے متعلق بد ظن کرنے کی بھی کوشش کی کہ یہ شخص امام مہدی ہونے کا دعویدار ہے جو روایات کے مطابق غیر مسلموں کو قتل کرے گا لہذا اس شخص کا بندوبست کیا جائے۔ پادری عمادالدین اور ڈاکٹر گرس وولڈ وغیرہ نے بھی ایسے خدشات کو اچھالنے کی کوشش کی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات، تعلیمات اور عملی نمونہ نے ان کی ریشہ دوانیوں کو پنپنے نہ دیا اور ان بداندیشوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ خود مغربی پادریوں اور مستشرقین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے امن پسند اور حکومت کے خیر خواہ ہونے کی گواہی دی۔ مشہور مستشرق Ignaz Goldziher نے لکھا:
“The Mahdi of Islamic orthodoxy is a warrior who combats the unbelievers, sword in hand, and whose path is marked in blood… The new prophet is a prince of peace. He has eliminated jihad (holy war) from the obligations of Muslim men. He inculcates upon his followers peace and tolerance, condemns fanaticism, and in general strives to awaken in them a spirit receptive and favourable to culture… He does insist, however, on performance of the essential Muslim obligations.”
(Introduction to Islamic Theology and Law by Ignaz Goldziher, translated by Andras and Ruth Hamori page 264 -265 Princeton University Press, Princeton, New Jersey 1981)
ترجمہ: مسلمانوں کے معتد بہ حصہ میں پایا جانے والا تصور مہدی یہ ہے کہ وہ ایک جنگجو ہوگا جو کہ کفار سے جنگ کرے گا اس حال میں کہ اس کے ہاتھوں میں شمشیر ہوگی اور اس کی راہ خون سے رنگین … نیا نبی (حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ ناقل) امن و سلامتی کا شہزادہ ہے، اس نے مسلمانوں پر سے فرضِ جہاد کو ختم کر دیا ہے (جہاد کی فرضیت کو ختم نہیں کیا بلکہ اس زمانے میں دین کی خاطر قتال اور لڑائیوں کا خاتمہ کیا ہےاور زمانے کے حالات کے مطابق جہاد بالنفس اور جہاد بالقلم پر زور دیا ہے۔ ناقل) یہ اپنے پیروؤں کو امن اور برداشت کی تعلیم دیتا ہے، تشدد کو برا سمجھتا ہے … البتہ یہ (مہدی) اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ فرائضِ اسلامیہ کی بجا آوری بھی لازمی ہے۔
ہندوستان میں انگریز حکومت قائم ہونے کے بعد مسلمانوں کی اکثریت اس کی فرمانبرداری میں تھی لیکن بعض لوگ در پردہ بغاوت اور فتنہ و فساد کی کارروائیوں کو دینی لحاظ سے جائز بلکہ جہاد سمجھتے تھے، اسی بنا پر سرحدی علاقوں میں خصوصاً بعض انگریز افسران کے قتل ہونے کے واقعات بھی ہوئے۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے ہندوستان کے دارالسلام ہونے کے ناطے انگریز حکومت کی فرمانبرداری کی تعلیم دی اور حکومت کے خلاف ہر قسم کے ہنگاموں اور فتنہ و فساد کے راستوں سے اجتناب کا سبق دیا۔ مورخہ ۲۵؍جون ۱۸۹۷ء کو آپؑ نے ایک ایسا ہی اشتہار دیا جس کی ضرورت اور افادیت کو دیکھتے ہوئے مولانا سر سید احمد خان صاحب نے اپنے مشہور اخبار ’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ مع تہذیب الاخلاق‘‘میں لکھا: ’’اسی اشتہار میں مرزا صاحب نے ایک نہایت عمدہ فقرہ گورنمنٹ انگریزی کی خیرخواہی اور وفاداری کی نسبت لکھا ہے۔ ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کو جو گورنمنٹ انگریزی کی رعیت ہے، ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے۔ اس لیے ہم اس فقرہ کو اپنے اخبار میں چھاپتے ہیں۔‘‘ (علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ مع تہذیب الاخلاق ۔ ۲۴؍جولائی ۱۸۹۷ء صفحہ۱۰ کالم نمبر ۴۔ ایڈیٹر سر سید احمد خان)
اپنی وفات سے چند دن پہلے امن کےاس شہزادے نے ’’پیغام صلح‘‘ نامی رسالہ تصنیف فرمایا۔اس رسالے کا پڑھنے والا آپؑ کی امن پسندی، صلح جوئی اور خیرسگالی کی کاوشوں کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس رسالے کی اشاعت پر اپنوں اور غیروں نے اس کو بے حد سراہا۔ لاہور کے مؤقر انگریزی اخبار The Tribune نے مضمون پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا:
The Mirza Sahib laid much stress on the importance and utility of fostering feelings of friendship and good-will between the two chief sections of Indian populace, Hindus and Mahomedans, especially at a time when of all things co-operation and mutual help are essential to solve the difficult problems that confront them both together. He preached religious toleration as the primary need to wipe away the petty causes of differences that exist between the two communities. As an earnest of good-will the Message of the Mirza advocated a remarkable compromise. (The Tribune, 23 June 1908 page 6 column 4)
ترجمہ: مرزا صاحب نے ہندوستانی آبادی کے دو بڑے حصوں، یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوستی اور خیر سگالی کے جذبات کو فروغ دینے کی اہمیت اور افادیت پر بہت زور دیا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ان دونوں کو درپیش مشکل مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔انہوں نے مذہبی رواداری کی پرچار کرتے ہوئے دونوں مذاہب کے درمیان اختلافات کا باعث بننے والی معمولی وجوہات کو ختم کرنے کو بنیادی ضرورت قرار دیا۔ خیرسگالی کی اس سنجیدہ کوشش میں مرزا صاحب کے پیغام نے غیر معمولی مفاہمت کی وکالت کی ہے۔ (اخباردی ٹریبیون لاہور)
غرضیکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ساری زندگی امن و سلامتی کا پرچار کیا۔ کبھی آپؑ ’’ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلدسوم صفحہ ۲۹۵) کا اعلان کرتے ہیں اور کبھی ’’لوائے ما پنہ ہر سعید خواہد بود‘‘ (یعنی ہمارا جھنڈا ہر خوش قسمت انسان کی پناہ ہوگا۔) کا پیغام دیتے ہیں۔ آپؑ کی اس امن پسندی کی گواہی آسمان سے بھی آتی ہے اور ’’امن است در مکان محبت سرائے ما‘‘ کا الہام آپؑ پر نازل ہوتا ہے۔ ایک اور بد بخت کی ہر زہ سرائی پر صبر و تحمل کے عظیم الشان مظاہرہ پر اللہ تعالیٰ اس سلامتی کے شہزادے کو یہ خوشخبری عطا فرماتا ہے: ’’خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تُو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ۳۹۹۔ اشتہار ۱۶؍اگست ۱۹۰۶ء)
آپؑ اس زمانے کے ربّانی امام تھے اور الإمام جُنَّۃٌ یعنی امام ڈھال ہوتا ہے۔ (حدیث نبویؐ) پس اسی ڈھال میں ہی اصل امن، سلامتی، خیر اور عافیت ہے اسی لیے آپؑ زمانے کو ’’اس زمانے کا حصن حصین میں ہوں‘‘ اور ’’میں عافیت کا ہوں حصار‘‘ اور قادیان کے دارالامان ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ حضرت پیر سراج الحق نعمانی رضی اللہ عنہ (وفات: ۳؍جنوری ۱۹۳۵ء) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک مخالف کے خط کے جواب میں قادیان کے ساتھ دار الامان کا لفظ لکھ دیا۔ پھر خیال آیا کہ حضرت اقدسؑ کی اجازت سے لکھنا چاہیے چنانچہ جب حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی تو حضورؑ نے فرمایا: ’’ضرور لکھ دو۔ یہ خدا کی طرف سے دار الامان ہے، اب ضرور ہر خط پر لکھ دیا کرو۔‘‘ (تذکرۃ المہدی مصنفہ حضرت پیر سراج الحق نعمانیؓ صفحہ ۱)
آپؑ نےدنیا میں بدامنی اور اضطراب کی جہاں اور وجوہات کی نشاندہی فرمائی ہے وہاں سب سے بڑی وجہ خالق حقیقی کی ذات سے دوری اور بے اعتنائی بیان فرمائی ہے۔ امام وقت ہونے کی حیثیت سے آپؑ نے دنیا کو امن کی حقیقی راہ خدائے واحد و یگانہ سے تعلق پکڑنے میں بتائی ہے اور اس سے منہ موڑنے کی صورت میں یوں انتباہ فرمایا ہے: ’’وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی … یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔ اگر مَیں نہ آیا ہوتا تو اِن بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہوگئے جیسا کہ خدا نے فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسرائیل:۱۶) اور توبہ کرنے والے امان پائیں گے اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں اُن پر رحم کیا جائے گا۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو؟ …. اے یورپ تُو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تُو بھی محفوظ نہیں۔ اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔ وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اُس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔ جس کے کان سننے کے ہوں سُنے کہ وہ وقت دور نہیں۔ میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اِس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے، نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے مگر خدا غضب میں دھیما ہے توبہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔ جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مُردہ ہے نہ کہ زندہ۔‘‘(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۶۸، ۲۶۹)
مزید پڑھیں: خاندانِ شہید مرحوم کے پُردرد حالات



