جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء پر لگی بعض نمائشوں کا تعارف
IAAAE انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز
اس نمائش میں انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز (IAAAE) کی جانب سے افریقہ میں جاری مختلف انسانی، تعلیمی اور ترقیاتی منصوبوں کو ماڈلز اور تصویری عکاسی کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ نمائش میں بالخصوص مسرور انٹرنیشنل کالج، واٹر فار لائف اور ماڈل ولیج کے منصوبے نمایاں ہیں، جو علم و ہنر کو خدمتِ انسانیت کے لیے بروئے کار لانے کی ایک روشن مثال ہیں۔

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز (IAAAE) ایک عالمی تنظیم ہے جو احمدی مسلم انجینئرز، آرکیٹیکٹس اور دیگر فنی ماہرین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔ اس تنظیم کا قیام ۱۹۸۰ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی ہدایت پر عمل میں آیا، تاکہ جدید سائنسی علوم، فنی مہارتوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

IAAAE دنیا کے مختلف ضرورت مند خطوں، خصوصاً افریقہ، میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے لیے اہم خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس کے منصوبوں میں صاف پانی کی فراہمی، متبادل توانائی، پائیدار تعمیرات، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، مساجد اور کمیونٹی مراکز کا قیام شامل ہے۔

واٹر فار لائف منصوبے کے ذریعے دور دراز اور ضرورت مند علاقوں میں صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ماڈل ولیج کے منصوبے میں رہائش، پانی، بجلی، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کو ایک مربوط نظام کے تحت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں پائیدار بہتری لائی جا سکے۔
تعلیم کے میدان میں مسرور انٹرنیشنل کالج IAAAE کے نمایاں منصوبوں میں شامل ہے، جہاں جدید تعلیم اور فنی تربیت کے ذریعے افریقہ کے نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

IAAAE کی سرگرمیاں اس حقیقت کی عملی عکاسی کرتی ہیں کہ علم اور فنی مہارتیں محض ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا مؤثر وسیلہ بھی ہیں۔ یہ تنظیم احمدی انجینئرز، آرکیٹیکٹس اور دیگر ماہرین کو اپنی صلاحیتیں رضاکارانہ طور پر بروئے کار لانے، باہمی تعاون کو فروغ دینے اور دنیا کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
ہیومینٹی فرسٹ
اس نمائش میں ہیومینٹی فرسٹ کے دنیا بھر میں جاری خدمتِ انسانیت کے منصوبوں کو تصویری عکاسی کے ذریعے پیش کیا گیا ہے، جبکہ ایک ویڈیو ڈاکومینٹری بھی نمائش کا اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے ناظرین کو اس عالمی ادارے کی مختلف سرگرمیوں اور انسانیت کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کا عملی تعارف حاصل ہوتا ہے۔ غزہ اور سوڈان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ہیومینٹی فرسٹ کے رضاکار مشکل حالات میں انسانیت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔

دنیا کے مختلف خطوں میں قدرتی آفات، جنگوں، غربت، بیماری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے متاثرہ انسانوں کی مدد کے لیے ہیومینٹی فرسٹ ایک نمایاں عالمی خدمت گار ادارے کے طور پر سرگرم ہے۔ ۱۹۹۵ء میں قائم ہونے والی یہ تنظیم مذہب، نسل، رنگ یا قومیت کی تفریق کے بغیر ضرورت مند افراد اور خاندانوں کی مدد کرتی ہے۔ آج ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل کا دائرۂ کار چھ براعظموں کے ۶۷؍ممالک تک پھیل چکا ہے، جہاں اس کے رضاکار ہنگامی امداد کے ساتھ ساتھ طویل المدت ترقیاتی منصوبوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔
ہیومینٹی فرسٹ کے اہم منصوبوں میں واٹر فار لائف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس پروگرام کے تحت افریقہ اور ایشیا کے دور دراز اور کم آمدنی والے علاقوں میں کنویں، سولر واٹر بورہولز، پانی کے پمپ اور فلٹریشن سسٹمز نصب کیے جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں اسکولوں میں صاف پانی، بہتر بیت الخلا اور صفائی کے انتظامات بھی فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو حفظانِ صحت اور صفائی کے اصولوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ صاف پانی کی فراہمی سے نہ صرف بیماریوں کی روک تھام میں مدد ملتی ہے بلکہ بچوں کی سکول حاضری اور مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیوں میں بھی بہتری آتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں نالج فار لائف پروگرام کے ذریعے محروم علاقوں میں سکول، تربیتی مراکز، آئی ٹی مراکز اور فنی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد صرف تعلیم کی فراہمی نہیں بلکہ افراد اور معاشروں کو خود کفیل بنانے کے لیے علم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ہیومینٹی فرسٹ کے مطابق گزشتہ ۳۰؍برسوں میں ۱۰۰؍سے زائد سکول اور ۵۶؍تربیتی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔
صحت کے شعبے میں گلوبل ہیلتھ اور گفٹ آف سائٹ پروگراموں کے تحت طبی کیمپ، ہسپتالوں کے ساتھ شراکت، طبی تربیت اور آنکھوں کے علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ خصوصاً موتیا کے آپریشنز اور آنکھوں کے معائنے کے ذریعے ایسے افراد کی بینائی بحال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
فوڈ سکیورٹی پروگرام کے تحت کاشت کاری کی تربیت، کمیونٹی گارڈنز اور دیگر منصوبوں کے ذریعے مقامی آبادیوں کو غذائی خود کفالت کی طرف گامزن کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کمیونٹی کیئر اور آرفن کیئر کے منصوبوں کے ذریعے ضرورت مند خاندانوں، یتیم بچوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کی جاتی ہے۔
قدرتی آفات اور جنگی حالات میں ہیومینٹی فرسٹ کی ڈیزاسٹر ریلیف ٹیمیں فوری امداد پہنچانے کے لیے سرگرم ہو جاتی ہیں۔ خوراک، صاف پانی، طبی امداد، عارضی رہائش اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ رضاکار متاثرہ آبادیوں کی بحالی میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
ہیومینٹی فرسٹ کی یہ سرگرمیاں اس حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ خدمتِ انسانیت کسی ایک خطے، قوم یا طبقے تک محدود نہیں۔ علم، مہارت، وسائل اور رضاکارانہ جذبے کو یکجا کرکے یہ ادارہ دنیا کے مختلف حصوں میں انسانیت کے لیے امید، سہارا اور خود کفالت کے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ یہ نمائش اسی عالمی خدمت کے سفر کی ایک جھلک پیش کرتی ہے، ایک ایسا سفر جس کا مقصد انسانیت کی خدمت اور ضرورت مند انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔
ریویو آف ریلیجنز اور نیشنل شعبہ تبلیغ برطانیہ کی مشترکہ نمائش
ریویو آف ریلیجنز اور نیشنل شعبہ تبلیغ جماعت احمدیہ برطانیہ کے اشتراک سے ایک معلوماتی اور فکر انگیز نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا مرکزی موضوع How Muslims Contributed to Global Civilisations یعنی ’’مسلمانوں نے عالمی تہذیبوں کی ترقی میں کس طرح کردار ادا کیا؟‘‘ ہے۔

یہ نمائش اسلامی تاریخ، سائنسی ترقی، طب، فلکیات، ریاضی، انجینئرنگ، معاشیات اور مذہبی پیش گوئیوں کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرتی ہے۔ نمائش کے ذریعے یہ حقیقت نمایاں کی گئی ہے کہ مسلمانوں نے مختلف ادوار میں علم و تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں اور عالمی تہذیب و تمدن کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
نمائش کے آغاز میں بڑے حروف میں ’’اقْرَأْ‘‘ تحریر ہے، جو قرآن کریم میں نازل ہونے والا پہلا لفظ ہے۔ اس کے ساتھ قرآن کریم کے قدیم نسخوں کے متعدد صفحات بھی تعارف کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ یہ حصہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اسلام نے اپنے آغاز ہی سے علم، مطالعہ اور تحقیق کی ترغیب دی۔
نمائش میں مسلم سائنس دانوں اور محققین کی علمی خدمات کو بھی نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔ طب کے میدان میں ابن النفیس کے تعارف اور ان کی علمی خدمات کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ اسی طرح سرجری کے آلات کے موجد مشہور مسلم طبیب الزہراوی کے تعارف اور ان کے نمایاں کارناموں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
فلکیات کے میدان میں مسلمانوں کی خدمات، ان کی مشاہداتی کاوشوں اور علمی تحقیقات کو بھی نمائش کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ریاضی کے میدان میں الخوارزمی کے تعارف اور ان کی خدمات کے ذریعے الجبرا کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔
مسلم خواتین کی علمی خدمات کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ نمائش میں اسلامی تاریخ کے سنہری دور کی نامور مسلمان خواتین کے تعارف اور ان کے علمی و عملی کارناموں کو پیش کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم و تحقیق کے میدان میں مسلمان خواتین نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
ابن الہیثم کی علمی خدمات اور بصریات کے میدان میں ان کی تحقیقات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ ان کی تحقیقات نے کیمرے کی ایجاد اور جدید بصری علوم کی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسی طرح جابر بن حیان کی معروف کتاب ’’الخواص الکبیر‘‘ کا ایک نسخہ اور اس کا تعارف بھی نمائش میں شامل ہے۔
طب کے میدان میں ابن سینا کی معروف کتاب ’’کتاب الطب‘‘ کے قدیم نسخے کو بھی نمائش کی زینت بنایا گیا ہے۔ یہ نسخہ اس عظیم مسلم طبیب کی علمی خدمات اور طب کی تاریخ میں ان کے غیر معمولی مقام کی یاد دلاتا ہے۔
نمائش میں جدید دور کے ممتاز احمدی مسلمان سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کا تعارف اور ان کے سائنسی کارنامے بھی پیش کیے گئے ہیں۔ ان کی سائنسی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلمانوں کی علمی روایت جدید دور میں بھی جاری رہی ہے۔
اسلامی معاشی نظام کے حوالے سے زکوٰۃ کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے۔ اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی نظامِ معیشت میں زکوٰۃ نہ صرف عبادت ہے بلکہ معاشرے میں معاشی توازن، غربت کے خاتمے اور ضرورت مند افراد کی کفالت کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
ریویو آف ریلیجنز کا جنوری ۱۹۰۳ء کا قدیم شمارہ بھی نمائش کا حصہ ہے، جو اس تاریخی رسالے کی علمی اور تبلیغی خدمات کی ایک اہم یادگار ہے۔
نمائش کے ایک اہم حصے میں ذوالقرنین کے بارے میں قرآن کریم، تاریخ اور بائبل کی روشنی میں معلومات پیش کی گئی ہیں۔
اس کے قریب ہی یاجوج و ماجوج اور دجال کے تعارف اور ان کے بارے میں پائی جانے والی حقیقت کو بھی مختلف تاریخی اور مذہبی حوالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
نمائش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی النسل ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو آپؑ کے خاندانی پس منظر اور تاریخی نسبت کے حوالے سے ایک اہم پہلو ہے۔
یہ مشترکہ نمائش اس امر کی مؤثر عکاسی کرتی ہے کہ اسلام نے علم، تحقیق، سائنس، طب، ریاضی، فلکیات، انجینئرنگ اور معاشرتی فلاح کے میدانوں میں دنیا کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ نمائش کے مختلف حصے،شاملین جلسہ کو اسلامی تاریخ کے علمی ورثے سے متعارف کراتے اور اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی علمی خدمات عالمی تہذیب کی تشکیل میں ایک اہم اور ناقابلِ فراموش باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔
جامعہ احمدیہ یوکے
جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء کے موقع پر جامعہ احمدیہ یوکے کی جانب سے بھی ایک معلوماتی اور تاریخی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں جامعہ احمدیہ کے قیام، ارتقا اور اس کے بنیادی مقصد کو مختلف تاریخی اور بصری مواد کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ یہ نمائش شاملینِ جلسہ کو اس اہم دینی تعلیمی ادارے کے تعارف اور اس کی خدمات سے آگاہ کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

نمائش میں جامعہ احمدیہ کی تاریخ کے مختلف ادوار کو اُجاگر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح یہ ادارہ اسلامی تعلیمات، قرآنِ کریم اور دینی علوم کی تدریس کے ساتھ ساتھ تبلیغِ اسلام کے لیے مبلغین اور مربیان کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جامعہ احمدیہ سے وابستہ مختلف تاریخی پہلوؤں اور اس کے تعلیمی نظام کو بھی مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
اس نمائش کا ایک خصوصی حصہ مرہمِ عیسیٰؑ سے متعلق ہے۔ اس میں مرہمِ عیسیٰ ؑکا تعارف اور اس کا نسخہ بھی زائرین کے لیے پیش کیا گیا ہے، جو اسلامی تاریخ، حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیب سے نجات اور حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی تحریرات سے متعلق ایک اہم موضوع ہے۔ اس حصے کے ذریعے شاملینِ جلسہ کو اس تاریخی و علمی موضوع کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

جامعہ احمدیہ یوکے کی یہ نمائش نہ صرف ادارے کی تاریخ اور تعلیمی خدمات کو اُجاگر کرتی ہے بلکہ اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ جماعت احمدیہ میں دینی تعلیم، تربیت اور تبلیغ کے لیے منظّم ادارہ جاتی نظام قائم ہے۔ نمائش کے ذریعے جامعہ احمدیہ کے علمی و تربیتی کردار کو مؤثر انداز میں نمایاں کیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل تعلیم القرآن اکیڈمی
جلسہ سالانہ یوکے میں انٹرنیشنل تعلیم القرآن اکیڈمی نے بھی نمائش کا انتظام کیاہے۔ اس ادارے کا آغاز اکتوبر ۲۰۲۰ء میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات پر کیا گیا۔ اس کا مقصد افرادِ جماعت کو قرآنِ کریم ناظرہ اور ترجمہ سیکھنے اور سکھانے کے لیے باقاعدہ کورسز اور اساتذہ کی صورت میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

نمائش میں قرآنِ کریم سے متعلق آیاتِ قرآنی، احادیثِ نبویہ، حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام اور خلفائے سلسلہ احمدیہ کے ارشادات و اقتباسات پیش کیے گئے ہیں۔

انٹرنیشنل تعلیم القرآن اکیڈمی، جسے ITQA کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا بھر کے احمدی مسلمانوں کے لیے قرآنِ کریم سیکھنے اور سکھانے کا ایک آن لائن پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
اس اکیڈمی کے ذریعے مختلف عمر کے افراد اپنی ضرورت اور علمی سطح کے مطابق قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ابتدائی طلبہ کے لیے ناظرہ قرآنِ کریم، جبکہ مزید ترقی کے خواہش مند افراد کے لیے ترجمہ، تفسیر اور قواعد کے کورسز بھی دستیاب ہیں۔ اکیڈمی کا مقصد صرف تلاوت کی درستگی بہتر بنانا نہیں بلکہ قرآنِ کریم کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات سے گہرا تعلق پیدا کرنے میں بھی مدد فراہم کرنا ہے۔
اکیڈمی میں دنیا بھر سے طلبہ آن لائن رجسٹریشن کروا سکتے ہیں، جبکہ تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعے مختلف زبانوں میں تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے۔ طلبہ کی سہولت کے لیے مفت آن لائن مطالعاتی مواد بھی فراہم کیا جاتا ہے، جسے ذاتی مطالعہ اور مشق کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تعلیمی نظام میں امتحانات کا بھی اہتمام ہے، اور کامیاب طلبہ کو قابلیت کے سرٹیفیکیٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآنِ کریم کی تعلیم دینے کے خواہش مند افراد کے لیے اساتذہ کی رجسٹریشن اور تربیت کا نظام بھی موجود ہے۔
یوں انٹرنیشنل تعلیم القرآن اکیڈمی جدید آن لائن سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی تعلیم کو دنیا بھر کے احمدی مسلمانوں تک پہنچانے کی ایک مؤثر اور قابلِ قدر کوشش ہے۔
رجسٹریشن اور مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں: www.itqa.org.uk
شعبہ امورِ خارجہ
جلسہ سالانہ یوکے کے بابرکت موقع پر شعبہ امورِ خارجہ کی جانب سے ایک اہم اور فکر انگیز نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں پاکستان میں احمدیوں کو درپیش مذہبی، قانونی اور معاشرتی مشکلات کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ نمائش کا مقصد حاضرینِ جلسہ کو ان حالات سے آگاہ کرنا ہے جن کا سامنا احمدی مسلمان کئی دہائیوں سے اپنے مذہبی عقائد اور شناخت کی وجہ سے کر رہے ہیں۔

نمائش میں پاکستان کے آئینی اور قانونی نظام میں احمدیوں کے خلاف عائد پابندیوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ ۱۹۷۴ء کی دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا، جبکہ ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں جاری کیے گئے آرڈیننس XX کے ذریعے احمدیوں کے مذہبی اظہار اور عبادت پر مزید سخت پابندیاں عائد ہوئیں۔ ان قوانین کے تحت احمدیوں کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اپنے مذہب کو اسلام کہنا، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا، اذان دینا اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنا قابلِ تعزیر بنا دیا گیا۔
نمائش میں لاہور میں ۲۸؍مئی ۲۰۱۰ء کو احمدیہ مساجد پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے احمدیوں کی تصاویر بھی آویزاں کی گئی ہیں۔ یہ تصاویر اس المناک واقعہ کی یاد تازہ کرتی ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کے انسانی المیے کو نمایاں کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ مبارک ثانی صاحب اور شیراز احمد صاحب کی تصاویر اور ان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔ ان واقعات کے ذریعے یہ دکھایا گیا ہے کہ احمدیوں کو نہ صرف مذہبی اظہار بلکہ قرآنِ کریم اور مذہبی مواد سے متعلق معاملات میں بھی قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے
www.stopthepersecution.org
ویب سائٹ سے بھی استفادہ کیا جاسکتاہے، جہاں پاکستان میں احمدیوں کو درپیش قانونی پابندیوں، مذہبی آزادی کی محدودیت، تشدّد، عبادت گاہوں اور قبروں کی بے حرمتی سمیت مختلف مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات اور رپورٹس فراہم کی گئی ہیں۔
(رپورٹ:احسان احمد۔ ٹیم الفضل انٹرنیشنل)