لیگ آف نیشنز کی طرح اقوام متحدہ کا ادارہ کیوں ناکام ہوا؟
حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں تجزیہ
چار اصول لیگ آف نیشنز کے قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں جب تک ان پر عمل نہیں ہوگا امن پیدا نہیں ہو سکتا۔پہلی لیگ آف نیشنز بھی ناکام رہی اور اب دوسری لیگ آف نیشنز بھی ناکام رہے گی۔ پس ضروری ہے کہ دنیا اسلام کے اصولوں کو اپنائے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے کیونکہ جب تک یہ پارٹی سسٹم جاری ہے اور جب تک یہ امتیاز باقی ہے کہ یہ چھوٹی قوم ہے اور وہ بڑی قوم ہے اور یہ کمزور حکومت ہے اور وہ طاقتور حکومت ہے اُس وقت تک دنیا کے امن کے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتے(حضرت مصلح موعودؓ)
آج کل کے دَور میں جب ہر طرف سے خون ریزی اور جنگوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ کبھی اِس خطہ میں اور کبھی اُس خطہ میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں۔ کہیں نفرت انگیز شعلہ بیانی کا مظاہرہ ہوتا ہے اور کہیں پر امن قائم کرنے کے لیے دوڑ دھوپ شروع ہوتی ہے۔ پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئے دوستوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔ اس اُتھل پُتھل میں اگر کوئی آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کی یہ غزل پڑھے تو آپ کے ذہن میں کون سے ادارے کا نام آئے گا؟
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں
جی ہاں آپ کا اندازہ درست ہے۔ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے عالمی ادارےاقوام متحدہ کی یہی حالت ہے۔ جب پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو فاتح اقوام نے لیگ آف نیشنز کے نام سے دنیا کے مختلف ممالک کی ایک تنظیم قائم کی تاکہ آئندہ سے دنیا میں خوفناک جنگوں کا راستہ روکا جا سکے۔ اور پُرامن اور منصفانہ طریق پر مختلف ممالک کے درمیان اختلافات کو حل کیا جا سکے۔ یہ تنظیم اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکی۔ دنیا میں امن تو کیا قائم ہونا تھا لیگ آف نیشنز کی حیات میں ہی پہلی جنگ عظیم سے کہیں زیادہ بھیانک جنگ یعنی دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ جب لیگ آف نیشنز کا جنازہ بغیر کسی دھوم کے نکلا تو انہیں کھنڈرات پر اقوام متحدہ کی بنیاد ڈالی گئی۔ اب یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا وجہ ہے کہ گذشتہ سو سال میں بننے والی دونوں بڑی عالمی تنظیمیں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
سب سے پہلے ہم لیگ آف نیشنز کے قیام اور زوال کا تجزیہ کریں گے۔ کیونکہ لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کی ناکامیاں ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں۔ اور اس تجزیہ کے لیے پہلے اس ضمن میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشادات پیش کریں گے جو کہ اس وقت کے ہیں جب ان دونوں تنظیموں کا قیام عمل میں آیا تھا اور ان کے قیام سے بڑی امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں۔ لیگ آف نیشنز نے جنوری ۱۹۲۰ء میں کام شروع کیا۔ امریکی صدر ووڈرو ولسن نے اس کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا لیکن وہ امریکی سینٹ کو اس کا ممبر بننے پر آمادہ نہ کر سکے۔
اس تنظیم کے چارٹر میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ اس کے ممبر ممالک آپس میں اختلافات کی صورت میں مذاکرات اور عالمی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کر کے فیصلہ کریں گے۔ اور اگر کوئی ممبر ملک دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہو تو اس بارے میں لیگ آف نیشنز کے اصول میں نمبر ۱۶ میں اس کا یہ حل تجویز کیا گیا تھا:
Should any Member of the League resort to war in disregard of its covenants under Articles 12, 13 or 15, it shall ipso facto be deemed to have committed an act of war against all other Members of the League, which hereby undertake immediately to subject it to the severance of all trade or financial relations, the prohibition of all intercourse between their nationals and the nationals of the covenant-breaking State, and the prevention of all financial, commercial or personal intercourse between the nationals of the covenant-breaking State and the nationals of any other State, whether a Member of the League or not. It shall be the duty of the Council in such case to recommend to the several Governments concerned what effective military, naval or air force the Members of the League shall severally contribute to the armed forces to be used to protect the covenants of the League.
ترجمہ: اگر کوئی ممبر ملک اس عہد نامہ کی شق ۱۲، ۱۳ اور ۱۵ کے باوجود جنگ کا راستہ اختیار کرے تو اس کا لازمی مطلب یہ ہوگا کہ اس نے لیگ کےتمام دوسرے ممبر ممالک کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ اور یہ باقی ممالک فوری طور پر اس ملک سے تجارتی اور مالی تعلقات توڑ لیں گے۔ اور ان ممالک کے شہری اس جارح ملک کے شہریوں سے میل ملاپ بند کردیں گے۔ اور دوسرے ممالک کے شہری اس جارحیت کرنے والے ملک کے شہریوں سے مالی ، تجارتی اور ذاتی تعلقات توڑ دیں گے۔ خواہ یہ ملک لیگ کا ممبر ہو یا نہ ہو۔ ایسی صورت حال میں یہ کونسل کا فرض ہوگا کہ مختلف حکومتوں کو یہ ہدایت کرے کہ وہ فوجی، بحری اور فضائی قوت کے ساتھ اپنا حصہ ڈال کر لیگ کے عہد کی حفاظت کریں۔
بظاہر یہ بہت خوبصورت اور بلند و بالا خیالات ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے پُرامن بنانے کے لیے ایک تاریخ ساز عہد کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ پہلی جنگ عظیم جیسی تباہی کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔ یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ جب بھی کوئی ملک بے جا جارحیت کا ارتکاب کرے گاتو باقی تمام ممالک ا س ملک سے تمام مالی اور تجارتی تعلقات توڑ دیں گے۔ پوری دنیا اس کے شہریوں کا بھی بائیکاٹ کر دے گی تو کون سا ملک ہوگا ہو جو تمام دنیا سے اس طرح کی ٹکر لے سکے گا۔ اور اس کے علاوہ تمام ممبر ممالک اپنی فوجی، بحری اور فضائی قوت، اس ملک کا مقابلہ کرنے کے لیے پیش کردیں گے۔ ظاہر ہے اس وقت لیگ آف نیشنز کے اس عہد سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں۔
لیگ آف نیشنز کے قیام پر حضرت مصلح موعود ؓ کا تجزیہ
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ۱۹۲۰ء میں لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا اور ۱۹۲۴ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ ویمبلے کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن تشریف لے گئے۔ اس کانفرنس میں حضورؓ کا تاریخی مضمون پڑھا گیا جو ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ اس میں حضورؓ نے فرمایا: ’’جھگڑوں کو مٹانے کے لیے ایک عجیب حکم دیا ہے جسے آج ہم لیگ آف نیشنز کی شکل میں دیکھتے ہیں لیکن ابھی تک یہ لیگ ویسی مکمل نہیں ہوئی جس حد تک کہ اسلام اس کو لے جانا چاہتا ہے اسلام یہ حکم دیتا ہےوَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمۡرِ اللّٰہِۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ (الحجرات:۱۰) یعنی اگر دو قومیں مسلمانوں میں سے آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرادو یعنی دوسری قوموں کو چاہئے کہ بیچ میں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو وجہ جنگ کی ہے اس کو مٹائیں اور ہر ایک کو اس کا حق دلائیں لیکن اگر با وجود اس کے ایک قوم باز نہ آئے اور دوسری قوم پر حملہ کر دے اور مشترکہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے تو اس قوم سے جو زیادتی کرتی ہے سب قومیں مل کر لڑو یہاں تک کہ خدا کے حکم کی طرف وہ لوٹ آئے یعنی ظلم کا خیال چھوڑ دے۔ پس اگر وہ اس امر کی طرف مائل ہو جائے تو ان دونوں قوموں میں پھر صلح کرادو مگر انصاف اور عدل سے اور مروّت سے کام لو۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اس آیت میں بین الاقوامی صلح کے قیام کے لیے مندرجہ ذیل لطیف گُر بتائے گئے ہیں۔
سب سے اوّل جب دو قوموں میں لڑائی اور فساد کے آثار ہوں معاََ دوسری قومیں بجائے ایک یا دوسری کی طرفداری کرنے کے ان دونوں کو نوٹس دیں کہ وہ قوموں کی پنچائت سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرائیں۔ اگر وہ منظور کر لیں تو جھگڑ ا مٹ جائے گا۔ لیکن اگر ان میں سے ایک نہ مانے اور لڑائی پر تیار ہو جائے تو دوسرا قدم یہ اُٹھایا جائے کہ باقی سب اقوام اس کے ساتھ مل کر لڑیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ سب اقوام کا مقابلہ ایک قوم نہیں کر سکتی۔ ضرور ہے کہ جلد اس کو ہوش آجائے اور وہ صلح پر آمادہ ہو جائے۔ پس جب وہ صلح کے لیے تیار ہو تو تیسرا قدم یہ اٹھائیں کہ ان دونوں قوموں میں جن کے جھگڑے کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی تھی صلح کرادیں۔ یعنی اس وقت اپنے آپ کو فریق مخالف بنا کر خود اس سے معاہدات کرنے نہ بیٹھیں بلکہ اپنے معاہدات توجو پہلے تھے وہی رہنے دیں۔ صرف اسی پہلے جھگڑے کا فیصلہ کریں جس کے سبب سے جنگ ہوئی تھی اس جنگ کی وجہ سے نئے مطالبات قائم کر کے ہمیشہ کےفساد کی بنیاد نہ ڈالیں۔
چوتھے یہ امر مد نظر رکھیں کہ معاہدہ انصاف پر مبنی ہو یہ نہ ہو کہ چونکہ ایک فریق مخالفت کر چکا ہے اس لیے اس کے خلاف فیصلہ کردو بلکہ با وجود جنگ کے اپنے آپ کو ثالثوں کی ہی صف میں رکھو فریق مخالف نہ بن جائو۔ ان امور کو مد نظر رکھ کر اگر کوئی انجمن بنائی جائے تو دیکھو کہ کس طرح دنیا میں بین الاقوامی صلح ہوجاتی ہے سب فساد اسی امر سے پیدا ہوتا ہے کہ اوّل تو جب جھگڑا ہوتا ہے دوسری طاقتیں الگ بیٹھی دیکھتی رہتی ہیں اور جب دخل دیتی ہیں تو الگ الگ دخل دیتی ہیں۔ کوئی کسی کے ساتھ ہو جاتی ہے اور کوئی کسی کے ساتھ اور یہ جنگ کو بڑھاتا ہے گھٹاتا نہیں۔ اگر دوسری طاقتیں آپس میں مل کر بغیر اپنے خیالات کے اظہار کیے کے پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ حکومتوں کی پنچائت کے ذریعہ اس جھگڑے کو طے کیا جائے اور سب مل کر متفقہ طور پر ایک کو نہیں دونوں کو یا جس قدر حکومتیں جھگڑ رہی ہوں سب کو توجہ دلائیں کہ لڑنے کی ضرورت نہیں بین الاقوامی مجلس میں اپنے خیالات پیش کرو اور انصاف کے اس اصل کو مدنظر رکھیں کہ وہ پہلے سے کوئی خیالات قائم نہ کر لیں جس طرح جج فریقین کی باتیں سننے سے پہلے کوئی رائے قائم نہیں کرتا۔ پھر دونو فریق کی بات سن کر ایک فیصلہ کریں جو فریق تسلیم نہ کرے سب مل کر اس سے لڑیں اور جب وہ زیر ہوجائے تو اس وقت اپنے مطالبات اپنی طرف سے پیش نہ کریں بلکہ پہلے ہی جھگڑے کو سلجھا دیں۔ کیونکہ اگر ایسے موقع پرشکست خوردہ قوم کو لوٹنے کی تجویز ہوئی اور ہر ایک قوم نے مختلف ناموں سے اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی تولازماََ ان فائدہ اٹھانے والی قوموں میں آپس میں بھی تباغض اور تحاسد بڑھے گااور جس قوم کو وہ زیر کریں گی اس کے ساتھ بھی نیک تعلقات پیدا نہیں ہو سکیں گےاور مجلس بَیْنَ الْاَقْوَامْ سے دنیا کی حکومتوں کو سچی ہمدردی بھی پیدا نہ ہو سکے گی۔ پس چاہئے کہ اس جنگ کے بعد صرف اسی جھگڑے کا تصفیہ ہوجس پر جنگ شروع ہو ئی تھی نہ کہ کسی اور امر کا۔
اب رہا یہ سوال کہ جو اخراجات جنگ پر ہوں گے وہ کس طرح برداشت کیے جاویں ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ اخراجات جنگ سب قوموں کو خود برداشت کرنے چاہئیں اور یہ بوجھ ہر گز زیادہ نہیں ہوگا۔ اوّل تو اس وجہ سے کہ مذکورہ بالا انتظام کی صورت میں جنگیں کم ہو جائیں گی اور کسی قوم کو جنگ کرنے کی جرأت نہ ہوگی۔ دوسرے چونکہ اس انتظام میں خود غرضی اور بوالہوسی کا دخل نہ ہوگا سب اقوام اس کی طرف مائل ہو جائیں گی اور مصارف جنگ اس قدر تقسیم ہو جائیں گے کہ ان کا بوجھ محسوس نہ ہوگا۔
تیسرے چونکہ اس انتظام کا فائدہ ہر اک قوم کو پہنچے گا کیونکہ کوئی قوم نہیں جو جنگ میں مبتلاء ہونے کے خطرہ سے محفوظ ہو اس لیے انجام کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خرچ موجودہ اخراجات سے جو تیاری جنگ کی نیت سے حکومتوں کو کرنے پڑتے ہیں کم ہوں گے اور اگر بفرض محال کچھ زائد خرچ کرنا بھی پڑے تو جس طرح افراد کا فرض ہے کہ امن عامہ کے قیام کی خاطر قربانی کریں اقوام کا بھی فرض ہے کہ قربانی کر کے امن کو قائم رکھیں۔ وہ اخلاق کی حکومت سے بالا نہیں ہیں بلکہ اس کے ماتحت ہیں۔
میرے نزدیک سب فساد اسی اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم کی پیش کردہ تجویز سے کیا جاتا ہے (۱)یعنی آپس کے انفرادی سمجھوتوں کی وجہ سے جو پہلے سے کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کی بجائے سب اقوام کا ایک معاہدہ ہونا چاہیے۔
(۲) جھگڑے کو بڑھنے دینے کے سبب سے۔
(۳) حکومتوں کے جنبہ داری کو اختیار کرکے ایک فریق کی حمایت میں دخل دینے کے سبب سے۔
(۴) شکست کے بعد اس قوم کے حصے بخرے کرنے اور ذاتی فوائد اٹھانے کی خواہش کے پیدا ہوجانے کے سبب سے۔
(۵) امن عامہ کے لیے قربانی کرنے کے لیے تیار نہ ہونے کے سبب سے۔
ان پانچوں نقائص کو دور کر دیا جائے تو قرآن کریم کی بتائی ہوئی لیگ آف نیشنز بنتی ہے اور اصل میں ایسی ہی لیگ کوئی فائدہ بھی دے سکتی ہے نہ وہ لیگ جو اپنی ہستی کے قیام کے لیے لوگوں کی مہربانی کی نگاہوں کی جستجو میں بیٹھی رہے۔‘‘ (انوارالعلوم جلد ۸ صفحہ۳۱۳تا ۳۱۶)
جینیوا پروٹوکول کی ناکامی
اس اقتباس میں درج اصول واضح ہیں کہ اگر اقوام عالم کی کسی انجمن نے کامیاب ہونا ہے تو کن بنیادوں پر اس کو بنانا پڑے گا۔ اور اس اقتباس کے پہلے اور آخری حصہ میں یہ واضح بیان کیا گیا ہے کہ لیگ آف نیشنز میں کیا بنیادی نقص موجود ہے جو اس کی کامیابی کی راہ میں حائل ہوگا۔ یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ جس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا یہ مضمون ویمبلے کانفرنس میں پڑھا گیا، اس وقت لیگ آف نیشنز میں اس بات پر غور ہو رہا تھا کہ حملہ آور ملک کو ذمہ دار قرار دے کر، اس کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ کبھی یہ تجویز دی جاتی کہ لیگ آف نیشنز کی کونسل چند دنوں میں فیصلہ کرے کہ کون سا ملک قصوروار ہے اور پھر ممبر ممالک اپنے عسکری وسائل لیگ آف نیشنز کے سپرد کریں اور وہ حملہ آور ملک کے خلاف کارروائی کرے۔ برطانیہ اور فرانس مختلف تجاویز پر اصرار کر رہے تھے۔ کبھی یہ تجویز سامنے آتی کہ عالمی عدالت میں دونوں ملک اپنا مقدمہ پیش کریں اور یہ عدالت فیصلہ کرے کہ کون سا ملک لیگ کے عہد کو توڑنے کا باعث بنا ہے اور پھر اس ملک کے خلاف کارروائی ہو۔ بہر حال ۱۹۲۴ء میں ہی اس بارے میں تجاویز کا ایک پروٹوکول تیار ہوا۔ لیکن پھر یہی سوال کہ جنگی وسائل کون سا ملک مہیا کرے گا ؟ بین الاقوامی تنازعات کی صورت میں ظاہر ہے بحری قوت کی اشد ضرورت تھی۔ اس تنظیم کے ممبر ممالک میں سب سے زیادہ بڑی اور جدید بحریہ برطانیہ کی تھی ۔ اس کی بحریہ نے اپنی حکومت کو لکھ دیا کہ ہم بین الاقوامی تنازعات میں اپنی بحری جہازوں کو جھونکنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پروٹوکول جو کہ جینیوا پروٹوکول کے نام سے معروف تھا کبھی بھی عملی طور پر منظور ہوکر نافذ نہ ہو سکا۔ اور نہ ہی دنیا میں امن قائم رہ سکا۔ انہی ناکامیوں سے دوسری جنگ عظیم نے جنم لیا۔ اور ایک مرتبہ پھر کروڑوں انسان جنگ کی دیوی پر قربان کر دیے گئے۔
(F.S.Northedge (1986). The league of Nations: its life and times. Homes and Meiers. P90-95)
مفتوح ملک کے حصے بخرے کرنے کی روایت
اب حضورؓ کے اس بیان فرمودہ نکتہ کی طرف آتے ہیں کہ شکست کے بعد فاتحین کو شکست خوردہ ملک کے حصے بخرے نہیں کرنے چاہییں کیونکہ اس سے مختلف ممالک کے درمیان دشمنی بڑھے گی اور پائیدار امن کبھی قائم نہیں ہو سکے گا۔ جیسا کہ یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ لیکچراس وقت دیا گیا تھاجب لیگ آف نیشنز کے قیام کو صرف چند سال ہی ہوئے تھے۔ جب پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو فاتح ممالک نے شکست کھانے والے جرمنی سے ایک معاہدہ کیا جسے Treaty of Versailles کہا جاتا ہے۔ لیگ آف نیشنز نے بھی اسی معاہدہ کے نتیجے میں جنم لیا تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس معاہدہ کو کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ نے وہی غلطی کی تھی جس کے بارے میں حضور اقدسؓ نے خبردار کیا تھا۔ اس معاہدہ کی آڑ میں جرمنی کا دس بارہ فیصد علاقہ اور جرمن آبادی جرمنی سے علیحدہ کر کے مختلف ممالک کوعطا کر دی گئی تھی۔ جن ممالک کو یہ علاقے بخشے گئے تھے ان میں فرانس اور ڈنمارک بھی شامل تھے اور جرمنی کا ایک شہر لیگ آف نیشنز کے ماتحت کر دیا گیا۔
لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ جب ہٹلر نے اپنی سیاسی مہم شروع کی تو اس معاہدہ میں کی جانے والی زیادتیوں کو اپنے پراپیگنڈا میں استعمال کر کے جرمن عوام کی ہمدردیاں حاصل کیں۔ ہٹلر اپنی سرگذشت Mein Kampfمیں لکھتا ہے:
Yes. A treaty of that kind can be used for such a purpose. Its unbounded oppression and its impudent demands were an excellent propaganda weapon to arouse the sluggish spirit of the nation and restore its vitality. (page 335)
ترجمہ: ہاں ایسے معاہدہ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بے تحاشہ اور شرم سے عاری جبرو استبداد کو ایک نہایت عمدہ پراپیگنڈا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے ایک قوم کی سست روح کو بیدار کر کے اس کی توانائی کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
گویا جس معاہدہ کو جرمنی کو دبانے کے لیے اس ملک پر مسلط کیا گیا تھا، اسی کو ہٹلر نے ایک ہتھیار بنا کر وہ پروپیگنڈا کیا کہ اس کے نتیجہ میں یورپ کا ایک بڑا حصہ جنگ کے شعلوں میں جل کر خاک ہو گیا۔
عرب ممالک سے زیادتی
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس تجزیہ میں فرمایا تھا کہ جب امن کے لیے کوششیں شروع ہوں تو صلح کرانے والی بڑی طاقتیں دوسرے ممالک کے حصے بخرے کر کے خود فائدہ اٹھانا شروع کر دیتی ہیں۔ لیگ آف نیشنز روز اوّل سے اسی بیماری میں مبتلا تھی۔ چنانچہ لیگ آف نیشنز کے عہد نامہ (Covenant)کی شق ۲۲؍میں دنیا کے مختلف علاقوں کی بندر بانٹ کی گئی تھی۔ اور اس عمل کی بنیاد یہ بنائی گئی تھی کہ ابھی کئی ممالک اور قومیں اس قابل نہیں ہیں کہ وہ اپنے آپ کو سنبھال سکیں لہذا انہیں ترقی یافتہ اقوام کے مینڈیٹ کے ماتحت کردیا جائے۔ اس میں ختم ہونے والی سلطنت عثمانیہ کے تحت عرب ممالک کے علاوہ افریقہ کے بہت سے ممالک بھی شامل تھے۔ اس کے بعد لیگ آف نیشنز کے عہد نامہ کی شق ۲۲ کی روشنی میں ۲۵؍اپریل ۱۹۲۰ء کو ایک کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی گئی اور اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ شام اور عراق کو ہم عارضی آزادی عطا کرتے ہیں۔ فلسطین کو برطانیہ کی کفالت میں یا مینڈیٹ میں دیا جاتا ہے۔ نہ صرف یہ علاقہ برطانیہ کے زیرنگین ہوگا بلکہ اس کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اس میں یہودیوں کو آباد کر کے انہیں اپنا National Home بنانے کی سہولت مہیا کرے۔ اور لبنان اور شام پر فرانس کے مینڈیٹ اور فلسطین اور عراق پر برطانیہ کے مینڈیٹ کی نگرانی ہو گی۔ اس غلط فیصلہ نے جتنی خون ریزی، فساد اور المیوں کو جنم دیا ہے وہ کسی کی نظر سے پوشیدہ نہیں اور آج تک دنیا ان نام نہاد عقلمندوں کے فیصلوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔
لیگ آف نیشنز کی ناکامی کا ایک تجزیہ
حضورؓ نے یہ اہم نکتہ بیان فرمایا تھا کہ سب اقوام کا متحدہ معاہدہ ہونا چاہیے۔ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے مصنفF.S. Northedgeلیگ کی ناکامی کے اسباب لکھتے ہیں:
One of the most serious of these was the league’s lack of universality, those menacing empty chairs marked with the name of Germany, Italy, Japan, and the United States for all or part of the league’s history. (F.S.Northedge (1986). The league of Nations: its life and times. Homes and Meiers. P 278)
ترجمہ: ان میں سے سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ یہ لیگ عالمی نہیں تھی۔ جن کرسیوں پر جرمنی، اٹلی، جاپان اور یونائیٹڈ سٹیٹس کے نام لکھے ہوئے تھے وہ لیگ کی تمام تاریخ میں یا اس کے کچھ حصہ میں خالی رہ کر مسئلہ پیدا کرتی رہیں۔
جیسا کہ اوپر حوالہ درج کر دیا گیا ہے کہ حضورؓ نے ۱۹۲۴ء میں نشاندہی فرمائی تھی کہ ایسی لیگ کامیاب نہیں ہو سکتی جو کہ اپنی کامیابی کے لیے دوسروں کی مہربانی کی منتظر رہے۔ اور اس وقت لیگ آف نیشنز اور اب اقوام متحدہ کی یہی کیفیت ہے۔ جب ۱۹۴۵ء میں لیگ آف نیشنز کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ لیا گیا تو یہی تجزیہ نگار اس نتیجہ پر پہنچے :
In 1945, therefore there was general agreement that the league had failed because it lacked the teeth or the means to enforce its will.
ترجمہ: ۱۹۴۵ء میں اس بات پر اتفاق تھا کہ لیگ اس لیے ناکام ہو گئی کیونکہ اس کے دانت ہی نہیں تھے یعنی اس کے پاس وہ ذرائع میسر نہیں تھے جس پر یہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کراسکتی۔
(F.S.Northedge (1986). The league of Nations: its life and times. Homes and Meiers. P 279)
اقوام متحدہ کے قیام پر حضورؓ کا تجزیہ
بہر حال لیگ آف نیشنز ناکام ہوئی اور دوسری جنگ عظیم کا آسیب دنیا پر مسلط ہوا۔ اب دنیا بھر کے مدبّرین سر جوڑ کر بیٹھے کہ ایک نئی عالمی تنظیم بنائی جائے جو کہ دنیا میں امن قائم کرنے کا بیڑا اٹھائے۔ اور اقوام متحدہ کی تنظیم قائم کی گئی۔ ابھی اقوام متحدہ کے قیام کو ایک سال ہی گذرا تھا کہ اکتوبر ۱۹۴۶ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے دہلی میں ایک لیکچر دیا۔ اور اس میں اقوام متحدہ کے بارے میں حضورؓ نے فرمایا :’اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ تمام دنیا کا اتحاد ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ تو میں اسے یہی کہوں گا کہ بظاہر نا ممکن ہے ہاں اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر ساری دنیا میں ایک حکومت قائم نہ ہو سکے تو تمام حکومتیں مل کر ایک ایسا نظام قائم کریں جو کہ اس کے قائم مقام ہو سکے۔ یورپ میں جب لیگ آف نیشنز کا تقرر ہوا تواسے یورپ نے اپنی بہت بڑی ایجاد سمجھا لیکن وہ لیگ آف نیشنز کامیاب نہ ہوسکی کیونکہ اس میں بعض خامیاں تھیں۔ لیکن قرآن کریم نے جو لیگ آف نیشنز بیان کی ہے وہ ایسی مکمل اور مضبوط ہے کہ اس پر چلنے سے کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔
میں نے ۱۹۲۴ء میں جو مضمون ویمبلے کانفرنس لنڈن کے لیے تیار کیا تھا۔ اُس میں مَیں نے اس مضمون کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمۡرِ اللّٰہِ ۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا… (الحجرات:۱۰) یعنی اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرادو یعنی دوسری قوموں کو چاہئے کہ بیچ میں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو جنگ کا اصل باعث ہواس کو مٹائیں اور ہر ایک کو اس کا حق دلائیں لیکن اگر صلح ہو جانے کے بعد ان میں سے ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کر دے اور مشترکہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے تو سب قومیں مل کر اس سے لڑیں یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف لوٹ آئے یعنی ظلم سے دستکش ہو جائے۔ پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو ان دونوں قوموں میں پھر صلح کرادو، مگر انصاف اور عدل سے کام لو اور صلح کرتے وقت اپنے فوائد سامنے نہ رکھا کرو اللہ تعالیٰ یقینا ََ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام حکومتوں کا فرض قرار دیا ہے کہ وہ لڑنے والی حکومتوں کی آپس میں صلح کروائیں اور جو حکومت بغاوت کرے سب حکومتیں مل کر اس کا مقابلہ کریں یہاں تک کہ وہ ہتھیار رکھ دے اور صلح کے لیے تیار ہوجائے اور جب صلح کرائی جائے تو عدل و انصاف سے کام لیا جائے اور بندر بانٹ کی طرح حکومتیں خود ہی حصہ دارنہ بن بیٹھیں۔ …
یہی حال یورپ والوں کا ہے جب وہ صلح کرانے لگتے ہیں تو اپنے مطالبات لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہم نے تمہاری صلح کرائی ہے اس کے عوض میں ہمیں اپنے ملک کا فلاں فلاں حصہ دے دو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے یہ چیز آئندہ کے لیے زیادہ بغض اور حسد پیدا کرتی ہیں۔
پس سارے جھگڑے پارٹی بازی کی وجہ سے ہیں مختلف حکومتوں کو یہ یقین ہے کہ ان کی قومیں صرف اس خیال سے کہ وہ ان کی حکومتیں ہیں ان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں اس لیے وہ بے خوف ہو کر دوسری حکومتوں پر حملہ کر دیتی ہیں۔ اس وقت قومی تعصب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اپنی قوم کا سوال پیدا ہوتا ہے تو سب لوگ بلا غور کرنے کے ایک آواز پر جمع ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہماری حکومت کی غلطی ہے تو ہم اسے سمجھا دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زیادتی کرنے والی حکومت کو زیادتی سے روکو اور ان حکومتوں کی آپس میں صلح کرادو اور کوئی نئی شرائط پیش نہ کرو اور نہ ہی تم اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرو لیکن موجودہ جنگ کا ہی حال دیکھ لو کہ حکومتیں طاقت کے زور پر اپنے حصے مانگ رہی ہیں اور چھوٹی چھوٹی حکومتوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس طریق کو اختیار کرنے سے کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا جیسی آزادی کی ضرورت روس کو ہے یا جیسی آزادی کی ضرورت برطانیہ کو ہے یا جیسی آزادی کی ضرورت امریکہ کو ہے اسی طرح آزادی کی ضرورت چھوٹی حکومتوں کو بھی ہے۔ آزادی کے لحاظ سے یونٹ سب کے لیے ایک جیسا ہے۔ یہ نہیں کہ ان بڑی حکومتوں کے دماغ تو انسانوں کے دماغ ہیں لیکن چھوٹی حکومتوں کے دماغ جانوروں کے دماغ ہیں۔ جیسے وہ انسان ہیں ویسے ہی یہ انسان ہیں اور آزادی کا احساس جیسا ان بڑی حکومتوں کو ہے ویسا ہی ان چھوٹی حکومتوں کو ہے۔ کیا ہالینڈ کا ایک آدمی ویسے ہی احساسات نہیں رکھتا جیسے احساسات برطانیہ کا آدمی رکھتا ہے۔ جب احساسات ایک جیسے ہیں تو بڑی حکومت کا چھوٹی حکومت پر دبائو ڈالنا انصاف پر مبنی نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک شخص چار فٹ کا ہو دوسرا شخص سات فٹ کا ہو اور سات فٹ کا آدمی چار فٹ والے کو کہے کہ میرا حق ہے کہ میں تمہیں گالیاں دے لوں یا تمہارے منہ پر تھپڑ مار لوں کیونکہ میں سات فٹ کا ہوں اور تم چار فٹ کے ہو تو کیا کوئی حکومت جائز سمجھے گی ؟ وہ کہے گی کہ جیسا دماغ سات فٹ والے کا ہے ویسا ہی دماغ چار فٹ والے کا ہے اور جو حقوق سات فٹ والے کے ہیں وہی حقوق چار فٹ والے کے ہیں لیکن جب آزادی اور حریت کا سوال آتا ہے تو چھوٹے اور بڑے ملکوں میں امتیاز کیا جاتا ہے اور چھوٹے ملکوں کے لیے حریت ضروری نہیں خیال کی جاتی حالانکہ آزادی کی ضرورت جیسے بڑی حکومتوں کو ہے ویسی ہی ضرورت چھوٹی حکومتوں کو ہے۔
اسلام کہتا ہے کہ صلح کرتے وقت کسی کی آزادی کو سلب نہ کرو اور صلح کرانے کی وجہ سے کوئی مطالبہ پیش نہ کرو کیونکہ تمہارا لڑائی میں شامل ہونا امن کو بحال کرنے کے لیے تھا اس لیے تم کسی حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے۔ فرض کرو ہالینڈ کو بچانے کے لیے امریکہ اور انگلستان کوشش کریں تو کیا اس سے امریکہ اور انگلستان کا اپنا بھلا نہ ہو گا کیونکہ اگر فساد ہوگا تو امریکہ اور انگلستان بھی اس کی لپیٹ سے بچ نہیں سکیں گے اور جب بھی لڑائی چھڑے گی تو زیادہ نقصان ان ہی دو حکومتوں کا ہوگا جن کی آبادی زیادہ ہو گی، جن کی مقبوضات زیادہ ہوں گے پس وہ اس لحاظ سے دوسروں سے زیادہ امن کی محتاج ہیں۔ اگر فساد ہو اور لڑائی ہو تو ہالینڈ کی نسبت امریکہ کا زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ امریکہ کی آبادی چودہ کروڑ کی ہے اور ہالینڈ کی آبادی اسّی لاکھ کی ہے اور اسّی لاکھ کی نسبت چودہ کروڑ کی حفاظت اور امن زیادہ ضروری ہوتا ہے اور اگر نقصان ہو تو چودہ کروڑ کا حصہ اسّی لاکھ کی نسبت بہر حال زیادہ ہوگا۔ پس جس طرح چار کروڑ کی آبادی رکھنے والے فرانس کو امن کی ضرورت ہے، جس طرح پینتالیس لاکھ کی آبادی رکھنے والے بیلجیئم کو امن کی ضرورت ہے اسی طرح ان بڑی حکومتوں کو بھی امن کی ضرورت ہے پس اسلام کہتا ہے کہ ان چار چیزوں کے بغیر امن نہیں ہو سکتا۔
اوّل لیگ کے پاس فوجی طاقت ہو
دوم عدل و انصاف کے ساتھ آپس میں صلح کرائی جائے۔
سوم جو نہ مانے اس کے خلاف سارے مل کر لڑائی کریں۔
چہارم اور جب صلح ہو جائے تو صلح کرانے والے ذاتی فائدہ نہ اٹھائیں۔
یہ چار اصول لیگ آف نیشنز کے قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں جب تک ان پر عمل نہیں ہوگا امن پیدا نہیں ہو سکتا۔
پہلی لیگ آف نیشنز بھی ناکام رہی اور اب دوسری لیگ آف نیشنز بھی ناکام رہے گی۔ پس ضروری ہے کہ دنیا اسلام کے اصولوں کو اپنائے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے کیونکہ جب تک یہ پارٹی سسٹم جاری ہے اور جب تک یہ امتیاز باقی ہے کہ یہ چھوٹی قوم ہے اور وہ بڑی قوم ہے اور یہ کمزور حکومت ہے اور وہ طاقتور حکومت ہے اُس وقت تک دنیا کے امن کے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتے۔ پس ضروری ہے کہ اس امتیاز کو دلوں سے مٹایا جائے جب تک یہ چیز باقی رہے گی کہ یہ بڑی جان ہے اور یہ چھوٹی جان ہے اس وقت تک دنیا امن و چین کا سانس نہیں لے سکتی۔ ‘‘ (انوارالعلوم جلد ۸ا صفحہ۴۳۰ تا ۴۳۳)
اقوام متحدہ کا قیام اور فلسطین کی آزادی سلب
یہ دونوں تنظیمیں کیوں ناکام ہوئیں ؟ یہ سوال ایک طویل تجزیہ کا تقاضہ کرتا ہے۔ ایک مضمون میں صرف ایک دو نکات کا مختصر جائزہ ہی لیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے فرمایا تھا کہ اقوام عالم کی جو بھی تنظیم بنے اس کا یہ فرض ہے کہ صلح کراتے وقت کسی کی آزادی سلب نہ کرے۔ ورنہ یہ تنظیم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ لیکن ابھی اقوام متحدہ کو قائم ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے تھے کہ اس نے آزادی سلب کرنے کا کام شروع کر دیا۔ اور ۱۹۴۷ء میں زبردستی فلسطین کی تقسیم کر کے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس کا ایک بڑا حصہ یہودیوں کو عطا کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی۔ اس قدم سے دنیا میں جنگوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور آخر میں اقوام متحدہ کی جو وقعت رہ گئی وہ بھی کسی کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ جو غلطیاں لیگ آف نیشنز کے قیام کے وقت کی گئی تھیں وہی غلطیاں زیادہ شدت سے اقوام متحدہ کے قیام کے وقت دہرائی گئیں۔
اقوام متحدہ کی فوجی قوت
اب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے بیان کردہ اس نکتے کا ذکر کرتے ہیں کہ قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی تنظیم کے پاس اپنی فوجی قوت ہو ورنہ وہ قیام امن کے لیے بڑی طاقتوں کے آگے دست سوال ہی دراز کرتی رہے گی۔ یہ کوئی فرضی بات نہیں تھی۔ جن مدبرین نے اقوام متحدہ کا چارٹر تیار کیا تھا وہ بخوبی سمجھتے تھے کہ اس کے بغیر اقوام متحدہ دنیا میں امن قائم نہیں کر سکتی۔ چنانچہ جون ۱۹۴۵ء میں ممبر ممالک نے جس چارٹر پر دستخط کیے اس کی شق ۴۳ یہ تھی۔
- All Members of the United Nations, in order to contribute to the maintenance of international peace and security, undertake to make available to the Security Council, on its call and in accordance with a special agreement or agreements, armed forces, assistance, and facilities, including rights of passage, necessary for the purpose of maintaining international peace and security.
- Such agreement or agreements shall govern the numbers and types of forces, their degree of readiness and general location, and the nature of the facilities and assistance to be provided.
- The agreement or agreements shall be negotiated as soon as possible on the initiative of the Security Council. They shall be concluded between the Security Council and Members or between the Security Council and groups of Members and shall be subject to ratification by the signatory states in accordance with their respective constitutional processes
اس شق کے الفاظ واضح ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک عالمی امن قائم کرنے کے لیے سلامتی کونسل کو ایسی افواج مہیا کریں گے جو کہ سلامتی کونسل کی ہدایت کے تحت دنیا میں امن قائم کرنے کے لیےکام کرے گی۔ اور ایسی عسکری قوتیں مہیا کرنے اور اسے کارروائی کے لیے راستہ دینے کے لیےمعاہدے کیے جائیں گے اور سلامتی کونسل جتنی جلدی ہو سکے ممبر اقوام میں اتفاق رائے پیدا کر کے اس کام کو شروع کرے گی۔ اور اس چارٹر پر دستخط کرنے والے ممالک اپنے اپنے آئینی عمل کے ذریعہ اس معاہدہ کو منظور کریں گے۔
لیکن اس کام کا آغاز بھی نہ ہو سکا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق ۴۳؍پر عمل درآمد کے کام کا آغاز بھی نہ ہو سکا۔ اور نہ ہی یہ تنظیم دنیا میں امن قائم کرسکی۔ چنانچہ جب ۱۹۹۲ء میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بطرس بطرس غالی صاحب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ عالمی امن کے قیام اور استحکام کے لیے ایک رپورٹ تیار کریں۔ تو اس میں انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی اس شق یعنی شق نمبر ۴۳ عملدرآمد نہ ہونے کا خاص طور پر ذکر کیا۔ یہ رپورٹ An Agenda for Peaceکے نام سے اقوام متحدہ میں پیش گئی تھی۔ اس میں سیکریٹری جنرل بطرس غالی لکھتے ہیں:
Under Article 42 of the Charter, the Security Council has the authority to take military action to maintain or restore international peace and security. While such action should only be taken when all peaceful means have failed, the option of taking it is essential to the credibility of the United Nations as a guarantor of international security. This will require bringing into being, through negotiations, the special agreements foreseen in Article 43 of the Charter, whereby Member States undertake to make armed forces, assistance and facilities available to the Security Council for the purposes stated in Article 42, not only on an ad hoc basis but on a permanent basis. (Page25)
ترجمہ: چارٹر کی شق ۴۲ کے تحت سلامتی کونسل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ فوجی کارروائی کے ذریعہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو بحال کرے۔ یہ مرحلہ اسی وقت آسکتا ہے جب تمام پُر امن ذرائع ناکام ہو چکے ہوں۔ لیکن یہ اختیار بین الاقوامی امن کے ضامن کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی ساکھ کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق ۴۳؍میں یہ نظریہ پیش کیا گیا تھا مذاکرات اور مخصوص معاہدوں کے ذریعہ ممبر ریاستیں سلامتی کونسل کو صرف عارضی طور پر نہیں بلکہ مستقل طور پر ایسی افواج، اعانت اور سہولیات مہیا کریں جن سے شق ۴۲ میں مذکور مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔
اس کے بعد سابق سیکرٹری جنرل بطرس بطرس غالی اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ جب تک یہ مستقل افواج مہیا نہ ہو سکیں مختلف ممالک کو امن قائم کرنے والے ایسے اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی دستے مہیا کرنے چاہییں جو کہ سیکریٹری جنرل کی ہدایت کے تحت کام کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا اعتراف
جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضورؓ نے فرمایا تھا کہ اقوام متحدہ تب کامیاب ہوگی جب عدل اور انصاف سے صلح کرائی جائے اور اس عمل میں صلح کرانے والے خود اپنے لیے کوئی فائدہ نہ اٹھائیں۔ اور فرمایا تھا کہ لیگ آف نیشنز بھی ناکام ہوئی تھی اور اقوام متحدہ بھی انہی وجوہات کی بنا پر ناکام ہوجائے گی۔ ایک ناواقف کے نزدیک یہ ارشاد صرف جذبات کا اظہار ہوگا لیکن اصل میں یہی ایک بنیادی نکتہ ہے جس کو فراموش کرنے کی وجہ سے یہ ادارہ اپنی ساکھ کھو بیٹھا۔ یہاں تک کہ یکم نومبر ۲۰۲۳ء کو خود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے نیپال کی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
As geopolitical tensions rise, global divisions are becoming deeper and more dangerous. Smaller countries fear becoming collateral damage in competition between great powers.
ترجمہ: جیسے جیسے جغرافیائی اور سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے اور زیادہ خطرناک ہو رہی ہے ، چھوٹے ممالک میں یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ میں ایک ضمنی نقصان کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
خود اس عالمی ادارے کے سب سے اہم عہدیدار کے ان الفاظ سے زیادہ کیا اعتراف ناکامی ہو سکتا ہے۔ خدا کرے دنیا کے تمام ممالک کی آنکھیں کھلیں اور وہ قرآن مجید میں درج ہدایات کے مطابق امن عالم کے لیے مخلصانہ کوششیں شروع کریں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: قیامِ توحید کے لیےرسول کریم ﷺکی عظیم الشان جدوجہد



