پہلے دن کی رپورٹ۔جلسہ گاہ مستورات(جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء)
جلسہ سالانہ کا پہلادن:اللہ تعالیٰ کے بے پناہ فضل و کرم سے جماعت احمدیہ برطانیہ اپنا ۶۰ واں جلسہ سالانہ ۲۴ تا ۲۶؍جولائی منعقد کرنے کی توفیق پا رہی ہے۔ حدیقۃ المہدی میں حضرت مسیحِ موعودؑ کے مہمانوں کی آمد ایک روح پرور نظارہ پیش کر رہی ہے۔ ایک طرف مختلف ممالک سے آنے والے مہمانان کی جوق در جوق آمد اور دوسری طرف کارکنات کے مسکراہٹوں سے پُر، جذبہ خدمت سے دمکتے چہرے اور والہانہ استقبال،اتحاد اور اخوت کا ایک انمول منظر پیش کر رہے ہیں۔ دنیا بھرکے ممالک سے آئے مختلف قومیت اور رنگ و نسل کےمہمان اپنی انفرادیت کے باوجود اجتماعیت کا عظیم الشان نشان بن کر تمام حاظرین کے ازدیادِ ایمان کا باعث ہیں۔ باغِ مہدی ایک بار پھر مہمانوں کی بہار سے معطر ہے۔ یہ تین دن موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے۔
جمعۃ المبارک کے بابرکت دن کا آغاز صبح ۳ بج کر پندرہ منٹ پر با جماعت نماز تہجد سے ہوا۔ حضور انور ایَّد ہ اللہ تعالیٰ نے ۴ بج کر ۲۲ منٹ پر نماز فجر پڑھائی۔ حدیقۃ المہدی کے قرب و جوار اور رہائش گاہ میں ٹھہری ہوئی مستورات اپنے پیارے آقا کی اقتداء میں نماز کی ادائیگی کے لیے صف آراء ہوئیں۔ بعد ازاں مربی سلسلہ مکرم میر انجم صاحب نے درس قرآن کریم دیا۔ بعد از نماز فجر، علی الصبح ٹی سٹال پر نمازیوں کے لیے چائے اور اُبلے ہوئے انڈوں کا انتظام تھا۔ اس کے علاوہ شعبہ مہمان نوازی کے تحت ہلکا ناشتہ بھی دستیاب تھا۔
تمام رات بھی حدیقة المہدی میں مہمانوں کی آمد کاسلسلہ جاری رہا اور صبح ہی سے سے سکیننگ کے لیے تانتا بندھ گیا۔ ضیافت مارکی میں ۸؍بجےصبح ناشتہ کا آغاز ہوا۔ ناشتہ میں سیریل، ڈبل روٹی، دودھ، جام، چائے، چنے کا سالن اور تازہ اور گرم روٹیاں مہمانوں کو پیش کی گئیں۔ جیسے جیسے وقت گزررہا تھا شاملینِ جلسہ کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔
۹؍بجے گرین ایریا میں فائر الارم کی آواز سپیکر پر چلائی گئی اور اس بات کی تیاری کروائی گئی کہ خدا نخواستہ نا گہانی صورت میں کس طرح فوری طور پر تمام مارکیوں سے شاملینِ جلسہ کو بحفاظت باہر نکالا جا سکتا ہے۔ کارکنات نے الارم بجتے ہی نہایت مستعدی کے ساتھ مہمانان کو مارکیوں سے فوری طور پر نکال کر assembly point پر اکٹھا کیا۔ اور پھر جب fire team کی طرف سے تصدیق ہو گئی تب تمام خواتین کو واپس مارکیوں میں لایا گیا۔ یہ مشق موسم کی شدت کے پیش نظرکروائی گئی۔ پیارے آقا نے inauguration کے خطاب میں خصوصی طور پر اس بات کی تاکید فرمائی کہ پرانی گاڑیوں کے انجن بہت جلد گرم ہوجاتے ہیں۔ نیز کسی قسم کی بھی بے احتیاطی سے آگ لگنے کا خطرہ ہے لہٰذا ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ موسم کی شدت کے پیش ِنظر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
نصف النہار ہی سے لجنہ کی تمام مارکیوں میں تعینات کارکنات، شاملین جلسہ کو نظم و ضبط کے ساتھ بٹھانے میں مصروف رہیں۔ خطبہ جمعہ سے ایک گھنٹہ قبل ہی تمام مارکیاں پُر ہو چکی تھیں۔ نیز شدید گرمی کے باوجود خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچے باہر کھلے میدان میں بیٹھے پیارےآقا کے خطبہ جمعہ کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔
امسال مہمانوں کی کثیر تعداد کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے پہلی مرتبہ ۲ کی بجائے ۴ پارکنگ ایریا بنائے گئےہیں۔ نئے پارکنگ ایریا کے اضافہ کے سبب اسی جانب ایک داخلی دروازے کا بھی اضافہ کیا گیا ہے جو کہ مستورات کے مین داخلی دروازے کی طرز پرہی بنایا گیا ہے۔چونکہ نئے پارکنگ ایریا سے نئےداخلی دروازے تک کا پیدل کا راستہ لمبا ہے اس لیےمہمان مستورات کی آسانی کے لیے اضافی بگیوں کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ ان اضافی اقدامات کی وجہ سے امسال جلسہ گاہ مستورات میں داخلہ میں بہت آسانی پیدا ہو گئی۔
حضور انور ایَّد ہ اللہ تعالیٰ نے ایک بج کر گیارہ منٹ پر مردانہ جلسہ گاہ سے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ (خلاصہ خطبہ جمعہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں ضمیمہ نمبر ا جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء)
مستورات جلسہ گاہ میں سکرینوں پر خطبہ جمعہ دیکھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ماں و بچہ کی تینوں مارکیوں میں بھی نمازجمعہ کی ادائیگی اور سکرینوں پرماؤں کے لیے خطاب دیکھنے کا انتظام تھا۔ مزید برآں خواتین نےلجنہ مین مارکی سے ملحقہ کھلے احاطہ میں بھی نماز جمعہ ادا کی۔
نماز جمعہ اور عصر کی نمازکے بعد مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام تھا۔ کھانے میں دال، چاول اور پاستا پیش کیا گیا۔
امسال بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر آنے والے مہمانوں کے لیے بازار دلچسپی اور توجہ کا مرکز بنے رہے۔
جلسہ سالانہ کی پاکیزہ روایات میں سے ایک روایت پرچم کشائی کی تقریب ہے جس کے ساتھ جلسہ سالانہ کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیاجاتا ہے۔اس تقریب سے معاً پہلے جلسہ گاہ مستورات میں خاموشی اور ہزاروں کے مجمع میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا۔ تمام مستورات جلسہ گاہ میں آویزاں بڑی بڑی سکرینوں پر لوائے احمدیت کے لہرانے کا بے تابی سے انتظار کر رہی تھیں۔ چار بج کر تیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے لوائے احمدیت لہرایا۔ لوائے احمدیت کے صعود کے ساتھ ہی فلک شگاف نعرہ ہائے تکبیر کی صدا سے مستورات کا پنڈال گونج اٹھا اور سکوت کا طلسم ٹوٹا۔ اس کے بعد پیارے آقا نے اجتمائی دعا کروائی۔ کھلے میدان میں کھڑی ہر عورت اور بچی اسی جگہ ساکت ہوگئی۔ اوراپنے آقا کی اتباع میں دعا میں شامل ایک ہجوم گویا سکوتِ سمندر کا سامنظر پیش کر رہا تھا۔
پرچم کشائی کے بعد جلسہ سالانہ کے پہلے دن کے افتتاحی خطاب کا وقت قریب آگیا۔ہر کوئی خلیفۂ وقت کے پُر نور خطاب سننے کے لیے بے تاب تھا۔
۴ بج کے ۳۴ منٹ پر حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔ تلاوت، ترجمہ، فارسی قصیدہ اور نظم کے بعد حضور انور یدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ کا افتتاحی خطاب فرمایا جس کا عنوان تھا تقویٰ کی اہمیت اور اس کے حصول میں احمدیوں کی ذمہ داریاں۔ (خلاصہ خطاب کے لیے ملاحظہ فرمائیں ضمیمہ نمبر ا جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات پر عمل کرنے کی اور آپ کی تمام توقعات پر کما حقہ پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
جلسہ گاہ مستورات میں جلسہ سالانہ کے پہلے دن کل حاضری ۲۱,۶۳۰ رہی۔
(رپورٹ: شعبہ رپورٹنگ مستورات جلسہ گاہ)
