یادِ رفتگاں

مکرمہ استانی امۃ العزیز عائشہ صاحبہ

(امۃالباری ناصر)

حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے یہ نسخۂ کیمیا عطا فرمایا تھا کہ عورتوں کی ترقی سے قوموں کی ترقی وابستہ ہے۔ آپؓ نے عورتوں کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے۔خاص طور پر تعلیمی ترقی کے نظام کو منصوبہ بندی کے ساتھ بتدریج آگے بڑھایا۔ فرماتے ہیں : ’’عورتوں کی تعلیم سے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی خاص دلچسپی ہے۔ میں نے محض اس کی وجہ سے لوگوں کے اعتراضات بھی سُنے ہیں اور اختلافی آراء بھی سنی ہیں لیکن پھر بھی میں پورے یقین کے ساتھ اس رائے پر قائم ہوں کہ عورتوں کی تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔‘‘ (احمدی خواتین کی تعلیمی ترقی، انوار العلوم جلد ۱۲ صفحہ ۳۲۰)

اس مضمون میں ایک ایسی خاتون کی داستان بیان کروں گی جس کو آپؓ نے بچپن سے تعلیم حاصل کرنے میں قدم قدم رستہ بتا کر چلایا۔ کیا پڑھنا ہے، کہاں پڑھنا ہے، معلّمہ بن کے کیسے جماعت کی خدمت کرنی ہے۔ سب حضرت مصلح موعودؓ کی بابرکت راہنمائی میں ہوا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کی اورزندگی کا بیشتر حصہ درس وتدریس میں گزارا۔ سالہا سال نصرت گرلز ہائی سکول میں استانی اور ہیڈ مسٹریس رہیں۔ ان سے تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد گنی نہیں جا سکتی۔ جو آئندہ نسلوں کی مائیں بن کر اس روشنی کو آگے پھیلا نے والی بنیں۔ ہم استانی امۃ العزیز عائشہ کی داستان حیات جانیں گےجس کا اوّلین ماخذ ان کے خود نوشت حالات ہیں۔ تحریر کے شروع میں آپ قسم کھائی ہے کہ جو لکھوں گی سچ لکھوں گی۔ اور واقعی بہت سادگی اور سچائی سے اپنے سارے حالات لکھ دیے ہیں۔ یہ تحریر اس لیے بھی اہم ہے کہ جماعتِ احمدیہ میں تعلیمی ترقی کے مراحل سامنے آتے ہیں۔ اور تاریخ کے کئی گوشوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ان کی اکلوتی بیٹی مکرمہ ڈاکٹر امۃ السمیع کے مہیا کیے گئے متفرق کاغذات سے ان کی خواہش پر ان کی والدہ محترمہ کے حالاتِ زندگی ترتیب دیے ہیں ان میں کچھ نشیب و فراز کا ذکر بھی تھا جو اب قصۂ ماضی بن چکے ہیں ان سے پہلو بچا تے ہوئے اہم باتوں کو سمیٹ لیا ہے۔ مکرمہ استانی امۃ العزیز کے بارے میں لکھنا میرا فرض بھی ہے۔مَیں نے بھی نویں اور دسویں جماعت میں ان سے انگریزی پڑھی تھی۔ استاد کا بڑا درجہ ہوتا ہے۔ اس وقت تو ہم انہیں ’استانی جی ‘کہتے تھے لیکن اس مضمون میں آپا جی لکھوں گی کیونکہ ان کی بیٹی انہیں آپا جی کہتی ہیں۔

آپا جی کے دادا کا نام مکرم علی محمد اور نانا کا نام مکرم خدا بخش تھا۔ ان کے والد مکرم میاں محمد امیر( رام گڑھ ضلع جالندھر) رشتے میں مکرم خان صاحب فرزند علی خان (سابق امام مسجد فضل، لندن )کے بھائی تھے۔ آپ ۱۹۱۳ء سے ۱۹۲۶ء تک جماعت فیروز پور کے جنرل سیکرٹری رہے۔ فیروز پور کی جماعت اپنی کارکردگی اور خلوص کی وجہ سے قادیان کے بعد اوّل درجہ پر سمجھی جاتی تھی۔ والد صاحب نے شدھی کی تحریک میں حصہ لیا اور تین ماہ وقف کرکے خدمت کی۔ ان کا دینی علم بہت وسیع تھا وہ فیروز آباد کی مسجد میں درس بھی دیتے تھے۔ تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ اسلام پر اعتراضات کا دھڑلے سے جواب دیتے ۔آپ امیر جماعت احمدیہ ضلع راولپنڈی بھی رہے۔ آپاجی کی والدہ صاحبہ کا نام جنت خاتون تھا۔ لدھیانہ شہرکی رہنے والی تھیں۔ جماعت فیروز پور کی مہمانوں کی خدمت کی ذمہ داری تیرہ چودہ سال تک سنبھالے رہیں۔ مرکز سے بزرگ ہستیاں مہمان آتیں تو بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے آپا جی کو بھی خدمت کا موقع ملتا۔ والد صاحب بھی ہر پروگرام کی راہنمائی، نگرانی اور تیاری میں پیش پیش ہوتے۔ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم بھی سب سے پہلے فیروز پور میں قائم ہوئی جس میں آپا جی کے والدین کا بڑا حصہ تھا۔آپا جی کی رشتے کی پھوپھی مکرمہ حبیب النساء ( والدہ مکرم شیخ خورشید احمد )وہاں پہلی سیکرٹری لجنہ منتخب ہوئیں۔ تب ناصرات کی الگ تنظیم نہ تھی بچیاں اپنی ماؤں کے ساتھ شامل ہوتیں۔ آپا جی بھی اپنی والدہ کے ساتھ اجلاسوں میں شامل ہوتیں اور بچیوں کو مرکز سےمقرر کردہ نصاب کے مطابق تعلیم دیتیں۔

۱۹۲۶ء میں والد صاحب کی کوئٹہ تبدیلی ہوگئی۔ وہاں بھی والدہ صاحبہ نے لجنہ اماءاللہ قائم کی اور ۱۹۲۹ء میں لاہور کینٹ تبدیلی پر وہاں بھی لجنہ کی تنظیم قائم کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

آپا جی ۲؍جولائی ۱۹۱۱ء کو فیروز آباد میں پیدا ہوئیں۔ والد صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے خطابات سے متاثر ہو کر اپنی پہلی اولاد کو دین کے لیے وقف کرنے کی نیت کی اور اس کی تربیت اس رنگ میں کی کہ وہ جماعت کے لیے مفید وجود بن سکے۔ ۱۹۲۳ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مجلس مشاورت میں احباب جماعت کے سامنے خواتین کی تعلیم کا باقاعدہ منصوبہ رکھا تو آپا جی کے والد صاحب نے آپؓ کی خدمت میں درخواست کی کہ ان کی بچی کو اس مدرسہ میں داخل کرلیا جائے۔ حضرت صاحبؓ نے انہیں سمجھایا کہ بچی کی عمر ابھی چھوٹی ہے۔اپنی تعلیم جاری رکھے ۔ہمیں تعلیم یافتہ بچیوں کی ضرورت ہے۔ ابھی اپنے سکول میں پڑھتی رہے۔چنانچہ اس ہدایت پر عمل ہوا۔ان کے والد صاحب سکول کی پڑھائی میں بہت مدد دیتے تھے اور ساتھ ساتھ قرآن پاک ترجمہ اور تفسیر پڑھا تے رہے۔مڈل پاس کرلیا تو حضرت صاحبؓ  کو بتایا کہ بچی نے مڈل پاس کرلیا ہے ۔آپؓ نے ہدایت فرمائی کہ دیوسماج سکول میں تو نہیں سکھوں کے سکول میں داخل کر دیں۔موٹا چادر نما دوپٹہ اوڑھ کر جائے۔ آپا جی ابھی چھوٹی تھیں۔پھر بھی پہلے ہی سے شوقیہ برقع پہنتی تھیں۔بعض لوگوں نے ان کے ہائی سکول میں داخل ہونے کی مخالفت کی جس پر حضرت صاحبؓ نے خود وضاحت فرمائی کہ بچی میری اجازت سے پڑھ رہی ہے۔ ۱۹۲۷ء میں لدھیانہ ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ ۱۹۲۹ء میں میٹرک پاس کرلیا۔ تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد اوّل کے صفحہ۲۴۷ پر اس کامیابی کا ذکر ہے۔ اس سال سارے ہندوستان میں صرف پندرہ لڑکیوں نے میٹرک پاس کیا تھا۔

انٹرنس پاس کرنے کے بعد آپا جی کی شادی کے لیے کئی رشتے آئے۔حضرت صاحبؓ نے فرمایا میں اس کا رشتہ کسی واقف زندگی سے کروں گا۔ کسی امیر کو رشتہ نہیں دینا۔وہ ملازمت نہیں کرنے دے گا ۔اسی طرح قادیان سے باہر بھی رشتہ نہیں دینا۔ہمیں سکول میں اس کی ضرورت ہے۔ شادی ہوئی مگر بد قسمتی سے ناکامی ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے ایک بچی امۃالسمیع سے نوازا۔

تعلیم جاری رکھنے کے بارے میں حضرت صاحبؓ نے فرمایا کہ ڈاکٹری اور آرٹس چھوڑیں ٹیچرز ٹریننگ کالج میں داخلہ لیں ہمیں ٹیچرز کی بہت ضرورت ہے۔ اسی سال ایک ٹریننگ کالج کھلا تھا۔اس میں داخلہ لیا تو انہوں نے یہ شرط رکھی کہ پانچ سال تک سرکاری سکول میں پڑھانا ہوگا۔ حضرت صاحبؓ نے فرمایا فی الحال یہ شرط مان لیں اور داخلہ کروانے کی کریں بعد میں کوشش کرکے قادیان میں کام کرنے کی اجازت لی جا سکتی ہے۔ اس کالج میں پڑھائی مارچ ۱۹۳۱ء میں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سےاعزاز کے ساتھ دوسری پوزیشن لے کرجے اے وی کا امتحان پاس کرلیا۔ آپ پریکٹیکل میں اوّل رہیں، ایجوکیشنل ہینڈ ورک اور سلائی میں اعزاز ملا۔

اس شاندار کامیابی پر گورنمنٹ کے محکمہ تعلیم کی طرف سے مبارکباد کا خط آیا ساتھ ہی انسپکٹریس آف سکولز کی ملازمت کی پیشکش بھی ہوئی۔ آپا جی کے والد صاحب اس وقت لاہور چھاؤنی کے امیر جماعت تھے۔۱۹۳۱ء کی مشاورت کے موقع پر ان کے والد صاحب نے حضرت صاحبؓ  کی خدمت میں عرض کیا کہ بچی کی تعلیم مکمل ہوگئی ہے اب کیا حکم ہے؟آپؓ نے فرمایا کہ بچی کو گورنمنٹ سروس میں نہ بھیجیں ہمیں لڑکیوں کے سکول کے لیے ہیڈ مسٹریس کی ضرورت ہے۔ آپؓ نے فوری طور پر قادیان حاضر ہونے کا ارشاد فرمایا۔

والدصاحب نے تعمیل ارشاد میں لاہور چھاؤنی سے قادیان ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا اور نور ہسپتال کے قریب کرائے کا مکان لے کر بیوی بچوں کو قادیان بھیج دیا۔ آپاجی ۴؍اپریل ۱۹۳۱ء کو پہلی تربیت یافتہ استانی کے طور پر نصرت گرلز سکول میں متعین ہوئیں۔ آپ نے مکرمہ استانی سکینۃالنساء سے چارج لیا۔ مڈل کی کلاس کو انگریزی پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پہلی کلاس میں گیارہ طالبات تھیں جنہیں محنت سے پڑھایا۔ سب کامیاب ہوئیں۔ سکول اس وقت تک ورنیکولر تھا اور دو حصوں میں تھا۔ پرائمری سکول دار الفضل کے دو مکانوں میں تھا، مڈل اور ہائی سکول سفید پوش کے مکان میں تھا۔ ۱۹۳۲ء میں سارے سکول مکرم حکیم محمد عمر کے مکان میں منتقل ہو گئے۔تاہم اس کی محکمہ تعلیم کی طرف سے منظوری ہائی سکول کی اضافی کلاسوں کے ساتھ مڈل سکول کی ہی تھی۔ آپا جی نے پڑھانے کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی ، ایف اے کا امتحان پاس کر لیا۔ دو سال کے بعد سکول کی ہیڈمسٹریس مقرر ہو گئیں۔

۱۹۳۶ء میں دینیات کلاسز کا اجرا ہوا۔ اس سکول میں بھی عام نگرانی، رجسٹر حاضری، انگلش، سلائی، دینیات پڑھانا بھی آپا جی کی ذمہ داری تھی۔ کچھ عرصے بعدمکرمہ استانی محمد بی بی، مکرمہ استانی حور بانو اور مکرمہ استانی رقیہ کے آنے سے کام بٹ گیا۔ یہ سکول تقسیم بر صغیر تک جاری رہا۔ ملازمت کے دوران ان کی والدہ صاحبہ کا ۱۹۳۶ء میں انتقال ہوگیا۔اس طرح گھر کی ذمہ داری بھی آپا جی پر آگئی۔ ان کے والد صاحب نے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے لی اور محلہ دارالعلوم میں اپنا مکان تعمیر کرایا۔ ۱۹۳۸ء میں قادیان اپنےمکان میں آئے مگر یہاں زیادہ رہنا نصیب نہ ہوا۔ ۱۴؍اپریل ۱۹۴۰ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ یہ آپا جی کے لیے بڑا مشکل وقت تھا۔دو بہنیں بیاہنے والی تھیں۔ایک بھائی ملازمت کرتا تھا مگر ابھی شادی نہ ہوئی تھی۔ دو بھائی چھوٹی عمر کے تھے ان سب کی تعلیم و تربیت اور شادیاں غرضیکہ سارے فرائض آپا جی نے بڑے اخلاص، تدبر اور مشقّت سے سرانجام دیے۔ تعلیم بھی جاری رکھی۔ بی اے کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۴۰ء میں آپا جی نے بی ٹی بیچلر ان ٹیچنگ کی ٹریننگ کے لیے چھٹی لی تو استانی امۃ الرحمٰن کو قائم مقام ہیڈ مسٹریس مقرر کیا گیا۔

آزمائش کا دور اور حضرت مصلح موعودؓ کی راہنمائی: ملازمت کے دوران کئی قسم کی مشکلات پیش آئیں مگر ان کے اباجی کی نصیحت تھی کہ صبر کرنا ہے۔تمہاری زندگی کا مقصد عہدے نہیں، خدمت ہے۔ میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر وقف کیا ہے وہ خود تمہاری حفاظت کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہی عزت دینے والا ہے۔

ہوا یہ تھا کہ آپا جی کے متعلق کئی قسم کی غلط باتیں مشہورکیں۔حق تلفی اور تحقیر کی اذیت کا سلسلہ چار سال پر محیط تھا جو آپ صبر سے گزارتی رہیں۔ لیکن کچھ امور حضرت مصلح موعودؓ کے گوش گزار کرنے آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں جس دوران حضورؓ نے اپنے اوپر ہونے والی زیادتی پر خاموش رہنے کو ناپسند فرمایا۔ آپؓ نے فرمایا کہ جب انجمن آپ کا ایک حق قائم کرچکی ہے تو اس حق کی حفاظت آپ کا فرض بنتا ہے۔ اپنے حق کو چھوڑنا خود کشی کے مترادف ہے۔چنانچہ بالآخر انسپکٹریس سکولز کی مداخلت سے ۱۹۴۶ء میں ایک ہائی سکول دارالانوار میں کھولا گیا۔ آپا جی کو ہیڈ مسٹریس کے منصب پر بحال کیا گیا۔

تقسیم بر صغیر کےتکلیف دہ حالات میں آپا جی کو بلڈ پریشر کی تکلیف ہوگئی۔ لاہور میں عارضی قیام کے دوران ایک سال کی چھٹی بوجہ بیماری لی اور کوئٹہ چلی گئیں۔ وہاں محکمہ تعلیم والوں نے ان کو اپنے سکول کی نگرانی کے لیے بلایا تو آپ نے مکرم ناظر صاحب تعلیم سے اجازت مانگی۔ ربوہ میں ایک ہی سکول کھولا گیا تھا جس میں ہیڈ مسٹریس موجود تھیں اس لیے انہوں نے کوئٹہ میں ملازمت کی اجازت دے دی ۔آپا جی چار سال تک گورنمنٹ مڈل سکول سبی بلوچستان کی ہیڈ مسٹریس رہیں۔بہت محنت سے کام کیا اس علاقے کے لوگوں میں بیٹیوں کو سکول بھیجنا پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن آپ نے بڑی محنت اور محبت سے اس تعصب کو دور کیا۔ سینکڑوں بچیوں کو زیورِتعلیم سے آراستہ کیا اور آگے تعلیم حاصل کرنے کی راہیں ہموار کیں۔ آپا جی کوئٹہ میں اپوا (آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن) کی رکن بھی تھیں۔ مینابازاروں اور یوم پاکستان کی تقریبات کا ذوق و شوق سے اہتمام کرتیں۔

بیگم رعنا لیاقت علی خان کے تعریفی کلمات: ان کی تعیناتی کے دوران سبّی میلے میں قائد اعظم، لیاقت علی خان اور بیگم رعنا لیاقت علی خان جیسی ہستیاں تشریف لائیں۔ مؤخر الذکر نے سکول کا دورہ کیا اور آپا جی کی کارکردگی کو سراہا۔ اپنے تأثرات میں انہوں نے تحریر کیا: ’’گورنمنٹ گرلز سکول سبی کا دورہ انتہائی پُر مسرت رہا، سکول کے سٹاف اور ہیڈ مسٹریس کا ان نامساعد حالات میں کام کرنا قابل ستائش ہے۔ بچیوں کا سکول آکرتعلیم حاصل کرنے کا جذبہ اور شوق نہایت خوش کن تھا۔ اعلیٰ حکام کو توجہ دینے کی ضرورت ہے نئی عمارت بنائی جائے اور اسے ہائی سکول کا درجہ بھی دیا جائے۔ … میں ہیڈ مسٹریس کو مبارکباد دیتی ہوں جو اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر بہت خوش اسلوبی سے اس سکول کو صحت مند اور خوشگوار ماحول میں چلا رہی ہیں۔‘‘(رعنا لیاقت علی خان)

حضرت صاحبؓ  کوئٹہ تشریف لائے تو آپ کو فرمایا کہ آپ کو تو آپ کے ابا نے سلسلہ کے سکول کے لیے پڑھایا تھا فائدہ غیر اٹھا رہے ہیں۔ آپاجی فوراً ربوہ آگئیں اور بعد میں استعفیٰ بھیج دیا۔ ربوہ میں ان سے کہا گیا کہ آپ کا سکول بند ہوچکا ہے اب کسی اَور کے ماتحت کام کرنا ہوگا۔ قیام کوئٹہ کےچار سال کی غیر حاضری بغیر تنخواہ کے لکھی جائے گی۔ اس طرح کے کچھ فیصلوں کو حضرت صاحبؓ کے علم میں لانے کے لیے ایک صبح ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضورؓ نے فرمایا کہ ’’نماز عصر کے بعد آجاؤ میں تمہیں عرضی لکھنی بتاؤں گا۔‘‘

عصر کی نماز پڑھ کر قصر خلافت جانے کے لیے مسجد مبارک پہنچیں تو ماحول کچھ مختلف تھا۔ کیا دیکھتی ہیں کہ مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب حضور کو سہارا دیے ہوئے قصر خلافت کی طرف جارہے ہیں دونوں کا لباس خون آلود تھا بہت سے لوگ ساتھ تھے حضور اپنی پگڑی کے پلو کے ساتھ گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔آپا جی بھی پیچھے پیچھے گھر میں چلی گئیں۔ یہ دلخراش خبر عام تھی کہ کسی بد بخت نے چاقو سے وار کیا ہے۔ دعائیں کرتی ہوئیں واپس آگئیں۔ بعد میں اپنی پریشانیوں کا ذکر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ سے بھی کیا جن کے ارشاد پر معاملہ حل ہوا لیکن مسلسل اعصابی تناؤ کی وجہ سے پھر بیمارپڑ گئیں اور اپنی بہن کے پاس کراچی آگئیں۔یہ نومبر ۱۹۵۵ء کی بات ہے۔ کئی زیادتیوں پر صبر کیا یہی ان کے والدین کی تربیت تھی۔ ۱۹۵۶ء میں آپا جی سکول کی ہیڈمسٹریس مقرر کی گئیں۔( تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد دوم صفحہ ۱۱۷)آپ نے سکول کی حالت سنوارنے کے لیے شدید محنت کی جس کے بہتر نتائج آنے لگے۔

مجلس مشاورت میں تحسین:مجلس مشاورت میں حضرت صاحبؓ نے آپا جی کی سکول کی ملازمت میں فوقیت اور تنخواہ کے گریڈ میں حق تلفی کا مسئلہ ممبران کے سامنے رکھا اور بہت شاندار الفاظ میں آپا جی کی خدمات اور مسائل کا سامنا کرنے میں صبر و برداشت کا ذکر فرمایا نیز فرمایا کہ ہمیں ایسے ہی کارکنوں کی سلسلہ کے لیے ضرورت ہے۔ ۱۹۴۱ء کی مشاورت میں بھی آپا جی کے بارے ذکر ملتا ہے۔

ایک شاگرد کا خراج تحسین :مکرمہ ممتاز عطاء اللہ کا ایک بیان مکرم داؤد طاہر نے اپنی کتاب میں شامل کیا ہے جو آپا جی کی سیرت پر اچھی روشنی ڈالتا ہے ۔لکھتی ہیں : بلا کی ذہین تھیں۔فوراً بات کی تہ تک پہنچ جاتیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحکمانہ انداز عطا ہوا تھا۔ اس زمانے میں جب خواتین کی میٹرک تک تعلیم بھی بہت سمجھی جاتی تھی انہوں نے بی اے، بی ٹی کیا اور نصرت گرلز ہائی سکول کی ہیڈ مسٹریس مقرر ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی بیٹی سے نوازا تھا ان کی کوشش رہی کہ بچی کو اعلیٰ تعلیم اور بہترین تربیت سے آراستہ کریں۔چنانچہ ان کی محنت اور دعا سے بچی سپیشلسٹ ڈاکٹر بنی اور اللہ کے فضل سے اسے اپنی عملی زندگی میں خدمت خلق کے بے شمار مواقع میسر آئے۔ ساتھ ہی ساتھ اسے ایک کامیاب گھریلو زندگی گزارنے کا موقع ملا یوں بچی معاشرے کے لیے ایک فیض رساں وجود ثابت ہوئی۔

میں نے استانی امۃ العزیز سے بہت کچھ سیکھاہے۔ ان کا ماٹو تھا کہ بچیوں کی تعلیم و تربیت شروع سے ہی اچھی ہونی چاہئے تاکہ انہیں اپنی آئندہ زندگی میں کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔ وہ چاہتی تھیں کہ اطاعت و فرماں برداری اور سلیقہ و وفا شعاری ان کی سرشت میں رچ بس جائے تاکہ یہ سونا تعلیم کی بھٹی میں سے کندن بن کر نکلے۔ وہ عقابی نگاہیں رکھتی تھیں بچیوں کا چلناپھرنا، اٹھنا بیٹھنا ،پہننا اوڑھنا حتّی کہ بال سنوارنا بھی ان کی نظر سے اوجھل نہ رہتا۔ وہ ایک نظر میں بچیوں کی خامیوں کو بھانپ لیتیں اور پھر کسی مناسب وقت پر انہیں اپنے پاس بلاکر اصلاح کی طرف توجہ دلاتیں۔ بچیوں کے سہ ماہی اور شش ماہی امتحانات کے نتائج دیکھ کر ٹیچرز کو ان کی کمزوریوں سے آگاہ کرتیں تاکہ بچیوں کی تعلیم میں رہ جانے والی کمی پوری کی جاسکے اور وہ زندگی میں کامیابی کے افق پر ایک روشن ستارہ بن کر چمکیں… دعا گو ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور جنت میں اعلیٰ علیین میں جگہ دے آمین۔ (قریۂ جاوداں صفحہ۷۶)

خدمات سلسلہ: ۱۔ سلائی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی جو جماعت کے کام آئی۔ ۱۹۳۱ء میں حضرت سیدہ امّ طاہرصاحبہؓ کے ارشاد پر اپنی سلائی کی چیزیں نمائش کے لیے پیش کیں اور نمائش گاہ کی تیاری کا کام کیا۔ اس کام میں مکرمہ استانی عنایت بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم مولوی محمد یار عارف سالہا سال تک آپا جی کا ہاتھ بٹاتی رہیں پہلے پہل ڈھاب کے پل کے ساتھ مکرم قاری غلام یٰسینؓ کے مکان کے ایک کمرے میں نمائش ہوتی تھی اس کے بعد جامعہ احمدیہ کے کمرے استعمال ہوتے اور دسمبر ۱۹۴۶ء میں تعلیم الاسلام کالج کے ہال میں نمائش لگائی گئی۔ یہ نمائش نہایت کامیاب رہی۔ربوہ آکر بھی آپ منتظمہ نمائش رہیں۔ تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد اوّل کے صفحہ ۳۱۴ پر استانی امۃالعزیز کے انعامات کی فہرست درج ہے۔ کروشیا میں اول انعام ، کشیدہ، سلائیوں کے کام، دوسوتی اور تارکشی میں دوم انعام حاصل کیا۔

۲۔ مکرم حکیم محمد عمر کے شہر والے مکان میں جلسہ گاہ میں مکرمہ قمر عطاء اللہ اور مکرمہ مسز شاہ کے ساتھ سٹیج کے پاس ڈیوٹی دی۔ جلسہ گاہ مستورات میں انسپکٹریس کی کئی دفعہ ڈیوٹی دی۔ دارالمسیح میں مہمانوں کو کھانا کھلانے پر بھی ڈیوٹی دی۔

۳۔ ۱۹۴۸ء میں کوئٹہ میں لجنہ کے قیام اور تنظیم میں عملی حصہ لیا۔سارا ریکارڈ تیار کیا۔۱۹۵۲ء تک خدمت کی توفیق ملی۔ ریٹائر ہونے کے بعد پھر کوئٹہ میں رہائش اختیار کی تو دو دفعہ لجنہ کی صدر منتخب ہوئیں۔

۴۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی بیٹی کے ساتھ لیڈی ڈفرن ہسپتال میں رہتی تھیں تو وہاں بھی بچیوں کو قرآن مجید پڑھایا۔

علالت اور وفات: ۱۹۶۴ء میں ہیڈ مسٹریس کے عہدہ سے ریٹائر ہوئیں تو اپنی اکلوتی بیٹی امۃ السمیع کے ساتھ رہنے لگیں۔ دسمبر ۱۹۸۶ء میں طویل علالت کے بعد وفات پائی۔ ۱۹۳۱ء میں وصیت کی تھی۔ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَھَا وَارْحَمْھَا وَادْخِلْھِا فِیْ اَعلیٰ علیّیْن۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں:مکرم سید رشید طارق صاحب شہید اور میرے خاندان کا تذکرہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button