یادِ رفتگاں

مکرم سید رشید طارق صاحب شہید اور میرے خاندان کا تذکرہ

(سمیع فاخرہ جدران۔آئرلینڈ)

معمول کی ایک پُرسکون رات تھی جب میری پیاری امی، مکرمہ سیدہ بلقیس صاحبہ کے بڑے بھائی، ہمارے ماموں مکرم سید رشید طارق ہمارے گھر آئے۔ وہ عموماً اس وقت نہیں آتے تھے۔ ہم ان کے آنے سے بہت خوش ہوئے۔ بہت اچھا لگ رہاتھا۔ سب ہنسی خوشی، خوشگوار موڈ میں باتیں کرتے رہے۔ انہوں نے میرے ابوجان، چچاجان اور امی کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور ٹیلی وژن پر پروگرام بھی دیکھے۔ میں چھوٹی تھی اور میری چوتھی سالگرہ میں ابھی کچھ دن باقی تھے، سب کی لاڈلی ماموں کے بازوؤں میں جھولتی رہی۔ سب مجھے بہت پیار کرتے تھے۔ کچھ وقت گزرا تو امی نے کہا کہ رات یہیں ٹھہر جائیں۔ اصرار بھی کیا مگر ماموں کو خیال تھا کہ ان کے چھوٹے بھائی ان کے منتظر ہوں گے۔ لہٰذا گھر جانا چاہیے۔ رات ساڑھے بارہ بجے میرے چچاجان (عبد المومن جدران جو آج کل انگلینڈ میں رہتے ہیں) انہیں گھر تک چھوڑنے گئے۔

رات اتنی خوشگوار تھی مگراس کی صبح بڑی دردناک تھی۔ اس طرح کہ امی نے ایک کال وصول کی جس نے سارا سکون چکنا چُور کر دیا۔ یہ خبر ملی کہ بڑے ماموں اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ امی دونوں بچیوں (خالدہ ثمینہ جدران اور سمیع فاخرہ جدران) کو ساتھ لے کر پیدل چلتے ہوئے اپنے والدین کے گھر پہنچیں۔ میرے ابو جان (مرحوم محمد عبدالسمیع جدران)، ہمارے بھائی ناصرسمیع جدران، چچا عبدالرفیق جدران اور چچا ڈاکٹر عبدالمومن جدران کے ہمراہ ایک سفر کے درمیان سے واپس پہنچے۔ جہاں جاکر ہمیں پتہ چلا کہ اچانک حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

مکرم سید رشید طارق حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے ساتھ

میرے چھوٹے ماموں (مرحوم سید حمید طارق)انتہائی صدمے میں اپنے بڑے بھائی کے بے جان جسم کےپاس گُم سُم بیٹھے تھے۔ یہ ۲؍مارچ ۱۹۸۴ء کا واقعہ تھا۔ ان کی اچانک وفات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ خبر بہت جلدی پھیل گئی اور ہمارے نانا نانی کا گھر سوگواروں سے بھر گیا۔ وہ بہت ہر دلعزیز تھے۔ خدمت دین کی وجہ سے معروف شخصیت تھے۔ جس نے سنا دل پکڑ کر رہ گیا۔

میرے بڑے ماموں،مکرم سید سعید خالد مرحوم کے بیٹے اورصحابی حضرت مسیح موعودؑ حضرت سیّد عبد الرحیم شاہ صاحبؓ کے پوتے تھے۔ قادیان میں پیدا ہوئے تھے۔ بہت اچھی عادتوں کے مالک تھے۔ ایک تابعدار خدمت گزار بیٹا، دیکھ بھال کرنے والا بھائی، وفادار دوست، جماعت کا محنتی کا رکن، اور عزیز پڑوسی۔ میری امی جان اکثر سناتی تھیں کہ کیسے وہ مسلسل پیسے جمع کرتے تھے تاکہ غریبوں کو کھانا کھلایا جا سکے، محلےکی تقریبات میں بھی حصہ لیتے تھے اور کھانے پینے کی اشیا فراہم کرتے تھے۔ خیراتی اداروں کو مستقل عطیہ دیتے۔

تاریخ احمدیت کراچی میں ان کے بارے میں لکھا ہے: ’’آپ کو احمدیت سے والہانہ عقیدت ومحبت تھی۔ آپ نہ صرف جماعت احمدیہ کراچی میں گونا گوں دینی مصروفیات میں ہمیشہ اپنے اوقات اور صلاحیتوں کو خرچ کرتے رہے بلکہ سالہا سال تک قائد مجلس خدام الاحمدیہ ضلع کراچی او ر بعد ازاں قائد علاقہ خیرپور( سندھ ) کی حیثیت سے مستعدی سے اپنے فرائض انجام د یتے رہے۔ آپ بہت ہی صائب الرائے، بردبار، باوقار اور باقاعدگی سے کام کرنے والے خادم سلسلہ تھے۔ ‘‘ (کراچی تاریخ احمدیت صفحہ ۱۲۱۷)

اندرون سندھ کے مختلف حصوں میں جماعتی کاموں اور خدّام سے ملنے کے لیے دور دراز سفر کرتے تھے۔وہ سپین میں مسجد بشارت کی افتتاحی تقریب میں اپنی والدہ صاحبہ کو ساتھ لے کر گئے تھے۔رمضان کے دوران، گھر میں بہنوں سے مل کر افطار کے لیے لفافوں میں کھجوریں اور دوسری کھانے کی چیزں ڈالتے اور ہر روز شام کو احمدیہ ہال لے جاتے۔ یہ کام وہ بڑے شوق سے ثواب کے لیے کرتے تھے۔

میری پیاری والدہ، جنہوں نے اس مضمون کے لیے اہم معلومات فراہم کیں، خوشی سے بتاتی تھیں کہ میرے بڑے ماموں بہت نیک مزاج رکھتے تھے، نماز روزے کے پابند تھے، قرآن پاک کی تلاوت سے بے حد خوشی ملتی تھی۔ تعلیم بھی اچھی حاصل کی تھی۔ انہوں نے گریجویشن کی اور بعد میں قانون میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ اکاؤنٹنگ میں ماسٹرز کیا اور محنت سے کام کر کے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈمیں برانچ مینیجر کے عہدے تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بےپناہ برکتوں سے نوازا۔ نہ صرف وہ اپنے کیریئر میں کامیاب تھے، بلکہ ان کے پاس جائیداد خریدنے اور خاندان کے لیے اضافی مدد فراہم کرنے کے وسائل بھی تھے۔ میرے بڑے ماموں نے اختر کالونی میں میرے نانا ابو کے لیے (جنہوں نے ہومیوپیتھی کورس میں سرٹیفیکیٹ لیا تھا) ایک ہومیوپیتھک کلینک کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کلینک میں انہوں نے بے شمار وقت وقف کیا اور محدود آمدنی والے لوگوں کا علاج کرتے تھے۔ اختتام ہفتہ کا وقت جماعت کے کام کے لیے وقف کیا ہوا تھا۔

اپنے نانا ابو کے انتقال کے قریباًایک سال بعد میں اپنی نانی اماں، مرحومہ اقبال بیگم، کے ساتھ کلینک گئی، میں نے دیکھا کہ میرے بڑے ماموں نے کلینک میں مریضوں کی سہولت اور آرام کا ہر سامان رکھا ہوا تھا۔ نانا ابو اور بڑے ماموں دونوں ہی ضرورت مندوں کی مدد کے لیے مستعد رہتے۔ یہاں تک کہ بڑے ماموں کے انتقال کے بعد بھی، ان کی جمع پونجی سے میری نانی اماں کو آرام سے زندگی گزارنے میں سہولت رہی۔ ان کی نمایاں کامیابیوں، کھلے دل سے سخاوت اور مضبوط ایمان نے ہمارے خاندان پر انمٹ نقش چھوڑا۔

ماموں کوکئی شعبوں میں خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی زندگی جماعت سے ہررنگ میں غیرمتزلزل وابستگی کی گواہ تھی۔ میری خالہ مکرمہ سیدہ رفعت نصیر (شمالی کیرولائنا ) نے ذکر کیا کہ ملازمت کے وقت کے علاوہ وہ جماعتی سرگرمیوں میں خود کو مشغول رکھتے تھے، خدام کی تربیت پر توجہ دیتے تھے اور مختلف جماعتی پروگراموں اور منصوبوں میں حصہ لیتے تھے۔

وہ اکثر ضرورت پڑنے پر اپنی رہائش گاہ کو دفتر کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ بچپن سے ہی انہوں نے مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں جمعہ کے دن مسجد کی حفاظت کا انتظام کرنا بھی شامل تھا۔

ہر کام دلجمعی اور وقف کی روح کے ساتھ کرتے۔ اگر کسی خادم کےوالدین ان سے اپنے بیٹے کی تربیت کا کہتے تو اسے اپنا مشن بنا لیتے۔ بلکہ سارے خدام کو محبت اور شفقت سے اپنے پروں کے نیچے لے لیتے اور انہیں اپنے فارغ اوقات کو جماعتی سرگرمیوں کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کی راہنمائی سے خدام کو بامقصد زندگی گزارنے کا احساس ہوتا جو ان کے والدین کو فکر مند کرنے والی کسی منفی سوچ سے بچا کر طمانیت دیتا۔ وہ اپنے خدام کو خدمت دین کے راستے کی طرف گامزن دیکھ کر خوش ہوتے۔

میری خالہ مکرمہ سیدہ فرحت عقیل (نیو جرسی ) نے بتایا کہ بڑے ماموںمسلسل درود شریف پڑھتے رہتے تھے، جسے وہ اپنی کامیابی کی کنجی سمجھتے تھے۔

میرے خالو مکرم ڈاکٹر وسیم سید صاحب نے بتایا کہ جماعت کی وجہ سے آپ کی مخالفت بھی ہوتی تھی۔ پو لیس پیچھا کرتی رہتی اور بعض دفعہ انہیں چند گھنٹوں کے لیے لے جاتی اور پھر کچھ پوچھ گچھ کرکے چھوڑ دیتی تھی۔ ماموں کی تکلیف کا سوچ کے میں پاکستان میں راہ مولیٰ کے اسیروں اور مختلف آزمائشوں میں پھنسے ہوئے احباب کے لیے دعا کرتی ہوں۔

بڑے ماموں کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ میری نانی اماں ان کا رشتہ ڈھونڈنے کےلیے ربوہ گئی تھیں، ماموں کو بھی ربوہ جانا تھا مگر اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔ نانا ابوکے انتقال کے پانچ ماہ بعد ماموں بھی رخصت ہو گئے۔ ماموں کو حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے شہید قرار دیا اور شہداءکے قطعہ میں دفن کیا گیا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ۳؍مارچ ۱۹۸۴ءکو بعد نماز فجر مسجد مبارک ربوہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور اسی دن میری نانی اماں سے میری خالہ سیدہ فرحت عقیل کے سسرال میں تعزیت کے لیے تشریف لائے۔ میری خالہ نے بتایا کہ جب حضورؒ ان کی رہائش گاہ پر آئے تو وہ گھر میں تھیں۔ حضورؒ نے فرمایا،“آج ہماری جماعت کا ایک شیر چلا گیا ہے۔” میری نانی اماں اکثر اس جملے کو یاد کرتی تھیں۔ کراچی جماعت نے ان کے لیے ایک قراردادشائع کی جس میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ قرار داد ۴؍مارچ ۱۹۸۴ء کو الفضل ربوہ میں شائع ہوئی۔ جماعت کے معروف شاعر مکرم سید محمد سلیم شاہ جہاں پوری نے جماعت کے جذبات کو نظم کیا :

سیّد رشید طارق کی وفات حسرت آیات

اک اشارے میں ہوا بُود سے انساں نابود

اور سب فانی ہیں باقی ہے فقط ربّ ودود

وہی خالق وہی مالک ہے وہی ہے معبود

وہی ہادی وہی رہبر ہے وہی ہے مسجود

منحصر مرضیٔ مولا پہ ہے بود و نابود

ابھی اک چیز ہے موجود، ابھی ناموجود

دو گھڑی گلشن عالم کی ہے رنگین بہار

عارضی ہے گلِ تازہ کا وجود اور نمود

زندہ رکھتا ہے جسے چاہے وہ ربّ الارباب

اور جب چاہے جسے چاہے وہ کردے نابود

موت بر حق ہے مگر اُس کی جدائی بھی ہے شاق

نافع الناس رہا جس کا وجودِ باجود

ہے الم ناک بہت سیّد طارق کی وفات

جس کو منظور تھی ہر لحظہ رضائے معبود

گامزن راہِ عمل پر وہ رہا ساری عمر

دُور تھی اس کی طبیعت سے رِیا ہو کہ نمود

زندگی وقف تھی اس کی برہِ دینِ خدا

خدمت خلقِ خداوند تھی اُس کا مقصود

اُس کو اللہ نے دی حسنِ عمل کی توفیق

کسی انعام کی حسرت نہ تمنائے نمود

گلِ خوش رنگ کی مانند تھا چہرہ اُس کا

ایک گلدستۂ منظورِ نظر اُس کا وجود

خوش مزاجی میں سموئی تھی متانت اُس کی

قول بھی اس کا سعید اُس کے عمل بھی مسعود

صادق آئی یہ مثل سیّد طارق پہ سلیم

خوش درخشید ولے شعلۂ مستعجل بود

ماموں کے ذکر خیر کے بعد میں آپ کے خاندان کا تعارف پیش کرنا چاہتی ہوں تاکہ آنے والی نسلیں بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے والی ہوں۔ یہ معلومات میں نے اپنی مرحومہ والدہ کی خواہش پر اپنے عزیزوں اور بزرگوں سے جمع کی ہیںاور ہر ممکن تحقیق اور تصدیق کرنے کے بعد یہ مضمون لکھا ہے۔ دعا ہے کہ یہ بیان نافع الناس ہو اور میری امی کی خواہش کے مطابق ہماری اگلی نسل اللہ اور جماعت سے مضبوطی سے جڑی رہے۔ آمین۔

امی کے خاندان کے پہلے احمدی حضرت منشی عبد الرحمٰن صاحب رضی اللہ عنہ تھے، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۳۱۳؍اصحاب میں شامل تھے۔ وہ حضرت مسیح موعودؑ کی تیار کردہ فہرست میں نمبر دس پر تھے۔ ان کی بیٹی حضرت امۃاللہ بیگم (رضی اللہ عنہا) میرے نانا ابو، مکرم سید سعید خالد، کی والدہ تھیں۔

میرے نانا، مرحوم سید سعید خالد،قریباً ۲۵؍سال تک اپنے حلقہ سعید منزل ضلع کراچی میں ناظم اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ ایک بے نفس، مخلص، فدائی احمدی تھے اپنی زندگی دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے وقف رکھی۔ خلافت کے ساتھ ان کی گہری وابستگی تھی۔۱۹۵۰ء کی دہائی سے لے کر اپنی زندگی کے آخر تک، انہوں نے کراچی جماعت کی خدمت کی۔ پرہیزگار انسان تھے۔ تہجد اور پانچ وقت کی نمازوں کے پابند تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی مثالی زندگی اور تربیت نے ان کے بچوں کے لیے جماعت کی خدمت کا معیار قائم کیا، جو ایک طرح ان کے لیے صدقۂ جاریہ ثابت ہوا۔ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۸۳ء کو انتقال کر گئے۔ موصی تھے بہشتی مقبرہ ربوہ، پاکستان میں مدفون ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

میری نانی اماں کا نام مکرمہ اقبال بیگم تھا ان کا گھر جماعت کے مرکز احمدیہ ہال صدرکے بہت قریب تھا۔ جماعتی اجتماعات، جمعہ، جلسہ اور نمازوں میں بچوں کے ساتھ شرکت کرتیں۔ احمدیہ ہال ان کا دوسرا گھر تھا۔

میری نانی بھی جماعتی خدمات میں پیش پیش تھیں۔حلقہ سعید منزل میں سیکرٹری مال اور سیکرٹری خدمت خلق کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پھر وہ اس حلقہ کی نگران بنا دی گئیں۔ فعال اور احسن رنگ میں ذمہ داریوں کو ادا کرنے والی تھیں۔ چھ سات حلقوں کا دورہ کرنا مشقت طلب کام تھا بعض علاقوں میں بسوں میں سفر کرنا آسان نہیں تھا لیکن وہ ہمت سے کام کرتیں۔انہیں اکثر مختلف حلقہ جات کی تقریبات میں مہمان کے طور پر مدعو کیا جاتا۔ نانی امّاں ہمیشہ جماعت کی خدمات کی اہمیت اور اس کے فائدے بتاتی تھیں۔ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان غیر متزلزل تھا۔

مکرمہ امۃ الباری ناصر صاحبہ نے ان کے ساتھ کام کیا تھا، لکھتی ہیں : “۱۹۷۳ ءمیں کراچی میں لجنہ کو پہلی بار چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا، تو اقبال بیگم کو قیادت نمبر ایک کی نگران مقرر کیا گیا۔ ۱۹۸۰ء اور ۱۹۸۱ء میں، لجنہ مرکزیہ ربوہ نے انہیں ان کی شاندار کارکردگی پر ایک سرٹیفکیٹ سے نوازا۔

۱۹۸۰ء میں جب ان کے میاں مکرم ناصر احمد قریشی کی اسلام آباد سے کراچی ٹرانسفر ہوئی تو جناح ہسپتال صدر کے پاس ٹیلیفون کے محکمے کی طرف سے ملنے والے سرکاری مکان میں رہنے لگے۔ جمعہ کے لئے احمدیہ ہال صدر میں گئیں تو آپا اقبال سے تعارف ہؤا وہ اگلے دن ان کے گھر آگئیں اور تحریک جدید کا رجسٹر دے کر اس میں ترتیب سے نام لکھ کر چندوں کا اندراج کرنے کا کام دیا۔ کام بڑی تفصیل سے سمجھایا پچھلے سال کے چندے نئے سال کے وعدے وغیرہ لکھنے کا کام بڑی شفقت سے سمجھایا۔ نیز کچھ دن بعد ہونے والے اجتماع کی میزبانی کا کام بھی دے گئیں۔ اس طرح ان کا کراچی میں لجنہ کے کام کا آغاز ہوا جو چالیس سال سے زائد عرصہ جاری رہا۔ اجلاس آپا کے گھر میں ہی ہوتاتھا۔ وہ بڑی تھیں شفقت اور محبت سے پیش آتیں بے تکلفی اور دوستی کا سا تعلق بن گیا۔ آپا ایک مدبر باوقار خاتون تھیں۔ ساری اولاد میں خدمت دین کا شوق پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ آپا اقبال صاحبہ کو جزائے خیر عطا فرماتا رہے۔‘‘

یہاں میں اپنی نانی کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا ایک غیر معمولی یادگار واقعہ لکھوں گی۔ ۱۴؍جولائی ۱۹۸۷ء کو صدر کے بازار میں بموں کے خوفناک دھماکے ہوئے۔ نانی اماں گھر پر نہیں تھیں سائرن کی چیختی آوازیں مسلسل گونجنے لگیں۔ بالکنی سے قیامت کا منظر دیکھا۔ خطرہ بھانپ کر ہم دروازے بند کرکے بیٹھ گئے مگر نانی اماں کا فکر جان کو کھا رہا تھا قریباً دو گھنٹے بعد وہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے گھر آگئیں انہوں نے بتایا کہ وہ اس علاقے کی طرف جا رہی تھیں جہاں بم پھٹے تھے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں خیال آنے کی وجہ سے راستہ تبدیل کر لیا۔ اگر وہ راستہ تبدیل نہ کرتیں تو عین اسی جگہ ہوتیں جہاں یہ بم پھٹے تھے اور بے شمار اموات ہوئی تھیں۔ سچ ہے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔

نانی اماں ۱۹۹۰ ءکے آخر میں ربوہ منتقل ہو گئیں۔ میری والدہ اور ہم ان کے تین بچے بھی ساتھ تھے۔ چند ماہ بعد ۶؍مارچ ۱۹۹۱ءکو انتقال کر گئیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ بہشتی مقبرہ ربوہ، پاکستان میں میرے نانا کی قبر کے قریب مدفون ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

میری خالہ، مرحومہ سیدہ بشریٰ سعادت رشید سلطان غوث: ۱۹۷۳ءمیں آپ کراچی کی مرکزی عاملہ میں نائبہ جنرل سیکرٹری بنیں اور ۱۹۷۳ءسے۱۹۷۹ء تک ناصرات الاحمدیہ ضلع کراچی کی نگران رہیں۔ شادی کے بعد ماریشس میں جماعت کے مختلف کاموں میں پیش پیش رہیں، وہاں انہوں نے ایک مکتب قائم کیا اور بہت سے طلبہ کو قرآن پاک پڑھایا۔ ۱۵؍دسمبر ۲۰۰۲ء کو انتقال کر گئیں۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔آپ ماریشس میں مقبرہ موصیان کے لیے مختص جگہ میں دفن ہونے والی پہلی موصیہ تھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، نے اپنے ماریشس کے دورے کے دوران، ان کی قبر پر دعا کی۔ اور مقبرہ کے احاطہ میں ایک پودا لگایا، پھر حضرت بیگم صاحبہ نے بھی ایک پودا لگایا۔(الفضل انٹرنیشنل ۱۶-۲۲ دسمبر ۲۰۰۵ ءصفحات ۱۱-۱۲)

میری والدہ مرحومہ سیدہ بلقیس صداقت سمیع بھی حلقہ سعید منزل میں جماعتی پروگراموں کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دینے میں بھرپور محنت کرتی تھیں۔ انہوں نے ۱۹۸۰ءکی دہائی کے اواخر میں اپنے حلقہ میں ناصرات کا کام کیا۔ جماعت کراچی کی سرگرم خادمہ مکرمہ حور جہاں بشریٰ داؤو کی نگرانی میں احمدیہ ہال صدر میں مختلف پروگراموں میں خدمات انجام دیں۔ ربوہ میں ایک سال تک صحت ِ جسمانی کی سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ امریکہ منتقل ہو ئیں تو اپنے حلقہ میں ملنسار ہمدرد خاتون کی حیثیت سے معروف ہوئیں۔

تجربہ کی وجہ سے لجنہ کی ممبرات کی بہت سے کاموںمیں راہنمائی کرتیں۔ ۲۰؍ستمبر۲۰۲۴ء کو ورجینیا میں انتقال کر گئیں اور میری لینڈ میں موصیان کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

میری تین خالہ سیدہ رفعت نصیر صاحبہ،سیدہ فرحت عقیل صاحبہ اور سیدہ حامدہ مبشرہ صاحبہ سب کو جہاں جہاں بھی رہیں مختلف حیثیتوں سے جماعتی خدمت سرانجام دینے کی توفیق ملی۔اسی طرح میرے چھوٹے ماموں سید حمید طارق صاحب مرحوم بھی مجلس خدّام الاحمدیہ کراچی کے محنتی رکن تھے۔۱۹۸۰ء کی دہائی کے آخر میں وہ ملازمت کے سلسلے میں پنجاب منتقل ہو گئے ۔جنوری ۲۰۲۴ءمیں پاکستان میں انتقال کر گئے اور بہشتی مقبرہ توسیع ربوہ میں مدفون ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

اللہ تعالیٰ ہماری آئندہ نسل کو اسلام احمدیت کی خدمت کے عظیم مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: پروفیسر مسعود احمد عاطف صاحب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button