حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… سپین کے زیرِ انتظام مراکشی علاقے سیوٹا میں داخل ہونے والے ہزاروں تارکینِ وطن کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ہسپانوی حکام کے مطابق جمعرات سے اب تک مراکش سے پچاس ہزار سے زائد افراد سیوٹا میں داخل ہوئے جن میں سے ۴۸؍ہزار ۳۰۰؍افراد رضاکارانہ طور پر واپس جا چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ال ترخال سرحد کے ہسپانوی حصے سے اب تک ۵۷؍افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرحد کی دوسری جانب مراکش میں بھی مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ہسپانوی حکام کے مطابق بعض تارکینِ وطن سمندر میں ڈوب گئے تھے جبکہ کچھ افراد سرحدی باڑ کے قریب بھگدڑ اور ہجوم میں کچلے جانے سے جان کی بازی ہار گئے۔

٭… چینی افواج کے سدرن تھیٹر کمانڈ نے ہوانگ یان ڈاؤ اور اس کے گرد و نواح کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں مشترکہ بحری و فضائی تربیتی مشقیں کی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چینی فوج نے جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع اسکاربرو شول کے اطراف مشترکہ فضائی اور بحری جنگی مشقیں کی ہیں۔پیپلز لبریشن آرمی کے سدرن تھیٹر کمانڈ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں اس کی تصدیق کی۔بیان کے مطابق یہ مشقیں اسکاربرو شول کے فضائی اور سمندری حدود میں منعقد کی گئیں، جسے چین میں ہوانگ یان داؤ بھی کہا جاتا ہے۔خیال رہے کہ اسکاربرو شول پر فلپائن بھی دعویٰ رکھتا ہے، جہاں اسے باجو ڈی ماسنلوک کہا جاتا ہے۔چینی تھیٹر کمانڈ کے مطابق یہ مشقیں جنوبی بحیرۂ چین کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر اور خطے کے بعض ممالک کی جانب سے ایسے اقدامات کے ردِعمل میں کی گئی ہیں جو علاقائی امن اور استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ان تربیتی مشقوں کا مقصد افواج کی حقیقی جنگی صلاحیتوں کو جانچنا اور بہتر بنانا ہے تاکہ چین کی علاقائی خود مختاری اور سمندری حقوق و مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔چین نے ہفتے کے روز ہوانگ یان جزیرہ نیشنل نیچر ریزرو کے انتظام سے متعلق نئی پالیسی بھی جاری کی۔سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ محفوظ علاقہ ستمبر ۲۰۲۵ء میں قائم کیا گیا تھا۔نئی پالیسی کے تحت محفوظ علاقے میں بغیر اجازت ماہی گیری، کان کنی، مرجان یا دیوہیکل سیپ (جائنٹ کلیم) کے حصول سمیت ماحول کو نقصان پہنچانے والی دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

٭… برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت نومبر ۲۰۲۲ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اس وقت پیٹرول ۱۶۰؍پینس اور ڈیزل ۱۷۹؍پینس فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ایندھن مہنگا ہونے سے برطانوی شہریوں پر مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ گاڑی کا ٹینک بھرنے کی لاگت ۸۸؍پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ ہفتوں میں ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ خام تیل مہنگا اور برطانیہ میں ایندھن کی قیمتیں برقرار ہیں۔اس حوالے سے برطانوی میڈیا کے مطابق ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت ایک بار پھر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے سالانہ تعطیلات پر روانہ ہونے والے لاکھوں گھرانوں پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔برطانیہ میں پٹرولیم قیمتوں کو مانیٹر کرنے والے ادارے آر اے سی کے مطابق برطانوی شہریوں کے لیے ناخوشگوار خبر یہ ہے کہ پیٹرول کی اوسط قیمت ۱۶۰؍پینس فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل جولائی کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد قیمت کم ہو کر ۱۵۱؍ پینس فی لیٹر تک آ گئی تھی۔جمعہ کے روز پیٹرول کی قیمت نومبر ۲۰۲۲ء کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر تھی، جب روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا تھا۔ڈیزل کی قیمت میں بھی ۱۴.۵؍پینس کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ ۱۷۹؍پینس فی لیٹر ہو گئی ہے، تاہم یہ اپریل میں ریکارڈ کی گئی ۱۹۲؍پینس فی لیٹر کی بلند ترین سطح سے اب بھی کم ہے۔آر اے سی کے سربراہ برائے پالیسی سائمن ولیمز نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام خاندانی گاڑی کی پیٹرول ٹینکی بھرنے کی لاگت بڑھ کر تقریباً ۸۸؍پاؤنڈ ہوگئی ہے، جبکہ ڈیزل سے چلنے والی گاڑی کی ٹینکی بھرنے پر تقریباً دس پاؤنڈ اضافی خرچ آ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے اور اگر خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی نہ آئی تو آئندہ چند ہفتوں میں یہ ۱۸۵؍پینس فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔جون کے وسط میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں کمی آئی تھی۔ تاہم، حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ٹرمپ امن کوششوں سے مایوس دکھائی دیے، اور امریکہ نے ایران پر کئی نئے حملے کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button