متفرق

اے چھاؤں چھاؤں شخص! تری عمر ہو دراز(خلافت کے زیرِ سایہ ۔برکات و راہنمائی کے لمحات ۲۰۲۴ءتا۲۰۲۵ء۔ قسط چہارم)

ڈائری مکرم عابد خان صاحب سے ایک انتخاب

ایک سنگترے کا درخت، ایک آم کا درخت

۲۰۲۴ء کے دوران حضورِ انور نے از راہ ِ شفقت ریاستہائےمتحدہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے متعدد خدام کے وفود سے ملاقاتیں فرمائیں، جو چند دن خلافت کے قُرب میں گزارنے کے لیے اسلام آباد تشریف لاتے رہے۔

ابتدائی طور پر صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ امریکہ بھر سے چند سو خدام پر مشتمل ایک بڑا گروپ اسلام آباد آئے۔ تاہم حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ خدام کو چھوٹے چھوٹے گروپس میں آنا چاہیے تاکہ آپ ہر فرد سے ذاتی طور پر واقفیت حاصل کر سکیں۔ اس کے لیے حضورِ انور کو کہیں زیادہ وقت صَرف کرنا پڑا جوکہ اس بات کا مظہر ہے کہ خلیفۂ وقت کی مخلصانہ خواہش یہ ہے کہ احمدی نوجوان خلافت کے ساتھ ایک قریبی اور ذاتی تعلق قائم کر سکیں۔

ملاقاتوں کے دوران خدام کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو متعارف کروائیں اور حضورِانور سے اپنے سوالات پر راہنمائی حاصل کر سکیں۔

۲۰۲۵ءکے اوائل میں دورانِ ملاقات ایک خادم نے حضورِانور کی خدمت میں یہ سوال عرض کیا کہ مسلمان درود پڑھتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کا حوالہ دیتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کیوں کرتے ہیں؟

اس کے جواب میں حضورِ انورنے وضاحت فرمائی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت میں جو برکات اور ترقیات کی صلاحیت مضمر تھی، وہ اپنی کامل ترین صورت میں آپؑ کی نسل میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ولادت کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ چنانچہ جب ہم درودشریف پڑھتے ہیں تو ہم دراصل اسلام کی تمام تر صلاحیتوں کے مکمل ظہور کے لیے دعا کر رہے ہوتے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام سے وابستہ تمام ممکنہ برکات اور فضائل کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ایسی عظیم صلاحیت جو کسی بھی دوسرے نبی یا مذہب کی نسبت کہیں بڑھ کر ہے۔

مَیں نے حضورِ انور کے جواب سےخوب حظّ اُٹھایا اور بہت کچھ سیکھا اور اسی دن بعد ازاں دورانِ ملاقات مَیں نے اس پر حضورِانور کا شکریہ ادا کیا۔ اس پرحضورِ انور نے فرمایا کہ مَیں نے سنگترے اور آم کے درخت کی مثال اس لیے دی تھی کہ ایک سنگترے کے درخت کی ممکنہ پیداوار محدود ہوتی ہے، مثلاًایک ہزار یا پندرہ سو سنگترے، جبکہ آم کے درخت کی ممکنہ پیداوار ہزاروں آم ہو سکتی ہے۔

بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ حضورِ انور نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ پھلدار درخت کا جو استعارہ مَیں نے استعمال کیا وہ تمام خدام کو سمجھ بھی آیا یا نہیں۔ میرا مقصد یہ تھا کہ سنگترے کے درخت میں ایک خاص حدّ تک پھل دینے کی صلاحیت ہوتی ہے، جبکہ آم کے درخت میں بہت زیادہ پھل دینے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کا روحانی شجر اپنی انتہا کو پہنچا اور اپنی کامل صلاحیت کو اس وقت پُورا کیا جب آپؑ کی نسل میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ تاہم آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا مبارک روحانی شجر کسی بھی دوسرے نبی کی نسبت کہیں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ آپؐ کی تعلیمات تمام انسانوں اور ہر زمانے کے لیے عالمگیر ہیں۔ لہٰذا جب ہم دعا کرتے ہیں کہ اے الله! آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو اس طرح برکت عطا فرما جیسا کہ تُو نےحضرت ابراہیمؑ کو برکت عطا فرمائی تھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دعا کررہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی حقیقی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے قابل فرمائے اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی بےمثال برکات تمام انسانوں اور اقوام تک پہنچ جائیں۔

بلا شبہ حضورِ انور کا زرعی پس منظر اور پھلدار باغات کی دیکھ بھال کرنے کا تجربہ اس سادہ مگر گہری مثال کی بنیاد تھا جس نے درود کی دعا کا حقیقی مفہوم نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔

عروجِ افریقہ، عدل کی راہنمائی میں

۲۰۲۵ء کے اوائل میں سینیگالی صدر کے نمائندہ Mr. Ndao Saer اسلام آباد تشریف لائے تاکہ حضورِانور سے شرفِ ملاقات حاصل کر سکیں۔

دورانِ ملاقات سینیگالی مہمان کے لیے حضور انور کی راہنمائی دلکش تھی اور اس میں حضورِ انور کی برّاعظم افریقہ کے لیے محبّت اور اسے ترقی و خوشحالی کے راستے پر دیکھنے کی خواہش عیاں تھی۔

جب ملاقات شروع ہوئی تو مسٹر سائیر نے اپنے دَورے کا مقصد بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضور! ہمارے ملک کے صدر نے حال ہی میں اقتدار سنبھالا اور نئی حکومت تشکیل دی ہے، اس لیے انہوں نے مجھے بھیجا ہے تاکہ مَیں آپ کی راہنمائی اور مشورہ حاصل کروں کہ حکومت کو کس طرح بہتر طریقے سے چلایا جائے۔

جواب میں حضورِ انور نے فرمایا کہ جب بھی کوئی حکومت عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتی ہے تو حکومت کو اسے عوام کی جانب سے ایک امانت سمجھنا چاہیے۔ یقیناً لوگ اپنے راہنماؤں اور حکومت کا انتخاب اس اُمیداور یقین کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ لہٰذا سینیگال کی حکومت اور اس کے راہنما صرف اسی صورت میں اس امانت کا حق ادا کر سکتے ہیں اور معیارِ زندگی بلند کر سکتے ہیں کہ جب وہ انصاف اور ایمانداری کے تقاضوں کو پورا کریں۔ بنیادی طور پر یہ ضروری ہے کہ ملک کے قوانین اور آئین کاسب پر یکساں طور پر اطلاق ہو، نہ یہ کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک رَوا رکھا جائے یا انصاف کے اصول سے انحراف کیا جائے۔

حضورِ انورنے مزید فرمایا کہ آپ کو اپنے عوام کی مخلصانہ خدمت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ یہ سمجھیں اور محسوس کریں کہ آپ اپنے ملک اور اس کے لوگوں سے محبّت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ تب عوام آپ کی حمایت کرے گی۔

عوامی خدمتگاروں میں سچائی اور دیانتداری کی بنیادی ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہوئےحضورِ انور نے فرمایا کہ کئی ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کے لیے اپنے ٹیکس ادا کرنا ایک بڑی کمزوری ہے، لیکن اگر عوام کو حکومت پر اعتماد ہو اور یقین ہو کہ ان کا پیسہ دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ قوم کی بھلائی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، تو وہ اسے ادا کریں گے۔

حضورِ انور نے خوبصورتی کے ساتھ قیادت کے تقاضوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا کہ صدر، حکومت کے تمام منتخب اراکین اور سیاستدان یہ یاد رکھیں اور سمجھیں کہ وہ عوام پر حکمرانی کرنے کے لیے منتخب نہیں ہوئے، بلکہ انہیں عوام کی خدمت کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ آپ کے عوام کی اکثریت مسلمان ہے، لہٰذا ہمیشہ اس اصول کو یاد رکھیں جو ہمیں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے سکھایا ہے کہ ایک حقیقی راہنما اپنی قوم کا خادم ہوتا ہے۔ اگر آپ اسی طرح عمل کریں، تو آپ کی حکومت کامیاب ہوگی اور آپ کا ملک خوشحال ہوگا۔

جیسے ملاقات آگے بڑھی تو معزز مہمان نے حضورِ انور سے مزید راہنمائی کی درخواست کی۔ اس پر حضورِ انور نے تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ وہ بھرپور کوشش کریں کہ تمام بچوں اور نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہو، چاہے ان بچوں کا پسِ منظر کچھ بھی ہو۔

حضورِانورنے فرمایا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ایک بنیادی نقطہ یہ بھی ہے کہ تعلیمی معیار کو بلند کیا جائے اور آپ کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ملک بھر میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے معیاری تعلیم دستیاب ہو۔ مزید یہ کہ اپنے لوگوں میں یہ احساس پیدا کریں کہ ابتدائی یا ثانوی تعلیم ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور حکومت کو تمام شہریوں کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے کہ جس کے طویل مدتی ثمرات مرتّب ہوں گے۔

حضورِ انور نے یہ بھی بیان فرمایاکہ افریقی ممالک اور ان کے لوگ دنیا میں قیادت کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم پُرتشدد اور ہلاکت خیز حالات سے گزر رہے ہیں۔ دنیا، خاص طور پر یورپ، بڑھتی ہوئی جنگ و جدل میں اُلجھی ہوئی ہے۔ کون جانتا ہے کہ یہ معاملہ کہاں جائے گا اور اس سے کیا تباہی ہوگی۔ لہٰذا ترقی پذیر قوموں کو چاہیے کہ وہ اپنے معیار بلند کریں اور ہر شعبے میں بہترین بننے کی کوشش کریں۔

حضورِ انور نے مزید فرمایا کہ میرا ماننا ہے کہ افریقہ کے پاس دنیا کی قیادت کے خلا میں قدم رکھنے کی صلاحیت بلاشبہ موجودہے، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر مستحکم صورتحال میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے افریقی حکومتوں کو ہمہ وقت انصاف اور دیانتداری کے ساتھ کام کرنا ہوگا اور اپنی قوموں کی وفاداری سے خدمت کرنی ہوگی۔ اگر آپ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ کی قومیں دنیا کی قیادت کر سکتی ہیں۔

اس کے بعدحضورِ انور نے فرمایا کہ اسلام ہرقسم کی نسل پرستی یعنی رنگ و نسل کی بنیاد پر تعصّب کو مسترد کرتا ہے اور کسی بھی قوم کی صلاحیتیں یا قابلیت ان کی جِلد کے رنگ سے مشروط نہیں ہوتی۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ نہ سوچیں کہ یورپ یا مغرب کے لوگوں کو زیادہ ذہین دماغ دیے گئے ہیں یا ان کے دماغ افریقہ یا ایشیا کے لوگوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں جس وجہ سے انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ ان قوموںکی ترقی کی یہ وجہ ہے کہ ان کے لوگ زیادہ تر محنتی ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے اندر یہ صفات پیدا کر لیں تو بلا شبہ آپ بھی ترقی کر سکتے ہیں۔

حضورِ انور نے مزید فرمایا کہ لہٰذا میری دعا ہے کہ آپ کا ملک اور افریقہ بطور برّاعظم ترقی کرتے رہیں اور کامیاب ہوں اور ایک دن آپ دنیا کی قیادت کرنے کے قابل ہو جائیں!

بعدازاں حضورِ انور نے اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی کی اہمیت پر بھی بات کی۔

حضورِانورنے فرمایا کہ یاد رکھیں کہ اظہارِ رائے کی آزادی، نیز مذہبی آزادی ایک آزاد معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر یہ آزادی موجود ہو تو قوم آزاد ہے۔ لہٰذا لوگوں کو اعتماد دیا جائے کہ وہ اپنے مذہب اور عقائد پر عمل کریں اور اپنے خیالات و آرا کو بغیر خوف کے پیش کر سکیں۔ اگر یہ آزادی موجود ہے تو آپ کے لوگ مطمئن ہوں گے اور حکومت کی حمایت کریں گے اور جانیں گے کہ آپ ان کے ساتھ ہیں۔ تاہم اگر ایسی آزادی کو کسی بھی شکل میں محدودکیا یا روکا جائے تو تب مسائل پیدا ہوتے ہیں اور مایوسی اور شکایات پیدا ہوتی ہیں۔

آخر میں افریقہ میں سیکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حضورِانورنے فرمایا کہ آپ کے ملک کی سیکیورٹی سب سے اہم ہے۔ دہشت گرد گروہ جیسے کہ بوکو حرام، داعش یا الشّباب نے افریقہ میں اڈے قائم کیے ہوئے ہیں اور وہاں ظلم و دہشت پھیلائی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ سینیگال کو ایسی زہریلی صورتحال اور دہشت سے بچایا جائے تو آپ کو معیشت کو بہتر بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر اقتصادی ترقی کے مواقع موجود ہوں تو یہ گروہ پھیلنے کے لیے آکسیجن نہیں پائیں گے۔ دہشت گرد گروہ ان ممالک یا علاقوں میں فائدہ اُٹھاتے ہیں جہاں بدعنوانی اور قانون کی عدم موجودگی ہو اور عوام کا اعتماد ختم ہو چکا ہو۔

ملاقات کے اختتام سے قبل حضورِ انور نے راہنماؤں میں عاجزی کی اہمیت پر بھی بات کی اور انہیں یاد دلایا کہ وہ اپنے اعمال کے بارے جوابدہ ہوں گے۔

مَیں نے پہلے بھی حضورانور سے سنا ہے اور شاید اب بھی یہی بات حضور کے ذہن میں ہو کہ بعض افریقی راہنما عہدہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں اور دہائیوں تک جبر اور بدعنوانی کا سہارا لیتے ہوئےطاقت پر قابض رہتے ہیں۔

حضورِانورنے فرمایا کہ میرا پیغام اپنے راہنماؤں اور سیاستدانوں تک پہنچائیں کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم سب پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں، اس لیے یہ نہ سوچیں کہ ہم ناقابلِ مؤاخذہ ہیں یا کوئی نہیں دیکھتا کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ اقتدار یا حکومت کا فائدہ صرف اس صورت میں ہے کہ جب اسے عوام کی بھلائی اور بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔

حضورِانورنے فرمایا کہ اپنے عوام کی خدمت کرنا اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا خدا کی ان نعمتوں کے شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہےجو اس نے آپ کو عطا فرمائی ہیں، یہ خدا کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ بات اپنے راہنماؤں کے دل و دماغ میں بٹھائیں۔ اگر وہ اسے یاد رکھیں گے تو وہ کامیاب ہوں گے اور برکت حاصل کریں گے۔ یاد رکھیں کہ عزت اور وقار خدمت میں ہے، طاقت میں نہیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: یہ اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا زمانہ ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button