یادِ رفتگاں

بی بی جان …محترمہ امۃ القدوس بیگم صاحبہ کی پیاری یادیں

(نعیمہ بشریٰ۔قادیان)

خاکسار مکرم عبداللطیف سندھی مرحوم کی اہلیہ ہے۔ میری والدہ محترمہ اللہ رکھی صاحبہ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی صاحبزادی امۃ القیوم بیگم صاحبہ کی رضاعی بہن تھیں۔ اس وجہ سے میری والدہ کو خاندان میں سبھی بہت اچھی طرح جانتے تھے اور بہت عزت واحترام کیا کرتے تھے۔ میری نانی مکرمہ حسین بی بی صاحبہ جو کہ مکرمہ بی بی امۃ القیوم صاحبہ کی رضاعی والدہ تھیں، آپ نے بھی خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے بہت سی خدمات پیش کیں۔

میرے بچپن کے زمانہ میں جب میں بہت چھوٹی تھی تو میں محترمہ بی بی جان (امۃ القدوس بیگم ) صاحبہ کے گھر بچوں کے ساتھ کھیلنے جایا کرتی تھی۔ اور تبھی سے میں محترمہ آپا جان کو ان کے بچوں کی طرح اُمی جان کہا کرتی تھی۔ ایک دن میری والدہ نے بی بی جان سے کہا کہ جب آپ کو کوئی کام یا کوئی ضرورت ہو توآپ نعیمہ کو بلا لیا کریں۔ اس پر امۃ القدوس بیگم صاحبہ نے پنجابی زبان میں کہا کہ ’’توں پاویں چیں کر پاویں پیں کر، میں نعیمہ آپڑیں کول ہی لَے آنی اے۔‘‘ پھر جب میں سات سال کی ہوئی تو میری والدہ نے بی بی جان کی خواہش کے مطابق ان کے گھرچھوڑ دیا۔

اس میں درحقیقت یہ راز بھی پنہاں ہے کہ میری بزرگ نانی اورناناجان کے علاوہ میری والدہ صاحبہ کو بھی خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیش بہا خدمت کی توفیق ملتی رہی اوراس مثال کو قائم رکھتے ہوئے میری والدہ محترمہ نے مجھے بی بی جان کی خدمت پرمامور کیا۔ الحمدللہ

بی بی جان مجھ سے بہت محبت اور شفقت کا سلوک کیا کرتی تھیں۔ صبح اسکول جانے سے پہلے میری چوٹی کرتیں، مجھ کو تیار کرکے اسکول بھیجتی تھیں جیسے اپنے بچوں کے لیے ٹفن تیار کرواتی تھیں ویسا ہی میرے لیے بھی اسکول کا ٹفن تیارہوتا تھا۔جب آپ کھانا پکانے کے لیے کھڑی ہوتیں تو مجھ کو اپنے پاس کھڑا کرلیتیں اور مجھے کہتیں کہ دیکھو میں کیسے پکارہی ہوں، اگلی بار تم نے پکانا ہے۔

ایک بار کا واقعہ ہے کہ آپ نے مجھے بھنڈی گوشت پکانا سکھایا۔ پھرایک دوسرے موقع پر جب بھنڈی گوشت دوبارہ پکنا تھا تو آپ نے مجھے کہا کہ تم پکاؤاور آپ کسی کام کی وجہ سے گھر سے باہر چلی گئیں۔ تو میں نے پہلے بھنڈی فرائی کرکے نکال لی اورگوشت بھون کرساتھ ہی بھنڈی ڈال کرکافی دیرتک پکایا۔ جس کی وجہ سے بھنڈی بہت ہی پھول گئی۔ بہرکیف بھنڈی کا سالن صحیح نہیں بن سکا تھا۔ جب سب اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانے لگے تو بی بی جان اور محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب آپس میں کچھ بات کر رہے تھے اور مجھے بلایا اور کہا کہ بھنڈی کو کتنا ٹائم دیا ہے۔ میں نے کہا کہ صرف دس منٹ۔ اس پر وہ دونوں ہنسنے لگے۔ ذرا بھی ناراض نہیں ہوئے اور بڑے پیار سے بتایا کہ بھنڈی کو صرف دم دینا تھا۔ آپ مجھ کو ہرکام بہت ہی پیار سے سکھایا کرتی تھیں۔ کھانا پکانے کے علاوہ بی بی جان نے مجھے سلائی و کڑہائی بھی خود سکھائی تھی۔

آپ نماز، قرآن کی طرف بھی بہت توجہ دلاتی تھیں۔ جب اذان ہوتی تو سب کو نماز کے لیے کہتیں۔ تمام بچوں کی خود نگرانی کرتیں تھیں۔ آپ نے با قاعدہ میرے ساتھ تمام بچوں کے لیے نماز کی حاضری کی الگ الگ کاپی بنائی تھی۔ جس میں پانچوں ٹائم نماز کی حاضری کے بعد تمام بچوں کو بی بی جان سے دستخط کروانے ہوتے تھے۔

ایک بار میاں صاحب کا تین ماہ کا دورہ تھا۔ جس میں بی بی جان بچوں کے ساتھ میں بھی ساتھ گئی۔ اس دورہ میں ہم نے تین صوبوں بنگال، بہار، اوراُڑیسہ کا سفر کیا۔

دسمبر آتے ہی جلسہ سالانہ کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں۔ گھر میں نمکین سویّاں، شکرپارے ودیگراشیا تیار کی جاتی تھیں، کئی قسم کے اچار بھی ڈالے جاتے تھے، گھر کی صفائیاں اور بستروں کو دھوپ لگوائی جاتی تھی اور پھر مہمانوں کے آنے سے تھوڑے دن قبل کمروں میں پرالی بچھا کر بسترے لگائے جاتے تھے۔ رضائیاں رکھی جاتیں اور مہمانوں کے آنے کے بعد ان کے کھانے کا پورا دھیان رکھا جاتا تھا۔ صبح تہجد کے وقت سب کے کمروں میں گرم پانی کی بالٹیاں رکھی جاتی تھیں۔ پھر نماز فجر کے بعد سب کے کمروں میں چائے اورابلے انڈے دیے جاتے تھے اوراس کے بعد سب ناشتہ کرتے تھے اور جب مہمان واپس جاتے تو پھر ان کے لیے راستہ کے لیے ٹفن بھی تیار کیے جاتے تھے۔ یہ تمام کام بی بی جان خود کرواتیں اورآپ کا معمول تھا کہ آپ صبح سب سے پہلے اُٹھتیں اور سب سے آخر میں سوتی تھیں۔

جب میری شادی کا وقت قریب آیا تو بی بی جان اور محترم مرزا وسیم احمد صاحب جو مجھ سے بہت محبت اور شفقت کا سلوک کیا کرتے تھے، اب شادی کا وقت قریب آتے آتے اس محبت اور شفقت کے سلوک میں اَور بھی شدت آگئی تھی۔ اب آپ دونوں مجھ کو گھر کے کام سے روکا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اب تم ہمارے پاس مہمان ہو۔

میری شادی پر بی بی جان نے سب کام اپنے ہاتھ سے کیے۔ میرے دوپٹوں کو گوٹہ اور ستارے لگائے اورنالوں پر بھی گوٹہ اورستارے لگائے اورمیرے کپڑوں کو خود کچّا کرکے دیتیں تو مکرمہ خالہ امۃ الرحمٰن صاحبہ سیتی تھیں۔ میرے لیے جو دُلائی آپ نے بنائی تھی وہ بھی خود اپنے ہاتھ سے بنائی۔ اس پر حضرت سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا تبرک لگایا گیا تھا۔ مجھے خود ابٹن مَلا۔ میرے ہاتھوں میں مہندی بھی آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے لگائی اور سہیلیوں کو بھی کہا کہ سب مہندی لگا ئیں۔ بی بی جان نے میری شادی سے پچھلی رات کو میری تمام سہیلیوں اور میری والدہ کو اپنے گھر میں ہی سلایا تھا۔

مہندی والے دن محترم میاں صاحب نے مجھے اپنے پاس بٹھا کر بہت سی نصیحتیں کیں اور کہا کہ اگر تم کو اپنے سسرال میں کوئی پریشانی ہو تواپنی والدہ یعنی اللہ رکھی صاحبہ کونہ بتانا بلکہ ہمیں بتانا۔ اگر کوئی بھی معاملہ ہواس کو ہم حل کریں گے۔

شادی والے دن بی بی جان نے مجھ کو خود اپنے ہاتھوں سے تیارکیا۔ رخصتی کے وقت بہت رونے کی وجہ سے میرا میک اَپ خراب ہو گیا تھا۔ بی بی جان کواس کا علم ہوا تو اُسی رات میرے سُسرال میں خود آئیں اور مجھ کو دوبارہ تیار کیا۔

شادی والے دن جب بارات محترم مرزا وسیم احمد صاحب کے گھر میں آئی تو میرے سسرال والوں کو محترم میاں صاحب نے صوفے پر بٹھایا اور خود نیچے بیٹھے۔ اس پر میرے سُسر صاحب نے محترم میاں صاحب سے اصرار کیا کہ وہ بھی صوفے پر تشریف رکھیں۔ لیکن محترم میاں صاحب صوفے پر نہیں بیٹھے اور کہا کہ میں لڑکی والا ہوں مَیں نیچے ہی بیٹھوں گا۔ اس بات کا میرے سُسر صاحب عبدالرحیم صاحب درویش مرحوم پر بہت اثر تھا۔ وہ مجھ کو محترم میاں صاحب ہی کی بیٹی مانا کرتے تھے اور ہمیشہ مجھ سے بہت محبت اوراحترام کا سلوک کیا کرتے تھے۔

میری شادی کے چند روز بعد جب میری والدہ اللہ رکھی صاحبہ نے میری دعوت کرنی چاہی تو اس بات کا علم محترمہ بی بی جان کو ہوا تو انہوں نے میری والدہ کو پیغام پہنچایا کہ نعیمہ اب میری بیٹی ہے ۔مَیں نے اس کو اپنے گھر سے رخصت کیا ہے اس لیے اس کی دعوت کا پہلا حق میرا ہے۔ میرے دعوت کر لینے کے بعد تم دعوت کرنا۔ پھر بی بی جان نے میری اورمیرے تمام سُسرال والوں کی دعوت کی۔ دعوت کے بعد آپ نے دوبارہ میرا میک اَپ اپنے ہاتھوں سے کیا۔ مجھے مہندی لگائی، چوڑیاں پہنائیں اور مجھے نئے کپڑے وغیرہ دےکر بہت محبت اور شفقت کے ساتھ رخصت کیا۔

میری شادی سے چند سال قبل میری ساس صاحبہ کو فالج ہو گیا تھا اورآپ اسی عارضہ میں اپنی وفات تک قریباً سولہ سال مبتلا رہیں۔ میری ساس مکرمہ سکینہ بی بی صاحبہ جو کہ بہت بزرگ اوردرویش صفت عورت تھیں، ان کی خدمت گزاری اوردیکھ بھال کی وجہ سے مجھ کو بی بی جان اورمحترم مرزا وسیم احمد صاحب کے گھر جانے کا کم موقعہ ملتا۔ پھر جب ساس صاحبہ کی وفات ہوگئی تو اپنے خاوند کی اجازت سے میں دوبارہ بی بی جان کے گھر جانے لگی۔ میں بی بی جان کے سارے بازار کے کام کیا کرتی تھی۔ جب کسی مہمان یا عزیز کی دعوت ہوتی تو مجھ کو ہی کھانا پکانے کا موقع ملتا تھا۔ ایک بار کسی دعوت کا کھانا پکایا تو مہمانانِ کرام کو کھانا بہت پسند آیا۔ جس پربی بی جان نے خوش ہوکر اپنے ہاتھ سے سونے کی انگوٹھی اتار کرپہنائی۔ یہ تبرک آج تک میں نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

محترم مرزا وسیم احمد صاحب کو میرے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بہت پسند تھا۔ اور میں جو کھانا اپنے گھر پکاتی تھی اس کو باقاعدگی سے میاں صاحب کے لیے بھجوایا کرتی تھی۔ ایک روز میں نے کھانا نہیں بھجوایا تو میاں صاحب نے مجھے کہا کہ نعیمہ آج میں تمہارے کھانے کا انتظار کرتا رہا لیکن کھانا نہیں آیا۔ جس پر میں نے کہا کہ آج مونگ کی دال پکی تھی اس لیے میں نے نہیں بھجوائی۔ اس پر محترم میاں صاحب نے کہا کہ تمہارے ہاتھ کی پکی ہوئی دال بھی بہت لذیذ ہوتی ہے۔اس کے بعد گھر میں مَیں جو کچھ بھی پکاتی محترم میاں صاحب کے گھر ضرور بھجواتی تھی۔ بی بی جان مجھے کہا کرتی تھیں کہ میری بیٹیاں علیم، کوکو اور روفو مجھ سے کچھ نہ کچھ مانگتی رہتی ہیں لیکن تم مجھ سے کچھ کیوں نہیں مانگتی۔ تم بھی تو میری بیٹی ہو۔ تو میں نے جواب دیا۔ آپ مجھے بنا مانگے سب کچھ دے دیتی ہیں تو پھرآپ سے کیا مانگوں۔ آپ مجھے ہر عید پر ۵؍ ہزار روپے اور نیا سوٹ عیدی دیا کرتی تھیں۔ اسی طرح جلسہ سالانہ کے موقع پر ۵۰۰؍روپے اور نیا سوٹ بطور تحفہ دیا کرتی تھیں۔

میری والدہ کی وفات پرمجھ کو ترکے میں کچھ رقم ملی تو میں نے اس رقم سے اپنی اوراپنی دو بیٹیوں کے لیے انگوٹھی بنوانی چاہی تو بی بی جان نے مجھے کہا کہ ان انگوٹھیوں میں لگانے کے لیے راجستھان سے روبی پتھر منگوا لو۔ میں نے پتھر منگوا لیے لیکن سونا مہنگا ہونے کی وجہ سے انگوٹھیاں بنوانے میں کچھ تاخیر ہوئی۔ ایک روز بی بی جان نے مجھ سے دریافت کیا کہ نعیمہ! کیا تم نے اپنی انگوٹھیاں بنوالی ہیں؟ تو میں نے بتایا کہ فی الحال میرے پاس ۲۰؍ہزار روپے ہیں جب کہ انگوٹھیاں بنوانے میں ۳۰؍ہزار روپے کے اخراجات ہو رہے ہیں۔ میں ابھی رقم جمع کر رہی ہوں۔ رقم پوری ہونے پر انگوٹھیاں بنوا لوں گی۔ یہ بات سن کر بی بی جان اندر کمرے میں گئیں اور ایک بند لفافہ مجھ کو لا کردیا۔ جب میں نے اس لفافے کو اپنے گھرآکر کھولا تو اس میں دس ہزار روپے تھے۔ اس تمام رقم کو ملا کر میں نے اپنی اور اپنی بیٹیوں کی کل تین انگوٹھیاں بنوائیں۔ الحمدللہ

بی بی جان میری چھوٹی چھوٹی ضرورتوں اور پریشانیوں پر بھی بہت گہری نظررکھتی تھیں۔ ان کو میرا بہت خیال رہتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی چھوٹی بیٹی سے ملاقات کے لیے دو تین ماہ کے لیے جرمنی سفر پر گئی تھی۔ جیسے ہی مَیں سفر کے بعد قادیان گھر پہنچی تو بی بی جان کا مجھ کو فون آیا اورمجھ سے کہا کہ تم ایک لمبے سفر کے بعد گھر آئی ہو۔ تھک گئی ہو گی۔ میں تین دن تک تمہارے گھر کھانا بھجواؤں گی۔ آپ تین دن تک تینوں اوقات میری تمام فیملی کے لیے کھانا بھجواتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے۔

صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی وفات کے چند سال بعد ایک روز بی بی جان نے مجھے کہا کہ کیا تم رات کو میرے پاس سو جایا کرو گی؟تو میں نے کہا جی میں آپ کے پاس سوجایا کروں گی۔ اس کے بعد بی بی جان جب تک قادیان رہیں میرا یہی معمول رہا کہ میں ان کے پاس سوتی تھی۔ صبح ان کو نہلا کر کپڑے بدلواتی تھی۔ ان کی کنگھی کرتی۔ پھر اس کے بعد اپنے گھر جایا کرتی تھی۔ بی بی جان جب پاکستان چلی گئیں توان کو فون کیا کرتی تھی۔ آپ قادیان کی خبریں مجھ سے پوچھتیں کیونکہ آپ کو قادیان کے گلی کوچوں درودیواراوراہالیانِ قادیان سے بے انتہا محبت تھی۔ ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کا جسم پاکستان میں ضرور ہے لیکن آپ کا دل و دماغ قادیان میں ہی ہے۔ آپ نے اپنی وفات سے صرف چند روز قبل مجھ کو فون کیا اور کہا تھاکہ تمام قادیان والوں کو میری طرف سے سلام کہنا۔ میرے چھوٹے بیٹے عطاءالوحید کو بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے محترم میاں صاحب اورمحترمہ بی بی جان کی خدمت کا آخری وقت تک موقع ملتا رہا۔ الحمدللہ۔ محترم میاں صاحب اپنے آخری وقت میں جب امرتسرہسپتال میں داخل تھے تومیرا بیٹا عطاءالوحید بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہ میرے بیٹے کی بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ اس کو محترم میاں صاحب کی خدمت کی توفیق ملی۔

محترم میاں صاحب کی وفات اورتدفین کے بعد بی بی جان نے وحید کو اپنے پاس بلایا اورکہا کہ ’’تم نے میاں صاحب کی بہت خدمت کی ہے۔ میں اس کا اجرتوتم کو نہیں دے سکتی لیکن اللہ تعالیٰ اس کا اجرتم کو ضرور دے گا۔ وحید اب تم مجھ کو نہیں چھوڑنا ۔‘‘ اس کے بعد وحید ،حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے بی بی جان کی خدمت کے لیے آپ ہی کے گھر کے اوپر والے کمرے میں اپنی فیملی کے ساتھ منتقل ہو گیا۔ اور جب تک آپ قادیان میں رہیں آپ کی خدمت کا شرف پاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ اس کو بھی اس کا بہتر بدلہ عطا کرے۔

محترم میاں صاحب کی آخری بیماری میں جب عورتیں میاں صاحب کا حال پوچھنے بی بی جان کے پاس آتیں اورکسی عورت کی آواز میاں صاحب تک پہنچتی تھی تو وہ میرے بیٹے سے پوچھتے تھے کہ کیا نعیمہ آئی ہے؟‘

محترم میاں صاحب کی بیماری کے وقت کسی کو آپ سے براہِ راست ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ جو مہمان آپ کی تیمارداری کے لیے آتے تھے وہ پہلے اجازت ملنے تک برآمدے میں انتظار کیا کرتے تھے۔ ایک روز میں آپ سے ملاقات کے لیے گئی اور برآمدے میں بیٹھ کر ملاقات کے لیے انتظار کرنے لگی۔ جیسے ہی محترم میاں صاحب کو میرے آنے کی خبر ہوئی مجھ کو فوراً اندر بلایا۔ اور کہا تمہیں مجھ سے ملاقات کرنے کے لیے انتظار کی ضرورت نہیں۔ تم میری بیٹیوں کی طرح ہو۔ سیدھا اندرآجایا کرو۔

یہ میری بہت بڑی خوش قسمتی ہے۔ اور میرے پیارے مولیٰ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے مجھے حضرت مسیح موعودؑ کے خاندان کے بزرگان محترم میاں صاحب اورمحترمہ امۃ القدوس بیگم صاحبہ کے ساتھ بچپن سے آپ کی آخری عمرتک وقت گزارنے کا موقع دیا اور آپ کی خدمت کی توفیق دی۔ حقیقتاً میں نے کیا خدمت کرنی تھی ۔ آپ دونوں نے مجھ کو اپنی ایک عزیز بیٹی کی طرح پالا، شادی کی اورایک پُرشفیق ماں باپ کی طرح مجھ سے ساری زندگی محبت اور شفقت کا سلوک کرتے رہے۔ آج آپ دونوں اس دنیا میں نہیں بلکہ مولیٰ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ دونوں کی مغفرت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

آج یہ دونوں بزرگان بے شک اس دنیا میں نہیں ہیں۔ لیکن آپ کی پیاری یادیں ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کی پیاری باتیں، ان کا مجھ سے حسن سلوک، میری پریشانیوں کے زمانہ اوراوقات میں ایک مضبوط سہارے کی طرح مجھ کو تھام لینا، کبھی محبت اور شفقت، کبھی معمولی سختی سے مجھ کو میری غلطیوں پر سمجھانا، ہمیشہ مہربان ماں باپ بن کر ایک سایہ کی طرح میرے ساتھ رہنا ،یہ سب یادیں مجھے اکیلے بیٹھے یاد آتی ہیں اور میں ان سے بہت محظوظ ہوتی ہوں اور اللہ تعالیٰ کا صدہا شکر ادا کرتی ہوں کہ الحمدللہ، ان بزرگان کا ساتھ مجھے عطا ہوا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: والدین کا عالمی دن

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button