الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

مظہرِ صفاتِ الٰہیہ اور فرشتہ صفت بنو

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر۲۰۱۲ء میںحضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا ایک اہم ارشاد شامل ہے۔ حضورؒ فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ اور اُس کے فرشتے اس نبی اکرم ﷺ پر ہر آن اور ہر لحظہ درود اور سلام بھیج رہے ہیں۔ مظہرِ صفاتِ الٰہیہ اور فرشتہ صفت بنو اور نبیؐ پر ہمیشہ درود بھیجتے رہو تا اس کی برکت سے ہماری زبانوں سے حکمت و معرفت کی نہریں جاری ہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود پڑھے تاکہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔‘‘ (حیات ناصرؒ صفحہ۳۱۰)

………٭………٭………٭………

رسول اللہﷺ کی غریب پروری

آنحضور ﷺکی ذات میں معاشرے کے کمزور طبقے کا خیال رکھنے کا وصف بعثت سے پہلے ہی سے موجود تھا۔ چنانچہ مکہ کے مظلومین کی امداد کے لیے کیا جانےوالا معاہدہ حلف الفضول اس کا گواہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ دعویٔ نبوت کے بعد آپؐ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت اسی پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر۲۰۱۲ء میں ایک مضمون مکرم عبدالکبیر قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

جب آنحضورﷺ پر وحی کا نزول ہوا اور آپؐ اس ذمہ داری سے گھبراگئے تو حضرت خدیجہؓ نے جن الفاظ میں آپؐ کو تسلّی دی ان میں اس صفت کا بھی ذکر تھا کہ آپؐ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔

آنحضورﷺ کے غلام حضرت زیدؓ کے والد اُن کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مکہ پہنچے اور آنحضورﷺ سے اُن کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ آنحضورﷺ نے بخوشی انہیں ساتھ لے جانے کی اجازت عطا فرمادی لیکن حضرت زیدؓ نے آزادی کی زندگی کی بجائے آنحضورﷺ کی غلامی میں رہنے کو ترجیح دی۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک دیہاتی اکثر آنحضورﷺ کے لیے گاؤں کی چیزیں تحفہ کے طور پر لایا کرتا تھا اور آپؐ بھی شہر کی کوئی نہ کوئی سوغات اُسے ضرور عنایت کیا کرتے تھے۔ آپؐ کو زاہرؓ سے بےحد اُنس تھا۔ زاہرؓ کی شکل و صورت اچھی نہ تھی۔ ایک دن وہ اپنا سودا بیچ رہا تھا کہ حضورﷺ نے پیچھے سے آکر اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے۔ زاہرؓ نے محسوس کیا کہ یہ رسول اللہﷺ ہیں تو اپنی کمر آپؐ کے مطہر جسم کے ساتھ ملنے لگا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ غلام کون خریدتا ہے؟ زاہرؓ کہنے لگا: یارسول اللہ! تب تو آپؐ مجھے ناقص مال پائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: مگر اللہ کے نزدیک تو تُو ناقص مال نہیں ہے۔

آنحضورﷺ نے ایک بار فرمایا کہ مَیں نے جنّت میں دیکھا تو اس میں زیادہ غریب و مفلس لوگ تھے۔

آپؐ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے خدا! مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اُٹھا اور مسکینوں کے ساتھ ہی میرا حشر کر۔ حضرت عائشہؓ نے اس دعا کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ مسکین دولتمند سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ پھر فرمایا: اے عائشہ!کسی مسکین کو اپنے دروازے سے نامراد نہ پھیر گو چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اے عائشہ! غریبوں سے محبت رکھ اور اُن کو اپنے سے نزدیک کر تو خدا بھی تم کو اپنے سے نزدیک کرے گا۔

ایک بار آپؐ مسجد نبوی میں تشریف لائے تو غریب مہاجر ایک طرف حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ آپؐ اُن کے ساتھ جاکر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ فقراء مہاجرین کو بشارت ہو کہ وہ دولت مندوں سے چالیس برس پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ سن کر اُن کے چہرے خوشی سے چمک اُٹھے۔

آنحضورﷺ نے امراء سے فرمایا کہ تم کو جو نصرت اور روزی میسر آتی ہے وہ غریبوں ہی کی بدولت آتی ہے۔

آنحضورﷺ نے معاشرے کو مصیبت زدہ کی امداد کا درس یوں بھی دیا کہ جب حضرت جابربن عبداللہؓ کے والد اُحد میں شہید ہوگئے تو وہ مقروض تھے۔ قرض خواہوں نے ورثاء سے مطالبہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے قرض خواہوں کو نصیحت کی کہ جو ملتا ہے وہ لے لو، باقی چھوڑ دو اور معاف کردو۔

حالتِ سفر بھی غربت کی حالت ہوتی ہے۔ اسی لیے مسافر کو غریب الوطن بھی کہا جاتا ہے۔ حدیث میں تو سفر کو عذاب کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔ آنحضورﷺ مسافروں کی مدد کی طرف خاص توجہ فرماتے۔ ایک دفعہ ایک ایسا قبیلہ حاضرِ خدمت ہوا جن کی حالت خراب تھی، لباس مکمل نہ تھا، پاؤں میں جوتے نہ تھے۔ بدن پر کھالیں پہنی ہوئی تھیں اور تلواریں گلے میں لٹکائی ہوئی تھیں۔ آپؐ اُن کی حالت دیکھ کر افسردہ ہوگئے اور پریشانی کے عالم میں گھر گئے۔ پھر باہر آئے اور نماز کے بعد حاضرین کو اس غریب مسافر قافلے کی مدد کی تحریک فرمائی۔

آپؐ نے ایک موقع پر فرمایا کہ سوال کرنے سے بچو، اوپر والا (خیرات کرنے والا) ہاتھ نیچے والے (خیرات لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے۔

آنحضورﷺ کی غریب پروری ایک حسین امتزاج اپنے اندر رکھتی تھی۔ آپ غرباء کی توقیر قائم کرتے ہوئے اُن کا خیال رکھنے اور اُنہیں اُن کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی تلقین فرماتے تاکہ وہ معاشرے پر بوجھ نہ بنیں ۔ آپؐ نے فرمایا: خداتعالیٰ کے مقرر کردہ دیگر فرائض کی طرح محنت کی کمائی بھی فرض ہے۔ نیز فرمایا: پاکیزہ خوراک وہ ہے جو تم خود کماکر کھاؤ اور تمہاری اولاد بھی تمہاری عمدہ کمائی میں شامل ہے۔

پھر فرمایا: جو شخص جنگل سے جاکر لکڑیاں کاٹ کر لاتا ہے اور انہیں بیچ کر گزارہ چلاتا ہےلیکن اپنی آبرو پر حرف نہیں آنے دیتا وہ بہت ہی معزز ہے اور اُس کا طرزعمل بھیک مانگنے سے ہزار درجے بہتر ہے۔

………٭………٭………٭………

رسول کریمﷺ کی مہمان نوازی

آنحضورﷺ نے فرمایا : مَیں اخلاق حسنہ کو کمال تک پہنچانے کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔

اخلاق حسنہ میں سے ایک بنیادی خلق مہمان نوازی بھی ہے۔ اگرچہ یہ خلق اسلام سے قبل بھی عرب معاشرے میں موجود تھا لیکن اس حوالے سے معین ضوابط یا کوئی اصولی تعلیم نہ تھی۔ چنانچہ کبھی یہ ہوتا کہ دشمن بھی مہمان بن کر آتا تو میزبان اپنی انا اور عزت کی خاطر اپنے جانور ذبح کردیتے اور کبھی یوں بھی ہوتا کہ مہمان کسی معمولی سی بات کو ہتک عزت گردان کر میزبان کو ہی تہ تیغ کردیتا۔ ایسے میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو مہمان نوازی کی ایسی تعلیم دی جس کی مثال کسی دوسرے مذہب یا معاشرے نہیں مل سکتی تھی۔اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر۲۰۱۲ء میں ایک مضمون مکرم میر انجم پرویز صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

آنحضورﷺ نے فرمایا کہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ اکرام میں کھانے پینے اور آرام کا خیال رکھنا شامل ہے نیز مہمان کو دمِ واپسی گھر کے دروازے تک چھوڑنا بھی اکرام ضیف میں داخل ہے اور یہی رسول کریم ﷺ کی سنّت بھی تھی۔ آپؐ کی یہ بھی سنّت تھی کہ مہمان کو خود اپنے ہاتھ سے کھانا پیش کرتے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ ایک رات آنحضورﷺ کے ہاں مہمان ہوئے تو آپؐ نے بُھنا ہوا پہلو کا گوشت منگوایا اور چھری سے کاٹ کاٹ کر اُن کو دینے لگے۔ اسی طرح جب حبشہ سے نجاشی کا بھیجا ہوا وفد مدینہ آیا تو آپؐ خود اُن کی مہمان نوازی کے لیے سعی فرماتے۔ صحابہؓ عرض بھی کرتے کہ ہم خدمت کے لیے حاضر ہیں تو آپؐ فرماتے کہ ان لوگوں نے ہمارے صحابہؓ کی عزت کی تھی، مَیں پسند کرتا ہوں کہ خود اپنے ہاتھوں سے ان کی مہمان نوازی کروں کہ ان کے احسان کا یہی بدلہ ہے۔

آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار یا معزز آدمی آئے تو اُس کی حیثیت کے مطابق اُس کی عزت و تکریم کرو۔ نیز آنحضورﷺ مختلف علاقوں سے آنے والے وفود کو تحائف بھی دیا کرتے تھے۔ چنانچہ بہت سے غیرمسلم آپؐ کی مہمان نوازی اور حُسن اخلاق سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ایک بار ایک یہودی آپؐ کا مہمان ہوا۔ رات کو اسہال کی وجہ سے بستر کی چادر خراب ہوگئی تو شرم سے وہ ملے بغیر ہی منہ اندھیرے چلا گیا۔ اتفاق سے وہ اپنی تلوار وہیں بھول گیا۔ یاد آنے پر واپس آیا تو دیکھا کہ حضورﷺ اپنے ہاتھوں سے بستر کو دھو رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اُس نے اسلام قبول کرلیا۔

نبی کریم ﷺ نے دین اسلام کی دعوت کا آغاز ہی بےلَوث مہمان نوازی اور جذبۂ خدمت خلق کے تحت فرمایا۔ دو بار آپؐ نے اپنے رشتہ داروں کو دعوت پر بلایا اور تبلیغ کی ۔

ایک رات ایک غیرمسلم آنحضورﷺ کے ہاں مہمان ہوا تو یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ اُس کو پیش کیا گیا تب اُس کی تسلّی ہوئی۔ حضورﷺ کے حُسن اخلاق سے متاثر ہوکر صبح اُس نے اسلام قبول کرلیا۔ دوسرے روز اُس کے لیے پھر دودھ پیش کیا گیا تو اُس نے صرف ایک بکری کا دودھ پیا جبکہ دوسری بکری کا سارا دودھ بھی ختم نہ کرسکا۔

ایک صحابی کا بیان ہے کہ آنحضورﷺ اُن کو لے کر حضرت عائشہؓ کے ہاں پہنچے اور فرمایا کہ کچھ کھانے کو لاؤ۔ وہ حریسہ لائیں جو ہم نے کھالیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کچھ پینے کے لیے لاؤ۔ وہ دودھ لائیں جو ہم نے پی کر ختم کردیا۔

ابوعبداللہ بن طخفہؓ کا بیان ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے پاس مہمان زیادہ ہوجاتے تو لوگوں میں تقسیم کردیے جاتے۔ لیکن ایک رات مہمان اتنے زیادہ تھے کہ ہم پانچ مہمان بچ رہے۔ آپؐ ہمیں لے کر حضرت عائشہؓ کے ہاں آگئے اور پوچھا کہ کچھ کھانے کے لیے ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپؐ کے افطار کے لیے کچھ کھانا تیار ہے۔ پھر وہ پلیٹ میں کھانا لے آئیں۔ آنحضورﷺ نے اس میں سے تھوڑا سا کھایا اور باقی ہم کو دیا کہ بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔ پھر حضرت عائشہؓ اَور کھانا لائیں وہ بھی ہم نے کھالیا۔ پھر آپؐ کے فرمانے پر وہ پینے کے لیے دودھ لائیں تو آپؐ نے تھوڑا سا پی کر باقی ہمیں دے دیا اور ہم نے پی کر ختم کردیا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ اگر چاہو تو یہیں سو جاؤ اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ۔ ہم نے کہا کہ مسجد جائیں گے۔ چنانچہ ہم مسجد جاکر سوگئے۔ صبح نماز سے قبل آنحضورﷺ تشریف لائے اور ’’نماز، نماز‘‘ کہہ کر سونے والوں کو جگایا۔ مَیں پیٹ کے بل سویا ہوا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ کوئی آدمی پاؤں سے مجھے ہلا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس طرح سونا اچھا نہیں۔ مَیں نے دیکھا تو وہ آنحضرت ﷺ تھے۔

آنحضور ﷺ نے تین دن کی مہمان نوازی کو مہمان کا حق قرار دیا ہے۔ اور فرمایا کہ ایک دن رات تو خصوصی آؤبھگت کرنی چاہیے۔ نیز فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے میزبان بھائی کے پاس اتنا عرصہ رہے کہ اُسے گناہگار ہی کردے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ وہ کیسے گناہگار کرے گا؟ فرمایا کہ مہمان اُس کے پاس مقیم ہو اور وہ مہمان نوازی کا حق نہ ادا کرسکے۔

ایک اَور موقع پر آپؐ نے فرمایا کہ مہمان اتنا عرصہ قیام نہ کرے کہ میزبان کا حرج ہو۔

اگرچہ مدینہ میں آنے والے وفود چونکہ دُور دُور سے آتے تھے اس لیے اُن کا قیام لمبا ہوجاتا تھا۔ بعض دین سیکھنے کے لیے بھی لمبا عرصہ قیام کرتے۔ ایسے میں آنحضور ﷺ کے گھر کے علاوہ کئی دیگر مخلصین کے گھر بھی استعمال ہوتے۔ چنانچہ حضرت رملہؓ کا گھر دارالضیوف کہلاتا تھا، حضرت اُمّ شریکؓ نے بھی اپنے گھر کو مہمان خانہ بنادیا تھا۔

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے تبوک کے مقام پر فرمایا کہ دو قسم کے لوگ بےمثال ہیں۔ ایک وہ جو اپنے گھوڑے کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلتا ہے اور لوگوں کے شر سے اپنے تئیں بچاتا ہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتوں سے نوازا ہو اور وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور مہمان نوازی کا حق ادا کرے۔

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: ایشین گیمز

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button