ایشین گیمز
جاپان میں منعقد ہونے والے بیسویں ایشیائی کھیل ۴؍ اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگئے۔ ۱۹؍ستمبر سے جاری ان مقابلوں میں ۴۳؍کھیلوں میں تقریباً ۱۷؍ہزار کھلاڑیوں اور آفیشلز نے شرکت کی۔ چین نے ایک مرتبہ پھر ایشین گیمز میں سب سےزیادہ ۳۴۱؍تمغے جیتے جن میں ۱۶۹؍طلائی،۸۹؍چاندی اور ۸۳؍کانسی کے تمغے شامل تھے۔ میزبان جاپان ۲۶۹؍تمغوں کے ساتھ دوسری جبکہ جنوبی کوریا ۱۵۰؍تمغوں کے ساتھ تیسری پوزیشن پر رہا۔ بھارت نے ۸۵؍تمغوں کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

پاکستان نے ایشین گیمز میں مجموعی طور پر دس تمغے حاصل کیے جن میں دو چاندی اور آٹھ کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ مردوں کے کرکٹ فائنل میں بھارت نے پاکستان کو ۱۹؍رنز سے شکست دے کر طلائی تمغہ جیت لیا۔ بھارتی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ ۲۰؍اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر۲۱۱؍رنز بنائے۔ ابھیشیک شرما (Abhishek Sharma)نے ۲۸؍گیندوں پر۶۱؍رنز جبکہ تلک ورما (Tilak Varma) نے صرف ۲۲؍گیندوں پر ناقابلِ شکست۵۱؍رنز بنائے۔ جواب میں پاکستانی ٹیم چھ وکٹوں کے نقصان پر۱۹۲؍رنز بناسکی۔ حسن نواز نے ۹۶؍رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستان کی کامیابی کی امیدیں برقرار رکھیں تاہم پاکستانی ٹیم ہدف حاصل نہ کرسکی۔

مینز ہاکی ایونٹ میں بھارت نے ملائیشیاکو ایک کے مقابلہ میں پانچ گول سےہراکرسونے کا تمغہ جیتا۔جبکہ پاکستان نے جنوبی کوریا کو ۵۔۳؍ سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ قبل ازیں پاکستان ٹیم نے سیمی فائنل میں بھارت کے خلاف تین-صفر کے خسارے سے شاندار واپسی کرتے ہوئے مقابلہ۳-۳؍گول سے برابرکیا تاہم میچ کے اختتامی لمحات میں بھارت نے فیصلہ کن گول کرکے کامیابی حاصل کی۔
مردوں کے والی بال میں ایران نے جاپان کے خلاف فتح حاصل کرکے اپنے اعزازکا کامیاب دفاع کیا۔ پاکستان نے چین کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ اس طرح پاکستان ۱۹۶۲ء کے بعد پہلی مرتبہ ایشین گیمز کے والی بال ایونٹ میں تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

سکواش کے مینز سنگلز ایونٹ میں ملائیشیا کے Ng Eain Yowنے بھارت کے ابھے سنگھ کو ہراکر گولڈ جبکہ پاکستان کے نورزمان اورمحمداشعب نے کانسی کے تمغے اپنے نام کیے۔
سکواش ٹیم ایونٹ میں ملائیشیانے سونے جبکہ پاکستان نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔
مردوں کے فٹ بال فائنل میں جنوبی کوریا نے میزبان جاپان کو ایک صفر سے شکست دے کر مسلسل چوتھی مرتبہ طلائی تمغہ جیتا۔
خواتین کے فٹ بال فائنل میں جاپان نے شمالی کوریا کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں تین کے مقابلہ میں پانچ گول سے شکست دے کر مسلسل تیسری مرتبہ طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔

بہترین خاتون کھلاڑی: ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں چین کی تیرہ سالہ تیراک یوزیڈی (Yu Zidi) نے تین طلائی تمغے جیتے اور انہیں کھیلوں کی بہترین خاتون کھلاڑی قرار دیا گیا، جبکہ ان کے ہم وطن ژانگ ژانشوو (Zhang Zhanshuo) نے سات طلائی تمغے جیت کر منفرد اعزاز حاصل کیا۔
مردوں میں بہترین کھلاڑی (Male MVP) کا اعزاز تھائی لینڈ کے بیس سالہ ایتھلیٹ Puripol Boonson کو دیا گیا۔ انہوں نے ۱۰۰؍میٹر اور ۲۰۰؍ میٹر دونوں دوڑوں میں طلائی تمغے جیتے۔ دوڑ ۱۰۰؍میٹر میں ۹.۹۰؍سیکنڈ کا ایشین گیمز ریکارڈ اور دوڑ ۲۰۰؍میٹر میں ۱۹.۸۸؍سیکنڈ کے وقت کے ساتھ ایشین ریکارڈ برابر کیا۔
ان کھیلوں میں مجموعی طورپر۵۴؍عالمی اور۸۹؍ایشیائی ریکارڈ قائم ہوئے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: زرافے کے ڈاکٹر: Oxpeckers




