ہرگز ہرگز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں
یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں لیکن میں ان کی گالیوں کی پروا نہیں کرتا اور نہ ان پرافسوس کرتا ہوں کیونکہ وہ اس مقابلہ سے عاجز آگئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فروما ئیگی کو بجز اس کے نہیں چھپا سکتے کہ گالیاںدیں، کفر کے فتوے لگا ئیں ، جھوٹے مقدمات بنائیں اور قسم قسم کے اِفترا اور بہتان لگا ئیں۔ وہ اپنی ساری طاقتوں کو کام میں لا کر میرا مقابلہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے۔میں ان کی گالیوں کی اگر پروا کروں تو وہ اصل کام جو خدا تعالیٰ نے مجھے سپر د کیا ہے رہ جاتا ہے اس لیے جہاں میں ان کی گالیوں کی پروا نہیں کرتا میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اُن کو مناسب ہے کہ اُن کی گالیاں سن کر برداشت کریں اور ہرگز ہرگز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پربرکت جاتی رہتی ہے۔ وہ صبر اور برداشت کا نمونہ ظاہر کریں اور اپنے اخلاق دکھا ئیں۔ یقیناً یا درکھوکہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی لیکن جو صبرکرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوںمیں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لیے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔
(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۵۱۵، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: اس زمانے کے علماء کی قابلِ رحم حالت



