اللہ تعالیٰ کا ہم سب پر یہ احسانِ عظیم ہے کہ اس نے ہمیں یا ہمارے آباء کو جماعت احمدیہ کی سچائی کو پہچاننے اور اسے اپنانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس ایک نعمت کی ہی شکر گزاری اتنی بڑی ہے کہ شاید باقی نعماء کا شکر ادا کرنے کے لیے تو ہماری اس زندگی میں کوشش بھی ممکن نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں جن نعمتوں سے نوازا ہے بلا شبہ اُن میں سے ایمان کی دولت سب سے عظیم تر ہے۔ اس کے بعد والدین، دیگر رحمی رشتے، دوست احباب،اچھے ہم سفر، فرمانبردار اولاد، نیک ہمسائے اور جو بھی لوگ ہمیں نیکی کی طرف راغب کرنے والے ہوں ۔ پھر مذہبی آزادی، اچھی صحت، عبادات کو احسن رنگ میں بجالانا، خدمت دین، تبلیغِ دین، خلافت کے اطاعت گزار ہونا، عُسر اور یُسر میں راضی برضا رہنا، توکّل علیٰ اللہ بھی اللہ تعالیٰ کی برکات میں سے ہیں جن کا ہمیں ہر وقت شکرانہ ادا کرنا چاہیے۔ شکر گزاری کے ضمن میں ایک ایسا ہی خاص دن ہے جسے شمالی امریکہ میں Thanksgiving کہا جاتا ہے ۔ یعنی شکر گزاری کا دن۔
Thanksgiving کی ابتدا،۱۷ویں صدی میں شمالی امریکا میں اُس وقت ہوئی جب یورپ سے آنے والے آبادکاروں نے پہلی بار مقامی لوگوں کی مدد سے اپنی فصلیں کاٹیں اور اس سے ان کو بڑے پیمانے پر فائدہ حاصل ہوا تو اس موقع پر انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا اور ایک بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت قومی تہوار میں ڈھل گئی اور اب ۱۳؍ اکتوبر کو کینیڈا میں اور۲۷؍ نومبر کو اسے بڑے پیمانے پردنیابھرمیں منایا جاتا ہے۔ اس دن کی خصوصیت یہ ہے کہ خاندان اکٹھے ہوتے ہیں، کھانے کا اہتمام کرتے ہیں اور اجتماعی طور پر نعمتوں کا شکر بجا لاتے ہیں۔ایک دوسرے کوکھانے کی دعوت دی جاتی ہے اور خاندان والےایک ساتھ بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ان نعمتوں کے لیے جو ان کو حاصل ہوئی ہیں۔ہم احمدی مسلمان یہ شکر دن میں پانچ وقت نماز پڑھ کر ادا کرتے ہیں۔خدا تعالی کتابِ رحمان میں فرماتا ہے کہ وَمَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُلِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ (لقمان:۱۳)اورجو بھی شکر ادا کرے تو وہ محض اپنے نفس کی بھلائی کے لیے ہی شکر ادا کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو یقیناً اللہ غنی ہے (اور) بہت صاحبِ تعریف ہے۔
یعنی شکر ادا کرنے والا اپنے لیے ہی مزید رحمتوں اور برکات کا در وا کر رہا ہوتا ہے اور ناشکری کرنے والا آنے والی اچھائی سے بھی خود کو محروم کر رہا ہوتا ہے ۔ہر حال میں بس اس ذاتِ باری کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔
ایک احمدی اپنے مقصدِ پیدائش کو پہچانے اورپھر اس کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرے۔ اپنے آپ کو اُس اسوہ کے مطابق چلانے کی کوشش کرے جو ہمارے سامنے ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا ۔آپؐ فرماتے ہیں کہ نیکی کے معاملات میں اپنے سے بہتر کی طرف دیکھو اور فَاسْتَبِقُوْاالخَیْرَات کے حکم کی تعمیل میں نیکیوں میں مسابقت اختیار کرو۔ لیکن دنیاوی معاملات میں، مال و زر کے معاملات میں، مالی کشائش اور وسائل کے معاملات میں تم میں سے جو کم درجے والا یا کم وسائل والا ہے تم اس کی طرف دیکھو اور اس شخص کی طرف نہ دیکھو جو تم میں سے مالی طور پر بہتر اور اچھی حالت میں ہے۔
(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۲۵۴ مطبوعہ بیروت)
یہ وہ طریق ہے جس سے ہمارے دل سکون میں رہتے ہیں جیسے کہ ہم اس بات میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں کہ کون جماعتی خدمت زیادہ کر رہا ہے، ہم اس سے بھی زیادہ وقت اور اپنی صلاحتیں جماعت کے لیے وقف کریں ۔ اگر ہمارے کسی عزیز یا جاننے والے کےوعدہ جات تحریک جدید یا وقف جدید یا کسی اور مد میں ہم سے زیادہ ہیں اور ہم بھی اتنی ہی توفیق رکھتے ہیں تو ہم بھی ان جتنے کرنے کی کوشش کریں۔لیکن اگر دیکھیں کہ کسی میں کوئی کمزوری ہے تو اسے بھی مناسب انداز میں سمجھا کر خود کو مزید بہتر بنانے پر زور دیں نا کہ سوچیں کہ فلاں بھی ایسا کر رہا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت الشَکُوْر یعنی بہت قدر شناس اور بہت قدر دان بیان ہوئی ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمیں خداتعالیٰ کی اس صفت کا مظہر بنتے ہوئے قدرشناس اور قدر دان بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
شکرگزاری بھی ایک بہت بڑاوصف ہےجیساکہ اللہ تعالی ٰنے حضرت نوح (علیہ السلام) کایہ وصف بیان کرتےہوئےفرمایا: اِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا(بنی اسرائیل:۴)یقیناً وہ بہت ہی شکرگزار بندہ تھا۔
حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ ’’تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔‘‘(ملفوظات جلد اول صفحہ ۶۶، ۲۰۲۲ء)حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ضمن میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’(شکر کا مطلب ہے) کہ کسی کے احسان کے باعث اس کی تعریف کی۔ گویا اقرارِ احسان اظہارِ قدر کے ساتھ شکر کہلاتا ہے۔ اور کثرت کے ساتھ اقرارِ احسان کرنے والے کو شکور(شکر گزار) کہتے ہیں۔(تفسیر کبیر جلد۶صفحہ ۲۸۹،ایڈیشن۲۰۲۳ء)صحت ہویا بیماری ہو، جوانی ہویا بڑھاپا، تنگ دستی ہویاکشادگی، مشغولیت ہویا فراغت،غرض ہرحال میں انسان پر اللہ کا شکر واجب ہے۔
سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت کو شکر گزار ی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:’’میں اکثر جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں اور حقیقی شکر گزاری اسی صورت میں ادا ہوسکتی ہے جب ہمارے دل میں تقویٰ ہو، جب ہم اپنے مقصد ِپیدائش کو سمجھتے ہوئے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔…عبد شکوربنیں۔ شکر گزار بنیں…اللہ تعالیٰ نے شکر گزاری کے مضمون کو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکُمۡ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَلَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ(ابراہیم: ۸) اور جب تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ لوگو! اگر تم شکر گزاربندے بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔(خطبات مسرور جلد ہشتم صفحہ۱۸۸تا۱۸۹) اللہ کرےکہ ہم سب اپنے رب کی نعمتوں کا شکر اداکرنےوالےہوں ۔ آمین
کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس
وہ زبان لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار
(درثمین)




