حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ہمارا کام یہ نہیں کہ غلط زبان استعمال کریں

آج کل جہاں سوشل میڈیا کا فائدہ ہے اور اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے وہاں بعض ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جو تکلیف دہ ہوتی ہیں اور اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آج کل مخالفین جماعت احمدیہ کے خلاف انتہائی بیہودہ گوئی بھی کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے خلاف وہ جھوٹ اور غلاظت بکتے ہیں کہ احمدی کا دل چھلنی ہوتا ہے۔ جنہیں سن کے اور پھر ردعمل میں بعض احمدی بھی ان کے جواب غلط رنگ میں دے دیتے ہیں۔ نیت چاہے ان کی صاف بھی ہو تب بھی بعض دفعہ ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جن کو غلط معنی پہنائے جا سکتے ہیں۔ یہ ہمارا طریق نہیں ہے۔ اس سے ایک احمدی کو بچنا چاہیے۔

ہمارا کام یہ نہیں کہ غلط زبان استعمال کریں یا اسے اس رنگ میں جواب دیں جس سے نادانستگی میں ہمارے منہ سے ایسے الفاظ نکل جائیں جو کسی بھی رنگ میں کسی کی بھی ہتک کا موجب بنیں اور اس سے فائدہ اٹھا کر مخالفین یہ کہتے رہیں کہ ہم نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یا صحابہ رضوان اللہ علیہم کی توہین کرنے والے ہیں۔

جبکہ ہمارے دلوں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور صحابہؓ کا جو مقام ہے اس کا تو کروڑواں حصہ بھی ان لوگوں کو فہم و ادراک نہیں ہے۔

ہمارا تو سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہے۔ آپؐ ہی وہ خاتم الانبیاء ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیارے اور آخری نبی ہیں اور آپؐ کے ساتھی جو ہیں صحابہؓ جو ہیں ان کے بارے میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بےشمار جگہ وہ کلمات فرمائے ہیں، وہ باتیں کی ہیں کہ جو ہمارے مخالفین کی سوچ سے بھی بالا ہیں جو بات وہ کرتے ہیں۔

پس ہمارے دلوں میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہی نہیں۔ یہ تو ہے ہی۔ اس تک تو کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا، آپؐ کے صحابہؓ  کا بھی ہمارے دل میں بڑا مقام ہے۔ اور اس بات کو ہراحمدی کو سامنے رکھنا چاہیے اورایسی باتیں کرنے سے ہر احمدی کو بچنا چاہیے جس سے غلط تاثر پیدا ہو یا غلط تاثر پیدا ہونے کا کسی بھی رنگ میں اندیشہ ہو۔

بعض احمدی سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ جواب دےکے بڑی غیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب ان سے پوچھو تو یہی ان کا جواب ہوتا ہے جبکہ یہ نام نہاد غیرت جہالت ہے اور اگر کوئی احمدی ہو کر ایسی باتیں کرتا ہے جس سے کسی بھی طرح غلط مطلب نکلتا ہو تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور جماعت کو بدنام کرنے والا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۶؍جون ۲۰۲۵، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۷؍جون۲۰۲۵ء)

مزید پڑھیں: موجودہ زمانے کے علماء کی افسوسناک حالت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button